عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 5) فضل الرحمٰن خطیب وامام محمد مسجد نیلسن یو کے

نویں حدیث:

عَنْ عَائِشَةَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا – قَالَتْ «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي تَنَعُّلِهِ، وَتَرَجُّلِهِ، وَطُهُورِهِ، وَفِي شَأْنِهِ كُلِّهِ»

(رواه البخاري، كتاب الوضوء، باب التيمن في الوضوء والغسل، برقم: 168، ومسلم، كتاب الطهارة، باب التيمن في الطهور وغيره، برقم: 268)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

حضرت عائشہ صدیقہ نے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند تھا اپنا جوتا پہننے، کنگھی کرنے، وضو کرنے اور اپنے تمام کاموں میں۔

حدیث مبارکہ کی مختصر تشریح اور اس سے حاصل ہونے والے بعض مسائل:

1۔ صحابہ کرام کا رسول اللہ ﷺ کے عادتی امور کی حرکات وسکنات کو بھی توجہ کے ساتھ دیکھنا، پھر اس کو بیان کرنا اور عمل کرنا۔

2۔ رسول اللہ ﷺ کا کسی عادتی امر میں پسندیدگی کا اظہار کرنا، امت کے لیے شریعت بننا ہے۔

3۔ رسول اللہ ﷺ کے تعبدی امور میں اطاعت واتباع واجب ہے، جبکہ عادتی امور میں مستحب ہے۔

4۔ رسول اللہ ﷺ کا ہر اچھے وپاکیزہ کام کو دائیں طرف سے پسند فرمانا اس سے دائیں جانب کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ مسند احمد وغیرہ کی صحیح حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے دائیں اور بائیں کندھے سے ان کی اولاد نکالی، دائیں کندھے سے نکلنے والی اولاد جنتی ہے اور بائیں طرف سے نکلنے والی جہنمی ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کی سورۃ الواقعہ کی آیت 27 تا 56 میں اصحاب الیمین (یعنی دائیں طرف والے) جنتیوں کو کہا گیا ہے اور اصحاب الشمال (یعنی بائیں طرف والے) کو جہنمی کہا گیا۔ اسی طرح سورۃ الحاقہ آیت 19 تا 37 میں نامہ اعمال کا دائیں طرف سے ملنے والوں کا جنتی ہونا اور بائیں طرف سے ملنے والوں کا جہنمی ہونا بیان ہوا ہے، ان سے دائیں جانب کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

5۔ جوتا پہننا اور کنگھی کرنا بھی سنت ہے۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ دنیاوی جائز زیب وزینت اختیار کرنا تقویٰ اور دینداری کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ اس حدیث میں ان لوگوں کا رد ہوا ہے جو ہمیشہ ننگے پاؤں رہنے، کنگھی نہ کرنے اور صفائی ستھرائی نہ کرنے کو ثواب سمجھتے ہیں۔

6۔ اس حدیث کے مطابق جوتا پہننے سے مراد جوتا اور ہر وہ چیز جو پاؤں میں پہنی جاتی ہے، مثلاً موزہ، جراب اور کپڑے (لباس) وغیرہ شامل ہے۔ اسی طرح کنگھی کرنے میں بالوں کو تیل لگانا ان کو کترانا اور منڈوانا وغیرہ شامل ہے۔

7۔ طہور میں وضو، غسل اور ہاتھوں وغیرہ کا دھونا شامل ہے۔

8۔ وفی شانه کله سے جوتا، موزہ وغیرہ پہننا، بالوں میں کنگھی، تیل وغیرہ اور وضو اور غسل وغیرہ کے کاموں کی طرح کے اچھے اور طہارت والے کام مراد ہیں۔یہاں کل (تمام) سے مراد کلی تمام نہیں ہیں بلکہ اچھے کام مراد ہیں۔ جیسا کہ حدیث کے مطابق بائیں ہاتھ سے استنجا، بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا اور مسجد سے نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے نکالنا وغیرہ سنت ہے۔

دسویں حدیث:

عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ (فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ )

وَفِي لَفْظٍ «رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّى كَادَ يَبْلُغُ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى رَفَعَ إلَى السَّاقَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ – ﷺ – يَقُولُ إنَّ أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ (فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ)

وَفِي لَفْظٍ لِمُسْلِمٍ: سَمِعْتُ خَلِيلِي – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – يَقُولُ: «تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنْ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ»

(رواه البخاري، كتاب الوضوء، باب فضل الوضوء والغرُّ المحجّلون من آثار الوضوء، برقم: 136، واللفظ له، ورواه مسلم، كتاب الطهارة، باب استحباب إطالة الغرة، والتحجيل في الوضوء، برقم: 246، رواه مسلم، كتاب الطهارة، باب تبلغ الحلية حيث يبلغ الوضوء، برقم: 250)

والغرة: البَيَاضُ الَّذِي يَكُوْنُ فِي وَجْهِ الفَرس.

والتحجيل: بياض يكون في قوائم الفرس.

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

حضرت نعیم المجمر ﷫ سیدنا حضرت ابو ہریرہ سے اور وہ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ یقیناً میری امت کو قیامت کے دن اس حالت میں بلایا جائے گا کہ ان کے اعضاء وضو ہاتھ ، پاؤں اور چہرہ وضو کے اثرات کی وجہ سے چمکتے اور سفید ہوں گے۔ (لہٰذا تم میں سے جو کوئی اپنی چمک کو لمبا کرنا چاہے تو وہ ایسا کر لے۔)

دوسری روایت میں ہے یہ مذکور ہے: ’’ میں نے حضرت ابو ہریرہ کووضو کرتے دیکھا تو آپ نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ کندھوں تک پہنچ جائیں۔ پھر آپ نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ دونوں پنڈلیوں تک لے گئے۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ فرماتے ہیں: ’’ یقیناً میری امت کو قیامت کے دن اس حال میں بلایا جائے گا کہ ان کے ہاتھ پاؤں اور چہرے وضو کے اثرات کی وجہ سے چمکتے ہوں گے۔ (پس تم میں سے جو یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ اپنی چمک کو لمبا کرے تو اسے ایسا کر لینا چاہیے۔)

اور صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں: ’’ میں نے اپنے خلیل ﷺ سے سنا، آپ فرماتے ہیں: ’’ مؤمن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

الغرۃ: اس سفیدی کو کہتے ہیں جو گھوڑوں کی پیشانی میں ہوتی ہے۔

التحجیل: اس سفیدی کو کہتے ہیں جو گھوڑے کے پاؤں میں ہوتی ہے۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ قیامت کے دن امتوں کو بلائے جانے کا ذکر۔

2۔ وضو کی فضیلت اور اس وجہ سے باقی امتوں کے مقابلے میں نبی کریم ﷺ کی امت کی فضیلت اور اس کے اعزاز اور امتیاز کا ذکر۔

3۔ اس حدیث کے مطابق وضو کے اعضاء کی حد سے زیادہ دھونے کی ترغیب ہے مگر اہل علم کے نزدیک بریکٹ والے الفاظ یعنی (فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ) ’’پس تم میں سے جو یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ اپنی چمک وسفیدی کو لمبا کرے تو اسے ایسا کر لینا چاہیے۔‘‘ مدرج ہیں، یعنی یہ الفاظ بظاہر رسول اللہ ﷺ کے معلوم ہوتے ہیں مگر درحقیقت یہ الفاظ سیدنا ابو ہریرہ کے اپنے ہیں جن کو صرف سيدنا نعیم المجمر﷫ نے روایت کیا ہے، اور مسند احمد میں یہی حدیث حضرت فلیح﷫ کے واسطے سے ہے وہ سيدنا نعیم المجمر﷫ سے بیان کرتے ہیں جس میں نعیم المجمر﷫ صراحت سے کہتے ہیں کہ ” لَا أَدْرِيْ قوله مَنِ اسْتَطَاعَ … إلخ من قول النبي ﷺ أو من قول أبي هريرة.” کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ کے ہیں یا سيدنا ابو ہریرہ کے اور حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ نے فتح الباری میں وضاحت کی ہے کہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ کے بجائے حضرت ابو ہریرہ کے ہیں کیونکہ یہی حدیث دس اور صحابہ کرام سے مروی ہے ، ان میں سے کسی نے یہ زیادہ الفاظ نہیں بیان کیے ہیں، اسی طرح حضرت ابو ہریرہ سے حضرت نعیم المجمر ﷫ کے علاوہ بھی بیان کرنے والے ہیں، ان میں سے بھی کسی نے یہ زیادہ الفاظ بیان نہیں کیے۔ انتہیٰ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سیدنا ابو ہریرہ کا اپنا فہم ہے اور محققین کے ہاں وضو کے اعضاء سے زیادہ دھونا سنت اور مستحب نہیں ہے بلکہ وضو کے اعضاء کو ہی اچھی طرح دھونا چاہیے اور یہی سنت رسول اور عملِ صحابہ ہے۔ واللہ أعلم بالصواب

4۔ عالمی ربانی کا اپنی سمجھ کے مطابق حدیث پر عمل کرنا اور اس پر فتویٰ دینا درست ہے، جیسے حضرت ابو ہریرہ نے کیا، مگر یہ ضروری نہیں کہ اس کا فہم اور فتویٰ درست ہو۔ ایسی صورت میں اس عالم ربانی کو اخلاص اور اپنے اجتہاد کی وجہ سے اجر ملے گا مگر دوسرے لوگوں کو جب صحیح فہم اور فتویٰ مل جائے ، اس پر عمل کرنا واجب ہے۔

5۔ وضو کی اخروی برکت کا ذکر کہ اللہ اس کی وجہ سے اہل ایمان کو ممتاز کرے گا اور دنیا بھی باوضو رہنے والے اہل ایمان دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں۔

6۔ نبی کریمﷺ کا وضو کرنے کو مؤمن کا زیور قرار دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح دنیاوی سونا چاندی وغیرہ کے زیور سے انسان کی خوبصورتی اور جاہ جلال میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح وضو سے مؤمن کی خوبصورتی، وقار اور جاہ وجلال میں اضافہ ہوتا ہے۔

7۔ اس حدیث سے زیور کے استعمال کے جائز ہونے پر استدلال۔ واللہ أعلم بالصواب

تبصرہ کریں