عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 6) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد

تیرہویں حدیث:

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَقِيْتُ يَوْمًا عَلَى بَيْتِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فرَأَيتُ النبيَّ ﷺ، قَالَ: «يَقضِي حَاجَتَهُ مُسْتَقبِل الشَّامِ، مُسْتَدبِر الْكَعْبَةِ» (رواه البخاري، كتاب الوضوء، باب التبرز في البيوت، برقم 148، وصحيح مسلم، کتاب الطهارة، باب الاستطابة، برقم : 266 )

حدیث کا سلیس ترجمہ

’’سیدنا عبد الله بن عمر بن خطاب بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک دن سیدہ حفصہ یعنی اپنی بہن کے مکان پر چڑھا، میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ شام کی طرف منہ کئے اور کعبہ کی جانب پیٹھ کئے قضائے حاجت کر رہے ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

مفرداث الحديث

رَقِيْتُ: میں چڑھا

مُسْتَقبِل الشَّامِ : سر زمین شام کی طرف رخ کر کے۔

مُسْتَدبِر الْكَعْبَةِ: کعبہ کی جانب پیٹھ کئے ہوئے ۔

مفہوم الحدیث

سیدنا عبد الله بن عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہما اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں ایک روز اپنی بہن ام المومنین سیدہ حفصہ  رضی اللہ عنہا کے گھر آیا اور مکان کی چھت پر چڑھ گیا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ سر زمین شام کی طرف منہ کئے اور کعبہ کی جانب پیٹھ کئے ہوئے قضائے حاجت کر رہے تھے۔ قضائے حاجت کرتے وقت قبلہ کی جانب منہ کرنا یا پیٹھ کر کے بیٹھنے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔

سیدنا ابو ایوب انصاری ، امام مجاہد، امام نخعی اور امام ثوری  رحمہم اللہ  تو قضائے حاجت کرتے وقت قبلے کی جانب منہ یا پیٹھ کرنے کو چاہے کھلی فضا میں ہو یا عمارت کے اندر ، ہر طور پر ہر صورت حرام سمجھتے ہیں۔ سیدنا عروہ بن زبیر ، امام ربیعہ، امام داؤد ظاہری رحمہم اللہ، سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما  کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے قضائے حاجت کے وقت استقبال و استدبار قبلہ کو جائز قرار دیتے ہیں۔

امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام شعبی اور امام اسحاق رحمہم اللہ کھلی فضاء میں قضائے حاجت کے وقت استقبال و استدبار قبلہ کو حرام قرار دیتے ہیں، البتہ اگر قضائے حاجت کسی عمارت میں ہو تو قبلہ رخ ہو کر یا قبلہ کی جانب پیٹھ پھیر کر بیٹھنا جائز ہے۔

سابقہ دونوں حدیثوں میں یہ ایک بہترین تطبیق ہے اور یہی راجح ہے، البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ عمارت میں بھی بول و براز کے وقت منہ یا پیٹھ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ والله اعلم

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1. بہنوں کے گھر جانا اور وہاں بے تکلف ہونا۔ ہمارے پاک و ہند میں بعض لوگ بیٹی یا بہن کے گھر جانا اور وہاں سے کچھ کھانے پینے کو معیوب سمجھتے ہیں حالانکہ شریعت میں ایسی کوئی بات نہیں بلکہ معروف طریقے سے کھانے پینے اور رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

2. گھروں کے اندر یا چھت پر جہاں مناسب ہو بیت الخلاء بنانے کا جواز۔

3. گھر میں بھی بیت الخلاء کا اتنا دور ہونے یا ساؤنڈ پروف ہونے اور باپرد ہونے کا استحباب، جہاں تک گھر والوں کی آواز یا بیت الخلاء سے قضاء حاجت کرتے وقت گھر والوں کو آواز نہ پہنچے۔

4. قضاء حاجت کے وقت دوسروں سے الگ ہو کر کسی اوٹ وغیرہ کے پیچھے بیٹھنا اسلامی تعلیمات میں سے ہے۔

5. عمارت کے اندر قضاء حاجت کرتے وقت کعبہ کی طرف پیٹھ کرنے میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن ادب و احترام اور احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے احتراز بہتر ہے۔ کیونکہ منع کی احادیث صحیح ہیں اور عام ہیں ممکن ہے کہ یہ خاصہ رسول الله ﷺ کا ہو۔ اس لیے قضاء حاجت کے وقت منہ یا پیٹھ قبلہ رخ نہ کرنا افضل اور احوط ہے۔

6. قضائے حاجت کے وقت بیت المقدس سمیت کسی بھی دوسری جانب رخ کر کے بیٹھنے میں شرعا کوئی حرج نہیں۔ والله اعلم

چودھویں حدیث:

عن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّهِ ﷺ يَدْخُلُ الْخَلاَءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا، وَغُلاَمٌ نَحْوِي، إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ، وَعَنَزَةً فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ. اَلْعَنَزَةُ : اَلْـحَرْبَةُ الصَّغِيْرَةُ

(رواه البخاري، کتاب الوضوء، باب حمل العنزة مع الماء في الاستنجاء، برقم 152، ومسلم، کتاب الطهارة، باب الاستنجاء بالماء من التبرز، برقم 271)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللهﷺ بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو میں اور میرے جیسا ایک دوسرا لڑکا پانی کا برتن اور چھوٹی برچھی اٹھائے ہوئے ہوتے آپ پانی سے استنجاء کرتے۔ اَلْعَنَزَۃُ سے مراد چھوٹی برچھی یا چھوٹا نیزہ ہے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

مفردات الحديث

اَلْـخَلَاءَ : بیت الخلا

أَحْمِلُ : میں اٹھاتا ۔

إِدَاوَةً : برتن

عَنَزَۃُ : چھوٹی برچھی ۔

مفہوم الحدیث

نبی کریم ﷺ کے خادم خاص سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو میں اور مجھ جیسا ایک اور نوجوان پانی اور پردے کا اہتمام کرتے ۔ استنجاء کرنے کے لیے پانی کا برتن اور پردہ تاننے کے لئے برچھی سے کام لیا جاتا۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1. صرف پانی سے استنجاء کرنا بھی درست ہے، اسی طرح صرف مٹی وغیرہ کے ڈھیلوں سے اور مٹی وغیره کے ڈھیلوں اور پانی دونوں کے ساتھ استنجاء کرنا درست ہے۔ صرف مٹی وغیرہ کے ڈھیلوں سے استنجاء کرنے کی صورت میں کم از کم تین ڈھیلے استعمال کرنا ضروری ہیں۔ اصل مقصود اچھی طرح صفائی ہے۔

2. ہر مسلمان کو قضائے حاجت کرنے سے پہلے صفائی کے لیے اشیاء مثلاً پانی، ڈھیلے یا ٹائلٹ پیپرز وغیرہ کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔

3. قضائے حاجت کرتے وقت پردے کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے تاکہ کوئی اسے برہنہ حالت میں دیکھ نہ سکے۔ عمداً کسی کو برہنہ دیکھنا حرام ہے۔ اس میں دوسرے کا احترام اور اپنے لیے شرم و حیا کا پہلو ہے۔ اور یہ اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے۔

4. چھوٹے بچوں سے ایسے مواقع پر پانی اور پردے کا اہتمام کرنے کے لیے خدمت لینا جائز ہے۔ اسی طرح ضرورت کے تحت ایک سے زائد خادم رکھے جاسکتے ہیں۔

5. بعض دفعہ لفظ غلام کا اطلاق بالغ اور آزاد آدمی پر بھی ہوتا ہے ۔ والله اعلم

 

٭٭٭

فضائل سیدنا علی  رضی اللہ عنہ اور اہل سنت

امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ اور امام اسماعیل بن اسحاق القاضی رحمہ اللہ  ، دونوں کا قول ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ کے اچھی سندوں کے ساتھ جس قدر فضائل بیان ہوئے ہیں ؛ صحابہ میں سے کسی کے اتنے فضائل منقول نہیں ہیں ! یہی بات امام نسائی رحمہ اللہ  نے بھی کہی ہے ۔

(محدث ابن عبدالبر رحمہ اللہ ، الاستیعاب )

 

اسلام کی عمارت گرا دینے والے امور

سیدنا زیاد بن حُدَیرکہتے ہیں:

’’امیرالمومنین عمر بن خطاب نے مجھ سے پوچھا:کیا تمھیں معلوم ہے کہ اسلام کی عمارت کو ڈھانے والےامور کون ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی میں نہیں جانتا، فرمایا: ’’ عالم کی لغزش؛ منافق کا قرآن کے ذریعے جھگڑنا ؛اور گم راہ لیڈروں اور پیشواؤں کے فیصلے ، وہ امور ہیں جو قصرِ اسلام کو زمین بوس کر دیتے ہیں۔ ‘‘ (سنن دارمی: 220)

 

دل سخت ہونے کا ایک سبب

ڈاکٹر شیخ سعود الشریم حفظہ اللہ کا قول ہے کہ

جو ہر وقت دوسروں کی عیب جوئی اور ان کا ٹھٹھا اڑانے میں مشغول رہتا ہے ، وہ ضرور اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے ، نتیجتاً اس کا دل سخت ہو جاتا ہے اور پھر وعظ و نصیحت سے بھی نرم نہیں ہوتا۔ اللہ عزوجل کا فرمان ہے:’’ تم نے ان (مومنوں) کا مذاق بنالیا؛ یہاں تک کہ ان کی ضد نے تمہیں یہ بھی بھُلا دیا کہ میں بھی کوئی ہوں۔‘‘ (سورۃ المومنون:110)

 

تبصرہ کریں