عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:اوقاتِ نماز سے متعلق قسط 24

حدیث نمبر : 48

عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عَنْه؛ أَنَّ النَّبِيَّ صلّى الله عليه وسلّم قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : «مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا، كَمَا شَغَلُونَا عَنْ الصَّلاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ».

وَفِي لَفْظٍ لِمُسْلِمٍ «شَغَلُونَا عَنْ الصَّلاةِ الْوُسْطَى – صَلاةِ الْعَصْرِ – ثُمَّ صَلاهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ».

وَلَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : «حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلّم عَنِ صَلاَةِ الْعَصْرِ، حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ أَوْ اصْفَرَّتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلّم : شَغَلُونَا عَنْ الصَّلاةِ الْوُسْطَى صَلاةِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَاراً، أَوْ قَالَ حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَاراً».

(رواه البخاري، كتاب الجهاد والسير، باب الدعاء على المشركين بالهزيمة والزلزلة، برقم 2931، ورقم 4111، و4533، و6396، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب الدليل لمن قال الصلاة الوسطى هي صلاة العصر، برقم 627،628)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا علی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خندق کے دن ارشاد فرمایا :’’اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔‘‘ جیسا کہ انہوں نے ہمیں نماز وسطى (عصر ) سے روکے رکھا یہاں تک سورج غروب ہو گیا۔صحیح مسلم کی روایت ہے انہوں نے نماز وسطی یعنی نماز عصر سے روکے رکھا پھر اسے مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھا اور صحیح مسلم میں سیدنا عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے فرمایا کہ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج کا رنگ سرخ یا زرد ہو گیا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:انہوں نے ہمیں نماز وسطی یعنی نماز عصر سے روک دیا اللہ ان کے پیٹ اور قبریں آگ سے بھر دے یا مَلَاَ کی جگہ حشا کے الفاظ بیان کئے۔(صحیح بخاری وصحیح مسلم)

مفرداتُ الحدیث

1 : اَلْخَنْدَقُ : مورچہ یا وہ گڑھا / کھائی جو سن 5 ہجری کو رسول اللہ ﷺ نے دشمن کو مدینہ منورہ پر حملے سے روکنے کے لیے حرہ شرقیہ سے حرہ غربیہ تک اپنے جان نثار صحابہ سے مل کر کھودا تھا ۔

2 : مَلَاَللّٰهُ: اللہ بھر دے ۔

3 : قُبُوْرَهُمْ: ان کی قبریں، قبر کی جمع ۔

4 : بُيُوتَهُمْ: ان کے گھر بَیْتُ کی جمع ۔

5 : شَغَلُوْنَا: ہمیں مشغول کیا، ہمیں روک دیا ۔

6 : الْوُسْطَى: درمیانی ۔مراد عصر کی نماز

7 : غَابَتِ الشَّمْسُ : سورج غروب ہو گیا ۔

8 : حَبَسَ: روکا ۔

9 : اِحْمَرَّتِ الشَّمْسُ: سورج سرخ ہو گیا ۔

10 : اِصْفَرَّتْ: زرد ہو گیا ۔

11 : أَجْوَافَهُمْ: ان کے پیٹ، جوف کی جمع ۔

12 : نَارُ: آگ

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ راجح قول کے مطابق نماز وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں سیدنا علی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم نماز وسطی سے مراد فجر کی نماز لیا کرتے تھے لیکن خندق کے دن جب رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ مشرکین نے ہمیں صلوۃوسطی یعنی عصر کی نماز سے روک دیا تب ہمیں پتہ چلا کہ اس سےمراد نماز عصر ہے۔

2۔فرائض کی تاکید میں تفاوت کا ہونا جیسا کہ پانچ نمازوں میں سب سے زیادہ موکد نماز عصر کی نماز ہے پھر فجر وعشاء پھر مغرب و ظہر ۔واللہ اعلم

3۔ کسی کی اگر نماز چھوٹ جائے اور اس نماز کا وقت گزر جائے تو جب وقت ملے اسے پڑھ لے۔ لیکن بغیر شرعی عذر کے نماز کو قضاء کرنا کبیرہ گناہ ہے۔

4۔جہاد کی اہمیت و فضیلت جس کی وجہ سے نماز موخر کی گئی لیکن یہ اس وقت ہوا جب نماز خوف کا حکم نہیں اترا تھا۔

5۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کا مقدم ہونا حتی کہ نماز کو موخر کردیا گیا کیونکہ لوگوں کی حفاظت کے لیے خندق کھودنا ضروری تھا۔ اسی طرح نماز کے دوران سانپ، بچو یا اس طرح کا زہریلا جانور وغیرہ نظر آجائے تو اس کو نماز کے دوران ہی مارنے کا حکم ہے اسی طرح اگر نماز کے دوران کوئی حادثہ وغیرہ ہو جائے جس سے نمازیوں کی جان کو خطرہ ہو تو اپنی نماز چھوڑ کر ان کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔

6۔قضا نمازوں کی ترتیب راجح قول کے مطابق مستحب ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھی اور کوئی ایسی صحیح و صریح حدیث نہیں ہے جو قضا نمازوں کی ترتیب کے فرض ہونے پر دلالت کرتی ہو۔ البتہ مستحب عمل اور حتی الوسع اسی کو اختیار کرنا چاہیے کیونکہ بہت سارے اہل علم کے نزدیک ترتیب فرض ہے۔ واللہ اعلم

7۔ظالم کفار کے لیے بدعا کرنا جائز ہے ۔ رسول اللہﷺنے رحمت اللعالمین ہونے کے باوجود سخت بدعا دی کہ اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔

8۔یہ حدیث قبر میں عذاب ہونے کی دلیل بھی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا کہ اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔

9۔ مشکل وقت میں قائد کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہنا اور مشترکہ کام بھی باقاعدہ حصہ لینا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خندق کی کھدائی میں عملاً بھر پور طریقے سے حصہ لیا۔

10۔جہادی امور اور اس میں مشکلات کی فضیلت ۔

11۔غزوہ خندق کا دوسرا نام غزوہ احزاب بھی ہے احزاب حزب کی جمع ہے جس کا معنی گروہ ہے۔ مشرکوں کے سارے گروہوں نے اکھٹے ہو کر مدینہ منورہ پر چڑھائی کر دی اور مدینہ منورہ کے اندر سے یہودیوں اور منافقین نے باہر کے کفار و مشرکوں کا بھر پور ساتھ دیا باجود اس کے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ مدد کا وعدہ کر رکھا تھا اور ان ساری چیزوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس غزوہ میں مسلمانوں کو فتح دی اور کفار و مشرکین کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

12۔ فتح و شکست صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔

حدیث نمبر : 49

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عَنْهما؛ قَالَ:«أَعْتَمَ النَّبِيُّ صلّى الله عليه وسلّم بِالْعِشَاءِ، فَخَرَجَ عُمَرُ، فَقَالَ : الصَّلاةُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ. رَقَدَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ. فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ يَقُولُ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي – أَوْ عَلَى النَّاسِ – لأَمَرْتُهُمْ بِهَذِهِ الصَّلاةِ هَذِهِ السَّاعَةِ».

(رواه البخاري، كتاب التمني، باب ما يجوز من اللوّ، برقم 7239، وبنحوه مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب وقت العشاء وتأخيرها، برقم 642)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس سے روایت ہے، فرمایاکہ نبی کریم ﷺنے عشاء کی نماز میں دیر کر دی سیدنا عمر نکلے، عرض کی نماز ،یا رسول اللہ ﷺ… عورتیں اور بچے سو رہے ہیں آپ ﷺ نکلے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے آپ ﷺ فرمانے لگے : ’’اگر مجھے اپنی امت یا لوگوں پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو انہیں یہ نماز اس وقت پڑھنے کا حکم دے دیتا۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1: اَعْتَمَ : اندھیرے میں داخل ہوا یعنی دیر کر دی اَلْعَتَمَةُ رات کے اندھیرے کو کہتے ہیں ۔

2 : رَقَدَ : سو گیا ۔

3 : النِّسَآءُ : عورتیں ۔

4 : الصِّبْيَانُ : بچے ۔

5 : رَاسُهُ: اس کا سر ۔

6 : يَقْطُرُ : قطرے گرتے ہیں ۔

7 : لَوْلاَ : اگر نہ ۔

8 : اَشُقَّ : میں مشقت میں مبتلا کرنا ۔

9 : عَلٰى اُمَّتِیْ : میری امت پر۔

10 : اَوْ عَلَى النَّاسِ : یا لوگوں پر ۔

11 : لَاَمَرْتُهُمْ : تو میں ضرور انہیں حکم دیتا ۔

12 : هَذِهِ السَّاعَةِ : اس گھڑی /وقت

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔

2۔لوگوں کی سہولت اور آسانی کے لیے افضل پر عمل نہ کرنا ۔ لیکن جتنا ممکن ہو افضل حکم کے قریب رہنا چاہیے ۔

3۔ نبی کریم ﷺ اپنی امت کے حق میں بڑے ہمدرد شفیق اور رحمدل اور خیر خواہ تھے۔

4۔ صحابیات بچوں سمیت نماز ادا کرنے کے لیے مسجد نبوی میں تشریف لے جایا کرتی تھیں۔ البتہ عورت کی نماز گھر میں افضل ہے۔ عورتوں کو مسجد سے روکنا درست نہیں البتہ عورتوں کے شریعت نے آداب مقرر کئیے ہیں مثلا بن سنور کر نہ جانا، خوشبو وغیرہ لگا کر نہ جانا، بے پردگی سے نہ جانا ، اگر وہاں یا راستے میں کسی فتنے کا خطرہ ہو تو نہ جانا، خاوند یا محرم کی اجازت سے جانا وغیرہ ۔

5۔اگر ضرورت محسوس ہو تو چھوٹا بڑے کو، شاگرد استاد کو مقتدی امام کو توجہ دلا سکتا ہے جیسا کہ

سیدنا عمر کے عمل سے ثابت ہے۔

6۔ نبی کریم ﷺ کے حکم سے کوئی چیز فرض واجب ہوسکتی ہے جیسے اس حدیث میں ہے کہ اگر مشقت نہ ہوتی تو میں حکم دیتا ۔۔۔۔لیکن آپ نے حکم نہیں دیا اگر حکم دے دیتے تو وہ اسی وقت فرض ہوتی ۔

٭٭٭

بدعات رجب سے متعلق مختلف فتویٰ

شیخ ابن باز ﷫نے فرماتے ہیں:

’’رجب یا کسی بھی دوسرے مہینے میں شب معراج کی تعیین کے متعلق صحیح احادیث میں کچھ بھی مذکور نہیں اور اس رات کی تعیین میں جو کچھ بھی مروی ہے وہ محدثین کی تحقیق کے مطابق رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں اور اگر بالفرض اس رات کی تعیین ثابت بھی ہو جائے تب بھی مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے بعض عبادات کے لئے خاص کریں یا اس میں مختلف مجالس ومحافل کا انعقاد کریں کیونکہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور اگر ایسا کوئی بھی کام مشروع ہوتا تو نبی ﷺ اپنے قول یا فعل کے ذریعے امت کے سامنے اس کی وضاحت ضرور فرما دیتے ۔‘‘

(مجموع فتاویٰ ومقالات متنوعۃ :1؍188)

تبصرہ کریں