عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:اوقاتِ نماز سے متعلق(قسط 23)-فضل الرحمٰن حقانی

حدیث نمبر : 46

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عَنْهما قَالَ : «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَاناً وَأَحْيَاناً إذَا رَآهُمْ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ؛ وَإِذَا رَآهُمْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحُ كَانَ النَّبِيُّ صلّى الله عليه وسلّم يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ».

[رواه البخاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب وقت المغرب، واللفظ له، برقم 560، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب التبكير بالصبح في أول وقتها، وهو التغليس، وبيان قدر القراءة فيها، برقم 646.]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا جابر بن عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ ظہر کی نماز زوال ہوتے ہی پڑھ لیا کرتے تھے۔ اور عصر کی نماز پڑھتے جبکہ سورج ابھی صاف چمکتا ہوتا مغرب کی نماز پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور عشاء کی نماز کبھی جلدی اور کبھی دیر سے پڑھتے۔جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے، جب دیکھتے کہ لوگوں نے تاخیر کر دی ہے تو آپ بھی نماز میں تاخیر کر دیتے نبی کریم ﷺ صبح کی نماز اندھیرے ( صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد ) میں پڑھتے تھے۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 :يُصَلِّیَ الظُّهْرَ : ظہر کی نماز پڑھتے ۔

2 :اَلْهَاجِرَةُ: زول کے بعد سخت گرمی کا وقت ۔مراد اس سے اول وقت ہے موسم گرما ہو یا موسم سرما ۔

3 : نَقِيَّةٌ: صاف جبکہ سورج ابھی زردی مائل نہ ہوا ہو۔

4 : إذَا وَجَبَتْ : جب گر جائے، سورج جب غروب ہو جائے ۔

5 : تَعَجَّلَ : جلدی کر لیتے ۔

6 : اَخَّرَھَا : تاخیر کر دیتے ۔

7 : اَبْطَأُوْا : جب وہ تاخیر کردیتے۔

8 :الْغَلَسُ: ایسا اندھیرا جس میں صبح کی روشنی کی آمیزش ہو ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔نبی کریمﷺ کا عشاء کے علاوہ دوسری نمازیں اول وقت میں پڑھنا معمول تھا ۔ نمازوں کو اول وقت میں پڑھنے میں نمازی میں خشوع وخضوع زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ ذہنی طور پر مطمئن ہوتا کہ نماز کا وقت ابھی بہت باقی ہے لہٰذا وہ نماز کو سکون سے پڑھتا ہے جبکہ نمازوں کو تاخیر سے پڑھنے والا ذہنی طور پر جلدی میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے نماز میں خشوع وخضوع اور اطمینان کا فقدان رہتا ہے ۔ جبکہ عشاء کی نماز کا وقت باقی نمازوں کے مقابلے میں لمبا ہے اور جتنی رات گزرتی ہے اتنا ہی اس میں سکون آتا ہے ، باقی نمازوں کی بنسبت عشاء کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے میں خشوع وخضوع اور اطمینان زیادہ ہوتا ہے لیکن اگر لوگوں کی تکلیف ہو تو باجماعت نماز بہت زیادہ دیر سے نہیں پڑھنی چاہیے جیسا کہ رسول اللہﷺ خود عشاء کی نماز میں لوگوں کا خیال رکھتے لوگ جلدی آجاتے تو آپ جلدی پڑھا دیتے اور اگر لوگ دیر سے آتے تو آپ دیر سے پڑھاتے۔ لیکن آپ نے دیر سے پڑھنے کو پسند فرمایا ہے۔

2۔عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا افضل ہے اس کا آخری وقت نصف رات تک ہوتا ہے۔ بعض لوگ عشاء کی نماز کو فجر کی نماز تک موخر کرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے بلکہ آدھی رات سے پہلے پہلے پڑھ لینا چاہیے اور آدھی رات کا تعین سورج غروب ہونے اور صبح صادق کے طلوع ہونے کے درمیان کے کل وقت کا نصف آدھی رات کا وقت ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ عشاء سمیت ہر نماز باجماعت ادا کرنا ہی افضل و مسنون ہے ۔

3۔ نمازوں کے اوقات امام مقرر کرے اور امام کے لئے مستحب ہے کہ نمازیوں کی رعایت رکھے۔

4۔صبح کی نماز صبح صادق ہوتے ہی جلدی پڑھ لی جائے۔روشنی پھیلنے کا انتظار نہ کیا جائے جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں حتی کہ بعض کے تو اوقات اتنے دیر سے ہوتے ہیں کہ سورج نکلنے سے دس پندرہ منٹ پہلے سلام پھیرتے ہیں یہ عملا جہاں خلاف سنت ہے وہاں ایسی نماز خشوع و خضوع اور اطمینان سے خالی ہوتی ہے جبکہ یہی تو نماز کا حسن ہے۔ فجر کی نماز جلدی اس لیے بھی پڑھنی چاہیے کیونکہ نبی کریمﷺ کا یہی معمول رہا ہے اور یقیناً نبی کریمﷺ کا اسوہ ہی ہمارے لیے بہترین نمونہ اور اللہ تعالیٰ کی محبت پانے کا سبب و ذریعہ ہے۔

5۔نماز باجماعت ادا کرنا اولیٰ اور افضل ہے۔ اور اس کی بہت زیادہ تاکید ہے ۔ انتہائی مجبوری کے بغیر اکیلے نماز نہیں پڑھنی چاہیے ۔

حدیث نمبر: 47

عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ سَيَّارِ بْنِ سَلامَةَ قَالَ : «دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ فَقَالَ : كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ – الَّتِي تَدْعُونَهَا الأُولَى – حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ. وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ. وَكَانَ يُسْتَحَبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ مِنْ الْعِشَاءِ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلَ جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إلَى الْمِائَةِ».[رواه البخاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب وقت العصر، برقم 547، وفي لفظ للبخاري، برقم 771: «وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى المِائَةِ»، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب التبكير بالصبح في أول وقتها، وهو التغليس، وبيان قدر القراءة فيها، برقم 647.]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو المنھال سیار بن سلامۃ ﷫ نے بیان کیا کہ میں اور میرے ابا جان سیدنا ابو برزہ اسلمی کے پاس آئے ان سے میرے ابا جان نے کہا کہ رسول اللہ ﷺفرض نماز کب پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا :آپ ظہر کی نماز پڑھتے تھے جس کو تم اولی کے نام سے پکارتے ہو جبکہ سورج ڈھل جاتا اور عصر کی نماز پڑھتے پھر ہم میں سے ایک مدینے کے ایک کونے پر واقع اپنے گھر واپس لوٹتا اور سورج ابھی زندہ ہوتا اور میں بھول گیا کہ انہوں نے مغرب کے بارے میں کیا کہا:اور آپ پسند کرتے تھے کہ عشاء کی نماز کو مؤخر کر دیں جس کو تم عتمہ کے نام سے پکارتے ہو۔آپ ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند کیا کرتے تھے، آپ ﷺ صبح کی نماز سے پلٹتے جبکہ ایک شخص اپنے پاس بیٹھے شخص کو پہچان سکتا تھا آپ ﷺ صبح کی نماز میں ساٹھ سے سو تک آیات پڑھا کرتے تھے۔(بخاری و مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اَلْمَكْتُوبَةَ: فرض نماز:

2 : اَلْهَجِيرُ: ظہر کی نماز ۔

3 : تَدْحَضُ الشَّمْسُ : سورج ڈھل جاتا ہے ۔

4 : اِلَى رَحْلِهِ: اپنے گھر کی طرف۔

5 : أَقْصَى الْمَدِينَةِ : شہر کا کونہ ۔

6 : نَسِيْتُ: میں بھول گیا ۔

7 : الشَّمْسُ حَيَّةُ: سورج زندہ ہے یعنی خوب چمکتا ہے ۔

8 : كَانَ يَسْتَحِبُّ : پسند کرتے تھے۔

9 : اَلْعَتَمَةُ : نماز عشاء۔

10: النَّوْمُ : نیند ۔

11 : يَكْرَهُ : ناپسند کرتے تھے ۔

12 : يَنْفَتِلُ : پلٹتے۔

13 : صَلٰوةُالغَدَاةِ : صبح کی نماز۔

14 : جَلِيْسُ: ہم نشین ، پاس بیٹھنے والا۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔تابعین ﷭ جب صحابہ کرام سے ملتے تو رسول اللہ ﷺ کے عمل کے متعلق دریافت کرتے تاکہ اپنے اعمال رسول اللہ ﷺ کے سنت کے مطابق کر سکیں اس میں باقی امت کے لیے سبق ہے کہ جب اپس میں دنیاوی معاملات کی وجہ سے ملاقات ہو تو اس میں کچھ نہ کچھ حصہ دین کے سیکھنے اور سکھانے کا بھی ہونا چاہیے اور دین میں رسول اللہﷺ کی ذات ہی اصل ہے ان کے عقیدے کے مطابق عقیدہ اور ان کے اعمال کے مطابق اعمال ہونے اور کرنے چاہیں ۔

2۔ نمازوں کے نام اپنی زبانوں اور لہجوں میں رکھنے جائز ہیں جیسے ظہر کا نام بعض تابعین کے ہاں اولی تھا۔ جیسے ہمارے ہاں پاکستان کے بعض علاقوں میں ظہر کو پیشی، عصر کو دیگر مغرب کو نماشاں اور عشاء کو کفتاں وغیرہ کہتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نام رکھنا توقیفی نہیں ہیں بلکہ توفیقی ہیں صرف وہ نام رکھنے منع ہیں جن سے شریعت نے منع کیا ہے یا جو معنی کے لحاظ سے نامناسب ہیں۔

3۔ عصر کی نماز کا وقت ایک مثل سایہ سے شروع ہوتا ہے اور اس کو جلدی پڑھنا سنت ہے ۔ نماز عصر ادا کرنے کے بعد سورج کی روشنی سفید ہونی چاہیے اور اگر سورج کی روشنی زرد ہوجائے تو ایسے وقت میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص کی نماز کو منافق کی نماز قرار دیا ہے۔

4۔پہلی نماز کا آخری وقت ختم ہوتے ہی دوسری نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے سوائے نماز عشاء اور نماز فجر کے، نماز عشاء کا آخری وقت نصف رات کو قرار دیا گیا ہے اور نماز فجر کا وقت صبح صادق سے لے کر طلوع آفتاب تک ہے۔

5۔نبی کریمﷺ عموماً نماز عشاء کے علاوہ دیگر تمام نمازیں اول وقت میں ادا کر لیا کرتے تھے سوائے گرمیوں میں ظہر کی نماز کے ۔ سخت گرمی میں ظہر کے قدرے دیر سے پڑھتے تھے۔

6۔عشاء تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔ بشرطیکہ لوگوں کے لیے زیادہ مشقت نہ ہو۔

7۔عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور بعد میں دنیاوی باتیں کرنا ناپسندیدہ عمل ہے۔ مگر ضرورت کے تحت گفتگو کرنا جائز ہے۔ البتہ فضول گفتگو یا جس سے فجر کی نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہو مکروہ ہے۔

8۔ نماز فجر صبح کے اندھیرے میں ادا کرنا سنت ہے اور صبح کی نماز باقی نمازوں کی بنسبت لمبی پڑھنا پڑھانا مسنون اور افضل ہے۔

9۔ نماز میں لمبا قیام افضل ہے مگر عام نمازوں میں امام کو چاہیے کہ معتدل نماز پڑھاۓ البتہ اکیلے میں لمبا قیام افضل ہے۔

10۔اندھیرے میں نماز پڑھنا درست ہے مگر نماز کے لیے مصنوعی اندھیرا کرنا درست نہیں ہے ۔اور نہ ہی بہت زیادہ روشنی کرنا درست ہے ۔کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا نہیں کیا۔

تبصرہ کریں