عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط 22)

حدیث نمبر : 44

عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ وَاسْمُهُ سَعْدُ بْنُ إيَاسٍ قَالَ : حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عَنْه ؛ قَالَ: «سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلّى الله عليه وسلّم : أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إلَى اللَّهِ؟ قَالَ: الصَّلاةُ عَلَى وَقْتِهَا. قُلْتُ : ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ : حَدَّثَنِي بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي».

[رواه البخاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب فضل الصلاة لوقتها، برقم 527، بلفظه، ومسلم، كتاب الإيمان، باب بيان كون الإيمان باللَّه تعالى أفضل الأعمال، برقم 39- (85)]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو عمروشیبانی سے روایت ہے ان کا نام سعد بن ایاس﷫ ہے کہا کہ مجھے اس گھر والے نے حدیث بیان کی اور اشارہ سیدنا عبداللہ بن مسعود کے گھر کی طرف کیا انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ فرمایا وقت پر نماز پڑھنا میں نے کہا پھر کون سا؟ فرمایا :والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، میں نے کہا پھر کون سا؟ فرمایا :اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ یہ باتیں بتائیں اور اگر میں آپ سے زیادہ دریافت کرتا تو آپ مجھے زیادہ بتاتے۔(بخاری و مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : دَارُ: گھر ۔

2 : اَي : کون سا ۔

3 : اَحَبُّ : سب سے زیادہ پسندیدہ۔

4 : الصَّلَاةُ : نماز ۔

5 : عَلٰى وَقْتِهَا : اپنے وقت پر ۔

6 : بِرُّ الْوَالِدَيْنِ : والدین کے ساتھ نیکی، حسن سلوک ۔

7 : اَلْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ میں جہاد ۔

8 : اِسْتَزَدْتُّه: میں آپ سے زیادہ طلب کرتا ۔

9 : لَزَادَنِیْ : آپ مجھے زیادہ بتا دیتے ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔تابعی کا یہ کہنا کہ صحابی رسول نے مجھے حدیث بیان کی ۔

2۔صحابہ کرام اللہ تعالیٰ کی محبت کے سب سے سے زیادہ متلاشی اور حریص تھے۔

3۔صحابہ و تابعین حدیث کو دین میں اسی طرح حجت سمجھتے تھے جس طرح قران مجید کو۔

4۔ وقت پر نماز پڑھنا اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ہے۔ نمازوں کے اوقات مقرر ہیں ان مقرر اوقات میں جماعت کا وقت مقامی لوگ مقرر کرتے ہیں جب کسی نماز کا جماعت کا وقت مقرر ہوجائے تو آس پاس کے تمام لوگوں کو مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنی چاہیے کیونکہ راجح قول کے مطابق باجماعت نماز بھی فرض ہے جس طرح نماز فرض ہے۔

5۔والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اللہ تعالیٰ کو پسند آتا ہے۔ اور حسن سلوک سے پیش آنا فرائض میں سے ہے ۔

6۔اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ۔ ہر عمل کی شرائط اور طریقہ کار شریعت نے واضح کیا ہے ان کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

7۔مسئلہ مختصر اور جامع الفاظ میں بتانا چاہیے اس سے سننے والے کو یاد آسانی سے رہتا ہے۔

8۔جتنا کوئی پوچھے صرف اتنا ہی بتایا جائے تو نفسیاتی اعتبار سے اس کے نتائج بہتر ثابت ہوتے ہیں۔

9۔نیک اعمال بھی ایک درجہ میں نہیں ہیں بلکہ ان میں تفاوت پایا جاتا ہے۔ مختلف مواقعوں پر نبی کریمﷺ نے بعض اعمال کو بعض پر ترجیح دی ہے بعض دفعہ یہ حالات اور مخاطب پر بھی منحصر ہوتا ہے رسول اللہ ﷺ بہت حکیم تھے بعض دفعہ آپ لوگوں میں بعض اعمال میں ہلکی کوتاہی یا مستقبل میں کوتاہی ہونے کے اندیشے کی وجہ سے بعض اعمال کو بعض پر فضیلت دیتے اور آپ کی ہر بات ہمارے لیے دین ہے۔

10۔نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام سے بہت محبت کرتے اور نرمی سے پیش آتے تھے جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ

اگر میں زیادہ پوچھتا تو آپ زیادہ بتاتے۔ اس میں حاکم ، جماعتوں اور اداروں کے امراء و ناظمین اور اسی طرح کسی بھی گروہ کے سربراہ حتی کہ گھر کے سربراہ کے لیے بہترین راہنمائی ہے کہ اپنے ما تحت لوگوں کے ساتھ محبت کرے اور نرمی سے پیش آئے۔

12۔ استاذ کا شاگرد کے سوالات کے جوابات احسن انداز سے دینا۔ جیسے نبی ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود کے ساتھ پیش آئے۔

13۔ شاگرد استاذ سے بہت زیادہ سوال نہ کرے ۔ جیسے سیدنا عبداللہ بن مسعود نے نبی کریم ﷺ سے زیادہ بار نہیں پوچھا حالانکہ صحابہ کرام علم کے بہت زیادہ حریص تھے۔

14۔ایک عمل دوسرے عمل سے اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے فضیلت لے جاتا ہے۔

15۔اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ میں سے ایک صفت محبت بھی ہے۔

حدیث نمبر: 45

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عَنْها قَالَتْ: «لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي الْفَجْرَ، فَتَشْهَدُ مَعَهُ نِسَاءٌ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ، مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَرْجِعْنَ إلَى بُيُوتِهِنَّ مَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنْ الْغَلَسِ».

[رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب في كم تصلي المرأة في الثياب، برقم 372، وكتاب مواقيت الصلاة، باب وقت الفجر، برقم 578، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب التبکیر بالصبح في أول وقتها، وهو التغليس، وبيان قدر القراءة فيها، برقم 645]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ

رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز پڑھاتے مومن خواتین بھی اپنی چادریں لپیٹے ہوئے آپ کے ساتھ نماز میں حاضر ہوتیں پھر اپنے گھروں کو لوٹتیں تو انہیں اندھیرے کی وجہ سے کوئی بھی پہچان نہ سکتا۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : يُصَلِّیَ الْفَجْرَ : فجر کی نماز پڑھتے؍ پڑھاتے ۔

2 : تَشْهَدُ مَعَهُ نِسَاءُ : آپ کے ساتھ خواتین حاضر ہوتیں۔

3 : الْمُوْمِنَاتِ : مومن عورتیں ۔

4 : مُتَلَفِّعَاتُ: لپٹی ہوئیں ۔

5 : بِمُرُوْطِهِنَّ : اپنی چادروں میں ۔

6 : مَا يَعْرِفُهُنَّ اَحَدُ : انہیں کوئی بھی نہ پہچان پاتا ۔

7 :اَلْغَلَسُ: ایسا اندھیرا جس میں صبح کی روشنی ملی ہو۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ ہر نماز کے دو اقات ہیں ایک اول اور دوسرا آخر تمام نمازوں کو اول وقت میں پڑھنا افضل ہے سوائے عشاء کی نماز کے عشاء کی نماز کو جتنا تاخیر سے پڑھنا ممکن ہو پڑھنا چاہیے مگر لوگوں کو مشقت میں ڈالے بغیر اور اسی طرح مسجد میں جب جماعت کا وقت مقرر ہو جائے تو پھر جماعت کے ساتھ ہی نماز پڑھنا ضروری ہے۔ اکیلے یا چند لوگ مل کر مسجد میں باقاعدہ دوسری جماعت نہیں کراسکتے ہیں البتہ اتفاقیہ ایسا ہو جاۓ تو کوئی حرج نہیں۔ ان شاءاللہ۔

2۔ باجماعت نماز کا وقت مقرر کرنے میں لوگوں کی سہولت کو مدنظر رکھنا چاہیے جیسا کہ

نبی کریم ﷺ نے فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھائی کیونکہ اس میں خواتین کے لیے سہولت تھی البتہ خواتین نہ بھی ہوں تب بھی فجر کو اول وقت میں پڑھنا افضل ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس کو معمول بنایا۔

فجر کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے تک رہتا ہے صبح صادق جب طلوع ہوتی ہے تو اس میں اندھیرا بھی ہوتا ہے اسی اندھیرے کو غلس کہتے ہیں اور یہ رات کے اندھیرے سے نسبتا کم تاریک ہوتا ہے۔

3۔ خواتین بھی مسجد میں باجماعت نماز ادا کرسکتی ہیں اگر چہ ان کے لیے افضل گھر میں نماز ہے البتہ مسجد میں آنے کی صورت میں پردے کا انتظام و اہتمام کرنا اور بناؤ سنگھار نہ کرنا ضروری ہے۔

4۔خواتین کو نماز کے فورا بعد جلدی گھر چلے جانا چاہیے جیسا کہ صحابیات کیاکرتی تھیں۔

5۔مردوں کو فرض نماز کے فورا بعد گھر نہیں جانا چاہیے بلکہ ذکر و اذکار کرنے چاہیں اور خواتین کا انتظار کرنا چاہیے تاکہ وہ پہلے چلی جائیں البتہ مردوں میں سے کسی کو جلدی جانا انتہائی ضروری ہو تو وہ جا بھی سکتا ہے البتہ یہ معمول نہیں بنانا چاہیے۔

6۔صحابیات کا اپنے اوپر چادریں لپیٹنا معمول تھا۔ حتی کہ نماز میں بھی لہٰذا مومن خواتین کو رسول اللہﷺ کی تعلیمات کے مطابق صحابیات کے طرز عمل کو اپنانا چاہیے کیونکہ نبی کریم ﷺ کے زمانے کے مومن مرد و خواتین اسلام پر عمل کے اعتبار سے سب سے بہترین تھے ۔

7۔ فجر کی نماز کا باجماعت اہتمام کرنا۔

٭٭٭

نبی کریمﷺ پر درود پڑھنا

شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں:

’’ دعا سے پہلے، درمیان اور آخر میں نبی کریمﷺ پر درود پڑھنا ، دعا کی قبولیت کا مضبوط ترین سبب ہے ۔‘‘

(اقتضاء الصراط: 2؍249)

٭٭٭

تبصرہ کریں