عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط40) فضل الرحمٰن حقانی

حدیث نمبر : 85

عَنْ البراء بن عازب رضي الله عَنْه قال : «رَمَقْتُ الصَّلاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ ﷺ، فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ، فَرَكْعَتَهُ، فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُكُوعِهِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالانْصِرَافِ : قَرِيباً مِنَ السَّوَاءِ».

وفي رواية البخاري:

«مَا خَلا الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ : قَرِيباً مِنَ السَّوَاءِ».

(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب حد إتمام الركوع، والاعتدال فيه، والطمأنينة، برقم 792، ومسلم، كتاب الصلاة، باب اعتدال أركان الصلاة، وتخفيفها في تمام، برقم 471، واللفظ له)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا براء بن عازب سے روایت کی کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی معیت میں (پڑھی جانے والی) نماز کو غور سے دیکھا تو میں نے آپ کے قیام، رکوع، رکوع کے بعد اعتدال اور آپ کے سجدے، دونوں سجدوں کے درمیان جلسے (بیٹھنا) اور آپ کے دوسرے سجدے اور اس کے بعد سلام اور رخ پھیرنے کے درمیان وقفے کو تقریبا برابر پایا۔

صحیح بخاری میں ہے کہ قیام اور آخری تشہد کے علاوہ باقی سب ارکان تقریباً برابر تھے۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : رَمَقْتُ : میں نے غور سے دیکھا ۔

2 : التَّسْلِيْمُ : سلام کہنا ۔

3 : اَلْاِنْصِرَافُ : پھرنا ۔

4 : قَرِيْباً مِّنَ السَّوَآءِ : تقریباً برابر ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ شاگرد کا اپنے استاذ کے عمل کو بغور دیکھنا تاکہ اپنے عمل کو درست طریقہ سے کرسکے۔

2۔ صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کی نماز کو بہت اہتمام سے دیکھتے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے ہاں صرف مسنون نماز ہی مقبول ہے۔

3۔ صحابہ کرام ﷩ نے نبی کریم ﷺ کی نماز میں جو کچھ دیکھا پوری امانت داری سے اس کو باقی لوگوں تک پہنچا دیا۔

4۔ نماز کی ادائیگی میں تعدیل ارکان کا خیال رکھنا فرض ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے۔

5۔قیام اور آخری تشہد دیگر ارکان کی نسبت طویل کرنا مسنون ہے۔

6۔ قیام اور تشہد کے علاوہ مثلا رکوع ، رکوع کے بعد کھڑا ہونا، سجدہ، دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار تقریباً برابر ہے۔ مگر بدقسمتی سے مسلمانوں کی اکثریت قیام، رکوع و سجود اور دو سجدوں کے درمیان بہت تیزی کرتے ہیں جس سے نماز باطل ہونے کا اندیشہ ہے۔

7۔ نماز کی پورے سکون اور اطمینان کے ساتھ ادائیگی رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہے اور ایک مسلمان کو رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کو سیکھنا چاہیے اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے ۔

8۔ اس حدیث مبارکہ میں ان لوگوں کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ امام صرف سمع اللہ لمن حمدہ اور مقتدی صرف ربنا لک الحمد کہے گا۔

9۔اس حدیث میں دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور اس میں اعتدال و اطمینان کا ذکر ہے ۔ اور نماز کے ہر رکن میں اعتدال و اطمینان فرض اور رکن ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے اس لیے اس کا خاص اہتمام اور خیال رکھنا چاہیے ۔

حدیث نمبر : 86

عَنْ ثابت البناني عَنْ أنس بن مالك رضي الله عَنْه قال : «إنِّي لا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّه ﷺ يُصَلِّي بِنَا ــ قَالَ ثَابِتٌ : ــ فَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئاً لا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، انْتَصَبَ قَائِماً، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : قَدْ نَسِيَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ، مَكَثَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : قَدْ نَسِيَ».

(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب الطمأنينة حين يرفع رأسه من الركوع، برقم 800، ومسلم، كتاب الصلاة، باب اعتدال أركان الصلاة، وتخفيفها في تمام، برقم 472، واللفظ له.)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ثابت بنانی ﷫ سیدنا انس بن مالک سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک نے فرمایا کہ میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا کہ تمہیں نماز پڑھاؤں جیسے رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تھے۔ سیدنا ثابت بنانی ﷫نے کہا کہ سیدنا انس بن مالک وہ کام کرتے کہ میں تمہیں وہ کام کرتے نہیں دیکھتا ہوں جب وہ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو ٹھہرے رہتے یہاں تک کہ کہنے والا کہتا کہ آپ بھول گئے ہیں۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : لَا آلُوْ : میں کوتاہی نہیں کروں گا ۔

2 : يَصْنَعُ : وہ کرتا ہے ۔

3 : اِنْتَصَبَ قَائِمًا : سیدھے کھڑے رہتے ۔

4 : مَكَثَ : وہ ٹھہرا ۔

5 : قَدْ نَسِیَ : تحقیق وہ بھول گیا ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔صحابہ کرام تابعین کو نماز عملا کر کے سکھاتے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا سبق یاد کر لینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کی پریکٹس(عملا) بھی کسی صاحب علم سے سیکھنا ضروری ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ آج نمازی مسلمانوں کی اکثریت کا نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو اٹھانے کی کیفیت قیام ، رکوع، رکوع کے بعد، سجود، دو سجدوں کے درمیان بیٹھک ، تشہد اور سلام پھیرنے کی کیفیت مسنون نہیں ہے۔ بلکہ اکثر نمازیوں کی غلطیاں فحش ہیں جس سے نماز باطل ہو جاتی ہے اس لیے نماز کے عمل کو کسی صاحب علم سے سیکھنا بہت ضروری ہے۔

2۔رکوع کے بعد قیام اور سجدے کے بعد بیٹھنے کا دورانیہ طویل ہونا مستحب ہے اور کم از کم اعتدال واطمینان فرض ہے۔

3۔تابعین کے زمانے میں بعض لوگ نماز کے ارکان ادا کرنے میں جلدی کرتے تھے جس پر صحابہ کرام اور تابعین علماء ان لوگوں کو تنبیہ کرتے اور انکی اصلاح کرتے اور ہمارا زمانہ تو بہت بعد کا ہے اس زمانے میں نبی کریم ﷺکے طریقہ کے مطابق نماز کا نہ ہونا عام معمول ہے۔

لہٰذا ہر مسلمان کو مسنون نماز سبقاً ، عملا اور وقت کے اعتبار سے سیکھنے سکھانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

حدیث نمبر : 87

عَنْ أنس بن مالك رضي الله عَنْه قال : «مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلاةً، وَلا أَتَمَّ صّلاةً مِنْ رَسُولِ اللَّه ﷺ ».

[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب الإيجاز في الصلاة وإكمالها، برقم 708، ومسلم، كتاب الصلاة، باب أمر الأئمة بتخفيف الصلاة في تمام، برقم 190- (469)، واللفظ له.]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہا کہ میں نے کبھی کسی امام کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ ﷺ سے تخفیف اور تکمیل کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہو۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : وَرَاءَ اِمَامٍ : امام کے پیچھے۔

2 : قَطُّ : کبھی ۔

3 : أَخَفُّ : زیادہ ہلکی ۔

4 : اَتَمُّ : زیادہ پوری، مکمل ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام احکام الحدیث

1۔ نبی کریم ﷺ عموماً لمبی نماز پڑھاتے یعنی قرات اور ارکان الصلاۃ کو لمبا کرتے اور بعض دفعہ اس کو مختصر بھی پڑھاتے مگر جب مختصر پڑھاتے تو اس کے ارکان کی ادائیگی میں اعتدال و اطمینان کا لحاظ رکھ کر پڑھاتے۔ البتہ بعض دفعہ قرات کو بہت مختصر کر دیتے حتی کہ فجر کی نماز میں سورہ الفلق اور سورہ الناس کا پڑھنا بھی آپ ﷺ سے ثابت ہے ۔

2۔ امام مقتدیوں کو ایسی نماز پڑھائے جو بیک وقت ہلکی اور مکمل ہو تاکہ مقتدیوں کے دلوں میں اکتاہٹ پیدا نہ ہو اور نہ ثواب میں کوئی کمی رہے۔

3۔ امت کے ہر فرد کو نبی اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق نماز پڑھنی چاہیے تاکہ اجروثواب سے کوئی محرومی نہ رہے۔ ہمارے زمانے میں لوگوں کی اکثریت یہ کہتی پائی جاتی ہے کہ نماز پڑھنی چاہیے جیسی بھی ہو حالانکہ یہ کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہے، کیونکہ اللہ کو صرف مسنون نماز ہی قبول ہے۔ غیر مسنون نماز جس میں اعتدال و اطمینان کا لحاظ نہ رکھا جائے اس سے محض مال اور وقت کے ضیاع کا اندیشہ ہے ۔

٭٭٭

طالب علم کے نصائح

علامہ البانی ﷫ فرماتے ہیں:

فما ينبغي لطلاب العلم أن يهتموا بنعيق كل ناعق؛ لأن هذا باب لا يكاد ينتهي، كلما خطر في بال أحدهم خاطرة وهو أجهل من أبي جهل فنحن نعتد به، ونرفع كلامه من أرضه، ونقيم له وزنا ومناقشة ومحاضرة وإلى آخره

”طلاب علم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ ہر ایرے غیرے شخص کی چیخ وپکار پرکان دھریں، کیونکہ یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوسکتا، جاہلوں میں سے کسی کے دماغ میں جب بھی کوئی بات آئے اور وہ اسے بک دے جبکہ وہ خود ابو جہل سے بھی بڑا جاہل ہو، اور ہم اس کی بات پردھیان دیں، اسے نشر کریں، اسے اہمیت دیں، اس کا رد کریں اور اس پر بحث کریں، یہ بالکل مناسب نہیں۔“(سلسلۃ الهدى والنور 860)

امام مالک﷫ فرماتے ہیں:

من إهانة العلم أن تحدث كل من سألك

”یہ علم کو ذلیل کرنا ہے کہ ہر شخص كے مطالبہ پر اس کے ساتھ علمی گفتگو شروع کردو۔“

(الجامع لأخلاق الراو: 1؍205)

تبصرہ کریں