عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط 27) فضل الرحمٰن حقانی

حدیث نمبر: 56

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عَنْه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : «صَلاةُ الرَّجُلِ فِي الجَمَاعَةِ تُضَعَّفُ عَلَى صَلاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَفِي سُوقِهِ، خَمْساً وَعِشْرِينَ ضِعْفاً، وَذَلِكَ أَنَّهُ إذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ إلَى الْمَسْجِدِ – لا يُخْرِجُهُ إلا الصَّلاةُ-ـ لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إلا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ، وَحُطَّ عَنْهُ بها خَطِيئَةٌ، فَإِذَا صَلَّى لَمْ تَزَلِ الْمَلائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ، مَا دَامَ فِي مُصَلاهُ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، وَلا يَزَالُ فِي صَلاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلاةَ».

(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، برقم 647، ومسلم بنحوه، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل صلاة الجماعة، وبيان التشديد في التخلف عنها، برقم 649)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ایک شخص کا باجماعت نماز پڑھنا اس کے گھر یا بازار میں نماز پڑھنے سے اس کے لیے 25 گنا زیادہ ثواب بڑھا دیا جاتا ہے یہ اس لئے کہ جب وہ وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے اسے صرف نماز ہی نکالتی ہے نہیں اٹھاتا وہ ایک قدم مگر اس کے بدلے ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے جب وہ نماز پڑھتا ہے فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں جب تک وہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے الہی اس پر رحمت نازل فرما، الہی اسے بخش دے، الہی اس پر رحم فرما وہ نماز میں ہی رہتا ہے جب تک نماز کا انتظار کرتا ہے۔‘‘

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : صَلَاةُ الرَّجُلِ فِیْ جَمَاعَةٍ : مرد کا باجماعت نماز پڑھنا ۔

2 : تُضَعَّفُ : بڑھا دیا جاتا ہے ۔

3 : فِيْ سُوْقِه: اپنے بازار میں ۔

4 : اِذَا تَوَضَّاَ : جب وہ وضوء کرتا ہے ۔

5 : رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةُ : اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا گیا ۔

6 : لَمْ تَزَلِ الْمَلائِكَةُ تُصَلِّیْ عَلَيْهِ : فرشتے لگاتار اس کے لئے دعا کرتے ہیں ۔

7 : مَا دَامَ فِیْ مُصَلَّاهُ : جب تک اپنی جائے نماز میں رہے ۔

8 : اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ : الٰہی اس پر صلاۃ بھیج ۔

9 : اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ : الٰہی اسے بخش دے ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1:مسجد میں باجماعت نماز کا ثواب انفرادی نماز سے ستائیس یا پچیس درجے زیادہ ملتا ہے۔

2:نماز کی صحت کے لیے جماعت شرط نہیں البتہ راجح قول کے مطابق مرد کے لیے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا فرض ہے انفرادی بھی ہو جاتی ہے لیکن ثواب اس کا کم ملے گا۔ اور انفرادی نماز پڑھنے کو معمول بھی نہیں بنایا جاسکتا ہے کیونکہ جماعت سے پیچھے رہنے کی سخت الفاظ میں وعید ہے۔

3۔مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت اچھی طرح وضو کرنے، مسجد کی طرف جانے، خالص نیت سے عبادت کرنے اور نماز کے انتظار میں بیٹھنے کی بناء پر بڑھتی ہے۔

4۔ اس حدیث کے مطابق اچھی طرح وضوء کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور وضو میں عموماً لوگ جلدی کرتے ہیں جس کی وجہ سے بعض دفعہ وضو کمال طریقے سے نہیں ہوتا ہے اور باجماعت نماز کی فضیلت پانے کے لیے اچھی طرح یعنی سنت کے مطابق وضو کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح کسی بھی عمل کا دارومدار نیت پر ہے ۔ جو شخص باجماعت نماز کی ادائیگی کی خالص نیت سے مسجد میں جاۓ گا اس کو باجماعت نماز کا ثواب ملے گا۔

5۔نماز کا انتظار کرنے والے کو اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا نماز پڑھنے والے کو دیا جاتا ہے۔

6۔اس حدیث سے مسلمان معاشرے میں مسجد کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ بغیر مسجد کی کتنی بڑی خیر سے محرومی ہے۔

7۔اس حدیث مبارکہ سے نیک عمل سے گناہ کا معاف ہونا اور مؤمن کے درجات کا بلند ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ مسجد کی طرف اٹھنے والے قدم کے بدلے درجہ بلند ہوتا ہے اور گناہ معاف ہوتا ہے ۔

8۔ مسجد میں صرف باوضوء ہو کر ٹھہرنا اتنا عظیم عمل ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، وَلا يَزَالُ فِي صَلاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلاةَ

’’ فرشتے ایسے خوش نصیب کے لیے مسلسل یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ اس پر صلاۃ بھیج، اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم فرما ۔ اور اللہ ایسے خوش نصیب کو ایسے ہی شمار کرتا ہے جیسے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے ۔ ‘‘

9۔غیر نبی کے لیے صلاۃ کا لفظ قرآن وحدیث میں متعدد بار وارد ہوا ہے ۔ اور صلاۃ کا معنی اہل علم کے راجح قول کے مطابق اللہ تعالیٰ کا بندے کا ملاء اعلیٰ میں ذکر خیر اور ثنا کرنا ہے اور یہ مقام مرتبہ بہت عظیم ہے ۔

10۔نماز کا انتظار کرنا بڑے اعمال میں سے ہے اور حدیث میں اس عمل خیر کی بہت تعریف کی گئی ہے۔

باجماعت نماز کے اہتمام کرنے کی فضیلت کا بیان

حدیث نمبر : 57

عَنْ أبي هريرة رضي الله عَنْه قال : قال رسول اللَّه ﷺ : «إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، صَلاةُ الْعِشَاءِ، وَصَلاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهَما لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاةِ، فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حِزَمٌ مِنِ حَطَبٍ، إلَى قَوْمٍ لا يَشْهَدُونَ الصَّلاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ».(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب فضل العشاء في الجماعة، برقم 657، ومسلم، واللفظ له، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل صلاة الجماعة، ، برقم 252- (651)]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :عشاء اور صبح کی نماز منافقوں پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہے اور اگر وہ جان لیں کہ ان دونوں میں کتنا ثواب ہوتا ہے تو ان کی ادائیگی کے لیے گھٹنوں کے بل چل کر آئیں اور میں نے ارادہ کیا کہ میں نماز کا حکم دوں تو اس کے لیے اقامت کہہ دی جائے پھر میں کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں چند اشخاص کو لے کر چلوں جن کے پاس ایندھن کے گٹھے ہوں ان لوگوں کی طرف جو نماز میں حاضرنہیں ہوتے تو ان کے گھروں کوآگ سےجلادوں۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اَثْقَلُ :سب سے زیادہ بوجھل، بھاری ۔

2 : لَوْ يَعْلَمُونَ : اگر وہ جان لیں ۔

3 : مَا فِيْهِمَا : ان دونوں میں کیا (اجر و فوائد ) ہے ۔

4 : لَاَتَوْهُمَا : ضرور ان دونوں کے لیے آئیں۔

5 : وَلَوْ حَبْوًا : اگرچہ گھٹنوں کے بل آئیں ۔

6 : لَقَدْ هَمَمْتُ : یقینا میں نے ارادہ کیا۔

7 : آمُرَ بِالصَّلَاةِ : نماز کا حکم دوں

8 : فَتُقَامَ : تو کھڑی کی جائے، اقامت کہی جائے ۔

9 : آمُرَ رَجُلًا : کسی شخص کو میں حکم دوں۔

10 : فَيُصَلِّیْ بِالنَّاسِ: تو وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔

11 : ثُمَّ اَنْطَلِقَ مَعِیْ بِرِجَالٍ : پھر میں چند آدمیوں کو لے کر چلوں۔

12 : حِزَمُ مِنْ حَطَبٍ : ایندھن کے گٹھے ۔

13 : لَا يَشْهَدُوْنَ بالصَّلَاةَ : نماز میں حاضر نہیں ہوتے ۔

14 : اُحَرِّقَ : میں جلا دوں۔

15 : بُيُوْتَهُمْ : ان کے گھر ۔

16 : بِالنَّارِ : آگ کےساتھ ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔عاقل، بالغ تندرست مسلمان مرد کے لئے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا فرض ہے۔ جماعت سے مراد وہ جماعت ہے جو کسی بھی مسجد میں وقت مقرر پر ہوتی ہے ۔اس نماز سے پہلے یا تاخیر سے جاکر اپنی جماعت کرانا مراد نہیں ہے ۔

2۔ جس نے بغیر شرعی عذر کے باجماعت نماز نہ پڑھی وہ گنہگار ہے اور سزا کا مستحق ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں جماعت میں شریک نہ ہونے والوں کے لیے سخت وعید کے الفاظ ہیں۔

3۔مصالح کو حاصل کرنے سے پہلے مفاسد کو ہٹانا ضروری ہے۔ جیسا کہ گھروں میں بچے ، عورتیں اور معذور افراد ہوسکتے ہیں اس لیے آپ نے صرف وعید اور تنبیہ کی ۔

4۔ کسی مصلحت و حکمت کی وجہ سے جائز عمل کو چھوڑنا جیسا کہ آپ نے صرف وعید سنائی مگر اس پر عمل نہیں کیا۔

5۔نماز کھڑی کرنے کا اختیار امام کا ہے جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا : أَنْ آمُرَ بِالصَّلاةِ، فَتُقَامَ

’’میں نماز کا حکم دوں پھر وہ کھڑی ہو یا اس کی اقامت کہی جائے۔

اس لیے مقتدیوں کو امام سے پہلے صف بنا کر نہ کھڑا ہونا چاہیے اور نہ ہی اقامت کہنی چاہیے ۔ جب امام مسجد میں آجائے اور وہ جماعت کرانے کے لیے تیار ہوں تب مقتدیوں کو صف بنانی چاہیے اور اقامت کہنی چاہیے ۔

6۔اقامت ہونے کے بعد بھی امام کسی دوسرے شخص کو نماز پڑھانے کے لیے کہ سکتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے: ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ

’’ پھر میں کسی شخص کو حکم دوں پھر وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔‘‘

7۔ بعض دفعہ اہم بات کی ترغیب یا حکم دینے کے لیے سخت الفاظ استعمال کرنا جیسے آپ نے فرمایا :

ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حِزَمٌ مِنِ حَطَبٍ، إلَى قَوْمٍ لا يَشْهَدُونَ الصَّلاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّار

’’ پھر میں کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ لوں جن کے پاس آگ کے گٹھے ہوں اور پھر ان لوگوں کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔ ‘‘

8۔منافق نماز اس لیے پڑھتے ہیں تاکہ لوگ انہیں دیکھ لیں ان کا مقصد صرف دکھلاوا ہوتا ہے کیونکہ وہ دل سے مومن نہیں ہوتے ہیں بلکہ دنیاوی مفادات کے لیے اسلام کو قبول کرتے ہیں۔

9۔عشاء اور صبح کی باجماعت نماز کی ادائیگی کی اہمیت وفضیلت کا بیان۔

10۔عشاء اور صبح کی نماز کی باجماعت ادائیگی منافقوں پر باقی نمازوں کے مقابلے میں بھاری ہوتی ہے کیونکہ وہ آرام کا وقت ہوتا ہے اور اندھیرے کی وجہ سے لوگ بھی نہیں دیکھ سکتے ہیں اس لیے منافق ان دونوں نمازوں کی جماعت سے پیچھے رہتا ہے۔

تبصرہ کریں