عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط 32) فضل الرحمٰن حقانی

قبلہ کی طرف منہ کرنے سے متعلق

عمدۃ الاحکام کی حدیث نمبر : 65

عَنْ ابنِ عمر رضي الله عَنْه : «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُسَبِّحُ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِه، حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ، يُومِئُ بِرَأْسِهِ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ».

وَفِي رِوَايَةٍ : «كَانَ يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ».

وَلِمُسْلِمٍ: «غَيْرَ أَنَّهُ لا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ».

وَلِلْبُخَارِيِّ: «إلاَّ الْفَرَائِضَ».

[رواه البخاري، أبواب تقصير الصلاة، باب من تطوع في السفر في غير دبر الصلوات وقبلها، بلفظه، برقم 1105، ومسلم بنحوه، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب جواز صلاة النافلة على الدابة في السفر حيث توجهت، برقم 37- (700)]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری کی پیٹھ پر نماز ادا کر لیا کرتے تھے اس کا رخ خواہ کسی طرف بھی ہوتا، سر سے اشارہ کرتے ( یعنی رکوع اور سجود کے لیے ) اور سیدنا عبد اللہ بن عمر بھی اس طرح کرتے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اپنے اونٹ پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ سواری پر فرض نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں کہ ’’مگر فرائض سواری پر ادا نہیں کرتے تھے۔‘‘

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1: يُسَبِّحُ عَلٰى ظَهْرِ رَاحِلَتِه: اپنی سواری کی پیٹھ پر نفل نماز پڑھتے تھے ۔’’تسبیح سے مراد یہاں نفل نماز ہے۔‘‘

2 : الْمَكْتُوْبَةُ : فرض نماز ۔

3 : الرَّاحِلَةُ : سواری ۔

4 : يُوْمِئُ بِرَاْسِه : اپنے سر سے اشارہ کرتے ۔

5 : كَانَ يُوْتِرُ: وتر پڑھ لیا کرتے تھے ۔

6 : عَلٰى بَعِيْرِه: اپنے اونٹ پر ۔

7 : اَلْفَرَائِضُ: فرض نماز ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔نفل نماز کے لیے تسبیح کا لفظ ۔ اس میں تسبیح یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

2۔ دوران سفر سواری پر نفل نماز ادا کرنا جائز ہے۔

3۔نفل نماز میں قیام فرض نہیں ہے جبکہ فرض نماز میں قیام فرض ہے۔ نفل نماز میں جان بوجھ کر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔

4۔ نفل نماز سواری یا زمین پر بیٹھ کر پڑھنے کی صورت میں رکوع و سجود کے لیے سر کے اشارے سے جھکنا کافی ہے، البتہ زمین پر بیٹھ کر پڑھنے کی صورت میں رکوع کے جھکنا کافی ہو گا اور سجدہ زمین پر اسی طرح کیا جائے گا جس طرح فرض نماز کے لیے البتہ کرسی وغیرہ پر بیٹھ کر پڑھنے کی صورت میں صرف سر کے اشارے سے جھکنا کافی ہو گا، رکوع کے لیے کم اور سجدے کے لیے زیادہ جھکا جائے گا ۔

5۔بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں رکوع اور سجدہ کرتے وقت اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر ہی رکھا جائے گا کیونکہ سنت یہی ہے ، رکوع و سجود کے وقت ہاتھوں کو آگے کی طرف پھیلانا سنت سے ثابت نہیں ہے۔

6۔ سواری پر نفل نماز پڑھنے کی صورت میں قبلہ رخ رہنا بھی ضروری نہیں ہے البتہ نماز شروع کرتے وقت سواری کو قبلہ رخ کر لیا جائے اور اس کے بعد جس طرف جانا ہے سواری کا منہ اس طرف کر لیا جائے ۔ البتہ فرض نماز میں قبلہ رخ ہونا اور پوری نماز میں قبلہ رخ رہنا ضروری ہے۔

7۔فرض نماز سواری پر درست نہیں ہے کیونکہ اس میں قیام، رکوع و سجود اور باقی نماز کے ارکان و واجبات وغیرہ اپنی اصل حالت میں ادا کرنے ضروری ہیں اور یہ سواری پر ممکن نہیں ہیں مثلا سات ہڈیوں پر سجدہ اور رکوع میں پشت کو سیدھا کرنا اور ہاتھ گھٹنوں پر رکھنا وغیرہ ۔

8۔ اگر سفر کرنا ہو تو فرض نمازوں کو جمع کرنا سنت ہے مثلاً ظہر کو عصر کے ساتھ یا عصر کو ظہر کے ساتھ اور مغرب کو عشاء کے ساتھ یا عشاء کو مغرب کے ساتھ ۔ مثلاً اگر سفر زوال سے پہلے شروع کیا ہے تو ظہر کو عصر کے وقت میں عصر کے ساتھ پڑھ لیا جائے پہلے ظہر پھر عصر اور اگر زوال کے بعد سفر شروع کیا ہے تو عصر کو ظہر کے وقت میں ظہر کے ساتھ پڑھ لیں پہلے پہلی نماز اور دوسری بعد میں۔

9۔ گھر سے دو نمازوں کو جمع کر کے سفر شروع کرنے کی صورت میں پوری نماز مگر صرف فرض ادا کئے جائیں گے مثلاً ظہر کے چار اور عصر کے چار درمیان میں سنت وغیرہ ادا نہیں کی جائیں گی کیونکہ سنت یہی ہے جبکہ سفر میں 2 نمازوں کو جمع کرنے کی صورت میں قصر پڑھا جائیں گی یعنی 2 رکعت ظہر کے اور 2 رکعت عصر کے اور درمیان میں سنت وغیرہ ادا نہیں کی جائیں گی کیونکہ سنت یہی ہے ، البتہ دوران سفر نفل نماز پڑھی جا سکتی ہے جیسا کہ سنت سے ثابت ہے ۔

10۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئیں رخصتیں اللہ کی رحمت و نعمت ہیں ان کو اختیار کرنا مستحب ہے ۔

11۔ اجر و ثواب محض تکلیف یا مشقت میں نہیں ہے بلکہ اجر و ثواب اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کے حکموں کو بجا لانے میں ہے۔

12۔ وتر نماز بھی نفل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو سواری پر پڑھا ہے۔

قبلہ کی طرف منہ کرنے سے متعلق

حدیث نمبر : 66

عَنْ ابنِ عُمَرَ رضي الله عَنْه قال : «بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ إذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ : إنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ : أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إلَى الشَّامِ، فَاسْتَدَارُوا إلَى الْكَعْبَةِ».

[رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب ما جاء في القبلة…، بلفظه، برقم 403، وكتاب التفسير، باب ﴿الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ﴾، برقم 4491، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب تحويل القبلة من القدس إلى الكعبة، برقم 526]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے فرمایاکہ لوگ قباء میں صبح کی نماز میں مشغول تھے ایک آنے والا ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آج رات نبی کریمﷺ پر قرآن نازل کیا گیا اور آپ کو حکم دیا گیا کہ قبلے کی طرف رخ کریں تو تم بھی قبلے کی جانب رخ کر لو۔ان کے چہرے شام کی طرف تھے تو وہ سب کعبے کی طرف گھوم گئے ۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : بَيْنَمَا النَّاسُ: لوگ اس حال میں تھے کہ ۔

2 : بِقُبَاءَ: مسجد قباء میں ۔

3 : فِیْ صَلَاةِ الصُّبْحِ : صبح کی نماز میں ۔

4 : اِذْ جَاءَهُمْ آتٍ: جب آیا ان کے پاس آنے والا ۔

5 : اُنْزِلَ عَلَيْهِ: اتارا گیا آپ پر ۔

6 : اُمِرَ: حکم دیا گیا ۔

7 : اَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ: کہ کعبہ کی طرف رخ کر لیں ۔

8 : فَاسْتَقْبِلُوهَا: تو تم بھی اس کی طرف رخ کر لو ۔

9 : اِسْتَدَارُوْا اِلَى الْكَعْبَةِ: وہ کعبہ کی طرف گھوم گئے ۔

10 : وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ اِلَى الشَّامِ: ان کے چہرے شام کی طرف تھے ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ہجرت سے پہلے اہل اسلام کا قبلہ بیت المقدس تھا ہجرت کے سولہ یا سترہ ماہ بعد اہل اسلام کے لئے کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے دوسرے پارے کے شروع میں بھی فرمایا ۔

2۔ کعبہ اگر نظر آرہا ہو تو عین اس کی طرف اور اگر دور نظروں سے اوجھل ہو تو نماز پڑھتے وقت اس کی جہت کی طرف منہ کرنا ضروری ہے۔

3۔ انسان کو جب صحیح علم حاصل ہو جائے اس کو فوراً اپنا لینا چاہیے ۔

4۔اگر نماز کے دوران معلوم ہو جائے کہ وہ قبلہ رخ نہیں بلکہ قبلہ دوسری طرف ہے تو وہ نماز کے دوران ہی قبلے کی طرف مڑ جائےاس سےنماز میں کوئی نقص واقع نہیں ہوگا اس صورت قبلہ رخ ہونےسے پہلے پڑھی گئی نماز درست ہو گئی۔

5۔ایک شخص کی بھی خبر احکام و عقائد میں حجت ہے بشرطیکہ وہ شخص ثقہ اور عادل ہو۔

6۔شریعت میں ناسخ و منسوخ کے ہونے میں کئی حکمتیں اور فوائد ہیں۔ اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو ناسخ و منسوخ کے قائل نہیں ہیں۔

7۔کسی سند میں صحابی کا نام مجہول یعنی معلوم نہ تب بھی حدیث صحیح اور قابل حجت ہے کیونکہ تمام صحابہ عادل اور ثقہ ہیں اور جرح سے پاک ہیں جب کہ صحابی کے علاوہ سند میں کوئی بھی راوی اگر مجہول ہو یعنی اس کا نام معلوم نہ ہو یا اس کے حالات معلوم نہ ہوں تو ایسی روایت ضعیف اور ناقابل حجت ہوتی ہے ۔ اس میں صحابہ کرام کی بھی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

8۔ صحابی رسول جب یہ کہے کہ حکم دیا گیا ہے تو اس سے مراد اللہ یا رسول اللہ ﷺکا حکم ہوتا ہے۔

قبلہ کی طرف منہ کرنے سے متعلق

حدیث نمبر: 67

عَنْ أنس بن سيرين قال : «اسْتَقْبَلْنَا أَنَساً حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ، فَلَقِينَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَـارٍ، وَوَجْهُهُ مِنِ ذَا الْجَانِبِ ــ يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ ــ فَقُلْتُ : رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ؟ فَقَالَ : لَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَفْعَلُهُ مَا فَعَلْتُهُ».

[رواه البخاري، أبواب تقصير الصلاة، باب صلاة التطوع على الحمار، برقم 1100، ومسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب جواز صلاة النافلة على الدابة في السفر حيث توجهت، برقم 702]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

حضرت انس بن سیرین تابعی ﷫ سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا انس بن مالک کا استقبال کیا جبکہ وہ شام سے تشریف لائے ہم انہیں “عین التمر”مقام پر جا کر ملے میں نے انہیں دیکھا کہ وہ گدھے پر نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کا رخ قبلہ کی بائیں جانب تھا میں نے عرض کی کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ قبلہ کے علاوہ کسی دوسری جانب منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں قطعاً ایسا نہ کرتا۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1: اَنَسُ بْنُ سِيْرِيْنَ : یہ مشہور تا بعی حضرت محمد بن سیرین رحمھما اللہ کے بھائی تھے ۔

2 : عَيْنُ التَّمْرِ : یہ مقام مغربی عراق کی حدود پر واقع ہے یہاں کھجور کے درخت کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔

3 : قَدِمَ مِنَ الشَّامِ : شام سے آئے۔

4 : فَلَقِيْنَاهُ : تو ہم ان سے ملے ۔

5 : ذَا الْجَانِبِ : ایک طرف ۔

6 : يَسَارِ الْقِبْلَةِ : قبلے کی بائیں جانب ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔نفل نماز میں سواری پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا قبلہ وہی ہو گا جس طرف سواری کا رخ ہو۔ یعنی قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں ہے جیسا کہ فرض نماز کی ادائیگی میں ضروری ہے۔

2۔نفل نماز کا سواری پر ادا کرنا جائز ہے خواہ سواری گدھے کی ہو ۔

3۔ گدھے پر سواری کرنا جائز ہے۔

4۔مسلمان بھائی کا استقبال کرنا جائز ہے بشرطیکہ شرعی حدود میں ہو۔

5۔ بڑے عالم سے علم حاصل کرنا جیسا کہ سیدنا انس بن سیرین ﷫ نے کیا۔

6۔نبی کریمﷺ کی سنن پر عمل کرنا صحابہ کرام بہت پسند کیا کرتے تھے۔

٭٭٭

 

تبصرہ کریں