عمدۃ الأحکام؛ اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط35) فضل الرحمٰن حقانی

نماز کی کتاب ، صف بندی سے متعلق

حدیث نمبر : 72

عَنْ أبي هريرة رضي الله عَنْه، عَنْ النبي ﷺ قال : «أَمَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ، أَنْ يُحَوِّلَ اللَّـهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ ـ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ صُورَتَهُ ـ صُورَةَ حِمَارٍ؟».

[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب إثم من رفع رأسه قبل الإمام، برقم 691، ومسلم، كتاب الصلاة، باب النهي عن رفع البصر إلى السماء في الصلاة، برقم 427]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا وہ شخص ڈرتا نہیں جو اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے کے سر میں تبدیل کر دے یا اس کی شکل گدھے کی شکل بنا دے ؟

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اَمَا : کیا نہیں ۔

2 : یَخْشٰی : ڈرتا ہے ۔

3 : يَرْفَعُ: اٹھاتا ہے ۔

4 : رَاسَهُ: اپنا سر ۔

5 : قَبْلَ الْاِمَامِ: امام سے پہلے ۔

6 : يُحَوِّلَ اللّٰهُ: اللہ بدل دیتا ہے ۔

7 : يَجْعَلَ اللّٰهُ: اللہ بنا دیتا ہے

8 : حِمَارُ: گدھا ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔باجماعت نماز میں امام سے پہلے مقتدی کے سر اٹھانے کی سخت وعید ہے جو اس کے حرام ہونے کی دلیل ہے۔ جان بوجھ کر ایسا کرنے والے کی نماز باطل ہے ۔ اور یہی حکم نماز کے تمام ارکان وغیرہ کے لیے ہیں یعنی تکبیر، رکوع، سجدہ وغیرہ ۔

2۔ باجماعت نماز میں نماز کی حرکات مثلا تکبیر، رکوع و سجود وغیرہ میں مقتدی کو امام سے پیچھے رہنے کا حکم ہے نہ امام سے پہلے کر سکتا ہے اور نہ ہی ساتھ اور نہ ہی امام سے بہت تاخیر کرسکتا ہے۔ امام کے بعد فوراً کرنے کا حکم ہے۔

3۔باجماعت نماز کےدوران مقتدی کی تمام حرکات امام کےتابع ہونی چاہئیں مقتدی کا امام کے تابع ہونا واجبات میں سے ہے اور واجبات کا ترک کبیرہ گناہ ہے۔ اگر کوئی امام کی تکبیر تحریمہ سے پہلے تکبیر تحریمہ کہ دے تو اس کی نماز نہیں ہوگی تاوقتیکہ وہ دوبارہ تکبیر تحریمہ کہے۔

4۔جب مقتدی یہ جانتا ہے کہ میں امام سے پہلے نماز سے فارغ نہیں ہو سکتا تو پھر امام سے پہلے رکوع سجود میں سر اٹھانا حماقت و بیوقوفی ہے اسی لیے اس روایت میں گدھے کا نام لیا گیا کیونکہ یہ جانوروں میں حماقت کے اعتبار سے معروف ہے۔ اور خطرہ ہے ایسا کرنے والا عقلمندی سے ہی محروم ہوجاۓ اور پھر وہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں حماقتیں ہی کرے۔

حدیث نمبر : 73

عَنْ أبي هريرة رضي الله عَنْه عَنْ النبي ﷺ قال : «إنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّـهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِساً فَصَلُّوا جُلُوساً أَجْمَعُونَ».[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب إقامة الصف من تمام الصلاة، برقم 722، ورقم 734، ومسلم، كتاب الصلاة، باب ائتمام المأموم بالإمام، واللفظ له، برقم 414]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ امام اس لیے بنایا جاتا ہےتاکہ اس کی اقتداء کی جائے تم اس کی مخالفت نہ کرو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو جب وہ سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کہو اور جب وہ سجدہ کرے توتم سجدہ کرو جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سبھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اِنَّمَا: کلمہ حصر ہے ، یہی بات ہے ، بے شک ۔

2 : جُعِلَ : بنایا گیا۔

3 : لِيُؤْتَمَّ بِهِ : تاکہ اس کی اقتداء کی جائے ۔

4 : فَلْا تَخْتَلِفُوْا عَلَيْهِ: تو تم اس کی مخالفت نہ کرو۔

5 : اِذَا كَبَّرَ: جب وہ اللہ اکبر کہے ۔

6 : فكَبِّرُوْا: پھر تم اللہ اکبر کہو ۔

7 : اِذَا رَكَعَ: جب وہ رکوع کرے ۔

8 : اِذَا صَلّٰی جَالِسًا : جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے ۔

9 : اَجْمَعُوْنَ: سب، تمام، سارے ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔امام کی اقتداء ہر مقتدی کے لیے واجب ہے۔ امام کی اقتداء صف کو درست کرنے والی چیزوں میں سے بھی ہے۔ جیسا کہ امام بخاری﷫ نے اس پر یہ باب ” إقامة الصف من تمام الصلاة” قائم کیا ہے

2۔امام کی مخالفت حرام ہے۔ یعنی نماز کے افعال جیسے تکبیر ، رفع الیدین ، رکوع وسجود وغیرہ میں البتہ نماز کا سبق پڑھنے میں امام سے متابعت اور اقتداء کا حکم نہیں ہے اس میں اختلاف مذموم نہیں ہے مثلا امام دعاء استفتاح میں سبحانك اللهم وبحمدك…. پڑھے اور مقتدی اَللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ …. وغیرہ پڑھے ، یا مقتدی رکوع و سجود میں امام سے کم یا زیادہ تسبیحات پڑھے یا ظہر و عصر کی پہلی دو رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد مختلف سورتیں پڑھے وغیرہ وغیرہ تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

3۔جب امام سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو مقتدی رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کہے یعنی امام کے بعد کہے البتہ مقتدی بھی سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہہ سکتا ہے کیونکہ اس سے منع نہیں کیا گیا ہے جیسے مقتدی امام کے پیچھے غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ پڑھتا ہے باوجود اس کے کہ حدیث میں ہے کہ جب امام غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ کہے تو تم آمین کہو ۔ جیسے یہاں آمین کہنے کا مقام اور وقت بتایا گیا ہے اسی طرح رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کہنے کا مقام اور وقت بتایا گیا ہے ۔ واللہ اعلم

4۔متابعت اور اقتداء کا معنی یہ ہے کہ مقتدی کے تمام فعلی اعمال مثلا تکبیر، رفع الیدین ، رکوع و سجود وغیرہ امام کے بعد متصلاً ہوں یعنی نہ پہلے ہوں نہ ساتھ اور نہ بہت تاخیر سے۔

5۔امام جب قیام سے عاجز ہو تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں ۔ لیکن افضل یہ ہے کہ اگر امام کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا سکتا ہو تو وہ اپنی جگہ پر کسی ایسے شخص کو امام مقرر کرے جو کھڑے ہو کر نماز پڑھائے۔ امام جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی بیٹھ کر پڑھے یا کھڑے ہوکر اس بارے اہل علم کا اختلاف ہے راجح یہ ہے کہ اگر نماز کے شروع سے ہی امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدیوں کو بھی بیٹھ کر پڑھنی چاہیے اور اگر نماز کے دوران امام کھڑا ہونے سے عاجز آگیا ہے تو مقتدی کھڑے ہوکر نماز پڑھیں گے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیماری کے عالم نماز کے دوران آکر ملے اور سیدنا ابوبکر صدیق نماز پڑھا رہے تھے تو آپ نے بیٹھ کر امامت کرائی اور سیدنا ابوبکر صدیق اور باقی مقتدیوں نے کھڑے ہوکر نماز ادا کی ۔ واللہ اعلم

6۔ امام ، امیر ، حاکم کی اطاعت معروف میں لازم ہے جس کی بہترین مثال نماز ہے۔

7۔امام، امیر، حاکم وغیرہ کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی قیادت قرآن وحدیث کے مطابق کریں ۔

8۔ اگر کوئی امام، امیر، حاکم وغیرہ جان بوجھ کر قرآن وحدیث کی مخالفت کا حکم دے تو اس کو نہیں مانا جائے مثلا اگر کوئی امام لوگوں کو چار رکعت کے بجائےتین یا پانچ پڑھائے یا دو سجدوں کے بجائے ایک یا تین کرائے تو اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔

٭٭٭

تبصرہ کریں