عمدۃ الأحکام؛ اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط39) فضل الرحمٰن حقانی

نبی ﷺ کی نماز کے طریقہ کے متعلق

حدیث نمبر : 82

عَنْ ابن عباس رضي الله عَنْه قال : قال : رسول اللَّه ﷺ : «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، عَلَى الْجَبْهَةِ ــ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إلَى أَنْفِهِ ــ وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ، وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ».(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب السجود على سبعة أعظم، برقم 809، ورقم 810، وفي باب السجود على الأنف بلفظه، برقم 812، ومسلم، كتاب الصلاة، باب أعضاء السجود والنهي عن كف الشعر والثوب وعقص الرأس في الصلاة، برقم 230- (490)، وفي مسلم، برقم 28- (490)، وفي البخاري، برقم 810)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں پیشانی پر اور اپنےہاتھ سے اپنی ناک کے طرف اشارہ کیا نیز دو ہاتھ، دو گھٹنوں اور دو پاؤں کی انگلیوں پر ۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اُمِرْتُ : مجھے حکم دیا گیا ۔

2 : اَنْ أَسْجُدَ : کہ میں سجدہ کروں ۔

3 : سَبْعَةِ : سات۔

4: اَعْظُمٍ: ہڈیاں۔ عظم کی جمع ہے

5 : اَلْجَبْهَةُ : پیشانی ۔

6 : أَشَارَ : اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔

7: بِيَدِهِ: اپنے ہاتھ سے۔

8 : اِلٰى اَنْفِهِ: اپنی ناک کی طرف ۔

9 : الرُّكْبَتَيْنِ : دو گھٹنے ۔

10 : اَطْرَافُ : کنارے مراد انگلیاں ہیں۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ سجدے میں جسم کے سات اعضاء کو زمین پر لگانا فرض ہے الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو ۔

2۔ نبی کریم ﷺ بھی اللہ کے حکم کے پابند ہیں اور شریعت دراصل اللہ کے حکم کا نام ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے شریعت اپنی خواہش و مرضی سے نہیں بنائی ہے بلکہ جیسے اللہ کا حکم اور مرضی ہوئی اس طرح آپ نے کہا اورکیا۔

3۔ سجدہ کرتے وقت درج ذیل جسمانی اعضاء زمین پر ٹکانے ضروری ہیں ۔

٭پیشانی ناک سمیت۔

٭دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں۔

٭دونوں گھٹنے۔

٭دونوں پاؤں کی انگلیاں اس صورت میں کہ انگلیوں کا رخ قبلے کی جانب ہو۔ اور جتنا ممکن ہو ان کو زمین پر ٹکایا جائے۔

4۔ قبلہ رخ پاؤں یا پاؤں کی انگلیاں کرنی شرعاً ممنوع نہیں ہیں بلکہ نماز میں قبلہ رخ کرنے کا حکم ہے۔

5۔ حدیث میں ہڈیاں بول کر اعضاء مراد لیے گئے ہیں اسی طرح زمین سے مراد بعض دفعہ جائے نماز یا کارپٹ وغیرہ بھی ہوسکتی ہے ۔

6۔ شرعی احکام رسول اللہ ﷺ نے بڑے واضح الفاظ میں بیان فرمائے ہیں تاکہ ہر کوئی آسانی سے سمجھ سکے ۔

حدیث نمبر: 83

عَنْ أبي هريرة رضي الله عَنْه قال : «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذَا قَامَ إلَى الصَّلاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرُّكوع، ثُمَّ يَقُولُ ــ وَهُوَ قَائِمٌ ــ : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي ساجداً، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَع رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلاتِهِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا. وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ».(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب التكبير إذا قام من السجود، برقم 789، ومسلم، كتاب الصلاة، باب إثبات التكبير في كل خفض ورفع في الصلاة إلا رفعه من الركوع، فيقول فيه: سمع اللَّه لمن حمده، برقم 28- (392))

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے پھر اللہ اکبر کہتے جب رکوع کرتے پھر آپ سَمِعَ اللّٰهُ لِمِنْ حَمِدَہُکہتے جب اپنی پیٹھ کو رکوع سے اٹھاتے پھر آپ کہتے اس حال میں کہ کھڑے ہوتے رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ پھر اللہ اکبر کہتے جب جھکتے پھر اللہ اکبر کہتے جب اپنا سر سجدے سے اٹھاتے پھر اسی طرح کرتے اپنی تمام نماز میں یہاں تک کہ اسے پورا کرتے اور اللہ اکبر کہتے جب دو رکعتوں سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے (بخاری و مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : إذَا قَامَ : جب آپ کھڑے ہوتے۔

2 : حِيْنَ: وقت ۔

3 : يُكَبِّرُ : اللہ اکبر کہتے ۔

4 : حِيْنَ يَرْكَعُ : جس وقت رکوع کرتے ۔

5 :حِيْنَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ: جس وقت اپنی پیٹھ اٹھاتے ۔

6 : حِيْنَ يَهْوِیْ: جس وقت جھکتے ۔

7 :حَتّٰى يَقْضِيَهَا: یہاں تک کہ اسے پورا کرتے ۔ یعنی نماز کو۔

8 : ثُمَّ يَفْعَلُ ذَالِكَ: پھر کرتے اسی طرح۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔نماز کا آغاز کرتے وقت، رکوع جاتے وقت، سجدے میں جاتے اور اٹھتے وقت اللہ اکبر کہنا مسنون ہے البتہ رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللّٰهُ لِمِنْ حَمِدَہُ کہا جائے یہ طریقہ ہر رکعت میں دہرایا جائے گا۔

2۔ دو رکعت پوری کرنے کے بعد تیسری رکعت کے لیےاٹھتے وقت بھی اللہ اکبر کہا جائے گا۔

3۔نماز کو شروع کرتے وقت پہلے قیام ہے اور پھر تکبیر۔ باقاعدہ صف میں یا نماز کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے اللہ اکبر نہیں کہنا چاہیے اگر غلطی سے کوئی کہ دے تو اس کو کھڑے ہوکر دوبارہ کہنا ضروری ہے۔

4۔رکوع و سجود کے لیے تکبیر رکوع و سجود کرتے وقت کہنی چاہیے ، پہلے یا بعد میں نہیں بلکہ عین رکوع و سجود کرتے وقت۔

5۔ سمع اللہ لمن حمدہ رکوع سے اٹھ کر کہا جائے گا رکوع کی حالت میں یا کھڑے ہوکر بہت دیر بعد نہیں کہا جائے گا۔

6۔رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ بھی سَمِعَ اللہُ لِـمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد کھڑے ہونے کی حالت میں ہی کہا جائے گا ۔

سجدے میں جاتے وقت نہیں کہا جائے گا جیسا کہ بعض لوگ جہالت کی وجہ سے کرتے ہیں ۔

7۔ سَمِعَ اللہُ لِـمَنْ حَمِدَہُ اور رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ امام، مقتدی اور منفرد سب کو کہنے کا حکم ہے ۔ نبی کریم ﷺنے جب بھی رکوع کیا تو یہ کہا اور آپ نے فرمایا کہ تم نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

کسی بھی حدیث میں مقتدی کو سَمِعَ اللہُ لِـمَنْ حَمِدَہُ کہنے کی ممانعت نہیں ہے۔

8۔دو رکعت کے بعد تیسری رکعت کے لیے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہنا چاہیے کیونکہ نماز پڑھنے کا نبوی طریقہ یہی ہے۔

حدیث نمبر : 84

عَنْ مُطرِّف بن عبد اللَّه قال :«صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عَنْه. فَكَانَ إذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَقَالَ : قَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلاةَ مُحَمَّدٍ ﷺ، أَوْ قَالَ : صَلَّى بِنَا صَلاةَ مُحَمَّدٍ ﷺ».(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب إتمام التكبير في السجود، برقم 786، ومسلم، كتاب الصلاة، باب إثبات التكبير في كل خفض ورفع في الصلاة، إلا رفعه من الركوع فيقول فيه: سمع اللَّه لمن حمده، برقم 393)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا مطرف بن عبداللہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا عمران بن حصین نے سیدنا علی بن ابی طالب کے پیچھے نماز پڑھی جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبرکہتےاورجب سراٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے جب نماز پوری کر دی تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا انہوں یعنی سیدنا علی نے مجھے سیدنا محمد ﷺ کی نماز یاد دلا دی ہے یا یہ کہا کہ ہمیں سیدنا محمد ﷺ جیسی نماز پڑھائی ہے (بخاری و مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : خَلْفَ : پیچھے یعنی اقتداء میں ۔

2 : اِذَا نَهَضَ : جب اٹھتے ۔

3 : قَضَى الصَّلَاةَ : نماز پوری کی۔

4 : ذَكَّرَنِیْ : مجھے یاد دلائی۔

5 : صَلَّى بِنَا : ہمیں نماز پڑھائی۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ جب دو سے زائد نمازی ہوں تو امام مقتدیوں سے آگے کھڑا ہو گا اور اگر دو ہوں تو دونوں ایک ہی صف میں ایک ساتھ بالکل برابر کھڑے ہوں گے اس صورت میں مقتدی امام کی دائیں طرف کھڑا ہوگا۔

2۔ تکبیر تحریمہ حالت قیام میں ہوتی ہے۔

3۔ قیام سے رکوع کی طرف منتقل ہوتے ہوئے اللہ اکبر کہنا۔

4۔ رکوع سے اٹھتے ہوئے امام ، مقتدی اور منفرد کا سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہُ۔

5۔رکوع سےاٹھنے کے بعد اطمینان سے کھڑا ہونا ضروری ہے۔

6۔ قیام سے سجدہ میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہنا ۔

7۔ سجدہ سے اٹھتے ہوئے اور دوسرے سجدہ میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہنا۔

8۔ سیدنا علی کا سنت کے مطابق نماز پڑھانا۔

9۔ صحابہ کرام سنت رسول ﷺ کے مطابق عمل دیکھ کر خوش ہوتے اور کرنے والے کی تعریف کرتے۔

تبصرہ کریں