عمدۃ الأحکام؛ اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط 33) فضل الرحمٰن حقانی

نماز کی کتاب ، صف بندی سے متعلق

حدیث نمبر : 68

عَنْ أنس بن مالك رضي الله عَنْه قال : قال رسول اللَّه ﷺ : «سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنِ تَمَامِ الصَّلاةِ».

[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب إقامة الصف من تمام الصلاة، وفيه: «إقامة الصلاة» بدل: «تمام الصلاة»، برقم 723، ومسلم، كتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف وإقامتها، برقم 433]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

’’اپنی صفیں سیدھی کرو بلاشبہ صفوں کو سیدھا کرنا تکمیل نماز میں سے ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : سَوُّوْا : سیدھی کرو ۔

2 : صُفُوْفَكُمْ : صف کی جمع ہے ، اپنی صفیں ۔

3 : تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ : صفوں کو سیدھا کرنا ۔

4 : مِّنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ : نماز کی تکمیل سے ہے ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1. باجماعت نماز میں صف بندی کی اہمیت ۔ اہل علم کے راجح قول کے مطابق باجماعت نماز میں درست صف بندی کرنا واجب ہے، امام بخاری﷫ نے صحیح بخاری میں یہ باب قائم کیا ہے:”باب إثم من لا يتم الصفوف “

اس شخص پر گناہ جو صف کو پورا نہ کرے اور گناہ واجب کے ترک پر ہوتا ہے مستحب ونفل کے ترک پر گناہ نہیں ہوتا ہے۔

صف درست نہ کرنے والوں کے لیے رسول اللہ ﷺنے سخت وعید سنائی ہے جو اس کے وجوب پر دلالت کرتی ہے ۔ واللہ اعلم

2. امام کا مقتدیوں کو صفیں درست کرنے کا حکم دینا۔

3. نماز کے دوران صفیں سیدھی رکھنا واجب ہے اس سے نماز کے درجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

4. صفوں کے ٹیڑھا ہونے سے نماز میں نقص واقع ہوتا ہے۔

5. تَسْوِیَةُالصُّفُوْفُ سے باجماعت نماز پڑھنے کا اشارہ ملتا ہے۔

6. پہلے پہلی صف کو مکمل کرنا صف کی درستگی میں سے ہے۔

7. امام کے قریب کھڑے ہونا اور پہلی صف میں کھڑے ہونے کی فضیلت ہے۔

8. نماز کی تکمیل ضروری ہے۔

9. نماز میں زیادہ سے زیادہ ثواب پانے کی کوشش اور اہتمام کرنا۔

10. درست صف بندی کا طریقہ یہ ہے کہ ہر نمازی اپنے پاؤں اپنے قد یعنی کندھے کے مطابق کھولے اور اپنے پاؤں کا رخ قبلہ رکھے اور اپنے ساتھی کے پاؤں کے ساتھ پورا پاؤں اس طرح ملائے کہ ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ ٹخنہ اور کندھے کے ساتھ کندھا مل جائے۔

صف بندی سے متعلق

حدیث نمبر : 69

عَنْ النعمان بن بشير رضي الله عَنْه، قال : سَمِعْتُ رسول اللَّه ﷺ يقول : «لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ».وَلِمُسْلِمٍ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُسَوِّي صُفُوفَنَا، حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ، حَتَّى رَأَى أَنْ قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتَّى كَادَ أَنْ يُكَبِّرَ، فَرَأَى رَجُلاً بَادِياً صَدْرُهُ، فَقَالَ : «عِبَادَ اللَّـهِ، لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّـهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ».[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب تسوية الصفوف عند الإقامة وبعدها، بلفظه: 717، ومسلم، كتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف وإقامتها، وفضل الأول فالأول منها، والازدحام على الصف الأول والمسابقة إليها، وتقديم أولي الفضل، وتقريبهم من الإمام، برقم 436.]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ فرماتے ہیں تم ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے یا تمہارے چہروں کے درمیان اللہ مخالفت ڈال دے گا۔

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺہماری صفوں کو سیدھا کیا کرتے تھے گویا کہ ان کے ساتھ تیروں کو سیدھا کیا جاسکتا ہے یہاں تک کہ آپ نے دیکھا کہ ہم نے آپ سے یہ مسئلہ سمجھ لیا ہے پھر ایک دن آپ نکلے کھڑے ہوئے قریب تھا کہ آپ تکبیر کہتے آپ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کا سینہ باہر نکلا ہوا ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کے بندوں اپنی صفیں سیدھی کرو ورنہ اللہ تمہارے چہروں کے درمیان مخالفت ڈال دے گا۔‘‘

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : لَتُسَوُّنَّ : تم ضرور سیدھا کرو گے ۔

2 : صُفُوْفَكُمْ : اپنی صفیں ۔

3 : اَوْلَيُخَالِفَنَّ اللّٰهُ: یا اللہ ضرور مخالفت ڈال دے گا ۔

4 : بَيْنَ وُجُوْهِكُمْ: تمہارے چہروں کے درمیان ۔

5 : يُسَوِّیْ صُفُوْفَنَا: ہماری صفوں کو سیدھا کرتے ۔

6 : الْقِدَاحُ : تیر ۔

7 : عَقَلْنَا : ہم نے آپ سے سمجھ لیا ۔

8 : كَادَ اَنْ يُّكَبِّرَ: قریب تھا کہ آپ تکبیر کہتے ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1. باجماعت نماز کے لیے صفوں کو سیدھا کرنا واجبات میں سے ہے۔

2. پوری نماز کے دوران صفوں کو درست رکھنا ضروری ہے۔

3. نماز کے دوران صفوں کے ٹیڑھا ہونے سے نبی کریم ﷺنے ناراضگی کا اظہار کیا ہے لہذا اس سے ہر مسلمان کو اجتناب کرنا چاہیے اور درست صف بندی کا خیال بہت اہتمام سے رکھنا چاہیے۔

4. مقتدیوں کی صف کو درست کرنے کا اہتمام امام کی ذمہ داری ہے جیساکہ رسول اللہ ﷺخود صفیں سیدھی کراتے تھے۔

5. امام کو چاہیے کہ یہ مسئلہ اتنی دیر تک سمجھاتے رہیں یہاں تک کہ مقتدی اچھی طرح صف بندی سمجھ لیں اور عملاً درستگی کر لیں۔ جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔

6. باجماعت نماز میں درست صف بندی سے اللہ رحمت فرماتے ہیں اور لوگوں کے درمیان آپس میں پیار و محبت قائم رہتا ہے ۔ مسلمانوں کا آپس میں مل جل کر رہنے کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔

7. مسلمانوں کے آپس کے افتراق و اختلافات کے اسباب میں سے ایک سبب باجماعت نماز میں درست صف بندی نہ کرنا ہے۔ اس سے مسلمانوں کا آپس میں لڑائی جھگڑے اور گروہ بندیوں کی ممانعت کا پتا چلتا ہے جس کے آج کل کے مسلمان بری طرح شکار ہیں ۔

8. اقامت ہو جانے کے بعد اور تکبیر تحریمہ سے پہلے امام مقتدیوں سے ہم کلام ہوسکتا ہے ۔ جیسا کہ اس حدیث مبارکہ میں بیان ہوا ہے۔

9. اقامت کے دوران امام کا نمازیوں کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونا اور ان کی نقل و حرکت وغیرہ کو دیکھنا۔ جیسا کہ اس حدیث مبارکہ میں بیان ہوا ہے۔

10. امام کا اپنے مقتدیوں سے حسن اخلاق سے پیش آنا ، جس شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا اس کو دیکھ کر نبی کریم ﷺنے مقتدیوں کو عباداللہ ( اللہ کے بندوں ) جیسے محبت بھرے جملے سے مخاطب کیا۔

11. پہلی صف میں اور امام کے قریب کھڑے ہونے کی فضیلت ۔

٭٭٭

 

زخم خوردہ ارضِ فلسطین

نہ ہوگا کوئی حادثہ ایسا سنگیں

ہے کیا روح فرسا سقوطِ فلسطیں

بچھایا جو صیاد نے دامِ زرّیں

تڑپتا پھڑکتا ہے اب اس میں شاہیں

خدا کا غضب کیوں نہیں ٹوٹ پڑتا

ہے بیت المقدس پہ رقصِ شیاطیں

بلاؤں میں یہ شہر پلتا رہا ہے

کیا اس نے ایک اور بھی غسلِ خونیں

بڑے کرب کے ساتھ سب کہہ رہے ہیں

ابھی زخم خوردہ ہے ارضِ فلسطیں

در وبامِ اقصیٰ جو ہیں دل گرفتہ

تو ہیں نوحہ خواں چرخ پر ماہ وپرویں

وہاں کتنی آیات پھیلی ہوئی ہیں

یہ ’والتین‘ ہے اور وہ ’طورِ سینین‘

درندوں کی قائم ہوئی حکمرانی

کوئی ضابطہ ہے نہ دستور و آئیں

زوالِ مسلماں کی حد بھی ہے کوئی

نہ اقبال دنیا نہ سلطانئ دیں

بساطِ سیاست کے مہرے ہیں شاداں

بنا ہے کوئی شاہ اور کوئی فرزیں

ہیں دنیا میں یوں تو بہت سے مسلماں

نہ عزت نہ حشمت نہ عظمت نہ تمکیں

یہ اقوامِ مغرب کی افسوں طرازی

جو وہ شہد بھی دیں تو ہے زہر آگیں

ہمیں پھر سے حاصل ہو بیت المقدس

کہیں اس دعا پر فرشتے بھی آمیں

ملے ہم کو فردوس گم گشتہ یا رب

بہ فیضانِ آیاتِ طٰہ و یٰسیں

ہو اسلام کا بول بالا الٰہی

سوادِ مراکش سے تا سرحدِ چیں

مسلماں کی تاریخ کا بابِ روشن

ہے حمادِ خونِ شہادت سے رنگیں

حضرت ابو البیاں حماد

تبصرہ کریں