عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط 31) فضل الرحمٰن حقانی

اذان اور اقامت کے متعلق

حدیث نمبر : 63

عَنْ عبد اللَّه بن عمر رضي الله عَنْه عَنْ رسول اللَّه ﷺ أَنَّهُ قال : «إنَّ بِلالاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّن ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ».)رواه البخاري، كتاب الأذان، باب أذان الأعمى إذا كان له من يخبره، برقم 617، وباب الأذان قبل الفجر، برقم 622، و623، وكتاب الشهادات، باب شهادة الأعمى، برقم 2656، بلفظه، ومسلم، كتاب الصيام، باب بيان أن الدخول في الصوم يحصل بطلوع الفجر، وأن له الأكل وغيره حتى …، برقم 1092، وفيه: «… ولم يكن بينهما إلا أن ينزل هذا، ويرقى هذا»..(

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

’’بلال رات کو اذان دیتے ہیں تو تم کھانا پینا ( روزہ رکھنے کے لیے سحری ) کر لیا کرو یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم اذان دے ۔‘‘

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1۔ يُؤَذِّنُ : اذان دیتا ہے یا دے گا ۔

2۔ فَكُلُوْا : پس تم کھاؤ۔

3۔ وَاشْرَبُوا : اور تم پیئو۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ ضرورت اور مصلحت کے تحت ایک مسجد میں ایک سے زائد مؤذن مقرر کئے جا سکتے ہیں۔

2۔ نابینا یا کوئی شخص جو جسمانی طور پر کمزور یا معذور ہو تو اس کے باوجود اس کو آذان اور امامت سمیت کوئی بھی ذمہ داری وغیرہ دینا جائز ہے بشرطیکہ وہ اس کا اہل ہو اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو معذور شخص کی امامت وغیرہ کو درست نہیں سمجھتے ہیں۔

3۔لوگوں کو کسی مصلحت کے تحت بیدار کرنے وغیرہ کے لئے طلوع فجر سے پہلے اذان کہی جا سکتی ہے۔ لیکن آذان دینا جہاں سنت نہیں ( مثلاً دن کے وقت وغیرہ ) وہاں نہیں دی جاسکتی ہے –

4۔خبر واحد قابل قبول ہے اور اس پر عمل اسی طرح کیا جائے گا جس طرح متواتر پر عمل کیا جاتا ہے۔ بشرطیکہ خبر دینے والا قابل اعتماد ہو۔

5۔روزہ رکھنے والا صبح صادق سے پہلے پہلے کھا پی سکتا ہے ۔ سحری کھانے کو صبح صادق تک موخر کرنا مستحب ہے۔

6۔ روزہ کے لیے سحری کرنا افضل ہے۔

7۔بعض دفعہ امر یعنی حکم سے مراد صرف جواز اور بعض دفعہ استحباب ہوتا ہے ۔ جیسے اس حدیث میں کلوا واشربوا ہے۔

اذان اور اقامت کے متعلق

حدیث نمبر : 64

عَنْ أبي سعيد الخدري رضي الله عَنْه قال : قال رسول اللَّه ﷺ : «إذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الـمُؤَذِّنُ». (رواه البخاري، كتاب الأذان، باب ما يقول إذا سمع المنادي، برقم 611، ومسلم، كتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه ثم يصلي على النبي ﷺ، ثم يسأل اللَّه له الوسيلة، رقم 383، واللفظ له)

حدیث مبارکہ سلیس ترجمہ

سیدنا ابو سعید خدری نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’جب مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے۔‘‘

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اِذَا سَمِعْتُمُ : جب تم نے سنا ۔

2 : الْمُؤَذِّنَ : اذان دینے والا ۔

3 : قُوْلُوْا : تم کہو ۔

4 : مِثْلَ مَا يَقُوْلُ : جس طرح وہ کہتا ہے۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔مؤذن کا جواب دینا شرعاً مسنون و مستحب عمل ہے۔

2۔جواب دینے والا پہلے مؤذن کا کلمہ سنے پھر وہ ان کلمات کو دہرائے۔

3۔جواب دینے والا اپنےکام میں مشغول رہتے ہوئے بھی اذان کا جواب دے سکتا ہے اس کے لیے کام ترک کرنا ضروری نہیں ہے۔ البتہ غیر ضروری کام اور بات روک دینی چاہیے تاکہ آذان کے کلمات پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جاسکے۔

4۔ایک دوسری حدیث جس کو امام مسلم﷫ نے اپنی صحیح میں روایت کیا اس کے مطابق جواب دینے والا جب مؤذن کی اذان سے حَیَّ عَلَی الصَّلَاةِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے کلمات سنے تو اس کے جواب میں: لَاحَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّابِاللّٰهِ کہے۔

5: اذان سننے کے بعد یہ دعا پڑھے

اَللّٰھُمَّ رَبَّ هَذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّةِ وَالصَّلٰوۃِ القَائِمَةِاٰتِ مُحَمَّدَ نِ الْوَسِیْلَةَ وَالْفَضِیْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًانِ الَّذِیْ وَعَدْتَّهُ:

صحیح بخاری میں سیدنا جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔

6۔ کسی مسئلہ پر عمل کرنے کے دوسری احادیث کو مد نظر رکھنا چاہیے ۔ راوی یا محدث کا حدیث کے بعض الفاظ کو بیان کرنا اور بعض کو چھوڑنا معیوب نہیں ہے۔

7۔ عامی کو چاہیے کہ سنت کے مطابق عمل کے لیے قرآن و حدیث کے ماہر عالم سے راہنمائی لے تاکہ حدیث کو سمجھنے میں غلطی سے بچ جائے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں