عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط36) فضل الرحمٰن حقانی

امامت سے متعلق

حدیث نمبر : 74

عَنْ عائشة رضي الله عَنْها قالت : «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ، فصَلَّى جَالِساً، وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَاماً، فَأَشَارَ إلَيْهِمْ: أَنِ اجْلِسُوا فلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : إنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا : رَبَّنَا ولَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى جَالِساً فَصَلُّوا جُلُوساً أَجْمَعُونَ».

[رواه البخاري، كتاب أبواب تقصير الصلاة، باب صلاة القاعد، برقم 1113، وهو في البخاري في عدة مواضع، منها: رقم 688، و1213، 5658، ومسلم، كتاب الصلاة، باب ائتمام المأموم بالإمام، برقم 412]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدہ ام المؤمنین عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں بیمار تھے آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی آپ کے پیچھے لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا: بلاشبہ امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو جب وہ سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ اور جب وہ سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہو جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سبھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : وَهُوَ شَاكٍ : اس حال میں کہ وہ مریض ہے ۔

2 : اِجْلِسُوْا : تم بیٹھ جاؤ۔

3 : اِنْصَرَفَ : پلٹا، پھرا، سلام پھیرا ۔

4 : صَلُّوْا جُلُوْسًا : نماز پڑھو بیٹھ کر ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔بیمار گھر نماز پڑھ سکتا ہے۔

2۔ بیمار شخص امام بن سکتا ہے۔

3۔جس شخص نے نماز اپنی نیت سے شروع کی ہو بعد میں لوگ اس کے پیچھے باجماعت نماز شروع کرسکتے ہیں اور وہ بقیہ نماز بطور امام پڑھا سکتا ہے۔

4۔نماز کے دوران مقتدی کا نماز کے افعال جیسے تکبیر، رکوع ، سجود وغیرہ میں اپنے امام کے تابع رہنا واجب ہے اس سے پہلے کرنا منع ہے۔

5۔نماز کے دوران مقتدی کے لیے اپنے امام کی مخالفت جائز نہیں اس کی سخت وعید آئی ہے۔ یہ حکم نماز کے افعال میں ہے البتہ قرات وغیرہ میں اختلاف جائز ہے ۔

6۔امام کی متابعت میں افضل طریقہ یہ ہے کہ جب امام نماز کے دوران عمل کرے تو مقتدی فورا بعد وہ عمل کرے نہ امام سے پہلے وہ عمل کرے نہ برابر اور نہ ہی زیادہ دیر بعد۔

7۔امام اگرمعذوری کی بناء پر بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تمام مقتدی قیام پرقادر ہونے کے باوجود بیٹھ کر نماز پڑھیں۔ البتہ اکثر اہل علم کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہے۔ افضل یہ ہے کہ جو شخص قیام نہ کرسکتا ہو وہ امامت کے لیے کسی ایسے شخص کو مقرر کردے جو کھڑا ہوسکتا ہو۔

8۔امام جب رکوع سےاٹھتے ہوئے سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہ کہےتو مقتدی اس کے بعد رَبَّنَا ولَكَ الْحَمْدُ کہے یعنی ربنا ولك الحمد کہنے کا وقت اور مقام امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد ہے۔ البتہ مقتدی بھی سمع اللہ لمن حمدہ کہ سکتا ہے جیسا کہ مقتدی اپنی نماز میں پوری سورت فاتحہ پڑھتا ہے باوجود اس کے کہ حدیث میں ہے کہ جب امام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین پڑھے تو پھر تم آمین کہو جس طرح یہاں آمین کہنے کی جگہ اور وقت بتایا گیا ہے اسی طرح اس حدیث میں ربنا ولك الحمد کہنے کی جگہ اور مقام بتایا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔

9۔بوقت ضرورت نماز میں اشارہ کرنا جائز ہے۔

10۔نماز آنکھیں کھول کر پڑھنا چاہیے جیسا کہ صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کے اشارہ کرنے کو دیکھا ۔ بعض لوگ آنکھیں بند کر کے نماز پڑھتے ہیں جو کئی لحاظ سے درست نہیں ہے مثلا نماز کے دوران سانپ یا بچھو وغیرہ آجائے تو بند آنکھوں سے کیسے دیکھے گا اس کے ڈسنے سے کیسے بچے گا جب کہ نماز کے دوران سانپ اور بچھو کو مارنے کا حکم ہے اسی طرح نماز کے دوران کوئی اور بھی واقعہ رونما ہوسکتا ہے جس کی خبر صرف اس صورت میں ہو سکتی کہ آنکھیں کھلی ہوں۔

11۔ امام کا نماز کے بعد وعظ و نصیحت کرنا خصوصاً جب نماز میں بعض لوگ غلطی کریں تو اس کی اصلاح کے لیےنصیحت کرنا۔

حدیث نمبر : 75

عَنْ عبد اللَّه بن يزيد الخطمي الأنصاري رضي الله عَنْه قال : حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ ــ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ ــ قَالَ : «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَقَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، ثُمَّ نَقَعُ سُجُودًا بَعْدَهُ».

[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب متى يسجد من خلف الإمام، برقم 690 بلفظه، وباب السجود على سبعة أعظم، برقم 811، ومسلم، كتاب الصلاة، باب متابعة الإمام والعمل بعده، برقم 474]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن یزید خطمی انصاری بیان کرتے ہیں ہیں کہ مجھے سیدنا براء بن عازب نے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹ نہیں بولتے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے ہم میں سے کوئی بھی اپنی پیٹھ کو نہ جھکاتا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سجدے میں چلے جاتے پھر ہم آپ کے بعد سجدے میں جاتے۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : حَدَّثَنِیْ : مجھےحدیث بیان کی۔

2 : غَيْرُ كَذُوْبٍ : جھوٹ بولنے والے نہیں ۔

3 : لَمْ يَحْنِ : نہ جھکاتا ۔

4 : ظَهْرَهُ : اپنی کمر ۔

5 : نَقَعُ سُجُوْدًا : ہم سجدے میں جاتے ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔نماز کے دوران صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کی اتباع اس انداز میں کرتے کہ جب آپ ﷺ ایک عمل کر لیتے تو فوراً بعد وہ عمل کرتے یعنی نہ آپﷺ سے پہل کرتے نہ ساتھ کرتےاور نہ ہی بہت دیر بعد کرتے بلکہ آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے رہتے۔

2۔امام کو تکبیرات اور سمع اللہ لمن حمدہ بہت لمبا کھینچ کر نہیں کہنا چاہیے کیونکہ مقتدی نے امام کے بعد کہنا ہے۔

3۔صحابہ کرام ایک دوسرے کو بھی حدیث بیان کرتے۔

4۔صحابہ کرام کا حدیث بیان کرتے کے لیے حدثنی اور اخبرنی کے الفاظ کا استعمال کرنا۔

5۔بات کی اہمیت کے پیش نظر بات بیان کرنے والے کی توثیق کرنا۔

6۔حدیث صرف سچے لوگوں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

7۔جھوٹے شخص کی بیان کردہ روایت مردود ہے ۔

حدیث نمبر : 77

عَنْ أبي هريرة رضي الله عَنْه : أن رسول اللَّه ﷺ قال : «إذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَالسَّقِيمَ، وَذَا الْحَاجَةِ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ».

[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب إذا صلى لنفسه فليطول ما شاء، برقم 703، ومسلم، كتاب الصلاة، باب أمر الأئمة بتخفيف الصلاة في تمام، برقم 467.]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی تم میں سے لوگوں کو نماز پڑھائے اسے چاہیےکہ وہ مختصر وہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان میں کمزور، بیمار اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں اور جب کوئی بذات خود نماز پڑھے تو جس قدرے چاہے لمبی کرے۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اِذَا صَلّٰى اَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ : جب تمہارا کوئی ایک لوگوں کو نماز پڑھائے ۔

2 : فَلْيُخَفِّفْ : پس چاہیے کہ وہ ہلکا کرے ۔

3 : اَلضَّعِيفُ : کمزور ۔

4 : وَالسَّقِيْمُ : بیمار ۔

5 : وَذَا الْحَاجَةِ : ضرورت مند ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ مریض، بوڑھے، اور ضرورت مندوں کا باجماعت نماز میں شریک ہونے کی ترغیب ۔ معمولی بیماری یا ضعف وغیرہ کی وجہ سے باجماعت نماز کو ترک نہیں کرنا چاہیے حتی الوسع باجماعت نماز ادا کرنی چاہیے کیونکہ اس کا سختی سے حکم دیا گیا ہے اور باجماعت نماز ترک کرنے کی سخت وعید سنائی گئی ہے۔

2۔ فرض نماز کی جماعت میں امام کو مقتدیوں کے خیال رکھنے کا حکم۔

3۔فرض نماز باجماعت زیادہ طویل نہیں ہونی چاہیے۔ یعنی بہت لمبی قرات اور بہت لمبے رکوع وسجود وغیرہ نہیں کرنے چاہئیں اور نہ ہی بہت مختصر بلکہ معتدل ہونے چاہئیں ۔

4۔نبی کریم ﷺ اپنی امت اور خصوصاً کمزور اور ضرورت مندوں کا بہت خیال رکھتے تھے حتی کہ باجماعت نماز میں بھی۔

5۔انفرادی نماز جتنی کوئی چاہے اسے لمبا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن عموماً لوگ بطور امام لمبی نماز پڑھاتے ہیں اور اپنی انفرادی انتہائی مختصر جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔

تبصرہ کریں