عمدۃ الأحکام؛ اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط38) فضل الرحمٰن حقانی

نبی ﷺ کی نماز کے اوصاف و طریقہ کے متعلق

حدیث نمبر : 80

عَنْ عائشة رضي الله عَنْها قالت : «كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَسْتَفْتِحُ الصَّلاةَ بِالتَّكْبِيرِ، وَالْقِرَاءَةِ رضي الله عَنْه ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ وَكَانَ إذَا رَكَعَ، لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِماً، وَكَانَ إذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ، لَمْ يَسْجُدْ، حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِداً، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ، وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلاةَ بِالتَّسْلِيمِ».(رواه مسلم، كتاب الصلاة،باب مَا يَجْمَعُ صِفَةَ الصَّلاَةِ وَمَا يُفْتَتَحُ بِهِ وَيُخْتَمُ بِهِ وَصِفَةَ الرُّكُوعِ وَالاِعْتِدَالِ مِنْهُ وَالسُّجُودِ وَالاِعْتِدَالِ مِنْهُ وَالتَّشَهُّدِ بَعْدَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ مِنَ الرُّبَاعِيَّةِ وَصِفَةَ الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَفِي التَّشَهُّدِ الأَوَّلِ۔ باب۔ نماز کی جامع صفت، اس کا افتتاح، اور اختتام رکوع وسجود کو اعتدال کے ساتھ ادا کرنے کا طریقہ، چار رکعات والی نماز میں سے ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد اور دونوں سجدوں اور پہلے قعدے میں بیٹھنے کے طریقہ کا بیان: برقم 498)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

ام المؤمنین سیدہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنماز تکبیر (اللہ اکبر) سے شروع کرتے اور قرآت الْحَمْدُ اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (یعنی سورۃ فاتحہ ) سے شروع کرتے جب آپ نے رکوع کیا تو اپنے سر کو نہ اونچا رکھا اور نہ نیچے لٹکایا بلکہ اسکے درمیان رکھا اور جب اپناسر رکوع سے اٹھایا پھر سجدہ نہیں کیا یہاں تک کہ آپ سیدھے کھڑے ہو گئے اور جب آپ سجدے سے سر اٹھاتے تھے تو نہیں ( دوسرا ) سجدہ کرتے تھے یہاں تک کہ آپ سیدھے ( آرام و اطمینان سے) بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعت کے بعد التحیات پڑھتے اپنا بایاں پاؤں بچھا دیا کرتے تھے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے، آپ شیطان کی مانند بیٹھنے سے منع کرتے تھے اور آپ اس سے بھی منع کرتے کہ کوئی شخص درندوں کی طرح اپنے بازو پھیلائے اور آپ نماز کا اختتام سلام ( السلام علیکم ورحمۃ اللہ) سے کرتے۔(بخاری و مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1۔ يَسْتَفْتِحُ : آغاز کرتے،شروع کرتے، افتتاح کرتے۔

2۔ لَمْ يُشْخِصْ : نہ اونچا کیا ۔

3۔ لَمْ يُصَوِّبْهُ : نہ اسے لٹکایا ۔

4۔ اِذَا رَفَعَ رَاسَهُ: جب اپنا سر اٹھایا ۔

5۔ مِنَ السَّجْدَةِ : سجدے سے ۔

6۔حَتّٰى يَسْتَوِیَ قَاعِدًا : یہاں تک کہ سیدھے بیٹھ جاتے۔

7۔ كَانَ يَفْرِشُ : بچھاتے تھے ۔

8۔ رِجْلَهُ الْيُسْرٰى : بایاں پاؤں ۔

9۔عُقْبَةُ الشَّيْطَانِ : شیطان کا بیٹھنا ۔

10۔ اِفْتِرَاشَ السَّبُعِ : درندے کی مانند بچھانا ۔

11۔ كَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ : نماز ختم کرتے تھے ۔

12۔ بِالتَّسْلِيْمِ : سلام کے ساتھ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ نماز کی ابتدا تکبیر یعنی اللہ اکبر سے ہے اس سے پہلے اپنی زبان یا عربی زبان میں نیت کے نام پر الفاظ کہنا رسول اللہ ﷺم سے ثابت نہیں ہیں ایسا کرنا بدعات میں سے ہے جو کہ بہت خطرناک اور کبیرہ گناہ ہے۔

پہلی تکبیر کو تکبیر تحریمہ کہا جاتا ہے اور یہ تکبیر کہنا فرض ہے اس کے کہنے سے نماز کے دوران وہ جملہ اقوال و افعال حرام ہو جاتے ہیں جو نماز کے منافی ہوتے ہیں۔ اور اس کے کہے بغیر کوئی شخص نماز میں داخل نہیں ہوسکتا ہے ۔ کئی لوگ جہالت کی وجہ سے باجماعت نماز میں تاخیر سے شامل ہونے کی صورت میں تکبیرِ تحریمہ کو چھوڑ دیتے مثلاً امام اگر رکوع، سجود، یا تشہد وغیرہ میں ہو تو تاخیر سے ملنے والا بغیر تکبیر تحریمہ کے اسی حالت میں چلا جاتا ہے جس حالت میں امام صاحب ہوتے ہیں اس طرح کرنے سے نماز نہیں ہوتی ہے، ایسی صورت میں مقتدی کو دو تکبیریں کہنی چاہیے ایک تکبیر تحریمہ اور دوسری تکبیر انتقال ۔

2۔ نماز میں قرات کی ابتدا سورہ فاتحہ سے ہے اور سورۃ فاتحہ کے کئی ایک نام ہیں ان میں سے ایک الحمد اور الحمد للہ رب العالمین ہے۔ اور اس سورہ کی ابتدا راجح قول کے مطابق بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہے البتہ اس کو جھری اور سری دونوں طرح پڑھنا ثابت ہے۔ لیکن اس کو چھوڑنا درست نہیں ہے ۔

3۔ رکوع کے دوران پیٹھ اور سر کو سیدھا رکھا جائے نہ سراونچا ہو اور نہ ہی زیادہ جھکا ہوا ہو۔ اس میں عموماً لوگ غلطی کرتے ہیں بہت کم لوگ ہیں جن کی رکوع میں پیٹھ اور سر سیدھا ہوتا ہے اکثر لوگ رکوع کی حالت میں اپنی نظر پاؤں میں رکھنے کی وجہ سے پیٹھ اور سر کو سیدھا نہیں رکھ پاتے ہیں ، اکثر لوگ گھٹنوں پر صحیح طریقہ سے ہاتھ نہ رکھنے کی وجہ سے بھی کمر اور سر کو سیدھا نہیں رکھ پاتے ہیں ۔ ہر مسلمان کو رکوع و سجود کا صحیح طریقہ اہل علم سے سیکھنا چاہیے کیونکہ یہ دونوں نماز کے عظیم ارکان میں سے ہیں۔

4۔ نماز کے دوران تعدیل ارکان یعنی تمام ارکان میں اطمینان و ٹھہراؤ کا خیال رکھنا نماز کے فرائض میں سے ہے۔

5۔ ہر دو رکعت کے بعد تشہد ضروری ہے۔ رہ جانے کی صورت میں سجدہ سہو ہے۔

6۔ پہلی تشہد کے دوران بایاں پاؤں بچھایا جائے اور دایاں کھڑا رکھا جائے۔ اور آخری تشہد میں تورک کرنا سنت ہے یعنی دائیں پاؤں کو کھڑا کرنا اور بائیں پاؤں کو دائیں پنڈلی سے باہر نکال کر سرین پر بیٹھنا۔

7۔ تشہد کے دوران شیطان اور درندوں کی مانند بیٹھنا منع ہے۔ یعنی سرین زمین پر رکھ لینا اور پنڈلیاں کھڑی کرکے پاؤں کی ہتھیلیاں زمین پر رکھنا۔ سجدے میں بازو کے بجائے صرف ہتھیلیاں زمین پر لگانی چاہئیں ، بہت ساری عورتیں سجدہ سکڑ کر کرتی ہیں اور بازو بھی بچھا کر رکھتی ہیں جو کہ سنت رسول کے خلاف ہے اور ایسا سجدہ نہیں ہوتا ہے۔

8۔ نماز کا اختتام سلام یعنی السلام علیکم ورحمۃ اللہ سے کیا جائے اور یہ بھی تکبیر تحریمہ اور باقی نماز کے فرائض کی طرح فرض ہے۔ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ نماز میں سلام فرض نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ کوئی اور کام کر کے بھی نماز کا اختتام کیا جاسکتا ہے حتی کہ ہوا خارج کر کے بھی ان لوگوں کے ہاں صرف نماز کے اختتام کی نیت ضروری ہے ۔ اور یہ رائے درست نہیں ہے ۔کتاب و سنت کے مخالف ہے۔

حدیث نمبر : 81

عَنْ عبد اللَّه بن عمر رضي الله عَنْه : «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَرْفَعُ بيَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، إذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ، وَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَكَانَ لا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ».

(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب رفع اليدين في التكبيرة الأولى مع الافتتاح سواء، برقم 735، وبرقم 736، ورقم 738، ورقم 739، ومسلم، كتاب الصلاة، باب استحباب رفع اليدين حذو المنكبين مع تكبيرة الإحرام والركوع، وفي الرفع من الركوع، وأنه لا يفعله إذا رفع من السجود، برقم 390)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے دونوں ہاتھ اٹھایا کرتے تھے اپنے کندھوں کے برابر جب نماز کا آغاز کرتے اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے اور اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور کہتے سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ اور اس طرح سجدوں میں نہ کرتے تھے۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1۔ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ: اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے۔

2۔ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ: اپنے دونوں کندھوں کے برابر۔

3۔ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ: جب آپ نماز شروع کرتے ۔

4۔ وَاِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوْعِ : اور جب رکوع کے لیے آپ تکبیر یعنی اللہ اکبر کہتے۔

5۔ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ: اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے یعنی جسطرح تکبیر تحریمہ کے وقت اٹھاتے۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرنے پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے اور پوری امت اس پر عمل پیرا ہے۔

2۔ رکوع جاتے اور رکوع اٹھتے وقت رفع الیدین کرنا سنت رسول سے صریحا ثابت ہے۔ اور یہی عمل تمام صحابہ کرام اور محدثین اہل الحدیث کا ہے۔

3۔ رفع الیدین نماز کی زینت ہے۔

4۔ رفع الیدین کرتے ہوئےنمازی اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر تک اٹھائے اسی طرح کانوں کی لو تک اٹھانا بھی ثابت ہے البتہ کانوں کو پکڑنا یا چھونا ثابت نہیں ہے۔

5۔ نبی کریم ﷺ سجدوں کے دوران رفع الیدین نہیں کیا کرتے تھے۔

6۔ امام شافعی کے نزدیک رفع الیدین کرنے سے اللہ کی تعظیم کا اعتراف اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی اتباع ہوتی ہے۔

7۔ نماز میں رفع الیدین عاجزی کا اظہار ہے۔

8۔ رفع یدین کرنا نبی کریم ﷺ کی سنت متواترہ ہے اسے مذاق کا نشانہ بنانا سنت کی توہین کرنے کے مترادف ہے اسکے تواتر پرائمہ کی صراحت موجود ہے، احادیث کی تمام کتب میں رفع الیدین کرنے کی احادیث موجود ہیں۔ جس حدیث میں تکبیر تحریمہ کے رفع الیدین کا ذکر ہے اسی میں رکوع اور رکوع سے سر اٹھانے وقت کے رفع الیدین کا ذکر ہے۔ حدیث کے ایک حصے پر عمل کرنا اور ایک حصے کو چھوڑ دینا مسلمان کی شان نہیں ہے۔

9۔ رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہنا ۔

10۔ رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ کہنا راجح قول کے مطابق یہ حکم امام و مقتدی دونوں کو ہے۔

11۔ سجدوں میں رفع الیدین نہ کرنے کی صراحت ۔ جن روایات میں سجدوں میں رفع الیدین کا ذکر ہے وہ ضعیف اور شاذ ہیں۔

تبصرہ کریں