علماء اور برادرز کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج۔محمد عبد الہادی العمری

دعوت وتبلیغ کے میدان میں سرگرم عمل دعاۃ کی مختلف قسمیں ہیں، ان میں دو بہت مشہور ہیں۔ کسی دینی مدرسہ سے فارغ التحصیل علماء کرام اور دوسرے ایسے عصریتعلیم یافتہ لوگ جو دعوتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان ہی کو عموماً برادرز کہا جاتا ہے۔ برادرز کی اصطلاح کی تشریح مختلف لوگوں نے اپنے اپنے پس منظر کے لحاظ سے کی ہے لیکن ان سب کے درمیان ایک بات قدر مشترک ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دینی تعلیم کسی مدرسہ سے باقاعدہ حاصل کرنے کے بجائے اپنے ذوق کے مطابق خود سے دین سیکھنے کی کوشش کی اورکچھ کتابوں کا ذاتی مطالعہ کر کے اور کبھی جزوی طور پر کسی عالم دین سے کچھ اسباق پڑھ کر دعوتی میدان میں سرگرم عمل ہو گئے۔ مشہور ناشر اور مصنف محترم ابو بکر قدوسی صاحب نے جو تعریف کی ہے وہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیے:
’’یہ وہ معزز لوگ ہیں کہ جنہوں نے دین کا علم کسی مدرسہ میں باضابطہ طور پر حاصل نہیں کیا بلکہ یہ استعداد انہوں نے ذاتی محنت اور مطالعہ کے سبب یا نجی طور پر کسی استاد سے استفادہ کرتے ہوئے اللہ کی رحمت سے حاصل کی۔ ہندوستان کے احباب ان ہی کو برادرز کے نام سے مخاطب کرتے ہیں۔ ‘‘
پھر آگے لکھتے ہیں کہ
’’میں ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں ہم افراط اورتفریط کاشکار ہیں، اہل علم ان کے بارہ میں شدید رائے رکھتے ہیں جو کہ درست رویہ نہیں۔ ان کا تجزیہ کیجیے اس میں منفی اور مثبت پہلو زیر غور لائیں۔ اس کے بعد رائے مقرر کیجیے۔
پھر آگے مختلف برادرز کی مثبت مثالیں پیش کیں، جیسے ڈاکٹر ذاکر نائیک، محترم عبد الرحمٰن کیلانی مصنف تفسیر تیسیر القرآن، محترم اقبال کیلانی، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر وغیرہ وغیرہ۔ جو کسی مدرسہ کے فارغ نہیں لیکن دفاع دین اور تبلیغ دین کے حوالہ سے ان کی خدمات کا پلڑا بہت سے اہل علم کی خدمات سے بھاری ہو جائے۔‘‘
محسوس کیا جا رہا ہے کہ چند دنوں سے ان برادرز کے خلاف اعتراضات کی اچانک باڑ سی آ گئی ہے۔ اگرچہ کہ کچھ اہل علم نے ان پر پہلے بھی تنقید کی لیکن ان کی تعداد بہت کم اور بڑی حد تک تعمیری نوعیت کی تھی، لیکن اب دیکھا گیا ہے کہ گویا چاروں طرف سے یلغار شروع ہو گئی اور غور طلب بات یہ ہے کہ اکثریت کا ہدف ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ذات ہے۔ حالانکہ سب یہ کہتے ہیں کہ ایسے برادرز یا داعیان دین بڑی تعداد میں موجود ہیں تو بجا طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نشانہ خصوصی طور پر ڈاکٹر ذاکر نائیک ہی کیوں!
کہیں ہم غیر شعوری طور پر غلط سمت تو نہیں چل پڑے، یا خفیہ ہاتھوں کا آلہ کار تو نہیں بن رہے ہیں جو صرف ایک نقطہ لگا کر تماشہ دیکھنے لگتے ہیں اور پھر کھیل کا دائرہ اتنا پھیلتا جاتا ہے کہ نقطہ لگانے والے کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے لیکن کاز کو ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
احباب کی تحریروں میں سرخیاں کچھ اس انداز سے لگائی جا رہی ہیں کہ اس میں عدم توازن واضح محسوس ہوتا ہے جیسے برادرز کا فتنہ!
برادرز سے ہوشیار باش! وغیرہ
خصوصاً ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف حکومتی مشینریاں متحرک ہیں حتی کہ حکومت ہند نے ان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعہ دو مرتبہ ناکام کوشش کی، خوف اور لالچ کا سہارا لے کر الگ سے کارروائی جاری ہے۔ ہم ان نازک حالات میں کہیں غیر شعوری طور پر ان ہی طاقتوں کےآلہ کار تو نہیں بن رہے ہیں۔
ورنہ جہاں تک ڈاکٹر ذاکر نائیک کی دینی خدمات کا تعلق ہے، انہیں مختلف ممالک اور معتبر شخصیات کی جانب سے سراہا گیا، سعودی عرب، عرب امارات، ملیشیاء وغیرہ وغیرہ نے ان کی اسلامی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا، تاہم کمال صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک کو ہے، ہر بشر کے کام میں نقص کا امکان ہوتا ہے، ڈاکٹر ذاکر نائیک یا کوئی بھی داعی دین اس قاعدہ سے مستثنیٰ نہیں، لیکن غلطی کی نشاندہی کا اسلوب بھی دینی ہو اور ناقد حالات سے باخبر ہو تو بہتر نتائج کی امید کی جا سکتی ہے، ورنہ یہ حرکت بجائے خود غلط سمجھی جائے گی۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے متعدد بار یہ واضح کیا کہ دینی تعلیمات کی بنیاد قرآن مجید اور صحیح احادیث پر ہے، میں اسی کو مصدر ومرجع سمجھتا ہوں، اس کو بغیر کسی تاویل کے قبول کرتا ہوں، لیکن کسی شخص کی رائے یا اجتہاد ہو تو اس شخص معین کے فیصلہ کو قبول کرنے کا پابند نہیں۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا دینی تعلیمات سے واقف ہونے کے لیے مدرسہ میں داخلہ لے کر درس نظامی کی تکمیل لازمی ہے، یہ بات درست نہیں، البتہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ جو دینی مدارس میں باقاعدگی سے تعلیم حاصل کریں عموماً ان کے علم میں پختگی ہوتی ہے، وہاں ضروری مضامین مناسب ترتیب کے ساتھ ماہر اساتذہ پڑھائیں گے۔
وقتاً فوقتاً طالب علم کی تشنگی اور الجھن بھی دور کی جاتی رہے گی، وہاں طالب علم کی اصلاح بھی ہوتی رہتی ہے لیکن جو لوگ ذاتی مطالعہ اور ذوق سے دینی تعلیم حاصل کریں ان کے سامنے یہ خطرات رہتے ہیں کہ وہ جس کتاب کا انتخاب کر رہے ہیں ان کے علمی پس منظر کے اعتبار سے کیا وہ ان کے لیے مناسب ہے اور زیر بحث عنوان سے وہ جو نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کیا وہ درست ہے، چونکہ بروقت ان کی رہنمائی نہیں ہوپاتی اس لیے خطرہ رہتا ہے کہ غلط انتخاب کہیں انہیں جادۂ حق سے دور نہ کر دے۔ اس لیے یہ مناسب ہے کہ اگر مدرسہ میں تعلیم نہ بھی حاصل کر سکیں تو کسی لائق استاذ کی نگرانی میں مطالعہ جاری رکھیں، تاکہ بروقت مناسب ہدایات اور رہنمائی کی راہیں کھلی رہیں اور احتیاط کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی ادھوری معلومات کی بنیاد پر فتویٰ دینے میں عجلت نہ دکھائیں۔
معتبر علماء سے استفادہ اور ان کی طرف رجوع کرنا ہر صورت میں بہتر اور پسندیدہ طرز عمل ہے۔ اس مسئلہ میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس پر عمل کرتے ہیں، مختلف اہل علم سے انہوں نے ماضی میں بھی استفادہ کیا ہے اور اب بھی کرتے ہیں، خصوصاً اہم مسائل میں اپنی رائے دینے سے پہلے ان کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ مختلف علماء نے اس کی گواہی دی ہے، وہ سعودی عرب کے خصوصاً مختلف علماء سے کسب فیض کرتے رہے۔ ہاں اس میدان میں مصروف اکثر بردارز کے متعلق ہم یہ گواہی نہیں دے سکتے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران پروفیسر ڈاکٹر شیخ ضیاء الرحمٰن اعظمی مدینہ یونیورسٹی﷫ نے مشورہ دیا تھا کہ فتویٰ وغیرہ دینے سے حتیٰ الامکان پرہیز کریں، ویسے بھی شیخ اعظمی﷫ اپنی خصوصی مجالس میں دعاۃ کو عموماً یہی مشورہ دیا کرتے تھے کہ عوامی اجتماعات میں فتویٰ دینے سے گریز کریں، کیونکہ فتویٰ کی کچھ نزاکتیں ہوتی ہیں اور بسااوقات مقرر کے سامنے جو مجمع ہوتا ہے ان کی رعایت کرتے ہوئے وہ جواب دیتا ہے جس میں مسئلہ کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا لیکن وہی فتویٰ جب میڈیا کے ذریعہ عام کر دیا جائے تو پھر مختلف قسم کے شبہات پیدا ہوتے ہیں، یوں داعی کے پوزیشن کمزور ہو جاتی ہے پھر اس کا وقت اپنے دفاع اور وضاحت میں ضائع ہونے لگتا ہے۔ شیخ اعظمی﷫ کا یہ مشورہ صرف برادرز کے لیے نہیں ہوتا بلکہ علماء اور مدارس کے فارغین کے لیے بھی ہوتا ۔
اس کی تازہ مثال کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن اور اس دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کیلئے مختصصین کے مشورہ کے برخلاف کچھ علماء کرام اور برادرز کے فتاویٰ جگ ہنسائی کا سبب بنتے رہے۔ شیخ احمد دیدات اپنے پروگرامز میں عموماً اعلان کیا کرتے تھے کہ مجھ سے عیسائیت کے متعلق سوالات کیجیے۔ فقہی مسائل مجھ سے نہ پوچھیے، شیخ احمد دیدات، ڈاکٹر ذاکر نائیک اور مختلف داعیوں نے حسب ضرورت مناظرے بھی کیے۔ مناظرہ کا اپنا اسلوب ہوتا ہے، اس کے لیے زیر بحث موضوع پر دسترس کے علاوہ اہم عنصر مناظر کا استحضار اور قوت گویائی ہے، ممکن ہے ایک شخص بڑا عالم ہو لیکن میدان مناظرہ میں چند منٹ بھی ٹک نہ سکے، ہو سکتا ہے کوئی منجھا ہوا، لائق استاذ ہو لیکن میدان خطابت میں ناکام ہو جائے، لکل فن رجال۔
برصغیر کے نامور عالم دین، رئیس المناظرین مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ جو میدان مناظرہ کے بجاطور پر شہسوار تھے، مختلف موقعوں پر موصوف کو آریہ سماج، نصاریٰ وغیرہ وغیرہ سے مناظرہ کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علماء اپنا نمائندہ تجویز کیا کرتے اور مولانا کا کمال تھا کہ اپنے مدمقابل کو آسانی سے قابو کر لیتے بلکہ بسااوقات چند لمحوں میں زیر کر لیتے، کبھی منطقی دلائل کے زور پر، کبھی معروضی حالات کا سہارا لیتے ہوئے اور کبھی علمی دلائل کے ذریعہ، بعد میں اگر کوئی مناظرہ کی روئیداد پڑھتے ہوئے اطمینان سے پیش کردہ دلائل کا جائزہ لے تو ممکن ہے کہ بعض دلائل میں کوئی زیادہ علمی وزن دکھائی نہ دے، لیکن موقع محل کی مناسبت سے جو بات کی گئی اس سے بہتر وہاں نہیں ہو سکتی تھی، اس لیے کہ مدمقابل اور مجمع کے لحاظ سے وہی اسلوب مناسب ہو سکتا تھا جو مولانا امرتسری﷫نے بروئے کار لایا، موقع کی مناسبت سے مناظر کی طرف سے کچھ ایسی ذومعنیٰ باتیں بھی کی جاتی ہیں جن کے مختلف معانی نکالے جا سکتے ہیں، مگر انصاف کا تقاضا ہے کہ ان جملوں کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے، ورنہ مفہوم مخالف لیا جائے یا پس منظر کے بغیر وہ بات نقل کی جائے تو اس سے غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ بعض معترضین نے ایسا ہی اسلوب روا رکھا۔
ایک اعتراض پیس ٹی وی کے چند مقررین کے حوالہ سے بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ منہج سلف پر پورے نہیں اترتے، پھر انہیں کیوں موقع دیا گیا، اس کے جواب سے پہلے خود اس ٹی وی چینل کی افادیت کا اندازہ لگائیے کہ اردو ناظرین کا حلقہ تقریباً پانچ کروڑ افراد تک وسیع ہو گیا تھا، متنوع بندشوں سے پہلے اور انگریزی کا حلقہ 8 تا 10 کروڑ تک پھیلا ہوا تھا، پھر بنگلہ اور چینی زبانوں میں نشریات جاری ہوئیں اور وسیع دنیا قرآن وسنت کی تعلیمات سے سیراب ہوتی رہی، اس کی نشریات مختلف سیٹلائٹ پر نشر ہوتی رہیں، کیا اس سے پہلے کسی دینی چینل سے قرآن وسنت کا پیغام اس سطح پر نشر ہوتا رہا، لیکن ٹی وی نشریات کی کچھ نزاکتیں ہیں جو ریگولیٹری باڈی آف کام کی طرف سے عائد ہوتی ہیں، خصوصاً دینی چینلز پران میں کوتاہی کا بھاری جرمانہ کی شکل میں نقصان ہوتا ہے اور کبھی چینل کی ہی بندش آف ایئر کا خطرہ رہتا ہے۔
مخصوص حلقہ میں بیٹھے درس دینے اور ٹی وی پر اظہار خیال کے اداب میں نمایاں فرق ہوتا ہے، پیس ٹی وی اردو اور انگریزی چینلز کو کئی مرتبہ یہ صدمے سہنے پڑے، ایک معزز عالم دین نے توحید وعقائد پر درس دیتے ہوئے سحر اور ساحر کے حوالہ سے اسلامی سزاؤں کا اس انداز میں ذکر کیا کہ ٹی وی کو بھاری جرمانہ اورناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے خود بذریعہ فون اس آفت سے انہیں متنبہ کیا تھا، الحمد للہ وہ تو بچ گئے لیکن چینل کے خلاف سخت کارروائی ہوئی، بظاہر ایک حدیث کا ترجمہ ہی انہوں نے کیا لیکن الفاظ کا چناؤ آف کام کی ہدایات کے خلاف تھا۔ یورپ کی مسجد کے ایک امام صاحب حقوق زوجین کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے بیوی پر سختی اور ضرب کی اس انداز سے وضاحت کی کہ ان کا ویزا منسوخ کر کے ملک بدر کر دیا گیا۔
جو لوگ ابھی مدارس یا جامعات میں زیر تعلیم ہیں یا جن کے مخاطب محلہ کی مسجد کے مخصوص نمازی ہیں ان کی طرف سے کی جانے والی تنقید اور تبصرے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اپنے محدود حلقہ کے باہر کی دنیا خصوصاً ٹی وی اور ریڈیو سروس پر مسلط پابندیوں سے کتنے ناواقف ہیں۔
پیس ٹی وی پروگرامز کی ایک ایڈیٹنگ کمیٹی مقرر تھی جو ریکارڈنگ کے بعد نشر کرنے سے پہلے اس کے مندرجات کا جائزہ لیتی، جو بات اصول اور منہج کے خلاف ہو اسے حذف کر دیتی اور یہ کمیٹی مدنی علماء کرام پر مشتمل تھی، ان کے اختیارات کا دائرہ اتنا وسیع تھا کہ خود ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ریکارڈنگ کو وہ حسب ضرورت ایڈیٹ کر سکتی تھی، اس جانچ میں اصول شریعت کے علاوہ آف کام کے قواعد بھی پیش نظر رکھے جاتے، لکین پھر بھی اندیشہ رہتا، اس لیے بھی کہ جب آپ توحید خالص کی بات کریں تو خود اپنی ہی صفوں سے ہونے والی شکایات مشکلات کھڑی کر سکتی ہیں، لہٰذا یہ اعتراض کہ کچھ مقررین کے بعض افکاریا منہج پر تحفظات ہیں، یہ اعتراض بھی ان نزاکتوں کو نہ سمجھنے سے ہوتا ہے، ورنہ یہاں تو بسا اوقات غیرمسلموں کو بھی اظہار خیال کا موقع دینا ہوتا ہے ، اب یہ منتظمین کی حکمت عملی پر منحصر ہوتا ہے کہ ایسی شخصیات کو ان عنوانات پر اظہار خیال کی دعوت دی جائے جس میں اختلاف کی گنجائش کم ہو تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
خلاصہ یہ ہے کہ
بردارز کی اہمیت اور دعوتی شعبوں میں ان کی نمایاں کامیابی کا اعتراف ہونا چاہیے کہ انہوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ان کی کوششوں سے فائدہ بھی ہوا، ان کی اکثریت نے اپنی جدوجہد کے لیے اس میدان اور زبان کا سہارا لیا، جس سے اکثر علماء کرام دور تھے۔ لیکن ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ علم میں پختگی پیدا کریں اور اپنے موضوع اور متعین دائرہ میں رہ کر کام کریں تو مزید بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے، ہر موضوع پر اظہار خیال کرنا اور ہرسوال کا جواب دینا خصوصاً فقہی مسائل میں مناسب نہیں، یہ بات دونوں ہی علماء اور برادرز کو پیش نظر رکھنی چاہیے، نیز دونوں گروہوں کو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا چاہیے، ورنہ اگر علماء کا طبقہ برادرز کی تحقیر کرے گا اور برادرز کا گروہ علماء کی تضحیک کرے گا تو ہماری کوششیں شیطانی دراندازی سے ناکام ہو کر رہ جائیں گی اور یہ دوریاں مزید پختہ ہوتی جائیں گی، ایک دوسرے کی نیتوں پر حملہ کرنا، سنی سنائی باتوں پر تبصرے اور جذباتی بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے، شخصی کوتاہی یا غلطی کو اسی شخصیت تک محدود رکھنا چاہیے کیونکہ ہر طبقہ میں اہل اللہ صفت محسنین کی کمی نہیں۔

٭٭٭

قرآن اور حدیث کی برکت

جسے نہ قرآن یاد ہے اور نہ اس کے معانی سے آگہی ہے اور نہ وہ حدیث اور اس کے مفہوم کی پہچان رکھتا ہے ، وہ پیغمبرﷺ سے ماخوذ حقائق کاعارف کیوں کر ہو سکتا ہے ؟! (شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫، الانتصار: ص142)

 

سنت کا عالم مناظرہ نہ کرے

ہیثم بن جمیل﷫ کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک﷫ سے استفسار کیا : سنن کے عالم کو ان کے لیے بحث و مناظرہ کرنا چاہیے ؟ امام نے فرمایا : نہیں، بلکہ وہ صرف سنن کی خبر دے گا ، اس کی بات قبول ہو جائے تو بہتر ، ورنہ سکوت اختیار کرے۔ ( جامع العلوم والحكم: 1؍262)

 

تبصرہ کریں