علماء اور ائمہ کرام کا ادب واحترام۔ محمد انور محمد قاسم سلفی ، کویت

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امت پر علماء اور ائمہ کرام کا ادب و احترام واجب ہے، اس لیے کہ علماء انبیائے کرام ﷩ کے وارث ، دین کے محافظ، اسلام کے مبلغ اور علم وحکمت کے سرچشمے ہیں ، اسی وجہ سے دین میں ان کا ایک خاص مقام اور عزت وتوقیر ہے۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ ان کے فضائل و مناقب سے بھرے پڑے ہیں۔

1۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴾ (سورۃ آل عمران: 18)

’’اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور فرشتے اور اہل علم گواہی دیتے ہیں، وہ اپنے احکام میں عدل پر قائم ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، جو عزت والا اور حکمت والا ہے۔‘‘

2۔ ارشاد الٰہی ہے:

﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾

’’اے میرے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ کیا جانے والے اور نہ جانے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ بے شک عقل والے کی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ ‘‘ (سورۃ الزمر: 9)

3۔ رسول اکرمﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں علمائے کرام کے بڑے فضائل بیان کیے ہیں، اور یہ حقیقت ہے کہ روئے زمین پر بسنے والوں میں ہی وہ طبقہ ہے جس کے ساتھ الله تعالیٰ خصوصی طور پر خیر کا ارادہ فرماتا ہے، جیسا کہ

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺسے سنا:

«مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»

’’اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، تو اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 71)

4۔ اور ایک روایت میں علماء کرام کو امت کے بہترین لوگوں میں شمار کیا گیا ہے ، فرمان نبویﷺ ہے:

«خيرُكم من تعلَّمَ القرآنَ وعلَّمَه»

’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 1452)

5۔ انہیں انبیائے کرام ﷩ کا وارث قرار دیا گیا ہے:

«إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ» (سنن ابو داؤد: 3641)

’’علماء انبیائے کرام﷩ کے وارث ہیں، اور انبیائے کرام﷩ نے اپنی میراث میں دینار و درہم نہیں چھوڑے، بلکہ علم کی میراث چھوڑی ، جس نے علم حاصل کیا تو اس نے میراث نبوت سے وافر مقدار میں اپنا حصہ حاصل کرلیا۔‘‘

6۔ علماء کرام کے حق میں آسمان اور زمین کی ساری مخلوق مغفرت طلب کرتی ہے ، فرمان نبوی ہے:

« وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ، وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ»

’’ عالم کے حق میں آسمان و زمین کی ساری مخلوقات طلب مغفرت کرتی ہیں ، یہاں تک کہ پانی کی مچھلیاں بھی اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چودھویں کے چاند کی تمام تاروں پر۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 3641)

7۔ رسول اکرم ﷺ نے ان کے حق میں خصوصی دعا مانگی ہے، ارشاد ہے:

« نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا وَبَلَّغَهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ» (جامع ترمذى: 2658)

’’اللہ تعالیٰ اس شخص کو آباد وشاداب رکھے ،جس نے میری بات سنی پھر اس کو یاد رکھا پھر جیسے سنا تھا اس کو ایسے ہی پہنچایا، بہت سے ایسے لوگ جنہیں علم پہنچایا جارہا ہے ، سنے والے سے زیادہ بیدار مغز ہوتے ہیں ، اور بہت سے ایسے اشخاص جن تک فقہ کی باتیں پہنچائی جارہی ہیں وہ پہنچانے والے سے زیادہ فقیہ اور سمجھ دار ہوتے ہیں۔‘‘

8۔ اہل علم کا ختم ہو جا تا قیامت کی علامت ہے:

«إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا» (صحیح بخاری: 100)

’’الله تعالیٰ بندوں سے یکایک علم نہیں اٹھا لیتا، بلکہ علماء کو وفات دے کرعلم قبض کر لیتا ہے، جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو پھر حال یہ ہو جائے گا کہ لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، اور ان سے دین کے متعلق پوچھا جائے گا، تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے پھر خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ ‘‘

کیا علماء اور ائمہ کرام معصوم ہیں؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علماء اور ائمہ کرام ﷭، اپنے سارے فضائل ومناقب کے باوجود کیا معصوم عن الخطأ والنسیان ہیں؟ ان سے خطا ولغزش اور کوتاہی کا امکان ہے یا نہیں؟ تو جواب یہ ہے کہ وہ اپنے تمام فضائل ومناقب کے باوجود امتی ہیں، نجی اور پیغمبر نہیں ، صرف انبیاء کرام﷩ ہی معصوم عن الخطا ہیں، ان کے علاوہ امت کے سارے طبقے ، چاہے وہ صحابہ کرام ہوں، یا تابعین وتبع تابعین ، ائمہ دین محدثین، مفسرین ، علماء وفقہاء، زہاد وصلحاء، غرضیکہ تمام سے خطا ولغزش کا نہ صرف امکان ہے بلکہ یہ امر واقع بھی ہے، لیکن علماء و ائمہ کرام سے اپنے اجتہاد میں کوئی غلطی بھی ہو جائے تو تب بھی الله تعالیٰ انہیں ثواب سے محروم نہیں کرے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:

« إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ» (جامع ترمذى: 1326)

’’جب حاکم ( علماء وائمہ کرام بھی اس میں شامل ہیں) کسی معاملے میں اجتہاد کرتا ہے اور مسئلہ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے تو اس کے لیے دو ہرا(اجتہاد اور صحت کا) ثواب ہے، اور اگر کسی معاملے میں اجتہاد کرتا ہے اور صحیح مسئلہ تک رسائی حاصل کرنے میں غلطی کر بیٹھتا ہے تو اس کے لیے ایک (اجتہاد کرنے کا) ثواب ہے۔‘‘

لیکن اگر ان کا کوئی قول دلیل (کتاب اللہ اور صحیح حدیث) کے خلاف ہو تو اس معاملے میں ہمارا مسلک یہ ہونا چاہیے کے کوئی بھی عالم ربانی جان بوجھ کر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کے خلاف ہرگز ہرگز فتوی نہیں دے سکتا، ضرور انہیں وہ حدیث نہیں ملی ہو گی ، جس کی وجہ سے وہ صحیح مسئلہ تک نہیں پہنچ سکے، لیکن وہ اجر سے محروم نہیں ہوں گے۔ اس طرح کے مسائل میں ہر مسلمان پر واجب ہو جاتا ہے کہ وہ انہیں معذورو ماجور بھتے ہوئے ان کے اقوال کو چھوڑ کر کتاب وسنت کی طرف رجوع کرے، جیسا کہ فرمان باری ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ (سورة النساء: 59)

’’ اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں صاحب امر ہوں، اگر تم آپس میں کسی معاملے میں اختلاف کر لوتو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو، اگر تم واقعی اللہ ا در روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔‘‘

اور اسی بات کی وصیت چاروں ائمہ کرام ﷭ نے کی ہے۔

٭ امام ابوحنیفہ ﷫ فرماتے ہیں:

“إذا صح الحديث فهو مذهبي”

’’جب کوئی صحیح حدیث مل جائے تو سمجھ لینا کہ وہی میرا مسلک ہے۔‘‘

٭ امام مالک ﷫ ارشاد فرماتے ہیں:

“كل يؤخذ ويرد إلا صاحب هذا القبر، وأشار إلى قبر الرسول ﷺ.’

’’ہر شخص کی بات لی یا چھوڑی جاسکتی ہے، سوائے اس صاحب قبرکی بات کے، پھر آپ نے رسول اکرمﷺ کی قبر مبارک کی طرف اشارہ کیا۔‘‘

٭ امام شافعی ﷫ کا بیان ہے:

“إذا خالف قولي بقول رسول الله ﷺ ردوه على الجدار”

’’میری بات رسول اللہ ﷺ کی بات کے خلاف ہو تو اسے دیوار پر دے مارو۔‘‘

٭ امام اہل السنہ احمد بن حنبل ﷫ کا ارشاد ہے:

“لا تقلدوني ولا تقلدوا مالكا ولا شافعيا ولا أوزاعيا وخذوا الدين من حيث أخذوا”

’’ میری تقلید نہ کرو اور نہ ہی امام مالک کی، نہ امام شافعی، اور نہ اوزاعی کی ، اور دین کو انہوں نے جہاں سے لیا ہے وہیں سے تم بھی لو۔‘‘

٭ امام شافعی ﷫ فرماتے ہیں:

’’ صحابہ کرام مختلف موقعوں پر رسول کریمﷺ کے پاس آیا کرتے اور آپﷺ سے دین کی ضروری باتیں سیکھ کر چلے جاتے تھے، صحابہ کرام میں سے کچھ ایسے ہیں جو زندگی میں آپﷺ سے صرف ایک بار ملے اور پھر کبھی ملاقات نہیں کر سکے۔ پھر وہ جہاں گئے ، جتنا علم انہوں نے سیکھا تھا اس کو پھیلایا، جس کی وجہ سے دورِ صحابہ اور تابعین میں فقہ ابو بکر ، فقہ عمر، فقہ عثمان، فقہ علی ، فقہ عبداللہ بن عباس اور فقہ عبد اللہ بن مسعود کو بڑا رواج ملا ، پھر ان کے بعد فقہ ابرا ہیم نخعی ، فقہ سعید بن مسیب، فقہ عکرمہ، اور فقہ سعید بن جبیر ﷭ نے ایک خاص مقام بنالیا، لیکن اس کے باوجود ہم ہرگز یہ نہیں کہہ سکتے کہ شریعت کا سارا علم کسی ایک صحابی میں جمع ہوگیا۔

جب کسی ایک صحابی میں دین کا سارا علم جمع نہیں ہوسکتا تو پھر کیسے یہ ممکن ہے کہ کسی ایک امام کی فقہ میں سارا دین اور ساری شریعت جمع ہو جائے ، اس کائنات میں صرف اور صرف ایک ہی ہستی ہے جن کی ذات شریفہ میں سارا علم، سارا دین اور ساری شریعت جمع تھی اور وہ رسول اکرمﷺ کی ذات ہے، جن کی اتباع اور اطاعت ہرمسلمان پر فرض ہے۔ علماء اور ائمہ کرام کی اطاعت رسول اکرمﷺ کی اطاعت پر موقوف ومنحصر ہے، اگر ان کا قول آپﷺ کے قول کے مطابق ہے تو سر آنکھوں پر، ورنہ انہیں معذور سمجھ کر چھوڑ دیا جائے گا۔

اور اسی پر ائمہ کرام ﷭ نے اپنی حیات مبارکہ میں عمل کیا۔

٭ حضرت امام ابوحنیفہ ﷫ کے دو عظیم شاگردوں امام ابو یوسف﷫ اور امام محمد بن حسن الشیبانی ﷫ نے (جن کی فقہ پر ہی فقہ حنفی کا اکثر و بیشتر دارومدار ہے) اپنے استاد محترم سے دوثلث یعنی 66 فیصد مسائل میں اختلاف فرمایا۔

٭ امام شافعی ﷫ امام مالک ﷫ کے شاگرد ہونے کے باوجود سینکڑوں مسائل میں ان سے الگ رائے رکھتے تھے۔

٭ امام مسلم﷫ اپنے شیخ امیر المومنین فی الحدیث سیدنا امام بخاری ﷫ کے شاگرد ہونے کے باوجود معنعن روایتوں کے متعلق ان کا اپنا ایک نظر یہ تھا جو امام بخاری﷫ سے مختلف تھا۔

علماء اور ائمہ کرام کا احترام امت پر واجب ہے:

علماء اور ائمہ کرام ﷭ کے باہمی اختلاف، اور ان کے فتاوی میں خطا و نسیان کے امکان کے باوجود امت پر علماء اور ائمہ کرام کا احترام واجب شرعی ہے، ہم ان کا احترام کیوں نہ کریں جب کہ انہی کے واسطے سے ہمیں دین ملا، امت تک ایمان و اسلام کو پہنچانے کا ذریعہ بنے اور ان کے علم عمل سے امت فائدہ اٹھاتی چلی آرہی ہے اور قیامت تک اٹھاتی رہے گی، پیغمبر اسلام نے تو ہمیں سن رسیدہ بزرگوں کا بھی احترام کرنے کا حکم دیا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ نبوی ﷺ ہے:

«مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا» (سنن أبو داؤد: 4943)

’’وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کیا، اور بڑوں کا احترام نہیں کیا۔‘‘

«إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللَّهِ إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ، وَحَامِلِ الْقُرْآنِ غَيْرِ الْغَالِي فِيهِ وَالْجَافِي عَنْهُ، وَإِكْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ» (سنن أبو داؤد: 4843)

’’سفید ریش مسلمان ، حامل قرآن (یعنی ایسا صاحب علم جو اس میں غلو یا خلو کا شکار نہ ہو ) اور انصاف پسند بادشاہ کا احترام بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم اور اس کی بزرگی و برتر کی میں داخل ہے۔‘‘

اہل علم ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کرتے رہے ہیں:

1۔ اسلاف کرام ہمیشہ علماء اور ائمہ کرام کا بے حد ادب و احترام کرتے رہے ہیں ، حبر الامت سیدنا عبد اللہ بن عباس اپنی جلالت شان کے با و جو سیدنا زید بن ثابت انصاری کی سواری کی رکاب تھامے ہوئے چلتے اور فرماتے:

“هكذا أمرنا أن نفعل بعلمائنا”

’’ہمیں اسی طرح اپنے علماء کا احترام کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اس کے جواب میں سیدنا زید بن ثابت انصاری سیدنا عبد اللہ بن عباس کے ہاتھ کو چوم کر فرماتے:

“هكذا نفعل بابن عم رسولنا.”

’’ کہ ہم اپنے رسول اکرمﷺ کے چچیرے بھائی کی تو قیر اسی طرح کرتے ہیں۔‘‘

2۔ امام احمد بن حنبل ﷫ اپنے استاذ خلف الاحمر﷫ کے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھتے اور فرماتے :

“لا أقعد إلا بين يديك، أمرنا أن نتواضع لمن نتعلم منه.”

’’میں اس طرح دو زانو ہو کر آپ کے ہی سامنے بیٹھوں گا ، کیونکہ میں حکم دیا گیا ہے کہ جن سے ہم نے علم حاصل کیا ان سے انکساری سے پیش آئیں۔‘‘ (تربیۃ الاولاد فی الاسلام شیخ عبداللہ ناصح علوان: 401)

3۔ امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری ﷫، امام مسلم ﷫ کے استاد محترم تھے، جب آپ نیشا پور پہنچے تو امام مسلم ﷫ نے امراء ورؤساء اور علمائے شہر کے ساتھ باہر نکل کر آپ کا پرتپاک والہانہ استقبال کیا اور فرط عقیدت سے فرمایا :

“دعني أقبل رجلك.”

’’اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں آپ کے قدم چوم لوں ۔‘‘ ( اختلاف کے باوجود: از علامہ شبلی نعمانی، مطبوعہ: الجمعیت دہلی فائل 14 مئی 1972ء)

4۔ امام شافعی ﷫ فرماتے ہیں:

’’میں امام مالک﷫ کے سامنے پرانی کتاب کے پرانے صفحے آہستگی سے الٹتا تھا، اس ڈر سے کہ اس کی آواز امام مالک ﷫ نہ سن لیں۔‘‘

5۔ امام ربیع ﷫ فرماتے ہیں:

’’اللہ کی قسم! مجھ پر امام شافعی﷫ کی ہیبت کا عالم یہ تھا کہ ان کی موجودگی میں، میں پانی پینے کی جسارت نہیں کر سکتا تھا۔‘‘

6۔ امام احمد بن حنبل ﷫ نے امام شافعی ﷫ کے فرزند عبداللہ سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’آپ کے والد میرے ان محسنین میں سے ہیں ، ہر دن نماز تہجد میں جن کا نام لے کر میں دعا کرتا ہوں۔‘‘

علماء اور ائمہ کرام کی گستاخی کے بھیا نک نتائج:

حافظ ابن عساکر ﷫فرماتے ہیں:

“العم يا أخي! إن لحوم العلماء مسمومة، وعادة الله في هتك منتقصيهم معلومة، وإن من أطلق لسانه في العلماء بالثلب بلاه الله قبل موته بموت القلب.”

’’اے میرے بھائی! یہ بات اچھی طرح جان لو کہ علماء کے گوشت زہریلے ہوتے ہیں اور ان لوگوں کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا دستور سبھی جانتے ہیں، جو شخص اپنی زبان سے علمائے کرام کو تکلیف پہنچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی موت سے پہلے اس کے دل کو مردہ کر دیتے ہیں۔‘‘

1۔ ایک خراسانی نوجوان دمشق کی جامع مسجد میں مصراة (وہ جانور جسے دیکھنے سے پہلے دو چار دن تک اس کا دودھ نہ دوھا جائے ، تاکہ خریدارا سے زیادہ دودھ دینے والا جانور سمجھ کر خرید لے ) کے لیے دلیل طلب کرنے آیا ، جب اسے سیدنا ابو ہریرہ سے مروی حدیث سنائی گئی تو کہنے لگا کہ مجھے ابو ہریرہ کی حدیث نہ سناؤ، میں انہیں فقیہ نہیں مانتا، اتنے میں مسجد کی چھت سے ایک از دها گرا اور اس نوجوان کو دوڑانے لگا، لوگوں نے اس سے کہا: یہ سانپ نہیں ، اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے، فوراً توبہ کرلے، جب اس نے توبہ کی تو وہ سانپ بھی غائب ہوگیا۔

2۔ عبدالعزیز مکی کہتے ہیں :

’’میں احمد بن ابی داؤد (فتنہ خلق قرآن کے بانی ) کے پاس گیا ، وہ بستر پر بے حس و حرکت پڑا تھا، میں نے اس سے کہا: میں تیری عبادت کے لیے نہیں بلکہ تجھے دیکھ کر الله کا شکر کرنے کے لیے آیا ہوں کہ اس نے تجھے کس طرح سے تیرے اپنے ہی جسم کے اندر قید کر دیا ہے۔ ‘‘ (مناقب احمد بن حنبل)

3۔ ابو بکر شہروزی کہتے ہیں :

’’میں نے ابوذر کو شہر زور میں دیکھا کہ برص کی وجہ سے اس کا سارا جسم سفید ہو گیا تھا اور اس بیماری کی وجہ سے لوگوں سے کٹا ہوا تھا۔‘‘

یہ وہ شخص تھا جس نے معتصم کے حکم پر امام احمد بن حنبل ﷫پر کوڑے برسائے تھے۔

4۔ عمران بن موسیٰ کہتے ہیں :

’’میں ابو العروق کے پاس گیا، یہ وہ شخص تھا جس نے امام احمد بن حنبل﷫ کو کوڑے مارے تھے ، میں نے دیکھا کہ وہ 45 دن تک کتے کی طرح بھو کتے بھونکتے مر گیا ۔ (ابن عساکر)

یہ تو ان لوگوں کا انجام رہا جو ائمہ کرام پر ظلم وستم میں شریک رہے بلکہ وہ لوگ بھی عذاب الٰہی سے بچ نہیں سکے جنہوں نے علماء اور ان کی شان میں گستاخی کی یا ان کی مصائب ومحن پرخوش ہوئے۔

5۔ – محمد بن علی طوسی کہتے ہیں:

’’خالد بن خداش نے میرے والد کو ایک خط کے ذریعہ اس دن کے واقعے کی خبر دی جس دن کہ امام احمد بن حنبل﷫ کو درے مارے گئے، یہ خبر سن کر ایک شخص نماز شکرانہ ادا کرنے کے لیے مسجد میں گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے سینے تک زمین میں دھنسا دیا، اس کی چیخ و پکار پرلوگ جمع ہوئے اور اسے کھینچ کر باہر نکالا ۔‘‘ (ابن عساکر)

6۔ محمد بن فضیل کہتے ہیں:

’’ایک مرتبہ میری زبان سے امام احمد بن حنبل﷫ کی شان میں نازیبا الفاظ نکل گئے۔ اس کے ساتھ ہی میری زبان میں ایسا سخت درد شروع ہوا کہ چین وقرار ہی نہ آیا، اسی دوران میری آنکھ لگ گئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص مجھ سے کہہ رہا تھا کہ تمہاری زبان میں یہ درد اس لیے ہے کہ تم نے اپنی زبان سے ایک نیک آدمی کے شان میں گستاخی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں بیدار ہوا اور اللہ کی جناب میں تو بہ کرتا رہا یہاں تک کہ دور ختم ہوگیا۔ ‘‘ (مناقب احمد بن حنبل)

اب ایک آخری گزارش ان نوجوانوں سے بھی ہے جنھوں نے جدید ذرائع ابلاغ، مثلاً

ٹی وی، کیبل چینلس ، انٹرنیٹ ، گوگل، فیس بک، ٹویٹر اور واٹس اپ وغیرہ کو اپنے اساتذہ اور شیوخ بنائے ہوئے اور ان ذرائع سے حاصل ہونے والے علم کو علم کی معراج سمجھے ہوئے ہیں، اور اس کی وجہ سے وہ علمائے کرام کے گستاخ اور ان کی شان میں بدتمیزیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ وہ علمائے کرام بالخصوص عمر دراز شیوخ کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کریں، ان سے دروس کے ذریعہ علم حاصل کریں، ان کی خدمت کریں اور ان کا احترام پیش نظر رکھیں اور اپنے طور پرفتوے صادر کرنے سے کلی طور پر پرہیز کریں۔ اس لیے کہ علم علمائے کرام سے ملتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں:

“لا يزال الناس بخير ما أتاهم العلم من علماء هم وكبرائهم وذوي أسنانهم، فإذا أتاهم العلم عن صغارهم وسفهاء هم فقد هلكوا. ” (رواه الطبرانی فی الکبیر والأوسط، وأبونعیم فی حلية الأولياء)

’’لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک کہ علم، ان کے پاس ، ان کے علماء، اکابرین اور عمر دراز بزرگوں سے آتا رہے لیکن جب یہ انہیں نَوعمر لوگوں سے اور نادانوں سے آنا شروع ہو جائے تو وہ پھر برباد ہو جائیں گے۔‘‘

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ

وہ تمام مسلمانوں کو ائمہ اور علمائے کرام کا حقیقی احترام کرنے کی توفیق عطا کرے اور ان کی شان میں غلو یا گستاخی سے محفوظ ومامون رکھے ۔ آمین

٭٭٭

امام شافعی ﷫

’’اے اللہ!تو نے مجھے اسلام کی دولت سے نوازا حالانکہ میں نے اس کومانگا بھی نہیں تھا۔اے اللہ!مجھے جنت الفردوس عطا کرنا،جب کہ اب میں تجھ سے مانگ بھی رہا ہوں‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں