توکل معنی ومفہوم۔ سید خرم حسین جامعی

بندہ مختلف شکلوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت انجام دیتا ہے، جن میں بدنی، مالی اور زبانی عبادات کے ساتھ ساتھ قلبی عبادات بھی داخل ہیں اور ان قلبی عبادات میں محبت، خوف وخشیت اور رجاء ورغبت کی طرح توکل بھی شامل ہے ۔

امام ابن قیم ﷫نے فرمایا کہ حقیقی توکل دلی توحید ہے، اسی لیے جس قدر توحید خالص ہوگی اسی قدر توکل صحیح ہوگا اور جب کبھی بندے کی توجہ غیر اللہ پر ہوگی اور غیر اللہ کا دل میں مقام بننے لگے گا تو توکل میں کمی آنے لگے گی۔ (مدارج السالکین بین منازل إیاک نعبد وإیاک نستعین‘ فصل منزلۃ التوکل‘ فصل الدرجۃ الثالثۃ رسوخ)

استاذ محترم ڈاکٹر عبد الرزاق البدرنے فرمایاکہ اللہ ہی پر توکل کرنا دین کا ایک اٹوٹ حصہ، عظیم فریضہ اور اہم ترین بلکہ جامع عبادت ہے، جو بہت سارے خیر کے کاموں کا سبب بنتی ہے، اسی لیے دینی ودنیوی امور میں دلی اعتماد جب کبھی اللہ پر ہوتا ہے تو اللہ کے ساتھ تعلق،اس پر یقین اور بھروسہ بڑا مضبوط ہو جاتا ہے۔ (التوکل علی اللہ ، مقال محمل علی الموقع الرسمي لد عبد الرزاق البدر)

بعض اہل علم نے کہا کہ حالات کی درستي کا راز اللہ پر توکل کرنے میں ہے، کیونكہ ساری کائنات اللہ ہی کی محتاج ہے۔(حقیقۃ التوکل للدکتور ریاض المسیمیری، مقال محمل علی موقع صید الفوائد)

توکل کا لغوی وشرعی معنیٰ

کسی کام میں کمزور پڑنا، بے بسی ظاہر کرنا اور دوسروں پر اعتماد کرنا لغت میں توکل کرنا کہلاتاہے، (معجم مقاییس اللغۃ ، کتاب الواو، وکل)لیکن اس کی شرعی تعریف کے متعلق اہل علم کے متعدد اقوال ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں:

امام حسن بصری﷫نے فرمایاکہ

’’اپنے رب پربندے کا توکل کرنا یہ ہے کہ بندہ جان لے کہ اسے اللہ ہی پر بھروسہ کرناہے۔‘‘ (الحث علی التجارۃ والصناعۃ لأبي بکر الخلال: اثر نمبر، 123)

امام احمد﷫نے فرمایا کہ

’’توکل (صرف زبانی وجسمانی کام نہیں بلکہ) دل سے تعلق رکھنے والا کا م ہے۔‘‘

امام یحیی بن معاذ﷫نے فرمایاکہ

’’اپنے معاملات رضامندی کے ساتھ اللہ کے سپرد کردینا توکل ہے۔‘‘

امام عبد القاہر جرجانی﷫نے فرمایاکہ

’’توکل اللہ کے یہاں (موجوده انعامات وثواب ) پر بھروسہ کرنا اور جو لوگوں کے پاس ہے اس سے نا امید رہنے کا نام ہے۔‘‘ (التعریفات، باب التاء)

امام ابن رجب﷫ نے فرمایاکہ

’’توکل کی حقیقت یہ ہے کہ دنیوی واخروی امور میں فائدہ حاصل کرنے یا نقصان سے بچنے کے لیے دل سچائی کے ساتھ اللہ پر اعتماد کرے۔‘‘ (جامع العلوم والحکم، الحدیث التاسع والأربعون)

امام ابن تیمیہ﷫نے فرمایاکہ

’’توکل وہ ہے جس میں توحید ، عقل اور شریعت کے تقاضے جمع ہوں اور بندے کا اپنے مقصود کو پانے کا ذریعہ کبھی توکل کہلاتا ہے۔‘‘ (مجموع الفتاوی: 10؍20، 35)

امام ابن قیم﷫نے فرمایاکہ

’’دین استعانت اور عبادت کا نام ہے اور استعانت توکل ہے، لہٰذا اس اعتبار سے توکل نصف دین ہے۔‘‘

کبھی فرمایاکہ

’’توکل کے لیے دو اصول ضروری ہیں، دل کا علم اور دل کا عمل اور دل کا علم یہ ہے کہ بندہ یقین رکھے کہ اللہ اس کے لیے کافی ہے، جس کا کوئی بدل نہیں اور دل کا عمل یہ ہے کہ اسے اللہ سے سکون واطمینان حاصل ہو، اپنے آپ کو اس کے سپرد کردے اور اس کے فیصلوں سے راضی ہو جائے۔ (طریق الہجرتین وباب السعادتین‘ فصل في تقسیم الناس من حیث القوۃ العلمیۃ والعملیۃ)

کبھی فرمایاکہ

’’توکل چند امور سے ملی جلی حالت وکیفیت کا مجموعہ ہے، جن کے بغیر اس کی حقیقت پوری نہیں ہوسکتی، سب سے پہلے اللہ کی قدرت ، قیومیت اور مشیت کی معرفت، پھر اسباب ومسببات کی طرف توجہ دینا، ساتھ ہی ساتھ دل میں اس کیفیت کا راسخ ہونا، اللہ سے حسن ظن رکھنا، دل کا اس کے تابع ہونا بلکہ اپنے آپ کو اس کے حوالے کردینا۔ ‘‘ (مدارج السالکین بین منازل إیاک نعبد وإیاک نستعین، فصل منزلۃ التوکل) (بعض نے ان باتوں کو توکل کے سات درجات سے تعبیر کیا ہے۔)

امام حافظ حکمی﷫نے فرمایا کہ

’’دل کا اللہ پر اعتماد کرنا، اس پر بھروسہ رکھنا اور اسے اپنے لیے کافی سمجھنا توکل ہے۔‘‘ (معارج القبول بشرح سلم الوصول، الفصل الثالث، ومن انواعہا التوکل علی اللہ )

استاذ محترم ڈاکٹر عبد الرزاق البدرنے فرمایاکہ

’’حقیقی توکل دلی طور پر اللہ کی بندگی اور اس کے فیصلوں سے رضامندی کا اظہار کرنا ہے ، جس میں جائز اسباب کا اختیار کرنا اور غیر شرعی راستے پر چلنے سے بچنا بھی داخل ہے۔(التوکل علی اللہ ، مقال محمل علی الموقع الرسمي لد عبد الرزاق البدر)

کسی نے کہا کہ اللہ پر بھروسہ کرنا،اطمینان رکھنا اور اس سے سکون حاصل کرنا توکل ہے۔

کسی نے کہا کہ ہر حال میں اللہ سے وابستہ رہنا توکل ہے۔

کسی نے کہا کہ قضا وقدر کو تسلیم کرلینا توکل ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں مدارج السالکین بین منازل إیاک نعبد وإیاک نستعین، فصل منزلۃ التوکل، فصل معنی التوکل، وشرح ثلاثۃ الأصول للفوزان، الأصل الأول، التوکل ودلیلہ)

توکل کے صحیح معنیٰ کو سمجھنے کے لیے محدثین کی تبویبات بھی معاون ثابت ہوسکتی ہیں، مثال کے طور پر :

امام ابن المبارک﷫نے اپنی کتاب الزہد والرقائق میں باب باندھا باب التوکل والتواضع یعنی توكل اور تواضع كا بيان۔

امام ابن ماجہ﷫ نے اپنی سنن میں باب باندھا باب التوکل والیقین یعنی توكل اور يقين كا بيان۔

امام ابن حبان﷫نے اپنی صحیح میں باب باندھا باب الورع والتوکل یعنی تقوی اور توكل كا بيان۔

امام بیہقی ﷫نے اپنی کتاب شعب الإیمان میں باب باندھا التوکل باللہ عز وجل والتسلیم لأمرہ تعالى فی کل شيء یعنی ہر شئے میں الله تعالیٰ کے حكم كی تابع داری اور الله عز وجل پر توكل كا بيان۔

توکل اور اسباب کا اختیار کرنا

گزشتہ موضوع میں توکل کے بیان کردہ معنیٰ سے پتا چلا کہ اسباب کا اختیار کرنا توکل کا ایک حصہ اور لازمہ ہے، لیکن اس کے باوجود اسباب اختیار کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے لوگوں کی چار قسمیں ہیں :

1۔ ایسے لوگ جو مسبب الاسباب (اسباب بنانے والی ذات یعنی اللہ تعالیٰ) کو بالکل فراموش کردیتے ہیں، صرف اسباب پر نظر رکھتے ہیں، اور ان ہی پر اعتماد بھی کرتے ہیں، جب کہ ایسا کرنا باطل بلکہ قرآن وحدیث اور اجماع کے خلاف عمل ہے، جو شرک کا سبب بنتا ہے۔

2۔ ایسے افراد جنہوں نے اسباب سے بالکل منہ موڑ لیا اور اسباب ترک کرنے کو توحید سمجھا، جیسا کہ اکثر صوفیہ کا نظریہ ہے۔

3۔ جنہوں نے اسباب کی تاثیر کا سرے سے انکار کیا ، اور جو انسان کو مجبور محض مانا، جب کہ یہ دونوں قسمیں بھی کتاب وسنت کے مخالف ہیں۔

4۔ اہل سنت وجماعت جن کا یہ عقیدہ ہے کہ جائز اسباب اختیار کرنے چاہیے ، لیکن اسباب پر نہیں بلکہ مسبب الاسباب پر اعتمادہونا چاہیے، جیسا کہ انبیاء وصحابہ نے اللہ پر توکل کیا اور جائز اسباب بھی اختیار کیے ، جس کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ سیدنا یعقوب نے اللہ پر توکل کیا اور اسی پر توکل کرنے کی تلقین بھی کی ، لیکن اس سے پہلے تدبیر کرنے اور اسباب اختیار کرنے کے طور پر بیٹوں سے فرمایا کہ تم ایک دروازے سے مت داخل ہو، بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہو۔(سورۂ یوسف :67)

2۔ سیدنا داود کے لیے لوہا نرم کردیا گیا تھا ، جس سے وہ جنگی لباس اور لوہے کی زرہیں تیار کیا کرتے تھے۔(سورۃ الأنبیاء: 80)

3۔ سیدنا ایوب کوزمین پر پیر مارنے کا حکم دیاگیا تاکہ اس سے چشمہ جاری ہوجائے ۔(سورہ ص :42)

4۔ سیدنا موسیٰ کو عصا کے ذریعے پتھر پر مارنے کا حکم دیا گیا، جس کی وجہ سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ (سورۃ البقرۃ:60)

5۔ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے دوران رہبر سے مدد لی، اہل وعیال کے لیے سال بھر کا غلہ اور اناج ذخیرہ کیا، میدان کارزار میں زرہ پہنی، ہتھیار کا استعمال کیا، حکم الٰہی کے پیش نظر صحابہ سے مشورہ کیا، تین دن غار میں روپوش رہے، اونٹ کو باندھ کر توکل کرنے کاحکم دیا، بے بس ہونے سے منع کیا اور اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے فائدہ مند اشیاء کو اختیار کرنے کی ہدایت کی، کما حقہ توکل کرنے کے لیے ایسے پرندوں کی مثال دی جو اپنے گھونسلے سے صبح سویرے نکلتے ہیں اور شام کو واپس لوٹتے ہیں اور سیدنا معاذ کو منع کیا کہ لوگوں کو خوش خبری نہ دیں کیوں كہ وہ غلط فہمی کی بنا پر عمل نہیں کریں گے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا ، مثال کے طور پر:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے بچاؤ کا سامان لے لو۔‘‘ (سورۃ النساء:71)

تم ان کے مقابلے کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو۔ (سورۃ الأنفال:60)

پھر جب نماز ہوچکی تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ (سورۃ الجمعۃ:10)

تم اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، اور سب سے بہتر توشہ تقوی ہے۔ (سورۃ البقرۃ: 194)

جو پاکیزہ غنیمت تم نے حاصل کی ہے اسے کھاؤ۔ (سورۃ الأنفال: 69)

اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، یہ آپ کے سامنے ترو تازہ پکی کھجوریں گرادے گا۔ (سورۂ مریم: 25)

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا، تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اس (اللہ) کی روزیاں کھاؤ اور اسی کی طرف اٹھ کھڑا ہونا ہے۔ (سورۃ الملک:15)

علاوہ ازیں اللہ نے اپنی عبادت(سورہ ہود: 123)

اور اپنا تقوی(سورۃ الطلاق: 2-3) اختیار کرنے کا پابند بنانے کے ساتھ ساتھ توکل کرنے کا حکم دیا ، واضح رہے کہ عبادت کرنا اور تقوی اختیار کرنا در اصل اسباب اختیار کرنا ہے۔(زاد المعاد في ہدي خیر العباد ، فصل في ہدیہ ﷺ في الہدایا…، التوکل)

صحابہ کی سوانح حیات سے پتا چلتا ہے کہ مہاجر صحابہ تجارت پیشہ تھے اور انصار صحابہ زراعت پیشہ تھے ، جو اسباب اختیار کرنے کا کھلا ثبوت ہے۔

سیدنا عمر نے یمن کے بعض لوگوں سے ملاقات کی اور پوچھا کہ تم کون ہو ؟ جواب ملا کہ ہم متوکلین ہیں ، تو فرمایابلکہ تم متکلین (محنت کیے بغیر تکیہ کرنے والے) ہو، کیونکہ متوکل تو وہ ہوتا ہے جو زمین میں بیج بوتا ہے اور اللہ پر توکل کرتا ہے۔(التوکل علی اللہ لابن أبي الدنیا)

امام ابن رجب﷫ نے فرمایا کہ توکل کرنا اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں، کیونکہ اللہ پنے توکل کرنے کے ساتھ اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا، اسی لیے اسباب اختیار کرنے کی کوشش کرنا اس کی اطاعت کرنی ہے اور دل سے اس پر توکل کرنا اس پر ایمان رکھنا ہے، لہٰذا جس نے اسباب اختیار کرنے پر اعتراض کیا اس نے سنت کی پیروی کرنے پر اعتر اض کیا اور جس نے توکل کرنے پر اعتراض کیا تو اس نے ایمان رکھنے پر اعتراض کیا، کیونکہ توکل کرنا نبی ﷺ کا معمول تھا اور اسباب كا اختیار کرنا سنت تھی ، بنا بریں جو معمول پر عمل کرنے والا ہو اسے سنت ہر گز نہیں چھوڑنی چاہیے۔(جامع العلوم والحکم، الحدیث التاسع والأربعون)

امام ابن تیمیہ﷫ نے فرمایاکہ ’’جس کا یہ ماننا ہے کہ توکل کے لیے اسباب کا اختیار کرنا ضروری نہیں تو وہ گم راہ ہے۔‘‘(مجموع الفتاوی: 8؍528)

امام ابن قیم﷫نے فرمایا کہ

’’جس نے اسباب اختیار کرنے کا انکار کیا تو اس کا توکل درست نہیں اور کامل توکل میں یہ بھی داخل ہے کہ اسباب کی طرف(مکمل طور پر) مائل نہ ہو۔۔۔ اسباب کا اختیار کرنا اللہ کی حکمت اور اس کے دین کا ایک حکم ہے اور توکل اس کی ربوبیت اور اس کی قضا وقدر سے متعلق ہے، لہٰذا اسباب اختیار کیے بغیر توکل نہیں کیا جاسکتا اور توکل اختیار کیے بغیر عبادت نہیں کی جاسکتی۔(مدارج السالکین بین منازل إیاک نعبد وإیاک نستعین، فصل منزلۃ التوکل)

مزید فرمایاکہ اللہ پر اعتماد نہ کرنا اور اسباب کا اختیار نہ کرنا، یا اسباب اختیار کیے بغیر اعتماد کرنا توکل نہیں بلکہ عاجزی اور بے بسی ہے۔ (الروح، فصل والفرق بین التوکل والعجز)

امام ابن کثیر﷫نے فرمایاکہ

’’اسباب کا اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے جہاں پرندوں کے لیے اللہ پر توکل کرنا ثابت کیا وہیں رزق کی تلاش میں ان کا صبح میں نکلنا بھی ثابت کیا، اسی لیے اللہ عز وجل ہی مسخر ، (قابو میں کرنے والا) مسیر، (کائنات کا نظام چلانے والا) اور مسبب (اسباب فراہم کرنے والا) ہے۔ ‘‘

(تفسیر ابن کثیر، تفسیر سورۃ الملک:15)

اسباب کا اختیار کرنا جہاں توکل میں داخل ہے ، وہیں توکل کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اسباب پر تکیہ نہ کیا جائے ، کیونکہ اگر مسبب الاسباب کے بغیر اسباب ہی اثر انداز ہوتے تو آگ سیدنا ابراہیم کو جلادیتی، سیدنا اسماعیل پر پھیری گئی چھری سے جان نکل جاتی اور دوا لینے والا کوئی بھی مریض نہیں مرتا بلکہ سب کے سب زندہ رہتے۔

٭٭٭

علامہ حافظ ابن قيم ﷫ نے فرمایا :

’’لوگ جہنم میں تین دروازوں سے داخل ہوں گے:

 شبہات کا دروازہ جس نے اللہ کے دین میں شک پیدا کردیا۔

 شہوات کا دروازہ جس نے فرمانبرداری کے مقابلے میں ہوائے نفس پیدا کیا.

 غصہ اور انا کا دروازہ جس نے مخلوق پر زیادتی کو پیدا کیا۔

(كتاب الفوائد: ص 58)

تبصرہ کریں