ترجمہ خطبۂ حج 2022ء۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، جو علم اور خبر رکھنے والا ہے، وہ آپ کے ظاہر کو بھی جانتا ہے اور آپ کے رازوں سے بھی واقف ہے، جو تم ظاہر کرتے ہو، اس پر بھی نظر رکھتا ہے اور جو چھپاتے ہو، اس پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔

﴿وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ ۖ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ﴾ (سورة الأنعام: 2)

’’وہی ایک اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی، تمہارے کھلے اور چھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بھلائی تم کماتے ہو اس سے خوب واقف ہے۔‘‘

﴿وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ﴾ (سورۃ الأنعام: 59)

’’اُسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا بحر و بر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے درخت سے گرنے والا کوئی پتا ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو خشک و ترسب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے‘‘

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، وہ رازوں کو بھی جانتا ہے اور اس سے بھی زیادہ پوشیدہ چیزوں سے واقف ہے۔ زمین وآسمان کی کوئی چیز بھی اس سے چھپی نہیں ہے۔

﴿إِنَّمَا إِلَٰهُكُمُ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا﴾ (سورۃ طہ : 98)

’’لوگو، تمہارا اللہ تو بس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے، ہر چیز پر اُس کا علم حاوی ہے‘‘

میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کو مخاطب کرتے فرمایا:

﴿وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا﴾

’’آپ کو وہ کچھ بتایا ہے جو آپ کو معلوم نہ تھا اور اس کا فضل آپ پر بہت عظیم ہے۔‘‘(سورۃ النساء: 113)

اللہ کی رحمتیں اور بہت سلامتیاں ہوں آپﷺ پر، آپﷺ کی آل پر اور آپﷺ کے پیروکاروں پر۔

بعد ازاں! اے حجاج بیت اللہ! اے ہر جگہ رہنے والے مسلمانو!

پرہیزگاری اختیار کرو، اللہ سے ڈرو گے تو دنیا وآخرت کی کامیاب سعادت کما لو گے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوْاْ لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ﴾( البقرة: 103)

’’اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے، تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا، وہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا، کاش اُنہیں خبر ہوتی۔‘‘اسی طرح فرمایا:

﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ﴾ (سورۃ البقرة: 194)

’’البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ انہیں لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔‘‘

اسی طرح فرمایا:﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾ (سورة البقرة: 231)

’’اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔‘‘

ہم بھلا اللہ سے کیوں نہ ڈریں، اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کیوں نہ کریں، جب کہ نفع ونقصان کا مالک وہی ہے، اس کا فرمان ہے:

﴿وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ (سورۃ يونس: 108)

’’اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سوا کوئی نہیں جو اس مصیبت کو ٹال دے، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے تقوی کو تعلیم کے ساتھ ملاتے ہوئے فرمایا:

﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾ (سورۃ البقرة: 282)

’’اللہ کے غضب سے بچو وہ تم کو صحیح طریق عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے‘‘

پرہیزگاری کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس توحید کی طرف نے بلایا ہے، ہم اسے اپنا لیں، صرف اسی کی عبادت کریں، عبادت کی کسی بھی شکل کو کسی اور کے لئے ادا نہ کریں، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ *‏ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ (سورة البقرة: 21-22)

’’لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع اِسی صورت ہوسکتی ہے * وہی تو ہے جِس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے رزق بہم پہنچایا پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھیراؤ۔‘‘

تمام انبیاء ﷩ نے بھی اسی چیز کی دعوت دی تھی۔ سیدنا ابراہیم نے کہا تھا:

﴿اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ ۖ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ (سورة العنكبوت: 16)

’’اللہ کی بندگی کرو اور اُس سے ڈرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔‘‘

اللہ تعالی نے آسمان سے کتابیں نازل کیں، رسولوں اور نبیوں کو بھی بھیجا، تاکہ وہ اپنی قوموں کو تعلیم دیں اور توحید کی تلقین کریں اور صرف اللہ تبارک و تعالی کی عبادت کرنے کا کہیں۔ اسی لئے ہر نبی اپنی قوم کو یہی کہتا تھا کہ:

﴿اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ﴾ (سورة الأعراف: 65)

’’اے برادران قو م، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں ہے پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کرو گے؟‘‘

اس آیت سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ توحید کے ساتھ صرف اللہ تبارک و تعالی کی عبادت کرنا ہی لا الہ الا اللہ کا حقیقی تقاضا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَقَالَ اللَّهُ لَا تَتَّخِذُوا إِلَٰهَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ *‏ وَلَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا ۚ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَتَّقُونَ *‏ وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ ‎ لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾

’’اللہ کا فرمان ہے کہ دو الہ نہ بنا لو، الہ تو بس ایک ہی ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو * اُسی کا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور خالصاً اُسی کا دین چل رہا ہے پھر کیا اللہ کو چھوڑ کر تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے؟ * تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اُسی کی طرف دوڑتے ہومگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکا یک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے تاکہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے اچھا، مزے کر لو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔‘‘ (سورة النحل: 51-53)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کے توحید کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور نبی کریم ﷺ کی فرماں برداری کرنا اللہ تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی کا طریقہ اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔

نبی ﷺ پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی باتوں کو سچ تسلیم کیا جائے، آپ ﷺ کے احکام کو مانا جائے اور اللہ تبارک و تعالی کی عبادت اسی طریقے کے مطابق کی جائے جو آپ ﷺ لائے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا *‏ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا﴾ (سورة الأحزاب: 56-46)

’’ اے نبی (ﷺ)، ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر * اللہ کی اجازت سے اُس کی طرف دعوت دینے والا بنا کر اور روشن چراغ بنا کر۔‘‘

کلمہ شہادت اسلام کا پہلا رکن ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے واضح ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

«بُنِيَ الإسلامُ على خمسٍ شَهادةِ أن لا إلَهَ إلّا اللَّهُ وأنَّ محمَّدًا رسولُ اللَّهِ وإقامِ الصَّلاةِ وإيتاءِ الزَّكاةِ وصَومِ رمضانَ وحجِّ البيتِ منِ استطاعَ إليهِ سبيلًا» (صحيح بخاری: 8)

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اس گواہی پر کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، نماز ادا کرنے، زکوۃ دینے، روزہ رکھنے اور جس کے لئے ممکن ہو حج بیت اللہ کرنے پر۔‘‘

اسلام کا دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ﴾ (سورة العنكبوت: 45)

’’نماز قائم کرو، یقیناً نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔‘‘

زکوۃ کو قرآن کریم میں نماز کے ساتھ ہی ملایا گیا ہے۔ یہ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مالدار لوگ اپنے مال کا کچھ حصہ ان لوگوں کو دے دیں جنہیں زکوٰۃ لینے کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس سے معاشرتی بھائی چارے کا حسین منظر نظر آتا ہے اور مفادِ عامہ کے لیے قربانی کا جذبہ بھی دکھائی دیتا ہے۔

اسلام کا ایک رکن رمضان کے روزے رکھنا بھی ہے اور آخری رکن حج بیت اللہ ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:

﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ (سورة آل عمران: 97)

’’لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے‘‘

اے حجاج کرام! اللہ تعالی نے آپ پر بہت احسان فرمایا ہے، آپ کے لیے یہاں پہنچنا اور حج میں شریک ہونا آسان کر دیا ہے، تو اپنے حج کو نبی کریم ﷺ کی ہدایات کے عین مطابق ادا کرو۔ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: «خذوا عنِّي مناسِكَكم» (صحيح مسلم: 1297)’’مجھ سے مناسکِ حج سیکھ لو‘‘

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴾

’’حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بد عملی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو اور جو نیک کام تم کرو گے، وہ اللہ کے علم میں ہوگا سفر حج کے لیے زاد راہ ساتھ لے جاؤ، اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے پس اے ہوش مندو! میر ی نا فرمانی سے پرہیز کرو۔‘‘ (سورة البقرة: 197)

نبی کریم ﷺ نے دین کے مراتب بھی بیان کیے۔ پہلا مرتبہ احسان کا ہے اور وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔

ایمان کے ارکان یہ ہیں کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھو۔

تو اے حجاج بیت اللہ! اے ہر جگہ رہنے والے مسلمانو!میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ یہی بہترین زاد راہ ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾ (سورة آل عمران: 133)

’’دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی‘‘

اللہ کے بندو! ذہن نشین کر لو کہ اسلام کی اقدار کو اپنانا بھی نیکی میں مقابلہ کرنے کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ انہیں اپنانے سے ہی مسلمانوں کا رویہ درست ہوتا ہے اور انہی کی بدولت وہ محفوظ رہتے ہیں۔ انہیں اپنانے کی بدولت ہی نبی ﷺ اس مقام و مرتبے تک پہنچے تھے، جس کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ (سورة القلم: 4)

’’اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو‘‘

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«إنَّ مِن أحَبِّكُم إليَّ، وأقْرَبِكُم مِنّي مَجلِسًا يومَ القيامَةِ، أحاسِنُكُم أخلاقًا» (جامع ترمذی: 2018)

’’تم میں سے مجھے وہ لوگ سب سے زیادہ محبوب ہیں اور وہی قیامت کے دن مجھ سے سب سے قریب ہوں گے جو سب سے اچھے اخلاق والے ہیں۔‘‘

آسان الفاظ میں یہ ہے کہ اچھے اخلاق والے لوگوں کا وہ مشترکہ رویہ ہے، جس کی قدر ہر انسان کرتا ہے، چاہے وہ مسلمان ہو یا نہ ہو، کیونکہ یہ قول و عمل میں بہترین رویہ اپنانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾ (سورة البقرة: 83)

’’لوگوں سے بھلی بات کہنا‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ﴾

’’اے نبی (ﷺ)، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔‘‘ (سورة فصلت: 34)

بدسلوکی اور غلط رویوں کا مقابلہ کرنے میں صحیح طریقے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ (سورة الأعراف: 199)

’’ اے نبی (ﷺ)، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ الجھو۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ﴾

’’پس (اے نبی (ﷺ)) صبر کرو، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے۔‘‘(سورة الروم: 60)

یعنی اس بات سے چوکنے رہئے کہ کہیں یہ لوگ آپ کو خواه مخواه کی بحث مباحثے اور اس کے سنگین نتائج کا شکار نہ کر دیں۔

مسلمان اسلام کی مضبوط اقدار کی بنیاد پر ہی ایسی مضبوط شخصیت کا مالک بنتا ہے جو نہ جاہلوں کے منہ لگتا ہے، نہ برے مقاصد والوں کے ساتھ ملتا ہے اور نہ ہی رکاوٹوں سے ڈرتا ہے، بلکہ وہ اللہ تبارک و تعالی کے اس فرمان کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے:

﴿وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ﴾ (القصص: 55)

’’اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہو گئے کہ “ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔‘‘

اسی طرح مسلمان یہ بھی جانتا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ بحث کرنے یا ان کا جواب دینے سے بھی انہیں شہرت ملتی ہے، ان کے منصوبے کامیاب ہوتے ہیں اور انہیں خوشی ملتی ہے۔ بہت سے لوگ تو رد عمل کی بنیاد پر ہی مشہور ہوتے ہیں۔ مگر پھر بھی ان کے فریب سے پردہ اٹھانا چاہیے، زیادتیوں کا راستہ روکنا چاہیے اور یہ ساری چیزیں اسلامی حکمت عملی کے مطابق ہونی چاہییں۔

اے بیت اللہ کے حاجیو! اے مسلمانو!اسلام کی اقدار میں یہ بھی شامل ہے کہ ایسی تمام چیزوں سے بچا جائے جن سے معاشرے میں نفرت،عداوت اور تفرقہ پھیلتا ہو۔ اسلام چاہتا ہے کہ معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ پھیل جائے اور یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب ہم اللہ تبارک وتعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں گے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾

’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘(سورة آل عمران: 103)

وحدت، اخوت اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہی وہ چیزیں ہیں جن کی بدولت امتِ مسلمہ تمام طرح کی مشکلات سے بچ سکتی ہے۔

اسی طرح اسلام اس چیز کا بھی داعی ہے کہ سب کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کیا جائے چاہے انسان ان کے سامنے کسی طرح کا شخص بھی کیوں نہ ہو۔ اسلام ہی اجتماعیت کی روح ہے، جو ساری انسانیت کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ رسول اسلام ﷺ کا بھی فرمان ہے:

«خيرُ الناسِ أنفعُهم للناسِ» (صحيح الجامع: 3289)’’لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جو ان کے لیے سب سے زیادہ مفید ہو۔‘‘

اسلامی شریعت ایسے انسانی حقوق کو لے کر پروان چڑھی کہ جن میں دوہرے معیار نہیں ہیں اور جن کی بنیادیں کبھی تبدیل نہیں ہو سکتیں، اسلام نے سب کے لیے خیر اور بھلائی کو پسند کیا ہے اور لوگوں کے دلوں کو آپس میں جوڑ ا ہے۔

ایسی اقدار کی بدولت اسلام کا نور ساری دنیا میں پھیلا ہے، اسے تاریخ کے ہر دور میں تبلیغ کے لیے ایسے لوگ میسر رہے جنہوں نے اللہ کے ساتھ اپنے وعدے کو سچ کر دکھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہدایت یافتہ پیروکار سامنے آئے، جنہوں نے اسلام کے راستے کو اپنا لیا۔ اسی طرح راسخ اہلِ علم کا بھی تبلیغِ سلام میں بہت بڑا کردار رہا۔ انہوں نے تفہیم و تشریح کی ذمہ داری کو خوب نبھایا، غلط نظریوں اور غیر صحیح افکار کا مقابلہ کیا۔

اے حجاج بیت اللہ! قبولیت کی ایک گھڑی وہ بھی ہے کہ جس میں تم اس وقت ہو۔ رسول اللہ ﷺ عرفات میں خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد اللہ تبارک وتعالی سے دعا مانگنے اور ذکر کرنے کے لئے لیے یہاں رک گئے تھے۔ آپ ﷺ نے ظہر اور عصر کی نمازوں کو جمع اور قصر کے ساتھ، ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ادا کیا، پھر آپ ﷺ غروب آفتاب تک یہیں ٹھہرے۔ پھر پورے اطمینان اور سکون کے ساتھ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوگئے اپنے صحابہ کو بھی سکون و اطمینان کی تلقین کرتے رہے۔ مزدلفہ پہنچ کر آپ ﷺ نے مغرب کی تین رکعتیں اور عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں۔ رات وہیں گزاری اور فجر بھی وہی ادا کی، پھر روشنی پھیلنے تک وہیں پر اللہ کے ذکر میں مصروف رہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے منیٰ کا رخ کیا اور وہاں جمرۃ العقبہ پر سات کنکریاں ماریں۔ پھر اپنے جانور قربان کیے، اپنے بال منڈوا کر جزوی طور پر احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو گئے، پھر آپ ﷺ نے مکہ جا کر طواف کیا اور پھر منی واپس آگئے۔ ایام تشریق کی راتیں آپ ﷺ نے منیٰ میں ہی گزاریں۔ منیٰ میں بھی آپ ﷺ کثرت سے اللہ کو یاد کرتے رہے۔ روزانہ تینوں جمرات پر کنکریاں مارتے رہے۔ چھوٹے اور درمیانی جمرے پر سات سات کنکریاں مارتے، ان دونوں کو کنکریاں مارنے کے بعد کچھ دیر ٹھہر کر اللہ سے دعا کرتے اور پھر جمرة العقبہ پر بھی سات کنکریاں مارتے۔

اہلِ عذر کو نبی ﷺ نے منیٰ میں نہ ٹھہرنے کی اجازت دے دی تھی۔ آپ ﷺ تیرہویں دن تک منیٰ میں رہے مگر لوگوں کو بارہویں دن منیٰ سے رخصت ہونے کی اجازت دے دی۔ پھر سفر پر روانہ ہونے سے پہلے آپ ﷺ نے طواف وداع کیا۔

تواے مسلمانو! اس عظیم موقع سے فائدہ اٹھاؤ۔ عرفات کے دن سے فائدہ اٹھاؤ کہ جس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ (سورة المائدة: 3)

’’آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔‘‘

اور جس کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا:

«مَا مِن يومٍ أَكْثرُ أن يُعْتِقَ اللَّهُ فيهِ عبدًا منَ النّارِ من يومِ عرفةَ، وأنَّهُ ليَدعو، ثمَّ يباهي الملائِكَةَ» (صحيح مسلم: 1348)

’’جہنم سے آزادی کی سب سے زیادہ امید اسی دن ، یعنی عرفات کے دن سے ہی لگائی جاسکتی ہے۔ اس دن اللہ تبارک و تعالی اہل موقف سے قریب آ جاتا ہے اور اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے۔‘‘

تو اس دن میں کثرت سے دعائیں مانگو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے قبولیت کا وعدہ کیا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾

’’تمہارا رب کہتا ہے : مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘(سورة غافر: 60)

اسی طرح فرمایا:

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾ (البقرة: 186)

’’ اور اے نبی (ﷺ)، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سنتا ہوں ۔‘‘

اے اللہ! حجاج کرام سے مناسک حج کی ادائیگی قبول فرما۔ ان کی دعاؤں کو بھی اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرما۔ ان کے معاملات آسان فرما۔ ان کے گناہوں کو بخش دے۔ انہیں سلامتی اور اجر کے ساتھ اپنے گھروں تک لوٹا دے۔ یہ جب اپنے گھروں میں پہنچیں تو ان کے درجات بلند ہو چکے ہوں، ان کے مقام اونچے ہو چکے ہوں۔

﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (البقرة: 201)

’’ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا‘‘

اے اللہ! اللہ مسلمانوں کے احوال درست فرما۔ انہیں اتحاد واتفاق نصیب فرما۔ ان میں علم اور بھلائی کو عام کردے۔ ان کی نسلوں کو نیک بنا۔ انہیں ان کے رزق میں برکت عطا فرما۔ انہیں جنت عطا فرما۔

اے اللہ! خادم حرمین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو کامیاب فرما، انہیں درست راستہ دکھا، ان کی مدد فرما، انہیں اور ان کی حکومت کو اسلام اور مسلمانوں اور ساری انسانیت کی خدمات پر جزائے خیر عطا فرما۔ ان کا ساتھی بن جا، ان کی تائید فرما، ان کی نصرت فرما۔

وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم

تبصرہ کریں