تاریخ وعقائد شیعہ، بیک نظر۔سيد حسين مدنی، حيدرآباد

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه وبعد

تاریخ و عقائد شیعہ بیک نظر

بہت سارےلوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شیعیت حنفی شافعی مالکی اور حنبلی کی طرح ایک مسلک ہے، جب کہ اگر کوئی شیعہ کی کتابوں کا مطالعہ کرے تو اسے پتہ چلے گا کہ وہ ایک مسلک یا فرقہ نہیں بلکہ حقیقی دین اسلام سے مختلف بہت سارے کفریہ وشرکیہ عقائد کا حامل دین ہے۔

شیعیت کی ابتدا

خلیفہ راشد عثمان کی شہادت کے بعد سن 37ہجری میں جنگ صفین کے موقع پر فرقہ خوارج رونما ہوا جس کے مقابل کوفہ سے شیعیت ابھرنے لگی، لیکن پہلے پہل شیعیت کا تصور محض اتنا ہی تھا کہ سیدنا علی کو سیدنا عثمان سے افضل قرار دیا جائے۔

یمن سے تعلق رکھنے والے یہودی عبداللہ بن سبا نے بظاہر اسلام قبول کیا اور سب سے پہلے نبی ﷺ کے بعد سیدنا علی کی خلافت کی وصیت اور اس کے وجوب کو بتایا اور تینوں خلفاے راشدین کو برا بھلا کہنے پر لوگوں کو آمادہ کیا، واضح رہے کہ یہودیت کے یہاں یوشع بن نون کے متعلق یہی نظر یہ ہے کہ وہ سیدنا موسیٰ کے بعد ان کے خلیفہ رہیں گے اور اسی فکر کو ابن سبا نے سیدنا علی کے متعلق عام کرنا شروع کیا۔

شیعہ کے بڑے اور مشہور فرقے

شیعہ کے فرقے تقریبا تین سو سے زیادہ ہیں، لیکن موجودہ دور میں شیعیت کے تین بڑے فرقے ہیں: اسماعیلی زیدی اور اثنا عشری ( بارہ امامی) جو ان تینوں میں سب سے بڑا فرقہ ہے جنہیں رافضہ بھی کہا جا تا ہے۔

شیعہ کی بعض اہم کتابیں

قدیم کتابوں میں محمد بن یعقوب الکلینی (وفات 329 ہجری) کی کتاب الكافي محمد القمی (وفات 381ہجری) کی کتاب من لايحضره الفقيه محمد بن حسن الطوی (وفات 460ہجری) کی کتاب تهذیب الأحکام، اسی مولف کی دوسری کتاب الاستبصارفي ما اختلف من الأخبار ہے اور متاخرین کی کتابوں میں محمد حسن فیض کاشانی (وفات 1091 ہجری) کی کتاب الوافي اور محمد باقر المجلسی (وفات 1111 ہجری) کی کتاب بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار ہے جو110 جلدوں پرمشتمل ہے۔

رافضہ کا موقف یہود و نصاری کے موقف سے زیادہ خطرناک

یہود سے اگر سوال ہو کہ تمہارے دین میں سب سے بہترین طبقہ کون سا ہے تو جواب ہوگا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھیوں کا طبقہ سب سے بہترین ہے، نصاری سے اگر سوال ہو کہ تمہارے دین میں سب سے بہترین طبقہ کون سا ہے، تو جواب ہوگا کہ سیدنا عیسیٰ کے ساتھیوں کا طبقہ سب سے بہترین طبقہ ہے جب کہ رافضہ سے اگر پوچھا جائے کہ تمہارے دین میں سب سے بدترین طبقہ کون سا ہے تو ان کا جواب ہوگا۔ ۔نعوذ باللہ ۔ محمدﷺ کے صحابہ کا طبقہ سب سے بدترین طبقہ ہے، اللہ نے قرآن میں جن کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا، رافضہ نے ان ہی کو برا بھلا بلکہ کافر کہا۔

شیعہ کے بعض تاریخی جرائم

خلیفہ ہارون رشید کے زمانے میں علی بن یقطین نے پانچ سو سے زیادہ سنی قیدیوں پر چھت گرا دی جس کی وجہ سے وہ فورا ً مرگئے۔ خلیفہ معتصم باللہ کے زمانے میں خواجہ نصیرالدین طوسی نے غدر کیا، جس کی وجہ سے بغداد میں لاکھوں سنی مارے گئے آصف خان کی وجہ سے دلی کے سنی نادر شاہ کی موت واقع ہوئی، ملتان اور لكھنؤ میں اس جیسے سانحے پیش آئے اور ماضی قریب میں میر صادق نے ٹیپو سلطان اور میر جعفر نے سراج الدولہ کے ساتھ ایسے ہی غدر کیا اور حال ہی میں انھوں نے مسجد کے بمقابل کفار کی عبادت گاہ تعمیر کرنے کیلئے چاندی کے تیروں کا نذرانہ پیش کیا۔

شیعہ کا ایمان

سیدنا علی زمین کے رب ہیں، ( مرآة الأنوار و مشكاة الأسرار للنباطی: 59) اور زمین کا رب زمین کا امام ہے (تفسير القمی: 2؍253؛ البرهان : 7؍84؛ تفسير الصافی: 4؍331) اور ائمہ پر ایمان لانا عین ایمان ہے۔(مقالات اللاسلامیین و اختلاف المصلین لابی الحسن الاشعری: 1؍125) اور عاشور خانوں پر ان کا کلمہ بھی شہادتین کے بعد اضافے کے ساتھ مختلف انداز سے لکھا رہتا ہے:

وعلي ولي الله ووصي رسول الله وخليفته بلافصل

شیعہ اور قرآن حدیث اور اجماع

شیعہ کے پاس مصحف فاطمہ (أصول الكافی:1؍240) اور لوح فاطمہ(بحار الانوار: 26؍ 44، بصائر الدرجات: ص 43) پایا جاتا ہے اور اہل سنت کا قرآن ان کے یہاں ناقص و غیر محفوظ ہے۔ (أصول الكافی: 239) کیونکہ سورة الولا یۃ اہل سنت کے قرآن میں نہیں پائی جاتی ہے ، (الخطوط العريضة : 12؛ مختصر التحفہ: ص 31؛ مجلۃ الفتح العدد: 9؍4842) وكتاب الشيعۃ والتشيع لأحمد الكسروی) علاوہ ازیں قرآن بارہ اماموں میں سے کسی ایک امام کے بغیر حجت نہیں، (أصول الكافی:1؍188) اور امام کی بات اللہ اور اس کے رسول کی بات کی طرح ہے ۔ ( الاعتقادات لابن بابویہ: ص 109؛ والأصول العامۃ للفقہ المقارن لمحمد تقي الحكيم: ص122) علاوہ ازیں اجماع کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ امام کی بات معتبر ہوگی۔ ( نہايۃ السول للإسنوی: 3؍24)

شیعہ اورصحابہ کرام کو کافر قرار دینا

مقداد بن اسود، ابوذر غفاری اور سلمان فارسی مدینہ کے علاوہ بقیہ صحابہ مرتد ہیں۔ (الروضۃ من الكافی للكلینی:8؍245) اور شیعہ نے بالخصوص خلفاے راشدین اور ام المومنین عائشہ کے متعلق نا قابل تحریر باتیں لکھی ہیں، جبریل امین پر خیانت کی تہمت لگائی ہے اور غور طلب بات ہے کہ شیعہ اپنے آپ کو مومنین کی جماعت قرار دے کر غیر شیعہ کو کیا قرار دیتے ہیں؟

شیعہ اور اہل سنت کی جان و مال

اہل سنت ( شیعہ کی نظر میں نواصب) کاقتل کرنا حلال ہے۔ (علل الشرائع :201) اور اہل سنت کا مال شیعہ کے لیے مال غنیمت ہے۔ (تهذیب الأحکام: 4؍122)

اور اہل سنت نجس وناپاک ہیں ۔ (أحكام الشیعہ: 1؍ 137)

شیعہ اور مسئلہ خلافت

شیعہ کا ماننا ہے کہ خلافت و امامت نبیﷺ کی وصیت کی بنا پر نبیﷺ کے فوراً بعدعلی ہی کے لیے خاص تھی ۔ (بحار الأنوار: 39؍342)

شیعہ اور عصمت ائمہ

شیعہ کا عقیدہ ہے کہ ان کے سارے امام انبیا ء﷩ کی طرح معصوم عن الخطا ہیں۔ (بحار الأنوار: 25؍211) بلکہ فرشتوں اور انبیاء سے بھی افضل ہیں۔ (مقالات الإسلاميين: ص 120) اور انبیاءکو جوبھی معجزات و درجات ملے ہیں وہ سب ان ائمہ کی دین ہیں۔ (بحار الأنوار: 26؍ 294)

شیعہ اور تقیہ

تقیہ یعنی غلط بیانی نفاق اور جھوٹ شیعہ کے پاس ایک فریضہ ہے۔ (بحار الأنوار: 5؍ 411) جس کو اختیار کیے بغیر کوئی مومن نہیں ہوسکتا۔ (إكمال الدين: ص355)

شیعہ اور غیبہ

شیعہ کے ائمہ موت کے بعد مرتے نہیں بلکہ خفیہ طور پر غائب ہوجاتے ہیں اور مہدی بن کر لوٹ آئیں گے۔ (مقالات الإسلاميين: 1؍ 89)

شیعہ اور عقیدۂ رجعت

شیعہ کے ائمہ بلکہ اولیاء و عوام مرنے کے بعد دنیا ہی میں لوٹ کر آتے ہیں ۔ (أوائل المقالات: ص51)

شیعہ اور عقیدہ ظہور

شیعہ کے ائمہ مرنے کے بعد بھی بعض خواص شیعہ کے لیے ظاہر ہوتے ہیں ،کرامات دکھاتے ہیں پھر ان کی قبروں کی جانب لوٹ جاتے ہیں۔ ( بحار الأنوار: 303، 304)

شیعہ اور عقیدۂ بداء

شیعہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ابتدا سے کسی چیز کا علم اور اس کی کوئی خبر نہیں ہوتی ہے۔ ( بحار الأنوار: 4؍107) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی جانب جہل ولاعلمی کو منسوب کرتے ہیں۔

شیعہ اور عقیده طینہ

شیعہ کا ماننا ہے کہ آخرت میں ان کے گناہ کبیرہ کا وبال غیر شیعہ یعنی دوسروں پر آئے گا۔( الأنوار النعمنیۃ: 1؍295)

شیعہ اور متعہ

شیعہ کے پاس مقررہ وقت تک اجنبی کے ساتھ جنسی تعلقات رکھے جا سکتے ہیں۔ (النہايۃ للطوسی: ص 491)

شیعہ اور قبر حسین کی زیارت

شیعہ کے پاس حسین کی قبر کی زیارت کرنا 20 حج کرنے کے برابر ہے۔ (فروع الکافی: 1 ؍324)

شیعہ اور اہل سنت کی عبادات

شیعہ اہل سنت کی طرح باجماعت نماز کی ادائی اور ان کی بہت ساری عبادات کو معیوب سمجھتے ہیں ۔

(المناظرة بين أهل السنۃ والرافضۃ: ص 97)

شیعہ اور دہشت گردی

شیعہ حزب اللہ اور دیگر ناموں سے دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔

شیعہ اور کفار کی عبادت گاہیں

شیعہ مسلمانوں کی مساجد کے بمقابل کفار کی عبادت گاہوں کی تعمیر کے لیے چاندی کے تیروں کو بطور ہدیہ ونذرانہ پیش کرتے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ

شیعیت حنفیت وشافعت کی طرح کوئی مسلک نہیں بلکہ اسلام کے مقابل ایک مستقل دین ہے اسی لیے وہ اپنے عقائد و مسائل کے لیے دین الامامیہ کی تعبیر بار ہا استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ ( الاعتقادات لابن بابویہ والفهرست للطوسی: ص 189)

غور طلب بات ہے کہ

اہلسنت کی حکومتوں کا تختہ الٹنے میں شیعیت و اخوانیت یکساں ہیں اور آج اخوان ایران میں بڑے مقبول ہیں، بعینہ اماموں کو انبیاء سے افضل سمجھنے اور ان میں غلو کرنے میں شیعیت وصوفیت یکساں ہیں اور آج اہل سنت کے درمیان شیعیت صوفیت کے ذریعے داخل ہورہی ہے جیسا کہ شیعہ کی ایجاد کرده میلاد کی بدعت کو صوفی فروغ دے رہے ہیں اور غیر شعوری طور پر امت صوفیت، اخوانیت وشیعیت کے راستے یہودیت تک پہنچ رہی ہے۔
الله تعالیٰ ہم کو دین کی صحیح سمجھ اور اس پرعمل کی توفیق عنایت فرمائے۔

 

تبصرہ کریں