تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

لمارأی أنّ المذھب الشافعی اوفق لظواھر الحد یث تشفع بعد ان جمع علماء المذھبین ( حوالہ مرقومہ )

’’جب محمود نے معلوم کیا کہ امام شافعی﷫ کا طریقہ ظا ہر حد یث نبویﷺ کے موا فق ہے تو علماء حنفیہ اور شا فعیہ کو جمع کر نے کے بعد حنفیت چھو ڑ دی۔‘‘

مرأۃ الجنا ن میں ہے :

فاعرض السلطان عن مذھب ابی حنیفہ ( ج 3 ص 25) ۔ و رجوعہ عن مذھب ابی حنیفہ ( ج 3 ص 38) ۔کذا فی وفیات ا لاعیان لابن خلکان و حیوۃ الحیوا ن وغیرھا ۔

اور سبکی نے طبقا ت شا فعیہ ج 4 ص 13 میں سلطان محمود کا نام اور حا ل لکھا ہے۔ پھر سبکی نے لکھا کان اوّلاً حنفی المذھب ثم انتقل الی مذھب الشافعی لمّا صلّی القفال بین یدیہ ( طبقات سبکی ج 4 ص 14) پہلے محمود حنفی تھا لیکن جب قفا ل نے اسکے سا منے حنفی مذ ہب کی نماز پڑ ھ کر دکھا ئی تو اس نے حنفیت چھو ڑ دی اور شا فعی ہو گیا۔

بعض لو گ کہتے ہیں کہ سلطان نے تفرید نا می رسا لہ لکھا تھا۔ لیکن یہ ان کے حنفی دور کی تصنیف ہے ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ سلطان کی آ خر حیات تک اس کی سلطنت کے قا ضی القضا ۃ ابو محمد نا صحی حنفی تھے جیسا کہ جوا ہر مضییہ میں ہے۔ اس معا ملے میں عر ض یہ ہے کہ جوا ہر مضییہ میں کہیں یہ مذ کور نہیں کہ ابو محمد نا صحی حنفی سلطا ن کے آ خر حیات تک قاضی رہے ۔ اور یہ بات بھی درست نہیں کہ وہ سلطان محمود کی ساری مملکت و سلطنت کے قا ضی تھے ، جوا ہر مضییہ کی عبارت یہ ہے:

ولّی القضاء للسلطان الکبیر محمود بن سبکتگین بخاری ( ج 1 ۔ص 274)

یعنی ابو محمد عبد اللہ بن حسین نا صحی ، سلطا ن کی طرف سے بخارا کے قا ضی بنا ئے گئے۔ فوا ئد بہییہ میں ہے کہ بخارا کے قا ضی القضا ۃ بنائے گئے

پھر کہا گیا ہے کہ سلطان محمود کا قا ضی القضاۃ ابو محمد نا صحی کو امیر حا ج مقرر کر نا اس کی مذ ہب حنفی سے گروید گی کا ثبو ت ہے ۔ تو عرض ہے کہ یہ گروید گی کا ثبوت نہیں بلکہ سلطا ن کے عدل کی ایک مثا ل ہے کیونکہ اس کی رعیت کی اکثریت حنفی تھی اس لئے ان کے لئے ایک حنفی کو امیر حا ج مقرر کر دیا۔ قا ضی موصو ف تمام اکناف عالم سے آ ئے ہوئے مسلما نوں کے امیر الحا ج نہیں تھے، صرف محمود کی مملکت کے حاجیوں کے تھے۔ (سواء الطریق مع ایضا ح الطریق)

محمود غز نوی کے حا لا ت میں تا ریخ فرشتہ کے مصنف محمد قاسم نے لکھا ہے کہ محمود نے بعض مما لک میں وہ سفیر مقرر کئے جن کا شمار اہل حدیث علماء میں ہوتا تھا۔ لکھا ہے ۔

و ایلک کان ما وراء النہر یک بار از آ ل سلطان سا مان متخلص گردانید و فتح نا مہ بہ سلطان محمود فرستادہاو را باستیلا ئے مملکت خراسان تہنیت گفت بنا بر ایں میان ہر دو پادشاہ بنا ئے دوستی و یگا نگی استحکام پذیر فت و سلطان نیز ابو الطیب سہل بن سلیمان بن صعلو لی را کہ از آ ئمہ اہل حدیث بود برسم رسا لت پیش ایلک خان فرستادہ ( تاریخ فرشتہ:1؍40)

’’یعنی جب ایلک خان نے خا ندان سا مان کے قبضے سے ماوراء النہر کا علا قہ آزادکرا یا اورخراسان پر فتح پا ئی تو فتح نا مہ تہنیت سلطان محمود غز نوی کی خد مت میں ارسال کیا ۔ جس کے نتیجے میں دو نوں بادشا ہوں کے درمیان ا تحاد و دوستی کی بنیادیں مستحکم ہو گئیں ۔ ایلک خان کے جواب میں محمود غز نوی نے ابو الطیب سہل بن سلیمان صعلو کی کو، جو اکا بر علما ئے اہل حدیث میں سے تھے، اپنا سفیر اور پیغام رساں بنا کر ایلک خان کے پاس بھیجا ۔‘‘

( ابو الطیب صعلوکی بروا یت مور خ فر شتہ اہل حد یث تھے۔ سمعا نی کی انسا ب میں ہے الیہ انتھت ریاسۃ اصحاب الحد یث ۔ ص 352۔ یعنی ابو سہیل محمد بن سلیما ن کے مر جا نے کے بعد ابو الطیب مذ کور پر اہل حد یث کی سرداری ختم ہو گئی۔ یعنی صعلوکی اہل حدیث کے سردار تھے ، جس کو تاریخ فر شتہ میں آ ئمہ اہل حد یث سے لکھا گیا ہے )

اور جناب محمد اسحاق بھٹی نے لکھا ہے :

سلطان شہاب الدین غوری ( ف 602ھ ) اور ان کے بھا ئی سلطا ن غیا ث الدین ( ف 595ھ) شافعی مسلک کے حا مل رہے ۔قا ضی منہاج سرا ج نے غیا ث الدین غوری کے شا فعی مسلک قبول کر نے کا واقعہ یوں بیا ن کیا ہے کہ وہ اور قا ضی و حید الدین محمد مروزی، امام شا فعی کی اقتداء میں نماز پڑ ھ رہے ہیں ۔ اس خواب کے اگلے روز غیاث الدین غوری نے قاضی مو صو ف کو در بار میں تشریف لانے کی دعوت دی۔ وہ آئے اور وعظ شروع کیا تو وہی خوا ب بیا ن کیا جو گزشتہ را ت سلطا ن غوری نے دیکھا تھا۔ سلطا ن اس سے بہت متا ثر اور متعجب ہوا کہ دو نوں نے ایک ہی وقت میں ایک ہی قسم کا خوا ب دیکھا ہے ۔ اس کے بعد اس نے شا فعی مسلک اختیار کر لیا۔ قا ضی منہا ج کے الفاظ میں واقعہ یوں ہے:

اما سلطا ن غیا ث الدین شبے در خواب دید کہ او با قاضی و حید الدین مروزی کہ بر مذہب اصحاب حدیث بود و مقتدا ئے شفعیان، در یک مسجد بو دند ے، نا گاہ امام شا فعی درآمدے، در محراب رفتے وتحریمہ نماز پیوستے۔ وسلطان غیاث الدین و قاضی و حید الدین ہر دو بہ امام شافعی اقتدا کر دند ے۔ چو ں از خواب درآمد، سلطان فر مان داد تا بامداد قا ضی و حید الدین در بار گاہ تذ کیر فر مو دند ۔ چو ں بر بالا ئے کرسی رفت در اثنا ئے سخن گفت کہ اے بادشاہ اسلام ! ایں دا عی دوش خوا بے دیدہ است، و عین خوا بیکہ سلطان دیدہ بود، باز گفت ۔ او ہم بہ مثل آں دیدہ بود کہ سلطان چند آ نچہ از کرسی فرود آ مد، بر بالا رفت و بخدمت سلطان، درحال سلطا ن دست مبارک قا ضی وحید الدین بہ گر فت و مذہب امام شا فعی قبول کرد۔ چوں نقل سلطا ن بہ مذ ہب اصحا ب حدیث شافعی شد۔ بردل علمائے مذہب محمد بن کرام حمل آمد ( طبقا ت ناصری 1؍ طبقہ ،17 ص 362 )

کہ سلطان غیاث الدین غوری نے ایک رات خوا ب میں دیکھا کہ وہ قا ضی و حید الدین مروزی کے ساتھ ، جو اہل حد یث میں سے تھے اور شا فعیوں کے مقتداء تھے، ایک مسجد میں بیٹھے ہیں۔ اچانک امام شا فعی تشریف لا ئے، محرا ب میں گئے تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز کے لئے کھڑ ے ہو گئے ۔ سلطان غیا ث الدین اور قا ضی و حید الدین نے امام شافعی کی اقتداء میں نماز پڑ ھی ۔

جب سلطان نیند سے بیدار ہوا تو اس نے در بار میں وعظ و نصیحت کے لئے قا ضی و حید الدین کو بلایا ۔ قاضی و حید الدین نے وعظ کے لئے اپنی نشست پر بیٹھ کر گفتگو میں فر مایا: اے بادشاہ اسلام ! میں نے ایک خوا ب دیکھا ہے (جو خوا ب انہوں نے بیا ن کیا تو) با لکل وہی خوا ب تھا جو سلطا ن نے دیکھا تھا۔ بعد ازاں سلطا ن نے قا ضی و حید الدین کا ہاتھ پکڑا اور امام شافعی﷫ کا مذ ہب قبو ل کر لیا جب سلطان مذہب اہل حد یث اختیار کر کے مسلک امام شا فعی﷫ سے وابستہ ہو گیا تو ان علماء کو یہ بات نا گوار گذ ری جو محمد بن کرا م کے مذ ہب کے حا مل تھے۔ (محمد بن کرام 255ھ میں فوت ہوا اس کا عقیدہ تھا کہ ایمان صرف اقرار با للسا ن کا نام ہے، اس کیلئے عمل بالجوارح کی ضرورت نہیں، اور یہ کہ اللہ انسا نوں کی طر ح جسم رکھتا ہے اور عر ش کے او پر اس کی ایک مخصو ص جگہ ہے۔ کرا میہ کو بدھ مت اور اسلام کا ملغو بہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ (طبقات نا صری : 1؍ 362 )

یہ واقعہ ابن اثیر نے تاریخ الکا مل کے 595ھ کے واقعات میں بیان کیا ہے اس کی عبارت کا تر جمہ یوں ہے :

اسی سا ل میں حا کم غز نہ غیا ث الدین غوری اور بعض باشند گا ن خراسا ن نے مذ ہب کرامیہ تر ک کر کے شافعی مذ ہب اختیار کیا ۔ اس کی و جہ یہ ہو ئی کہ سلطا ن غیاث الدین غوری کے مصا حبو ں میں ایک شخص مبارک شاہ تھا، وہ شخص شیخ و حید الدین ابو الفتح محمد بن محمود مر وزی کو ، جو ایک شا فعی فقیہہ تھے، سلطا ن کے پاس لے گیا ۔ انہوں نے سلطا ن کے سا منے مذ ہب شافعیہ کی خو بیاں بیا ن کیں اور کرا میہ مذ ہب کے نقائص کی نشا ن دہی کی۔ اس سے متا ثر ہو کر سلطا ن نے شا فعی مذ ہب قبول کیا اور پھر شوا فع کی تعلیم وتربیت اور تبلیغ کے لئے کئی مدرسے قا ئم کئے ۔

( برصغیر میں اہل حد یث کی آ مد:ص 269۔272)

ہند کے مسلم حکمران

احناف مثل جناب اسعد مدنی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں 1857ء تک صرف حنفی حکمران رہے ہیں۔ یہ بات درست نہیں ہے،ہندوستان میں صرف حنفی مسلمان ہی حکمران نہیں رہے بلکہ یہاں کے بادشاہوں میں شیعہ مسلک کے لو گ بھی ملتے ہیں۔ جیسا کہ

ہمایوں کے متعلق بتا یا جاتا ہے جب وہ ایران میں تھا تو وہاں کے بادشاہ طہماسپ سے ۔ ایک دن خلوت میں (ہمایوں کے)امیروں نے امیر تیمور کے خا ندا ن کی اہل بیت سے محبت کے تذ کرے کئے اور ثبو ت میں ہمایوں کی یہ طبع زاد ر باعی بادشاہ کو سنا ئی:

مائیم ز جان بندہ او لاد علی

ہستیم ہمیشہ شاد با یاد علی

چو ں سرّ و لا یت ز علی ظا ہر شد

کر دیم ہمیشہ ورد خود ناد علی

شاہ طہماسپ سے ان لو گوں نے یہ بھی کہا کہ ہمایوں سے بعض چغتا ئی امیروں خا ص طور سے مرزا کا مرا ن کی مخا لفت کا اصل سبب بھی یہی تھا کہ ہما یوں نے اپنی سلطنت کا نظم و نسق ایرا نیوں کے ہاتھ میں دے دیا تھا، اور اہل بیت سے اپنی محبت کا اظہار کرتا رہتا تھا اور شیعہ مذ ہب کو تقویت دینے کی سعی کی تھی ۔ ( منتخب اللبا ب متر جم : 1؍150)

خا فی خان بتاتے ہیں کہ تاریخ فر شتہ میں لکھا ہے :

یہ سب پر وا ضح ہے کہ ہمایوں، امام اعظم کے مذ ہب بر حق پر قا ئم تھے، لیکن اسے اپنے آباء و اجداد خا ص طور سے امیر تیمور کی نسبت اہل بیت سے زیادہ محبت تھی۔ ان کے ساتھ مرزا کا مرا ن کے ملکی تنا ز عا ت تو رہتے ہی تھے ( عقیدہ میں بھی وہ مختلف تھے ) چنانچہ وہ ہمایوں کے علی الر غم بعض متعصب متا خر ین اور متکلمین کی طرف میلان رکھتا تھا اس کی باتیں عمو ماً ہمایوں کونا پسند آ تی تھیں۔چنا نچہ جب بیر م خا ن میں اور مرزا کا مرا ن میں مکا لمہ ہوتا تھا تو ہما یوں بیر م خا ن کی رفاقت میں کا مرا ن کو پر لطف جوا ب دیتے رہتے تھے۔ جس وقت شیر شاہ کی شورش اٹھی اور ہمایوں پنجاب چلے آ ئے تھے ایک دن سوا ری میں مرزا کامران بھی ہمراہ تھا۔ ایک قبر ستان پر سے سواری گذری۔ اتفاق سے اس وقت ایک کتا کسی قبر پر کھڑا پیشا ب کر رہا تھا۔ مرزا کا مرا ن کی اس پر نظر پڑی تو اس نے ہما یوں کو مخا طب کر کے کہا ۔ معلوم ہوتا ہے یہ کسی را فضی کی قبر ہے ۔ ہمایوں نے مسکراتے ہو ئے جوا ب دیا ۔ ہاں وہ کتا سنی ہے ۔

غا لباً یہی میلان طبع تھا کہ ہمایوں نے اپنی سلطنت کے تمام اختیارات بیر م خا ن کو دے رکھے تھے اور نظم ونسق میں بیشتر ایرا نی ہی تھے جو ایک عر صہ دراز سے ہندوستان اور دکن کی باد شا ہتوں کا انتظا م کرتے آ ئے تھے۔ پھر ہما یوں کی خا ندا نی نسبت مشہد مقدس کے سادات سے تھی۔ یہ بات بھی اکثر چغتا ئی امیروں اور مرزا کا مرا ن کو نارا ض رکھتی تھی اور وہ ہما یوں کو امامیہ فر قے سے منسو ب کرتے تھے ۔ (منتخب ا للبا ب مترجم: 1؍158۔159)

٭ جناب محمدمنظور نعما نی بتاتے ہیں:

عہد جہا نگیر ی میں نور جہاں کے طفیل حکو مت کی باگ ہی شیعوں کے ہاتھ میں چلی گئی بلکہ صحیح تویہ ہے کہ جہا نگیر کے نام سے نور جہاں کا شیعی گھرا نہ ہی اس وقت ہندوستان پر حکو مت کر رہا تھا ۔ خود جہا نگیر کو اعترا ف ہے ۔

لکھتا ہے:

در دو لت پادشا ہی من حا لا در دست ایں سلسلہ است، پدر دیوان کل، پسر وکیل مطلق، دختر ہمراز ومصا حب۔ ( تز ک جہا نگیری)۔

اب میری بادشاہی اسی سلسلہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس( نور جہاں) کا باپ دیوان کل ہے اور بیٹا ( نور جہان کا بھا ئی آ صف خان ) وکیل مطلق اور بیٹی ( خود نور جہان) ہمراز و ہم صحبت۔ ( تذ کرہ مجدد الف ثانی: ص 175)

٭908ھ میں یوسف عادل شاہ ( بیجا پوری جس نے بیس برس دو ماہ حکو مت کی 916ھ میں فوت ہوا ) نے ایک مجلس جشن منعقد کی ۔

اس مجلس میں سید احمد صدری اور دیگر شیعی علماء کو مدعو کیا گیا ( اور بتا یا کہ ) میں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ بادشاہت کے در جے پر پہنچ کر بارہ اما موں کے اسما ئے گرامی خطبے میں دا خل کر دوں گا اور شیعہ مذ ہب کو رواج دو ں گا۔

مور خین نے تحریر کیا ہے کہ یوسف عا دل شاہ پہلا بادشاہ ہے جس نے ہندوستان میں بارہ اماموں کے نام کا خطبہ پڑھوا کر ملک میں شیعہ مذ ہب کو را ئج کیا۔ یوسف عادل شاہ نے جب خطبہ پڑ ھا اور شیعہ مذہب کو جاری کر دیا تو مثل مشہور الناس علی دین ملوکھم کے مصداق بہت سے امیرو ں نے یہ مذ ہب اختیار کر لیا۔ (تاریخ فرشتہ ،متر جم اردو: 2؍104۔105)

پھر سیاسی وجوہ سے شیعیت تر ک کی، لیکن فتح عمادی سے ر خصت ہو کر بیجا پور واپس آ یا اور یہاں اس نے دو بارہ شیعہ مذ ہب کو روا ج دیا اور بارہ اما موں کے نام کا خطبہ جا ری کیا۔

( تاریخ فرشتہ، متر جم اردو: 2؍110) 110)

٭ ابو المظفر علی عادل شاہ بن ابرا ہیم عادل شاہ کے متعلق فرشتہ بتا تا ہے کہ

باپ کی وفات پر علی عادل شاہ تخت نشین ہوا ، مذ ہب کے معا ملہ میں اپنے اجداد یوسف عادل شاہ اور اسماعیل عادل شا ہ کی تقلید کی اور تخت نشینی کے روز 12 اماموں کے اسما ئے گرا می کا خطبہ پڑ ھا مسجدوں میں جو اذا نیں دی جا تی تھیں ان میں علی و لی اللہ کے الفا ظ کا اضا فہ کیا۔ اپنے کتبوں کے نیچے اپنا نام اس طرح لکھتا تھا کتبہ علی صو فی قلندر۔

(تاریخ فر شتہ متر جم: 2؍180۔181)

٭علی عادل کی وفات کے بعد اس کی و صیت کے مطابق اس کا بھتیجا دس سال کی عمر میں ابرا ہیم عادل شاہ ثا نی تخت پر بیٹھا ۔ فر شتہ کہتا ہے :

ابرا ہیم کا شیعہ ہو نا زیادہ صحیح معلوم ہو تا ہے ۔ اس لئے لو گ تبد یلی مذ ہب کر کے شیعہ ہو گئے اور مسجدوں میں شیعوں کے دستور کے مطا بق اذا نیں ہو نے لگیں۔(تاریخ فرشتہ: 2؍241)

یہ اکبر بادشاہ کا ہم عصر ہے۔

٭احمد نگر کا فرمانروا احمد نظا م شاہ 904ھ میں فو ت ہوا ۔ اس کے بعد اس کا بیٹا برہان نظا م شاہ بن احمد نظا م شاہ بحری سات سال کی عمر میں احمد نگر کے تخت پر بیٹھا ۔ فر شتہ نے لکھا ہے :

اس نے شیعہ سنی علماء کا منا ظرہ کرا یا اس کے بعد شیعہ مذ ہب قبو ل کر نے کا اعلا ن کیا اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ تقریباً تین ہزار افراد نے( جن میں شا ہی مصاحب، ہندی تر کی اور حبشی غلام، امراء، منصب دار ، جارو ب کش اورفراش، الغر ض ہر طبقے کے لو گ شا مل تھے) مذ ہب اثنا عشری قبو ل کر لیا ، بر ہان نظا م نے تینوں خلفاء کے نام خطبے سے نکا ل دئیے اور آئمہ اہل بیت کے نام کا خطبہ جاری کیا۔ (تاریخ فرشتہ،مترجم: 2؍312۔313)

بر ہان نظا م شا ہ نے:

شیعہ مذ ہب کی تر ویج و اشاعت میں بڑ ھ چڑ ھ کر حصہ لیا وہ تمام وظائف جو اہل سنت کے نام جاری کر دئیے تھے شیعوں کیلئے وقف کر دئیے گئے۔۔ ۔

اس مذ ہبی ماحو ل کا یہ نتیجہ ہوا کہ احمد نگر کے جہلاء بھی خلفا ئے راشدین کی شا ن میں بے اد بی کر نے لگے۔ برہان نظا م شاہ 961ھ میں فو ت ہوا ۔ کچھ عر صہ بعد اس کا تابوت کر بلا لے جا یا گیا اور مزار امام حسین کے با ہر سپر د خا ک کیا گیا ۔

(تاریخ فر شتہ متر جم: 2؍315، 316، 325)

٭مر تضی نظا م شاہ بن حسین نظا م شاہ کی وفات پر تخت نشین ہوا۔

اس حکمرا ن نے مذ ہب شیعہ کی ترو یج و اشاعت میں اپنے با پ دادا سے زیادہ حصہ لیا سیدوں شیعہ عا لموں اور دیگر مستحقوں کے وظیفوں میں بڑا اضا فہ کیا گیا۔یہ بادشاہ دیوا نہ مشہور ہے۔۔۔ اکبر کا ہم عصر ہے ۔

رجب 996ھ میں فو ت ہوا ۔ 24 سا ل 5 ماہ حکمران ہوا ۔ اس کی لا ش بھی کر بلا روا نہ کی گئی۔ (تاریخ فرشتہ مترجم: 2؍4004۔402)

٭بر ہان نظا م شاہ بن حسین نظا م شاہ اپنے بھا ئی مر تضی نظام شاہ کے عہد حکو مت میں قید رہا پھر قلعہ دار سے ساز باز کر کے نکل آ یا۔ جب بادشاہ بنا تو فر شتہ (ج 2 ص17 4)نے لکھا ہے:

بر ہان شاہ نے حسب سا بق شیعہ مذ ہب کو روا ج دیا اور اما موں کے اسما ئے گرا می خطبے میں دا خل کئے گئے۔

٭تلنگا نہ کے بادشاہ ابرا ہیم قطب شاہ نے شیعہ مذہب کی اشاعت و تر ویج میں بہت بڑ ھ چڑ ھ کر حصہ لیا۔ 32 سا ل حکو مت کر کے 989ھ میں فوت ہوا۔ (فرشتہ :2؍454، 469)

٭جناب سید ابو ا لاعلی مودودی نے لکھا ہے :

شاہ عالم بہادر شاہ اپنے علم و فضل کے لحا ظ سے تمام سلاطین تیموریہ میں ممتاز تھا ۔ علم حدیث میں اسے قدوۃ المحد ثین تسلیم کیا جاتاتھا۔ تفسیر اور فقہ پر اس کو پورا عبور تھا ۔ اس کی پر ہیز گاری اور مذ ہبیت خود اپنے باپ سے کم نہ تھی ۔۔( اور)بہادر شاہ کی اہم سیاسی غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے اپنی حکو مت کی ابتداء ہی میں احکام جاری کر دئیے کہ خطبہ میں سیدنا علی کے نام کے ساتھ لفظ وصی استعمال کیا جائے۔ یہ دوسرے الفا ظ میں اس امر کا اعلان تھا کہ سلطنت کا مذ ہب طر یق اہل سنت کے بجا ئے شیعیت ہو گیا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں جس کی بیشتر آبادی سنی تھی جس کی حکومت ابتدا ئے سلطنت اسلام سے سنی مذ ہب کی پیروی کر رہی تھی اور جس کے تخت پر اس سے پہلے پچاس سا ل تک عا لمگیر جیسا کٹا سنی بادشاہ متمکن رہ چکا تھا، بہادر شاہ کا اپنی حکو مت کی ابتداء ہی میں علی ا لاعلا ن شیعیت اختیار کر لینا اور خطبہ جمعہ کو بد ل دینا سیاسی اعتبار سے ایک نہا یت غیر دا نشمندا نہ فعل تھا اس نے تمام مسلما نان ہند کے دلوں میں بادشاہ کے خلاف شد ید نارا ضی کے جذ بات پیدا کر دئیے۔ ( دکن کی سیاسی تا ریخ :42، 50۔51)

جناب علی میاں نے لکھا ہے :

شاہ عالم بہادر شاہ اول ( 118۔1124ھ ) عا لمگیر کا سب سے بڑا بیٹا تھا ۔۔ اس نے شیعی مسلک اختیار کیا۔ جو اس سلطنت کے مصا لح کے خلاف تھا جس کی مسلمان آبادی کا 90، 95 فی صدی حصہ ہندوستان کے مشرقی حدود بنگا لہ سے لے کر سلطنت کے مغر بی حدود کا بل و قند ھار تک سنی فرقہ اور حنفی مذ ہب کا پیرو کار تھا ۔

بہادر شاہ کے شیعہ مذ ہب اختیار کر نے، اس مسئلہ پر علماء اہل سنت سے مبا حثہ و منا ظرہ کر نے، خطبہ میں کلمہ علی ولی اللہ وصی رسول اللہ ﷺ کے دا خل کرنے کا حکم دینے پر لا ہور میں جہاں بادشاہ کا قیام تھا، شورش بر پا ہو ئی ، بلوا ہوا ۔ (تاریخ دعوت و عزیمت : 5؍47۔48)

جناب محمد اسحاق بھٹی نے لکھا ہے :

بہادر شاہ والہ واقعہ منشی غلام حسین طبا طبا ئی نے بھی سیر المتا خر ین۔(ج 2 ص 381) میں بیا ن کیا ہے چونکہ یہ مؤر خ خود شیعہ ہے، اس لئے اس کے اسلوب میں بادشاہ کی تا ئید اور علماء کی مخا لفت صا ف نظر آ تی ہے ۔ وہ لکھتا ہے کہ علماء نے نہا ئت عصبیت سے کام لیا ، بلوا ئے عا م پر اتر آ ئے اور وہ نا صبی تھے ۔ ناصبی شعا رند۔ ( فقہائے ہند : 5؍17)

فقہی جمود و تقلیدی غلوّ

عنوان ہذا سے متعلق جناب و حید الدین خان کی چند تحریریں یہاں نقل کی جا تی ہیں:

٭یو نا نی معقولات جس کو اب خود یو نان بھی چھو ڑ چکا ہے، دین کے ساتھ جو ڑ نے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ دین میں تد بر اور دینی مسا ئل کو بیان کر نے کا ایک ایسا نہج بن گیاجو رسول اللہ ﷺ کی سنت اور صحابہ کرام کے انداز سے بالکل مختلف تھا ۔ حنفیہ نے امام کے پیچھے فا تحہ کی قرأت کے تر ک کا فتوی دیا ہے ۔ مو لا نا رشید احمد گنگو ہی کے سامنے اس مسلک کے خلاف یہ حدیث پیش کی گئی کہ نبی ﷺ نے کچھ اصحاب سے کہا شائد تم لو گ امام کے پیچھے نماز پڑ ھتے ہو ئے قرأت کرتے ہو ۔ انہوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ۔ آپ ﷺ نے فر مایا :

«لا تفعلوا إلا بامّ القرآن» ’’نہ کرو ایسا سوا ئے سورۃ فا تحہ پڑ ھنے کے۔‘‘

مو لا نا رشید احمد گنگو ہی نے حنفی مسلک پر اس اعترا ض کو رد کرتے ہو ئے جوا ب دیا :

هذا دلیل الاباحة لا دلیل الوجوب( نفحۃ العنبر)

( یہ اباحت کی دلیل ہے نہ کہ و جوب کی دلیل) ۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے اس بات کی کہ بعد کے زمانے میں ہمارے یہاں مذ ہبی بحث و گفتگو کا جو انداز پیدا ہوا وہ کس طر ح اسلام کے ابتدا ئی سادہ اسلوب سے ہٹا ہوا تھا ۔ چنا نچہ وہی شخص آ ج عالم سمجھا جا تا ہے جو اس قسم کی فنی زبان اور منطقی اسلوب میں دینی مسا ئل کو بیان کر سکتا ہو ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی مباحث کا یہ انداز فنی حیثیت سے بظا ہر بڑا وقیع معلوم ہو تا ہے مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ دین وہ نہیں جس کو عرب کے پیغمبر ہمارے لئے چھوڑ کر گئے تھے ۔ آپ نے فخر کے ساتھ فر ما یا تھا نحن امۃ امی، ہم تو سید ھی سادی امت ہیں بعثت با لحنیفیۃ السمحۃ میں سہل دین کے ساتھ بھیجا گیا ہوں ۔ مگر یہودیوں اور عیسا ئیوں کے اتباع میں ہم نے دین کو ایک پیچیدہ فن بنا ڈا لا، جس طر ح انہوں نے موسی ؑ اور عیسی ؑ کے دین کو فن بنا دیا تھا ۔ اس فنی دین کا غیر دینی ہو نا اسی سے واضح ہے کہ صحا بہ سے کو ئی بز ر گ ا گر آ ج زندہ ہو ں تو وہ ہمارے مدارس عر بیہ میں سے کسی مدرسہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فا ئز نہیں کئے جا سکتے کیو نکہ آج ان مدارس میں علم حدیث جس طر ح پڑھایا جا تا ہے وہ اس کے لئے با لکل نا مو زوں ثا بت ہوں گے ۔ حتی کہ نعوذ با للہ شا ئد خود اللہ کے رسول بھی ۔ ( تجد ید دین : ص 56۔57 )

٭ہمارے عر بی مدارس خواہ وہ بھی کسی بھی مسلک کے تحت قا ئم ہو ئے ہوں ، ان میں شیخ الحدیث کا منصب اسی قسم کی فقہی پہلوا نی کے لئے خاص ہو گیا ہے ۔ یہاں ایسے لو گ پیدا ہو تے ہیں جو بظا ہر عالم دین کی سند لے کر نکلتے ہیں مگر حقیقۃً وہ عالم اختلاف ہوتے ہیں ، وہ علم دین کا کمال یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے فقہی مذا ہب کے مقا بلہ میں اپنی فقہ کو صحیح ثا بت کر دکھا ئیں ۔ وہ چھو ٹے چھو ٹے دینی فروق کو لے کر ان کی بنیاد پر اکھا ڑے قا ئم کرتے ہیں اور ساری امت کو ایسے جدال و نزاع میں الجھا دیتے ہیں جو کبھی ختم ہو نے والا نہیں ۔

ان مدارس کے سلسلے میں کم سے کم جو بات کہی جا سکتی ہے وہ یہ کہ امت واحدہ کو انہوں نے امت متفرقہ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ۔(تجد ید دین : ص 36 ۔ 38 )

٭٭٭

تبصرہ کریں