تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

عبد الملک کے گور نر کو فہ و بصرہ، حجا ج نے 75ھ میں سعید بن اسلم کلا بی کو مکرا ن کا عا مل مقرر کر کے بھیجا۔ اس سے چند روز پیشتر بعض فو جی سردار حجا ج سے ناراض ہو کر سرکشی اختیار کر چکے تھے ۔ سعید بن اسلم نے مکران پہنچ کر سر کشوں کے سر دار کو گرفتار اور قتل کیا۔ اد ھرقبیلہ بنی سا مہ کے دو شخص حقیقی بھا ئی محمد بن حا رث اور معا ویہ بن حارث علا فی، سعید بن اسلم سے رشتہ داری رکھتے تھے لیکن مقتول سر دار کے بھی رشتہ دار تھے۔ انہوں نے مخا لفین کو جمع کیا اور علاقہ مکرا ن کے بعض شہروں پر قبضہ کر لیا۔ سعید بن اسلم مقا بلے پر آ یا اور قتل ہوا ۔ حجا ج کو خبر ہو ئی تو اس نے عبد الر حمن بن عشا کو علا فیوں کی سر کو بی کےلئے روا نہ کیا۔ علا فیوں نے اسے بھی شکست دے کر قتل کر دیا۔ اس کے بعد حجا ج نے مجاعہ بن سعید تمیمی کو بھیجا۔ تب علا فیوں نے پہا ڑو ں میں پناہ لی۔ مجاعہ ایک سا ل بعد فوت ہو گیا۔ پھر حجا ج نے محمد بن ہارو ن کو مکرا ن اور سر حد ہند کا حاکم بنا کر بھیجا۔ اس نے پانچ سا ل تک علا فیوں کا پہا ڑو ں اور صحرا ؤں میں تعا قب کیا۔ با لآ خر محمد بن حا رث 500 کی جمعیت کے سا تھ سلطنت اسلا میہ کی حدود سے نکل کر 85ھ میں را جہ دا ہر کے پاس چلا گیا ۔ اس پر حجا ج نے عبد الملک سے داہر کے خلاف کاروا ئی کی اجاز ت ما نگی۔ عبد الملک نے اسے منظور کر نے میں تا مل کیا ۔ اد ھر محمدبن حارث علا فی نے اپنی شجا عت کے جو ہر دکھا کر را جہ دا ہر کے دار السلطنت الور کو اس کے ایک قوی دشمن کے پنچے سے بچا کر وزارت کا عہدہ حا صل کر لیا۔

ادھر جزیرہ سر اندیپ اور علاقہ ما لا بار میں کا فی مسلمان آ باد تھے۔ سر اند یپ کے را جہ نے حجا ج کی عنا یا ت کو اپنی طرف مبذ و ل کر نے کے لئے آ ٹھ جہازوں کا بیڑہ تیار کیا، ان میں کئی قیمتی تحا ئف بار کئے گئے ۔ وہاں کے رہنے وا لے کئی مسلما ن تجارت اور حج کیلئے ان جہازوں میں سوار تھے۔ بعض سوداگر جو فوت ہو گئے تھے ان کے پس ما ندگان بھی ملک عرب وا پس جا نے کیلئے ان جہازوں میں سوا ر ہو ئے ۔ جب بیڑہ بحر عمان میں دا خل ہو نے لگا تو باد مخا لف نے ان کو سا حل دیبل پر پہنچا دیا جو دا ہر کا ایک شہر تھا۔ یہاں جہا زوں کو لو ٹا گیا اور عورتیں اور بچے گر فتار ہو ئے ۔حجا ج کو خبر پہنچی تو اس نے مطا لبہ کیا کہ جہاز مع سا مان وا پس کئے جا ئیں؛ قید یوں کو آ زاد کر کے ہمارے پاس بھیجا جا ئے ؛ اور ذمہ داروں کو سزا دی جا ئے ۔

دا ہر نے جوا ب دیا کہ جہاز لو ٹنے وا لوں پر میرا بس نہیں چلتا ،تم خود ان سے قیدی چھڑا لو اور سا مان وا پس لے لو ۔ اس پر حجا ج نے ولید سے لڑا ئی کی اجاز ت لی اور پہلے عبد اللہ بن نا بہان اسلمی کو مختصر فو ج دے کر روا نہ کیا کہ دیبل پر قبضہ کر لے۔ عبد اللہ اسلمی ابھی دیبل نہیں پہنچا تھا کہ راستے ہی میں داہر کے بیٹے کیشب (جے سیہ) نے جنوبی بلو چستان میں پیش قدمی کر کے اس کا مقا بلہ کیا جس میں عبد اللہ اسلمی مارا گیا اور اسلا می فو ج کو شکست ہو ئی ۔ اس پر حجا ج نے بد یل مجا ئی کو چار ہزار فو ج دے کر روا نہ کیا اور محمد بن ہارو ن عا مل مکرا ن کو اس کی حسب ضرورت مدد کا لکھا۔ بدیل ابھی دیبل نہیں پہنچا تھا کہ کیشب بن دا ہر نے زبر دست فوج اور ہا تھیوں کے سا تھ اس کا مقا بلہ کیا۔ بدیل مع کثیر لشکریوں کے شہید ہوا۔ پھر حجا ج نے دو بارہ در بار خلافت میں لکھ کر بڑے پیما نے پر کاروا ئی کی منظوری لی اور محمد بن قاسم کو بھیجا۔ اس کے ساتھ ملک شا م کے چھ ہزار تجر بہ کار سپاہی تھے ۔ یہ لشکر شیراز سے مکرا ن پہنچا جہاں محمد بن ہارون نے اس کا استقبال کیا اور اپنی تین ہزار فو ج کے ساتھ شامل لشکر ہوا۔ مکران سے لشکر ار من بیلہ پہنچا جہاں دا ہر کا لشکر مو جود تھا جو شکست کھا کر فرار ہوا۔ اسی جگہ محمد بن ہارون فو ت ہوا۔۔۔ پھر دیبل کا محا صرہ کیا وہاں کیشب نے بہادری سے مقا بلہ کیا اور شکست کھا ئی( جو شخص سب سے پہلے فصیل دیبل پر چڑ ھا وہ خز یمہ کو فی اور اس کے بعد دوسرا عجل بن عبد الملک بصری تھا)۔۔۔ دیبل فتح کر نے کے بعد محمد بن قاسم نے وہاں کا حاکم ایک پنڈت کو مقرر کیا جس نے کما حقہ اسلام سے واقف ہو نے کے بعد اسلام قبو ل کر لیا اور مو لا ئے اسلام یا مو لا نا اسلا می کا خطا ب پا یا، محمد بن قاسم نے اسے سفارت کیلئے منتخب کیا اور ان کے ہمراہ ایک شا می سر دار کو دا ہر کے پاس روا نہ کیا۔ ( آ ئینہ حقیقت نما: ص 78۔ 114 ملخصاً)

سند ھی تر جمہ قر آ ن

چو تھی صدی ہجری کے مشہور سیا ح اور جہاز را ن بزرگ بن شہر یارنا خدا را مہر مزی نے اپنی کتا ب عجائب میں عبد اللہ بن عمر ( ہباری)کے زما نے کا در ج ذیل واقعہ لکھا ہے:

مجھ سے ابو محمد حسن بن عمرو بخیر می نے بصرہ میں بیا ن کیا کہ جب میں 280ھ میں منصورہ میں تھا تو وہاں کے بعض معتبر شیو خ نے مجھ سے بیا ن کیا کہ کشمیر کے اطرا ف میں الور کا را جہ مہرو ق بن را ئق ہندکے نامی بادشاہوں میں سے تھا۔ اس نے 270ھ میں حاکم منصورہ عبد اللہ بن عمر بن عبد العزیز کو لکھا کہ وہ را جہ کے لئے اسلا می شریعت اور احکام کو ہندی زبا ن میں شر ح و بسط کے سا تھ بیا ن کر ے ۔ عبد اللہ بن عمر بن عبد العزیز (ہباری)نے ایک عالم فا ضل کو بلایا جو منصورہ میں رہتا تھا ۔ اس کا خا ندا ن عراق کا تھا۔ یہ عالم ذہین و طباع اور معا ملہ فہم ہو نے کے سا تھ عر بی زبا ن کا اچھا شاعر بھی تھا، اس کی نشو و نما ہند میں ہو ئی تھی اور وہ یہاں کی مختلف زبانوں سے واقف تھا ۔ عبد اللہ بن عمر بن عبد العزیز نے الور کے مہارا جہ مہروق بن را ئق کی بات اس کے سا منے رکھی اس نے راجہ کی خد مت میں حا ضری سے پہلے ایک قصیدہ لکھ کر بھیج دیا ۔ اس نے قصیدہ میں اپنی ان ضروریا ت کا تذ کرہ کیا تھا جو مہارا جہ کے پاس جا نے کے لئے درکار تھیں۔ جب یہ قصیدہ را جہ کو سنا یا گیا تو وہ بہت خوش ہوا اور عبد اللہ بن عمر کو لکھا کہ اس قصیدہ لکھنے وا لے عالم کو فوراً بھیج دیا جا ئے ، چنا نچہ عبد اللہ بن عمر نے اس عا لم کو را جہ کے پاس الور بھیج دیا جہاں وہ تین سا ل تک مقیم رہا ۔ جب منصورہ وا پس آ یا توعبد اللہ بن عمر نے را جہ کے بارے میں در یا فت کیا ۔ عا لم نے پوری تفصیل بیان کی اور کہا میں نے را جہ کو اس حا ل میں چھو ڑا ہے کہ قلب و زبا ن سے تو وہ مسلما ن ہو گیا ہے مگر حا لا ت کی نزا کت اور سلطنت کے خیا ل سے اپنے اسلام کا اظہار نہیں کر سکا ہے ۔ اس نے یہ بھی بتا یا کہ را جہ نے مجھ سے قر آ ن کی تفسیر ہندی زبا ن میں بیا ن کر نے کی فر ما ئش کی تو میں نے یہ کام بھی کیا ۔۔۔ را جہ نے اپنے لئے ایک مخصو ص کمرہ بھی بنوایا تھا جس میں وہ تنہا داخل ہوکر نماز پڑ ھتا تھا اور کسی دوسرے کو اس کی اطلاع نہیں ہو تی تھی۔ ار کان دو لت سمجھتے تھے کہ راجہ مہمات سلطنت اور ذا تی معا ملات میں غور و فکر کے لئے اس کمرے میں جا یا کرتا ہے۔ اس در میان میں را جہ نے مجھے تین بار ہد یہ میں سو نا دیا جس کی مجموعی تعداد 6سو سیر تھی ۔ (عجا ئب الہند طبع یورپ)

یہ واقعہ نقل کر نے کے بعد قاضی اطہر مبارک پوری نے لکھا ہے :

وا ضح ہو کہ اس زما نہ میں مہارا جگا ن الور سلا طین منصورہ کی ماتحتی میں ان کے باج گزار بن کر حکو مت کرتے تھے اور الورین مسلما نوں کی بہت بڑی تعداد آباد تھی اور اسلامی شان و شو کت بر پا تھی۔

(ہندوستان میں عر بوں کی حکو متیں: ص 91 ۔ 93)

جناب ابو ظفر دسنوی نے یہ واقعہ یوں بیان کیا ہے:

270ھ میں یہاں ( الور) کے ایک ہندو را جہ نے جس کا نام عر بوں نے مہرو ک بن رائک لکھا ہے ، منصورہ کے حاکم عبد اللہ بن عمر ہباری سے در خواست کی کہ سندھی (ہندی) زبان میں مذ ہب اسلام کی تعلیمات لکھ کر بھیج دے ۔ عبد اللہ ہباری نے یہ کام ایک شخص کو دیا جو در حقیقت عراقی تھا مگر اس کی پرورش منصورہ میں ہو ئی ۔ وہ بڑا ذہین اور سمجھ دار تھا اور اس ملک کی متعدد زبا نوں سے واقفیت رکھتا تھا ۔اس نے ایک قصیدہ تیار کیا جس میں وہ تمام امور بیان کئے جو را جہ چاہتا تھا ۔ عبد اللہ ہباری نے اس قصیدہ کو را جہ مہروک کے پاس بھیج دیا ۔ راجہ نے سن کر پسند کیا اور عبد اللہ سے کہا کہ شاعر کو اس کے دربار میں بھیج دیا جا ئے ۔ چنا نچہ عبد اللہ نے اسے بھیج دیا جو وہاں تین سال رہا ۔ واپسی تک را جہ اس سے خوش رہا۔ 273ھ میں جب وہ عبد اللہ ہباری سے ملا تو را جہ کے متعلق سوا ل کر نے پر اس نے کہا کہ جس وقت میں وہاں سے وا پس آ رہا تھا تو را جہ سچے دل سے مسلمان تھا لیکن سلطنت چھن جا نے کے خوف سے اس کا اظہار نہیں کرسکتا تھا ۔ اس نے مزید بتا یا کہ را جہ نے اس سے سند ھی زبان میں قرآن کی تفسیر لکھنے کی بھی فر ما ئش کی ، وہ روزا نہ تھوڑی تھو ڑی تفسیر لکھتا اور را جہ کو سنا تا ۔ سندھی شا عر کا بیان ہے کہ را جہ نے تین دفعہ کر کے چھ سو من سو نا اسے دیا ۔ (تاریخ سند ھ، دسنوی: ص 195۔ 196 )

جناب سید سلیمان ندوی بتاتے ہیں :

قر آ ن پاک کا پہلا ہندی تر جمہ۔۔۔ ہندی میں یا سند ھی میں ایک ہندو را جہ کے حکم پر کیا گیا ۔270ھ میں الرا کے را جہ مہرو گ نے جس کا را ج کشمیر با لا ( کشمیر ) اور کشمیر زیریں ( پنجا ب ) کے بیچ میں ہے اور جو ہندوستان کے بڑے را جا ئوں میں ہے ۔ اس نے منصورہ کے امیر عبد اللہ بن عمر کو لکھ بھیجا کہ کسی ایسے شخص کو میرے پاس بھجئے جو ہندی میں ہم کو اسلام کا مذہب سمجھا جا سکے ۔ منصورہ میں عراق کا ایک مسلمان تھا جو بہت تیز طبیعت سمجھ دار اور شاعر تھا ۔ چو نکہ ہندوستان میں پلا تھا اس لئے یہاں کی مختلف زبانیں وہ جا نتا تھا۔ امیر نے اس سے را جہ کی خوا ہش کا اظہار کیا ۔ وہ تیار ہوا ۔ وہ را جہ کے در بار میں تین سال رہا اور اس خواہش سے اس نے قر آ ن کا ہندی زبان میں ترجمہ کیا ۔ را جہ روزانہ تر جمہ سنتا تھا اور اس سے بے حد متا ثر ہو تا تھا ۔( عجا ئب الہند ص4 )

( عر ب و ہند کے تعلقا ت ۔ ص 241 ۔ 242)

جناب اعجاز الحق قدوسی نے لکھا ہے:

ایک عراقی عالم نے جو منصورہ میں رہتے تھے اور سندھی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے سند ھ کے را جا کے لئے عقا ئد اسلام کو منظوم کیا تھا ۔ پھر جب اس کے در بار میں پہنچے تو اس کو قر آ ن مجید کا تر جمہ باقاعدہ سند ھی زبان میں پڑ ھا یا ۔ اور اس کی فر مائش پر قر آ ن مجید کا ترجمہ سند ھی زبان میں کیا ۔ یہ قر آ ن مجید کا پہلا تر جمہ تھا جو سند ھی زبان میں ہوا۔

( تاریخ سند ھ ۔ جلد اول ۔ص 314۔315)

جناب محمد اسحاق بھٹی بتاتے ہیں:

اصل روا یت ابو محمد حسن بن حمو یہ بن حرا م بن حمویہ نجیدی سے ہے وہ کہتے ہیں کہ میں 288ھ میں سندھ کے شہر منصورہ میں مقیم تھا وہاں کے بعض ثقہ لو گوں نے مجھے بتا یا کہ 270ھ میں سند ھ کا وا لی عبد اللہ بن عمر ہباری مقرر ہوا۔۔ 270ھ ہی میں سند ھ کے ایک شہر، ارور کے ہندو را جہ نے جس کا نام عر بوں کے نزدیک مہرو ک بن را ئک تھا، عبد اللہ بن عمر ہباری سے در خواست کی ۔ الخ ( فقہائے ہند : 1؍ 89۔91 بحوالہ عجا ئب الہند۔ بز ر گ بن شہر یار (مع فرا نسیسی ترجمہ) ص 2 تا 4 طبع 1886ء )

اور متر جم کے بارے میں لکھتے ہیں :

سند ھ کا یہ ایک گم نام عا لم اور مفسر تھا اور جہاں تک ہمیں معلوم ہو سکا ہے غیر عر بی زبانوں میں سند ھی وہ پہلی زبا ن ہے جس کو قر آ ن مجید کا تر جمہ و تفسیر کر نے اور اسلا می تعلیمات کو اشعار کے قا لب میں ڈ ھا لنے کا فخر حاصل ہوا ( فقہائے ہند ۔ج اول۔ ص 91)

ہمیں معلوم نہیں کہ یہ تر جمہ مکمل تھا یا نا مکمل ، اور یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ تر جمہ لکھا گیا یا زبانی درس کی صورت میں ہی رہا ۔ اگر لکھا گیا تو کہاں گیا ؟ اور ہمیں اس متر جم قرآ ن کا نام بھی معلوم نہیں ۔ نیز سو نے کی مقدار میں مبا لغہ معلوم ہو تا ہے۔ عجا ئب الہند سے نقل کرتے ہو ئے جناب مبارک پوری چھ سو سیر سو نا کہتے ہیں اور اور اسی کتاب سے دسنوی نقل کرتے ہوئے سو نے کو چھ سو من بتا تے ہیں۔ ویسے من کا مطلب 40 سیر یا40 کلوگرام نہیں ہے بلکہ اس دور میں 46 تو لے وزن کو عربی من کہتے تھے ۔ اور یوں تین من تقریباًدو سیر انگریزی کے برا بر ہو تے ہیں۔ جیسا کہ تاریخ سندھ ۔دسنوی۔ کے صفحہ 243 میں و ضا حت مو جود ہے۔

271ھ میں جب متر جم راجہ کے پاس بھیجا گیا، اس وقت عبد اللہ بن عمر ہباری کو منصورہ کا حکمران بتا یا جاتا ہے، متر جم تین سا ل بعد وا پس آ ئے تو اس کی ملاقات موسی بن عمر سے ہو نی چاہیے نہ کہ عبد اللہ بن عمر ہباری سے کیو نکہ اس وقت موسی بن عمر ہباری حکمران تھا۔ جیسا کہ روایت ذیل سے ظا ہر ہو تاہے:

أھدی موسی بن عمر بن عبدالعزیزالھباری صاحب السند الی المعتمد علی اللہ فی سنۃ احدی وسبعین و مأتین ھدیۃ ۔ کہ سند ھ کے حاکم موسی بن عمر بن عبد العزیز نے 271ھ میں خلیفہ معتمد کی خد مت میں ہد یہ بھیجا )

(ہندوستان میں عر بوں کی حکو متیں ۔ ص 93۔94)

اور مز ید یہ کہ اس تر جمہ کو کسی مسلمان نے دیکھا، نہ سنا، نہ نقل کیا۔الور ہباریوں کی باجگذار ریاست تھی اور منصورہ سے شائد دو فر سخ کی مسافت پر۔وہاں کے حا لات معلوم کر نے کے لئے کسی دور دراز سفر کی ضرورت نہ تھی اور ویسے بھی بتا یا جا تا ہے کہ اس ریاست میں مسلمان بھی کا فی تعداد میں مقیم تھے، اس لئے مسلمانوں کی باہم آ مد و رفت بھی رہتی ہو گی۔اس ماحول میں اس تر جمے اور اس کے متر جم کا مجہول رہ جا نا عجیب سی بات ہے۔

نیز ہباری دور کی ریاست الور ایک مختصر سی ریاست تھی، کسی زما نہ گذ شتہ کی بہت بڑی ریاست نہ تھی جس کا را جہ چھ سو سیر یا چھ سو من سو نا اس خد مت پر متر جم کو دے سکتا۔

پیرو مل، سر باتک ، رتن

را جہ پیرو مل:

قا ضی اطہرمبار کپوری لکھتے ہیں دوسری صدی کے خاتمہ پر مالا بار کے را جہ پیرو مال نے اسلام قبول کیا جسے عر بی میں سا مری کہا جاتا ہے ۔ اس واقعہ نے ملیبار ،کو چین اور کیرا لا و غیرہ میں اشاعت اسلام میں مدد دی ۔ سا مری کی شخصیت جنو بی ہند کی قدیم اسلا می تا ریخ میں بڑی پر کشش ہے اور اس کے بارے میں طر ح طر ح کی باتیں مشہور ہیں ۔ زین الدین عبد العزیز معبری ملیبا ری نے تحفہ المجا ھدین فی بعض اخبار البر نکا لیین میں سا مری کے اسلام لا نے اور جنوبی ہند میں اسلام کے پھیلنے کا حا ل تفصیل سے لکھا ہے یہ کتا ب 993ھ میں لکھی گئی، اس نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ادھر آ ئی، سا حلی شہر کدنکلور ( کر ن گنور )(کو چی سے کوئی 50 کلو میٹر دور) سے گذری تو راجہ سا مری نے انہیں در بار میں بلایا ۔ اسلام کی باتیں سنیں اور خفیہ طور پر مسلما ن ہو گیا، لیکن فقیروں سے کہا کہ اسے خفیہ رکھو۔ پھر کچھ دنوں بعد ان کے سا تھ عر ب روا نہ ہوا ۔ فند رینہ ( پنڈ را نی ) اور درفتن ( دھر م پٹن) ہو تاہوا عمان کے مقا م شحرمیں پہنچا۔ یہاں کچھ عر صہ رہ کر جماعت تیار کی جو ملیبار چل کر اسلام کی تبلیغ کر ے، جس میں شر ف بن مالک ، ما لک بن دینار اور مالک بن حبیب مشہور ہیں۔چلنے سے پہلے را جہ بیمار ہو گیا اور شحر میں فو ت ہو گیا ۔ تینوں حضرات مالا بار آ ئے ۔را جہ کی و جہ سے لو گوں نے ان کی آ ؤ بھگت کی ۔ان لو گوں نے اسلام کی تبلیغ کی، ہر جگہ مسجد بنا ئی ۔ معبری کا کہنا ہے کہ ہمیں اس را جہ کی تا ریخ کا پتہ نہیں مگر گمان یہ ہے کہ یہ را جہ دوسری صدی کے بعد تھا اور یہ جو مشہور ہے کہ یہ راجہ عہد رسا لت میں معجزہ شق القمر دیکھ کر مسلمان ہوا اور رسول اللہ ﷺ کی خد مت میں حا ضر ہوا اور وا پسی پر مبلغین کی ایک جماعت لے کر چلا مگر شہر پہنچ کر فوت ہو گیا، تو یہ بات صحیح نہیں۔ آج کل ( یعنی دسویں صدی ) میں عوا م میں مشہور ہے کہ یہ را جہ ظفار میں مدفو ن ہے نہ کہ شحر میں ۔ تاریخ فر شتہ میں بھی یہی لکھا ہے کہ وہ عہد رسا لت میں مسلما ن ہوا ۔ بعض مستشرقین بھی اسی کے قا ئل ہیں مگر روا یات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ را جہ دوسری صدی کے آ خر یا تیسری صدی کے شروع میں تھا۔ بعض مغر بی محققین نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ سامری ( پیرو مال ) 25 اگست 825ء ( 210ھ ) کو ما لا بار سے نکلا اور 827ء (212ھ ) کو سا حل عر ب پر پہنچا اور 831ء (216ھ) میں فوت ہوا ۔ اس کی موت کے دو سا ل بعد اس کے رفقاء 833ء ( 219ھ) میں نوا ح ملیبار پہنچے ۔ تفصیل کیلئے دیکھو تحفۃ المجا ہدین ۔ص 12 تا 17 ( ہندوستان میں عر بوں کی حکو متیں ۔ 53)۔را جہ سامری کے مسلما ن ہو نے اور اس کے عر ب رفقاء کے ما لا بار میں تبلیغ اسلام اور تعمیر مسا جد کا زما نہ خلیفہ مامون کا دور ہے ۔

راجہ سر باتک

مسعودی نے بتا یا ہے کہ 303ھ میں قنو ج کی حکو مت ملتا ن میں شا مل ہو گئی اور یوں اس کا شمار عالم اسلام کی حدود میں ہو نے لگا ۔۔۔ قنو ج کے را جوں نے مسلمانوں کی دل جو ئی اور تا لیف قلب کے واسطے اسلام اور مسلما نوں سے خصو صی تعلق ثا بت کر نے کی کو شش کی۔۔۔ چنا نچہ قنوج کے را جہ سر با تک نے جو 333 ھ میں فو ت ہوا دعوی کیا کہ میری عمر بہت زیادہ ہے اور میں نے دو مر تبہ مکہ میں اور ایک دفعہ مد ینہ میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقا ت کی ہے اور آ پ ﷺنے حذیفہ، اسامہ اور صہیب کو دعوت اسلا م دینے کے لئے قنو ج بھیجا جس پر میں نے لبیک کہہ کر اسلام قبول کیا اور آپ کے مکتو ب گرا می کو بوسہ دیا، جیساکہ اسحاق بن ابرا ہیم طو سی اور ابو سعیدمظفر بن اسد حنفی طبیب و غیرہ نے خود سر با تک را جہ قنو ج کی زبا نی یہ بات سن کر بیا ن کی ہے ۔

سربا تک را جہ قنو ج کے دعوی صحا بیت اور دعوت اسلام و غیرہ کی روا یا ت کو حا فظ ابن حجر نے ا لا صا بہ میں نقل کر کے حا فظ ذہبی کی تجرید اسماء الصحا بہ کے حوا لے سے اس واقعہ کی تکذ یب کی ہے اور اس را جہ کے بیان کو کذ ب قرار دیا ہے ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں