تاریخ اہل حدیث-ڈاکٹر بہاؤ الدین

لطف کی با ت یہ ہے کہ اس اقتباس سے پہلے مو صو ف نے لکھا ہے :

اہل سنت و الجما عت بلکہ تما م عقلاء کے نز دیک ہر فن میں اس فن کے ما ہرین کی را ئے معتبر ہو تی ہے ، مثلاً ڈاکٹری مسئلہ میں ڈا کٹر کی ، انجنیئر نگ کے مسئلہ میں انجنیئر کی، زراعت کے مسئلہ میں ما ہر زراعت کی ، گرامر میں ما ہر ین صرف و نحو کی ، لغت میں ما ہر ین لغت کی را ئے معتبر ہو گی اور ا حا دیث کی صحت وضعف میں علم حد یث کے ما ہر ین کی را ئے کا اعتبار ہو گا۔ ( بارہ مسا ئل ۔ ص 9)

یہ پیرا ایسالگتا ہے کہ اللہ تعا لی نے مو صو ف سے غیرشعوری طور پر لکھوا دیا ہے ، بہ مصداق جا دو وہ جو سر چڑ ھ کر بو لے ، اس میں اعترا ف ہے کہ ا حا دیث کی صحت و ضعف کے فیصلے میںمحد ثین کی را ئے معتبر ہو گی کیو نکہ وہی علم حد یث کے ما ہر ہیں۔ اس پیر ے سے ، جو حقیقت پر مبنی ہے ، چو نکہ مو صو ف کے مذکورہ نقل شدہ پیرے کی تر دید ہو تی ہے ، جس میں اس کے بر عکس فقہاء کے اجتہا دی ا صو لو ں کی روشنی میں مرتب شدہ فقہی مسا ئل کو ا حا دیث کے مقا بلے میں صحیح قرار دیا گیا ہے ، اس لئے اپنی با ت کو کسی طرح صحیح ثا بت کر نے کے لئے ایک دم پینترا بد ل لیا اور لکھا :

البتہ یہ با ت خو ب سمجھنی اور یاد ر کھنی چا ہیے کہ حدیث کے صحت و ضعف کی دو قسمیں ہیں :

1 ۔ صحت و ضعف بہ حسب السند ،

2 ۔ صحت و ضعف بہ حسب العمل ۔ یعنی جو حد یث معمو ل بہ ہے وہ صحیح ہے اور جو حد یث مترو ک و غیر معمو ل بہ ہے، وہ ضعیف ہے ۔ اسی معنی میں امام اعظم ابو حنیفہ نے اما م اوزاعی کے ساتھ رفع یدین کے مناظرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی حد یث کو ضعیف کہا تھا اور اما م ما لک نے رفع ید ین کی تما م حد یثوں کو ضعیف کہا ہے ( المدو نۃ الکبری ۔ج 1 ص 71) ور نہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی حد یث سنداً بالکل صحیح بلکہ اصح الا سا نید ہے ۔۔۔ ( بارہ مسا ئل ۔ص 8 )

یہ مختصرپیرا غلطی ہا ئے مضا مین کا آ ئینہ دار بلکہ مجموعہ اکا ذیب ہے :

اولاً: صحت و ضعف ِحدیث کی یہ دو قسمیں کس نے بیان کی ہیں ؟ یہ ا صول ، ا صو ل حد یث کی کس کتا ب یا ا صو ل فقہ کی کس کتا ب میں بیا ن ہوا ہے ؟ گھر بیٹھے تو احا دیث کورد کر نے کا ا صو ل نہیں بنا یا جا سکتا ۔ نہ خا نہ ساز ا صو لو ں کی و جہ سے ا حا دیث کو رد کر نے ہی کا کوئی جواز ہو سکتا ہے۔

ثا نیاً : یہ دعوی کہ اما م ابو حنیفہ ؒنے بھی اسی معنی میں ، یعنی اسی ا صو ل کی بنیاد پر ایک منا ظرے میں حضر ت ابن عمر کی حدیث کو ضعیف کہا تھا ، یہ بھی سرا سر جھو ٹ ہے ۔ او لاً اس لئے کہ اس سے یہ معلو م ہو تا ہے کہ مبینہ ا صو ل اما م صا حب ہی کا بنا یا ہوا، یا کم از کم بیا ن کیا ہوا، یا ان کے علم میں تھا ، اسی لئے انہو ں نے اسے استعما ل کر کے حد یث کو رد کر دیا ، حا لا نکہ ہمارا دعوی ہے کہ اما م ابو حنیفہ ﷫نے نہ خود یہ ا صو ل بنا یا ہے ، نہ اسے بیان کیا ہے ،اور نہ ان کے علم ہی میں یہ تھا ، کیو نکہ ان کو تو ا حا دیث رد کر نے کی کو ئی ضرورت ہی نہیں تھی ، البتہ ان کے دور تک ا حا دیث کے مجموعے چو نکہ مر تب و مدو ن نہیں ہو ئے تھے ، اس لئے بہت سی ا حا دیث ان کے علم ہی میں نہ آ سکیں ، اور ان کو یہ کہنا پڑا کہ میری را ئے کے خلاف جب تمہیں صحیح حد یث مل جا ئے تو سمجھنا یہی میرا مذ ہب ہے اور حد یث کے خلاف میری بیا ن کردہ را ئے کو چھوڑ دینا ۔ اس من گھڑ ت ا صو ل کی ضرورت تو اس وقت پیش آئی جب تقلیدی جمود نےیہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کر لی کہ بر ملا کہاجانے لگا ۔

مر ا از حد یث چہ کار ۔ قو ل ابی حنیفہ بیار

مجھے حد یث سے کیا سرو کار ۔ مجھے تو ابو حنیفہ کاقو ل درکار ہے ۔

یعنی جب احا دیث صحیح سے جا ن چھڑا نا ، تقلیدی مذاہب کی ایک نا گز یر ضرورت بن گئی تو پھر مذ کورہ قسم کے متعدد ا صو ل گھڑ لئے گئے، تا کہ ان کی آڑ میں ا حا دیث کو کنڈم بنا نا آسا ن ہو جا ئے۔ مذ کورہ ا صول بھی ان ہی خا نہ ساز ا صو لو ں میں سے ایک ہے جو نہ امام ابوحنیفہ نے بیا ن کیا ہے، اور نہ ان کے تلامذہ اما م محمد ، قا ضی ابو یوسف، امام زفر و غیرہ نے بیا ن کیا ہے اور یہی ا صو ل نہیں ، رد احا دیث کے جتنے بھی ا صو ل بنا ئے گئے ہیں ان میں سے کسی کی بھی نسبت مذ کورہ ائمہ کے ساتھ ثا بت نہیں کی جا سکتی۔

ثا لثا: اما م ابو حنیفہ اور اما م ابن المبا ر ک کے درمیان جو مکا لمہ یا منا ظرہ ہوا ،یہ صحیح سند سے متعدد کتا بو ں میں بیا ن ہوا ہے مثلاً تا ویل مختلف الحد یث ، لا بن قتیبہ: ص 54 ، کتا ب السنۃ لعبد اللہ بن اما م ا حمد: ص 68 ، تا ریخ بغداد للخطیب تر جمہ نمبر 1248 ، جلد 3 ص 203 ۔ السنن الکبری للبہیقی۔ جلد 2 ص 82 ۔ جزء رفع الیدین للا ما م بخاری ۔ التمہید لا بن عبد البر۔ جلد 5 ص 66 ۔ کتا ب الثقا ت لا بن حبا ن جلد 8 ص 45 ۔وغیرہ ۔ کسی بھی کتا ب میں یہ نہیں ہے کہ اما م ابو حنیفہ نے عبد اللہ بن عمر کی حد یث رفع الیدین کو ضعیف کہا تھا ، ان کے در میا ن کیا گفتگو ہو ئی تھی وہ ملا حظہ فر ما ئیں ۔ السنن الکبری کی روا یت کا تر جمہ ہم پیش کر تے ہیں :

اما م وکیع بیا ن کر تے ہیں کہ کو فے کی مسجد میں عبد اللہ بن مبار ک نماز پڑ ھ رہے تھے، عبد اللہ بن مبارک ر کوع میں جا تے اور رکو ع سے سر ا ٹھا تے وقت رفع الیدین کر تے ،اور ابو حنیفہ نہیں کر تے تھے ۔ جب نماز سے فار غ ہو ئے، تو ابو حنیفہ نے عبداللہ بن مبار ک سے کہا : اے ابو عبد الر حمن ! میں نے آ پ کو د یکھا کہ آپ رفع الیدین کثر ت سے کر تے تھے ،کیا آ پ کا ارادہ ا ڑ نے کا تھا ؟ عبد اللہ بن مبارک نے کہا : اے ابو حنیفہ ! میں نے آ پ کو د یکھا کہ جب آ پ نے نماز کا آ غاز کیا، تو رفع الیدین کیا ، کیا آ پ کا ارادہ ا ڑ نے کا تھا ؟

یہ سن کر اما م ابو حنیفہ خا موش ہو گئے ۔ (السنن الکبری۔ جلد2 ص 82)

تا ریخ بغداد میں یہ واقعہ اس طر ح بیا ن ہوا ہے :

اما م عبد اللہ بن مبار ک نے اما م ابوحنیفہ سے رکوع میں جا تے وقت رفع الیدین کے با رے میں پو چھا تو امام ابو حنیفہ نے فر مایا : کیا وہ ا ڑنا چا ہتا ہے جس کے لئے وہ رفع الیدین کرتا ہے ؟ امام وکیع فر ما تے ہیں کہ اما م ابن مبا رک بہت عقل مند آ د می تھے، انہو ں نے جوا ب دیا : اگر وہ پہلی مر تبہ رفع الیدین کرتا ہوا اڑا ہے تو دوسری مر تبہ بھی ا ڑ جا ئے گا ۔ یہ جوا ب سن کر اما م ابو حنیفہ خا موش ہو گئے اور کو ئی با ت نہیں کی ۔ (تاریخ بغداد )

بہر حا ل یہ واقعہ جہا ں بھی بیا ن ہوا ہے جن کے حوالے ہم نے بیا ن کر دئیے ہیں ، کسی میں بھی یہ بات بیا ن نہیں ہو ئی کہ اما م ابو حنیفہ نے عبد اللہ بن عمر کی حد یث کو ضعیف کہا تھا ۔ یہ بھی مذ کورہ ، شیخ الحد یث والتفسیر کا جھوٹ ہے ۔

را بعاً:یہ بھی جھو ٹ ہے کہ اما م ما لک نے المدونۃ الکبری میں رفع الید ین کی تما م حد یثو ں کو ضعیف کہا ہے ۔ ایسی کو ئی با ت مذ کورہ کتا ب میں نہیں ۔ البتہ ان کی یہ را ئے وہا ں بیا ن ہو ئی ہے کہ وہ اس عمل کو ضعیف قرار دیتے تھے ۔

علاوہ ازیں اس قو ل کا انتسا ب بھی اما م ما لک کی طرف صحیح نہیں ہے کیو نکہ اما م صا حب نے اپنی حد یث کی کتا ب موطا میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی حد یث رفع الیدین بیا ن کی ہے جس میں ر کوع سے ا ٹھتے وقت بھی رفع الیدین کا ذکر ہے ۔ د یکھئے مو طا اما م ما لک کتاب الصلوۃ حد یث 16،20 با ب افتتا ح الصلوۃ۔

اس سے محققین کی اس بات کی بھی تا ئید ہو تی ہے کہ، المدو نۃ الکبری ، کا انتساب امام صا حب کی طرف مشکو ک ہے کیو نکہ جب انہو ں نے خود اپنی اہم تر ین کتا ب موطا میں رفع الیدین کی حد یث بیا ن کی ہے تو وہ پھر اس عمل کو ضعیف کیو نکر قرار دے سکتے ہیں ؟

خا مساً : اس پیرے کے آ خری حصے سے، بلی تھیلے سے بالکل با ہر آ گئی، کے مصداق تقلیدی جمود بالکل وا ضح ہو کر سا منے آ گیا ہے کہ عبد اللہ بن عمر کی حد یث رفع الیدین سنداً بالکل صحیح ہی نہیں ، بلکہ ا صح ا لا سا نید ہے ، لیکن بقو ل مو لف بارہ مسا ئل، مترو ک اور غیر معمول بہ ہو نے کی و جہ سے اما م ابو حنیفہ اور اما م ما لک کے نز دیک ضعیف ہے ، مو لف مو صوف نے ان دو امامو ں کا نا م تو دھو کہ دہی کے لئے استعما ل کیا ہے ، کیونکہ ان آ ئمہ کو تو اس خا نہ ساز ا صو ل کا علم ہی نہیں تھا، نہ انہو ں نے یہ ا صو ل بنا یا، اور نہ اسے کبھی استعمال ہی کیا ہے ، پھر ان کی طرف مذکورہ با ت کا انتساب کس طر ح صحیح ہو سکتا ہے ؟

یہ ا صو ل تو خا نہ ساز ہے اور مقلدین جا مدین نے بنا یا ہے ، ور نہ کو ئی سچا مسلما ن یہ تصور ہی نہیں کر سکتا کہ حد یث سنداً بالکل صحیح ہی نہیں بلکہ اصح الا سا نید ( صحیح ترین ) ہو اور پھر اس کو مترو ک اور غیر معمو ل بہ سمجھ کر رد کر دے۔آ خر ایک صحیح تر ین حد یث کو مترو ک اورغیر معمو ل بہ قرار دینے کا ا صو ل اور ضا بطہ کیا ہے؟ اسکا فیصلہ کو ن کر یگا کہ یہ حد یث مترو ک ہے ؟ بلکہ یہ فیصلہ کر نیکا کو ئی بڑے سے بڑا امام مجتہد او رفقیہہ بھی مجازہے ؟ نہیں ہر گز نہیں ۔ یہ حق کسی کو حا صل ہی نہیں کہ وہ ثا بت شدہ ایک صحیح حد یث کو نا قا بل عمل قرار دیکر رد کر دے۔

٭٭٭

پانی پلاؤ، گناہ دھلیں گے

امام قرطبی﷫ نے فرمایا :

’’تابعین میں سے بعض سمجھتے تھے کہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہو جائیں ، وہ پیاسوں کو پانی پلائے کیوں کہ اللہ نے ایسے انسان کو بخش دیا تھا جس نے ایک کتے کو پانی پلایا تو ایسے انسان کی بخشش کیوں نہ ہوگی، جس نے اپنے کسی مؤمن بھائی کو پانی پلا کے زندگی بخش دی۔ ‘‘ ( تفسیر قرطبی : 7؍215)

٭٭٭

جسے درود نصیب ہو جائے

امام ابن جوزی ﷫ فرماتے ہیں:

’’جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی زبان پر نبی مکرم جناب محمد ﷺ پر درود پڑھنا آسان کر دیتا ہے ۔‘‘

(بستان الواعظين: 1؍200)

تبصرہ کریں