تاریخ اہل حدیث۔ڈاکٹر بہاؤ الدین

ان سب سے بڑ ھ کر بڑی و جہ ثبو ت یہ ہے کہ میں نے یکم دسمبر 1877ء کو ( جس کو آج بوقت تحریر سال سے زا ئد عر صہ ہو لیا ہے) مو لوی محمد قا سم کے مؤلف ہو نے کا اعلان جاری کیا اور مو لوی صا حب نے ا س پر سکو ت فر ما یا اور اس کا خلاف مشتہر نہ کیا ، اور نہ خا ص میری طرف اس با ب میں کچھ لکھا ، باوجودیکہ میری ان کی سا بق سے خط و کتابت اور ملاقات بھی ہے۔

اس سے بڑھ کر وجہ ثبو ت یہ ہے کہ ضمیمہ اشاعۃ السنہ مطبوعہ ذی قعد 1295ھ میں، میں نے بجوا ب محمود حسن ( جنہو ں نے مو لوی قاسم کے مصنف رسا لہ ہو نے کا انکاراور اپنے مئو لف ہونے کا اظہارکیاہے) میں نے صا ف لکھ دیا ہے کہ مو لوی محمد قا سم مئو لف ہو نے سے انکار کریں تو وہ انکار کسی اخبار میں در ج کرائیں، یا بذریعہ خط خا ص مجھے اس سے اطلا ع دیں تو میں اپنے دعوی سے دست بردار ہو جا ئونگا۔ اس پر بھی مولوی قاسم کچھ نہیں بو لے ، گو یا میرے بیان کے مصدق ہیں۔

شا ئد ان و جو ہا ت کے جوا ب میں حواریین مو لوی محمد قاسم یہ ارشاد کریں کہ جو شان نزول اس قصہ کا کسی نے تمہاری طرف لکھا ہے یہ درو غ ہے اور بیا ن حا جی ظفر اللہ اور شیخ محی الدین کا بھی خلاف واقع ۔

اس کے جوا ب میں اگر ان شہود کی تو ثیق و تعدیل کروں یا اور دلا ئل سے اس دعوی کو ثا بت کرو ں تو ایک بحث طویل ہو تی ہے، جو میرے مقصود سے اجنبی ہے اور ہم رنگ کو ہ کندن و گیا ہے بر آوردن معلوم ہو تی ہے ۔ لہذا میں اس کے جوا ب میں اسی قدر پر اکتفا کرتا ہو ں کہ وہ بیان شا ن نزو ل و اقرار جناب بمشا فہ ثقا ت عدو ل غلط ہے اور ناقل کا افترا ء، توآ پ لو گ اصل حقیقت اس کی مو لوی محمد قا سم سے لکھوا دیں اور ان کے قلم کا لکھا ہوا میرے پاس بھیج دیں، یا کسی اخبار میں ان کی طرف سے مشتہر کرا دیں کہ یہ رسالہ ہماری تصنیف نہیں ہے اور ہم نے اس کے مؤلف ہو نے کا اقرار و اظہار نہیں کیا ۔ پس میں انہیں کی شہادت ما ن جا ئو ں گا اور اپنا یہ دعوی چھو ڑ دو نگا۔

اس میں اگر کوئی عذر کر ے کہ وہ صو فی اور زا ہد آ دمی ہیں اور ان بکھیڑو ں کو فضول سمجھتے ہیں تو دفعیہ اس کا یہ ہے کہ امر حق کا اظہار توعین لوازم زہد و تدین سے ہے و قا طع فضو ل بکھیڑو ں کا ۔ پس جس حا لت میں ان کے مجرد انکار پر اس فضو ل بحث کا انقطاع ہو تا ہے تو اس پر اقدام کر نے سے ان کو کیا عذر ۔

با ایں ہمہ وہ انکار نہ کریں اور سا کت رہیں تو نا ظرین یقین کر لیں کہ مئو لف رسالہ وہی ہیں، اور تشہیر رسالہ بنام مولوی محمود حسن محض کذ ب ہے ۔ مر تکب اس کا خواہ کوئی ہو اور کیسا ہی بڑا مخدو م خلا ئق، ملک صفت مشہور ہو۔ اس صورت میں نا ظرین باانصا ف و منصفین بے اعتسا ف میرا ان کو مخا طب کر نا بے جا نہ سمجھیں اور اس کو نا حق الجھنا خیال نہ کریں۔ (اشاعۃ السنہ نمبر 1 جلد 2 ۔ 28 محر م 1296 ھ مطا بق 31 جنوری 1879ء ۔ مطبو عہ سفیر ہند پر یس امر تسر ۔ص 2 تا 7)

جناب محمد حسین بٹا لوی نے ادلّہ کا ملہ کا مفصل جوا ب لکھنا شروع کیا اور وہ اشاعۃ السنہ جلد 2 میں شا ئع ہوتا رہا ۔ اسی اثنا میں جنا ب محمد احسن امروہی ( جو 1870ء کے عشرے میں اہل حد یث کی صفوں میں شا مل تھے) نے مصبا ح ا لادلہ کے نام سے ادلہ کا ملہ کا جواب لکھ کر کتا بی صورت میں شا ئع کر ا دیا ۔ اس لئے جنا ب بٹا لوی نے اپنی تحریرکو نا تمام چھو ڑ تے ہو ئے اعلا ن کیا کہ

رسا لہ مصبا ح ا لا دلہ تا لیف مو لوی سید محمد احسن امروہی بجوا ب ادلہ کا ملہ مولوی محمد قا سم نانو توی چھپ کر شا ئع ہو رہا ہے۔۔ میں اس رسا لہ کو اکثر لوگوں کے حق میں اپنے رسا لہ اشاعۃ السنہ کی نسبت زیادہ مفید سمجھتا ہوں ۔۔ مسا ئل کا کو ئی طا لب ہو تو اس میں دیکھ لے۔ منا ظرہ کا ڈھنگ سیکھنا ہو تو اس سے سیکھے ۔ طرز ظرا فت مہذ با نہ معلوم کرنا ہو،تو اس سے کر ے۔ مکر می شیخ عبید اللہ( نو مسلم) اس کی تقریظ میں کیا خو ب لکھتے ہیں :

فقیر نے اس رسا لہ کو کلام محقق اور مدلل اور مطا بق عقا ئد اہل سنت اور موا فق مذہب سلف صا لح کے پا یا اور جا مع بہت مضا مین اور اکثر مسا ئل ضروریہ کا۔ اگر چہ اس کے بعض مقا م میں مثل مو لف رسا لہ ادلہ کا ملہ کے کلام شجا عا نہ اور ظرا فت آ میز بھی ہے و ہر چند یہ امور ادلہ ار بعہ شر عیہ میں دا خل نہیں ہیں لیکن بے شک اوقع فی النفوس ہو تے ہیں ، چنا نچہ سعدی نے فر ما یا:

بہ پرویزن معرف پیختہ بشہد ظرا فت بر آ میختہ

میں ( محمد حسین ) اس کو اس سے بھی زیادہ سمجھتا ہوں۔ یہ کتا ب دہلی میں مولوی نور محمد ملتا نی مقیم مدرسہ مولا نا و شیخنا سید محمد نذ یر حسین محد ث دہلوی ، و میر معظم مہتمم مطبع فاروقی سے مل سکتی ہے اور دیرہ دو ن ضلع سہار ن پور میں محمد حنیف سو دا گر ولد پیر جی خدا بخش سو دا گر بازار دھا مون وا لہ سے مل سکتی ہے اور خا ص کر سکنہ پنجا ب کو بذ ریعہ راقم الحروف لا ہور مسجد چینیانوالی سے مل سکتی ہے ۔ ( اشاعۃ السنہ: 2 جلد 2 نمبر 6 ص 187۔188 )

مبا حثہ فرید کو ٹ سے متعلق غلط بیا نی

مبا حثہ فر ید کو ٹ 1883ء میں احنا ف کے بڑے مناظر مولوی ولی محمد تھے۔ مناظرے کے بعد وہ اپنی فتح کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے امر تسرجا کر چیلنج بازی شروع کی توجناب ثناء اللہ امرتسری نے لکھا:

مو لوی ولی محمد جا لند ھری وہی بز ر گ ہیں جو ریاست فر ید کو ٹ پنجا ب کے مبا حثہ میں از طرف حنفیہ پیش ہو ئے تھے۔ اس مبا حثہ میں کیا ہوا تھا ؟ ہمارے ہوش سے پہلے کی بات ہے اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے ۔ البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مبا حثہ مذ کورہ کی جو کیفیت مو لوی غلام دستگیر قصوری حنفی نے بحکم را جہ صا حب ریاست مذ کور لکھی ہے اس سے یہی معلوم ہو تا ہے کہ مو لوی و لی محمد مغلو ب ہو ئے اور اہل حد یث کے علماء غا لب ہو ئے ۔ اس کا ثبو ت یو ں ہے کہ مو لوی غلام دستگیر نے رویداد کو اس طر ح لکھا ہے کہ فریق اہل حد یث کی تقریر تو بہت تھو ڑے لفظو ں میں دکھا تے ہیں اور مو لوی ولی محمد کی تقریر بڑی طول طویل ایسے طر یق سے لکھتے ہیں کہ سمجھ دار اس کو پڑ ھ کر اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ جو کچھ بھی اس کتا ب میں ہے مو لوی صاحب کی قا بلیت کا نتیجہ نہیں بلکہ کو ئی محبو ب ہے اس پردہ زنگاری میں۔

غر ض یہ کہ اس کتا ب میں فریقین کی مصدقہ تحریرات نہیں بلکہ اس تصویر کا مصور کو ئی اور ہے ۔ علاوہ اس کے جو کچھ بھی ہے ایسا ہے کہ اہل حد یث کا ایک اد نی طا لب علم جس نے مشکوۃ شر یف بھی سمجھ کر پڑھی ہو، اس کا جوا ب دے سکتا ہے ۔ باو جود اس کے مو لوی و لی محمد خود اس دفعہ شعبا ن۔ جو لا ئی 1912ء میں امر ت سر تشریف لا ئے تو آپ نے اشتہار شا ئع کیا جس میں لکھا تھا کہ مبا حثہ فر ید کو ٹ کے اثر سے 35 ہزار غیر مقلدین تائب ہو ئے۔ پہلے تو ہم 35 ہزار کی تعداد سن کر خا موش رہے اور یہ سمجھا کہ یہ تعداد ہی اس اشتہار کے کذ ب کی دلیل ہے لیکن مو لوی صا حب مو صو ف نے جب وعظو ں میں للکار نا شروع کیا اور ایک اشتہار بھی دیا جس میں مو ضع ہری کے ضلع لاہور اور خا ص شہر لاہور کے مباحثہ کا ذکر تھا، جو انجمن نعما نیہ کے مکا ن پر ہوا تھا۔ اس اشتہار میں جنا ب نے خیریت سے 35 ہزار وا لے اشتہار سے بھی بڑ ھ کر کذ ب بیا نی کی ۔ اس لئے پہلے بذریعہ خط آ پ کو مبا حثہ کی دعوت دی گئی ۔ مگر مو لوی صا حب اور مباحثہ ؟ ایں چہ بوالعجبی است ۔ ہم نے علاوہ اور معمو لی شر طو ں کے یہ لکھا کہ مبا حثہ کے منصف ہم اہلحدیث علماء کو نہ کر یں گے بلکہ حنفی علماء کو بنا دیں گے جیسے مو لا نا محمود حسن حنفی دیو بندی یا مو لا نا خلیل احمد حنفی مدرس مدرسہ مظا ہر العلوم سہا ر نپور۔ یا مو لا نا شبلی نعما نی رکن ندوہ العلماء لکھنئو۔ اس کے جواب میں آ پ لکھتے ہیں یہ علماء ہم کو منظور نہیں ۔ منصفی کے لئے حر مین شریفین کے علماء مقرر ہوں گے۔ مو لوی صا حب نے یہ سمجھا کہ فریق ثا نی کو حرمین شریفین کے علماء کو منصف ما ننے میں تا مل ہو گا لیکن ہم نے صاف لکھا کہ حر مین شریفین کے علماء منظور ہیں مگر وہاں کے علماء چو نکہ اردو نہیں جا نتے اس لئے پر چہ عر بی اپنے ہا تھ سے مجلس میں لکھنا ہو گا۔ مو لوی صا حب کے استفسار پر یہ دلیل بھی لکھی کہ قرآن مجید میں فا کتبو کا حکم بھی یہی چا ہتا ہے کہ جو لکھنا جا نتا ہے وہ خود لکھے ۔ نیز آپ کے 36 علمو ں کا روشن سو ر ج اس سے خو ب چمکے گا ۔ یہ بھی لکھا کہ جتنا وقت ہم لیں گے اس سے دو گنا آ پ کا حق ہو گا۔ مگر افسوس مو لوی صاحب اس کی تسلیم پر نہ آئے اسی پر بضد رہے کہ ہم خود نہ لکھیں گے۔ کو ئی لکھنے وا لہ لکھتا جا ئے گا ہم بو لتے جائیں گے ۔ ہم نے جوا ب دیا کہ آپ کے بو لنے کے دوران آ پ کے محرر یا مشیر بدلتے جا ویں گے تو ایک جھگڑا پیدا ہو گا ۔ نیز آ پ کی لیا قت کا سو ر ج جس کے آ پ مدعی ہیں روشن نہ ہو سکے گا ۔ غر ض مو لوی صا حب اس پر بضد مصر رہے آخر کار امر ت سر سے چلتے بنے ۔

اب بھی ہم مو لوی صا حب سے مبا حثہ کر نے کو تیار ہیں علماء حنفیہ دیو بند، سہا رنپور یا لکھنئو کو منصف ما نیں تو پر چہ اردو میں لکھیں ۔ حر مین شریفین کے علماء کو منصف ما ننا ہو تو مبا حثہ کا پر چہ مقررہ وقت میں سا منے بیٹھ کر عر بی میں لکھیں تا کہ لو گ کہہ سکیں کہ چھتیس علمو ں کے عا لم کی تحریر ایسی ہو تی ہے ۔ کیا مولوی صاحب ایسا کریں گے ؟ جہا ں تک ہمارا خیا ل ہے ہر گز نہیں ۔ خدا کر ے ہمارا خیا ل غلط ثا بت ہو ۔ مو لوی صاحب کو اس پر بھی ضد رہی کہ جلسہ عا م ہو اور کو ئی رئیس تحریری ذمہ داری ہم کو دے ۔ اس کے جواب میں ہم یہی کہتے رہے کہ عا م جلسو ں میں فساد کا احتما ل ہو تا ہے اس لئے ہم اس کے خواہش مند نہیں ۔ اگر آپ کو شو ق ہو توآ پ انتظا م کریں ہم حا ضر ہو جا ئیں گے ۔ مگر مولوی صا حب یہی بہا نہ کرتے رہے یہاں تک کہ امر تسر سے کو چ کر گئے ۔

( اہل حد یث امر تسر23۔30 ۔ اگست 1912ء ص 3۔4 )

٭٭٭

تبصرہ کریں