تاریخ اہل حدیث- ڈاکٹر بہاؤ الدین

تیسری کتاب کا نا م ہے ار کا ن ا لاسلا م فقہ العبادا ت علی مذ ہب ا لا مام ابی حنیفہ النعما ن ۔

مو لف کا نا م ہے وہبی سلیما ن غا ؤ جی ۔ یہ دو جلدو ں میں ہے، مطبوعہ دار البشا ئر ا لاسلا میہ بیروت طبع او لی 2002ء ۔

اس میں بھی صرف تین فر ق بیا ن کئے گئے ہیں:

1۔ مرد تکبیر تحریمہ کے وقت کا نوں کے برا بر تک رفع الیدین کر ے لیکن عورت کند ھو ں کے برا بر تک رفع الیدین کر ے ، اس لئے کہ اس کی زند گی اور نماز کی بنیاد پر دے پر ہے ۔

2۔ مرد اپنا دا یا ں ہا تھ با ئیںپر نا ف کے نیچے ر کھے لیکن عورت اپنا دا یا ں ہا تھ با ئیں پر سینے پر ر کھے ۔ بغیر تحلیق کے ( حلقہ بنا ئے بغیر ) اس لئے کہ اس میں اس کے لئے زیادہ پردہ ہے ۔

3 ۔ عورت اپنی سرین پربیٹھے اس لئے کہ اس میں اس کیلئے زیادہ پردہ ہے۔

اس حنفی عا لم نے بھی ان فروق کے لئے کو ئی دلیل کتا ب و سنت سے نہیں دی ہے ۔

صرف یہ عقلی دلیل دی ہے کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔

عقل و قیاس ہی کی بنیاد پر حنفی علماء سے استفسار ہے کہ

1 ۔ عورت اگر کند ھے تک ہا تھ ا ٹھا نے کی بجا ئے دو انچ اورزیا دہ ہا تھ ا ٹھا کر کا نوں کے برا بر تک (مردوں کی طر ح ) ہا تھ ا ٹھا لے تواس میں بے پر د گی کس طرح ہو گی ؟

آ خر اس میں بے پر د گی کا کو ن ساپہلو ہے؟ اگر یہ فرق نص پر مبنی ہو تا تو پھر یہ سوا ل کر نے کا مجاز کو ئی مسلمان نہیں ہو سکتا تھا، لیکن یہ سوال ہم اس لئے کر رہے ہیں کہ اس کی بنیاد عقل و قیاس ہے ۔ اس لئے ہمیں بھی عقل و قیاس کی بنیاد پر سوا ل کر نے کا حق حاصل ہے تا کہ ہم سمجھ سکیں کہ واقعی اس کی کو ئی عقلی وقیاسی بنیاد ہے ۔ ور نہ ہمارے نز د یک تو اس کی عقلی و قیاسی بنیاد بھی نہیں ہے ۔

شرعی بنیاد توپہلے ہی نہیں ہے جیسا کہ و ضا حت کی جا چکی ہے۔ اسی طر ح دوسری کیفیا ت کی با بت بھی یہی سوا ل ہے کہ ان میں پر دے کا پہلو کس طر ح ہے ؟ اور اگر عورت، مرد ہی کی طر ح وہ کا م کر ے تو اس میں بے پر د گی کیسے اور کس طر ح ہے ؟

2۔دوسرا سوا ل یہ ہے کہ شر یعت اسلا میہ نے عورت کے لئے پر دے کے ا حکا م دئیے ہیں اور بے پر د گی کی صورتوں سے رو کا ہے ۔ اگر ان کیفیا ت و ہیئات میں واقعی عورت کے لئے پردہ اور بصورت د یگر بےپردگی ہو تی تو کیا شر یعت اسکا اہتما م کر نے کا حکم نہ دیتی ؟ کیا اللہ تعا لی بھو ل گیا ؟ یا رسو ل اللہ ﷺ اس مسئلے کو وا ضح نہیں کر سکے جیسا کہ بعد میں فقہا ئے ا حنا ف نے وا ضح کیا ؟

واقعہ یہ ہے کہ

اگر حد یث واقعی مآ خذ شر یعت ہے یعنی اسے تشریعی اور تقنینی حیثیت حا صل ہے ( اور بلا شبہ اسے یہ مقا م اور حیثیت حا صل ہے ) تو پھر ہر فرقے کا اپنے ذہنی تحفظا ت اور مخصوص فقہی استنبا طا ت و اجتہا دا ت کواہمیت دینا اور حد یث کو بلطا ئف الحیل نظر انداز کر دینا ،یا کسی نہ کسی خوش نما خا نہ ساز ا صو ل کے ذریعہ سے اسے مسترد کر دینا کس طرح مستحسن قرار دیا جا سکتا ہے ؟ یا کس طر ح اسے حدیث رسو ل کو ما ننا تسلیم کیا جا سکتا ہے ؟

حد یث رسو ل کو ما خذ شر یعت ما ننے کا مطلب اور تقا ضا تو یہ ہے کہ جو حد یث محد ثا نہ ا صو ل و جر ح و تعدیل کی روشنی میں صحیح قرار پا ئے، اسے ما ن لیا جا ئے اور جو ضعیف قرار پا ئے ،اسے نا قا بل استد لا ل تسلیم کیا جائے ۔

محد ثین کا یہی اصو ل اور منہج ہے اور یہی منہج یا طرز فکرو عمل امت مسلمہ کے با ہمی ا ختلا فا ت کے ختم یا کم سے کم کر نے کا وا حد طر یقہ یا اس کاضا من ہے ۔ اس کے بر عکس رو یہ کہ صحتِ سند کے باو جود اپنی ہی یا کسی مخصوص فقہی را ئے ہی کو ما ننا اور ضعف سند کے با و جود اسے ہی تر جیح دینا ، اسے نہ حد یث رسو ل کو ما ننا ہی تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ اس طر یقے سے فقہی اختلافات اور حز بی تعصبا ت کا خا تمہ ہی ممکن ہے۔

اس کی دوسری مثا ل مسئلہ تقلید ہے ۔

علما ئے ا حناف کا یہ گروہ اس تقلید کی مذ مت کر تا ہے جس کو اہل حد یث مز مو م قرار دیتے ہیں ۔ لیکن حدیث رسو ل کی حجیت کے دعوے کی طر ح ان کا یہ دعوی بھی صرف زبا ن ہی کی حد تک ہے ۔ عملاًانہو ں نے تقلید حرا م ہی کو اپنا یا ہوا ہے جس کو یہ حضرات خود بھی مذ مو م اور نا جا ئز ہی قرار دیتے ہیں ۔ اس لئے یہ طر یقہ محد ثین کی روش کے یکسر خلاف ہے ، جنہوں نے ا حا دیث کی جمع و تد وین اور ان کی حفا ظت کا فریضہ سر انجا م دیا اور انکی صحت و ضعف کی پہچا ن کے لئے نقد و تحقیق کے بے مثا ل ا صو ل و ضوا بط وضع اور مقرر کئے ۔ تقلید حرا م ہی کی و جہ سے ان اصول و ضوا بط کو بھی دل سے تسلیم نہیں کیا جا تا ۔

یہ غیر محد ثا نہ رو یہ ، جس نے امت وا حدہ کو ٹکڑو ں میں تقسیم کر دیا ہے : کن لو گو ں نے اپنا یا ہوا ہے۔ اور کیوں اپنا یا ہوا ہے ؟ اور اسے چھوڑ نے کے لئے وہ کیوں تیار نہیں ہیں ؟ ان تینو ں سوا لو ں کا جوا ب وا ضح ہے۔

1۔ یہ وہی لو گ ہیں جنہو ں نے محد ثین کی روش سے انحراف کیا ہے ، جو خا لص اور ٹھیٹھ اسلا م کی آ ئینہ دار او ر ما انا علیہ و اصحا بی ، کی مصداق تھی اور ہے۔

2 ۔ انہو ں نے ایسا کیو ں کیا ؟ اس لئے کیا کہ انہو ں نے اپنے آ پ کو کسی ایک فقہی مذ ہب سے وا بستہ کر لیا جس کا اللہ نے اور اللہ کے رسو ل نے قطعاً حکم نہیں دیا ۔ اتباع کے بجا ئے انہو ں نے ابتداع ( اپنی طرف سے شر یعت سازی ) کا اور اطاعت کی بجا ئے تقلید کا راستہ ا ختیا ر کیا۔

اتبا ع کیا ہے اور ابتداع کیا ؟

اتباع کا مطلب ہے اللہ کے رسو ل کے پیچھے لگنا، کیونکہ صرف وہی اللہ کا نما ئندہ ہے ۔

اللہ نے اسی کے اتباع کا حکم دیا ہے ، اور ابتدا ع یہ ہے کہ اس اتباع رسو ل سے تجا وز کر کے اپنی طرف سے کسی چیز کو واجب قرار دینا ، جیسے کسی نہ کسی اما م کی تقلید یا خودساختہ فقہ کی پا بندی کو لاز م سمجھنا اور لاز م قرار دینا۔

امتیو ں کو تو اتباع کا حکم ہے نہ کہ ابتداع کا ، اور اطاعت کا مطلب بھی صرف ما انز ل اللہ ( اللہ کی ناز ل کردہ باتو ں ) کا ما ننا ہے ۔ ہم اللہ کے رسو ل کی اطاعت واتباع بھی اسی لئے کر تے ہیں کہ اللہ نے اپنی اطاعت کے ساتھ اپنے رسو ل کی بھی غیر مشرو ط اطاعت کا حکم دیا ہے ۔ غیر مشرو ط اطاعت کا حق صرف اللہ کے رسو ل ﷺ کا ہے ،مخلوق میں سے کسی اور کو یہ حق حاصل نہیں ۔ اسی لئے اللہ نے اپنے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے :

﴿من یطع الر سو ل فقد اطاع اللہ ﴾ (سورة النسا ء : 80)

’’ جس نے رسو ل کی اطاعت کی بلا شبہ اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔‘‘

یہ بلند مقا م اللہ کے رسول کے علاوہ کسی اور کو حا صل ہے ؟ نہیں یقینا نہیں ۔ اور اللہ نے اپنے رسو ل کو یہ بلند مقا م اس لئے دیا ہے کہ وہ اللہ کا نما ئندہ ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعا لی اس کی براہ راست حفا ظت و نگرانی بھی فر ما تا اور اسے راہ راست ( صرا ط مستقیم ) سے ادھر ادھر نہیں ہو نے دیتا ۔ ( د یکھئے سورۃ ا لا سراء : 73۔74 و نحو ھا من ا لآ یا ت )

یہ مقا م عصمت بھی اللہ کے رسو ل کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ۔ آ ئمہ کی تقلید کو لاز م قرار دینے وا لے کیا یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ ان کے اما م کو یہ مقا م عصمت حاصل ہے ؟

اس کی را ئے میں غلطی کا امکا ن نہیں ؟ اس کا ہر قو ل اور ہر ا جتہاد صحیح ہے؟ یقینا کو ئی شخص یہ دعوی نہیں کر سکتا ۔ اگر ایسا ہیاور یقینا ایسا ہی ہے تو پھر ہر مسئلے میں کسی ایک ہی شخص کی با ت بلا دلیل ما ننے کو لاز م قرار دینا ( جسے ا صطلا حاً اور عرفاً تقلید کہا جا تا ہے ) کیا یہ اس لئے غیر مشروط اطاعت کا حق تسلیم کر وا نا اور اسے مقام عصمت پر فا ئز کر نا نہیں ہے ؟

3۔یہاں سے اس تیسرے سوا ل کا جوا ب کہ

حضرات یہ روش چھوڑ نے کے لئے کیوں تیار نہیں ؟ سا منے آ جا تا ہے اور وہ یہ ہے کہ گو یہ اپنی زبا نو ں سے عصمت آ ئمہ کا ا ظہار یا دعوی نہیں کر تے لیکن عملاً صورت حا ل یہی ہے کہ

انہو ں نے آ ئمہ کرا م کو آ ئمہ معصو مین کا در جہ دے رکھا ہے ۔ اپنے اما م کی ہر با ت کو ( ما انز ل اللہ ) کی طر ح بلکہ اس سے بھی بڑ ھ کر تسلیم کر تے ہیں اور اپنی خود سا ختہ فقہو ں کے مقا بلے میں حد یث رسو ل سے اعرا ض و گر یز ان کاو طیرہ او ر شیوہ گفتار ہے ۔

ان کا یہ طرز عمل و فکر محد ثین کے منہج و مسلک سے یکسر مختلف ، شیوہ مسلما نی کے برعکس اور امت کی فکری و حد یت و یک جہتی کو سب سے زیادہ نقصا ن پہنچا نے وا لا ہے ۔

ان حضرات کے با رے میں ہماری با ت کو ئی مفرو ضہ یاوا ہمہ نہیں ، ایک حقیقت واقعہ ہے ، شک و شبہ سے بالا ہے ، اور روز روشن کی طر ح وا ضح ہے ، جس کا مشا ہدہ صد یو ں سے ہو رہا ہے اور ہر دو ر کے اہل علم نے اس کا ا ظہار کیا ہے ۔

شا ہ و لی اللہ جن کی با بت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ

وہ اہل تقلید سے کو ئی مخا صمت ر کھتے تھے ۔ بلکہ پا ک وہند کے وا بستگا ن تقلید تو اپنے آپ کو مسند ولی اللہ ہی کاجا نشین اور فکرولی اللہ ہی کے وا ر ث سمجھتے ہیں ۔ یہ فر ما تے ہیں:

” و تری العامة ، سیما الیوم، کل قطر یتقیدون بمذهب من مذاهب المتقدمین، یرون خروج الانسان من مذهب من قلدہ، و لو فی مسئلة، کالخرو ج من الملة، کانه نبی بعث إلیه، وافترضت طاعته علیه، وکان أوا ئل ا لأمة قبل المأة الرا بعة غیر متقیدین بمذهب واحد.”

(تفہیمات ا لا لٓہیہ ج 1 ۔ ص206 ۔ تفہیم 66 شا ہ ولی اللہ اکا د می حیدر آ باد سندھ ۔ 1970ء)

’’تم عا م لو گوں کو د یکھو گے ،خا ص طور پر آ ج کل ، ہر علاقے میں، جنہو ں نے اپنے آ پ کو کسی نہ کسی (تقلیدی ) مذ ہب سے وا بستہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے امام کے مذ ہب سے نکلنے کو ، چا ہے کسی ایک ہی مسئلے میں ہو ، ایسے سمجھتے ہیں جیسے وہ ملت اسلا م ہی سے نکل گیا ، گو یا وہ (اما م ) ایسا نبی ہے جو اس کی طرف من جا نب اللہ بھیجا گیا ہے اور اس کی اطاعت اس پر فرض قرار دی گئی ہے حا لا نکہ چو تھی صدی ہجری سے پہلے کے لو گ کسی ایک مذ ہب سے وا بستہ نہیں تھے ۔‘‘

٭٭٭

حضرت علامہ ابو البیان حماد العمری کے سانحہ ارتحال پر

الوداع اے بو البیاں حماد! اے عالی جناب!                                                                                                                       اے سراپا علم وفن، ملت کے حق میں اک سحاب

زندگی تھی آپ کی مرد قلندر کی کتاب                                                                                                                       حق تعالیٰ نے عطا کی تھی قبائے لاجواب

آپ کے فیضان سے کتنے ہوئے قدسی نفوس                                                                                                                       آپ تھے راہِ عمل میں اک مجسم اضطراب

میری دینی تربیت بھی آپ کی مرہون ہے                                                                                                                       آپ استاذ ومربی تھے مرے عزت مآب

میں نے دنیائے سخن میں فیض پایا آپ سے                                                                                                                       آپ نے رکھے سدا، وا شفقت ورافت کے باب

اے مرے مشفق مربی، مرشد فکر وعمل                                                                                                                       آپ کو خلد بریں میں دے جگہ رب وہاب!

اکتساب فیض میں نے مدتوں جن سے کیا                                                                                                                       سایہ فرمامیرے سر پر، بو البیاں حماد تھے

اک معلم، اک محدث، ناقد بالغ نظر                                                                                                                       علم وفن کا ایک پیکر، بو البیاں حماد تھے

سینکڑوں بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھلا دیا                                                                                                                       علم دیں کا اک سمندر بو البیاں حماد تھے!

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی 

تبصرہ کریں