تاریخ اہل حدیث۔ڈاکٹر بہاؤ الدین

11۔ اما م عبد اللہ بن المبار ک سے محمد بن اسحاق کے بارے میں پو چھا گیا تو انہوں نے فر ما یا :

“أما أنا وجدناه صدوقاً.”

’’ ہم نے تو اسے سچا پایا ہے۔‘‘

آ پ نے یہ با ت تین دفعہ فر ما ئی ۔ (کتا ب الثقا ت لابن حبا ن: 7 ؍ 383 ۔ و سندہ حسن ، علی بن الحسین بن واقد صدوق حسن الحد یث ، وثقہ التر مذی و ابن خزیمہ و ابن حبا ن و الحا کم و الذ ہبی و الجمہور )

12 ۔ اما م سفیا ن بن عینیہ﷫ نے فر ما یا :

جالست ابن اسحاق بضعاً و سبعین سنة و ما یتهمه أحد من أهل المدینة و لایقول فیه شیئاً .”

’’میں ابن اسحاق کے پاس ستر ( 70) سے زا ئد سا ل رہا اور اہل مد ینہ میں سے کو ئی بھی اس پر تہمت نہیں لگاتا تھا اور نہ اس کے با رے میں کو ئی کلا م کر تا تھا۔‘‘

( کتا ب الجرح و التعدیل : 7؍ 192 و سندہ صحیح )

اور فر ما یا :

“لم یحمل علیه أحد فی الحدیث، إنما کان أهل المدینة حملوا علیه من أجل القدر.”

’’ کسی نے حد یث کی و جہ سے اس پر حملہ نہیں کیا ، اہل مد ینہ نے تو قد ریت ( مسئلہ تقدیر ) کی و جہ سے اس پر حملہ کیا۔‘‘ ( کتاب المعرفہ و التا ر یخ للا ما م یعقو ب بن سفیا ن الفا رسی: 2 ؍ 27 و سندہ حسن )

مسئلہ تقدیر ( اور تشیع ) وا لے اعترا ض کے بارے میں عر ض ہے کہ سر فراز خا ن صفدر نے کہا :

اور ا صو ل حد یث کی رو سے ثقہ راوی کا خا ر جی یا جہمی معتز لی یا مر جئی و غیرہ ہو نا اس کی ثقاہت پر قطعاً اثر انداز نہیں ہو تا اور صحیحین میں ایسے راوی بکثر ت مو جود ہیں۔ (احسن الکلا م : 1؍ 30 ۔ دوسرا نسخہ: 1؍ 49)

ابرا ہیم بن المنذر نے سفیا ن بن عینیہ سے کہا کہ لو گ ابن اسحاق کو کذا ب کہتے ہیں ،تو انہو ں نے فر ما یا:

“لا تقل ذ لك.” (تو ایسی با ت نہ کہہ )۔( الجر ح والتعدیل : 7؍ 192 وسندہ صحیح )

13 ۔ امام ابو زر عہ الرازی نے محمد بن اسحاق کے بارے میں فر ما یا :

“صدوق، من تکلم فی محمد بن أسحاق؟”

’’محمد بن اسحاق صدوق ( سچے ہیں ، محمد بن اسحاق کے با رے میں کس نے کلا م کیا ہے ؟ محمد بن اسحاق سچے ہیں)‘‘ ( کتا ب الجرح و التعدیل : 7؍ 192 و سندہ صحیح)

اس توثیق کے مقابلے میں سرفراز صفدر نے 1268ھ یا 1264ھ میں پیداہو نے والے طا ہر بن صا لح بن ا حمد الجزا ئری کی کتا ب تو جیہ النظر کا حوا لہ پیش کیا ہے۔ (احسن الکلام: 2؍71 ، دوسرانسخہ:2 ؍ 78)

یہ بے سند حوا لہ، صحیح سند وا لے حوا لے کے مقا بلے میں ہو نے کی و جہ سے مر دود ہے اور اگر یہ حوا لہ ثابت بھی ہو جا ئے تو جر ح و تعدیل باہم متعار ض ہو کر دو نو ں سا قط ہو جا ئیں گی جیسا کہ میزا ن ا لا عتدا ل میں عبد الر حمن بن ثا بت بن الصا مت کے حا لا ت میں ذکر کیا گیا ہے۔ (دیکھئے میزان الاعتدال: 2؍552 )

14 ۔ اما م ابن خز یمہ النیسا بوری نے صحیح ابن خز یمہ میں محمد بن اسحاق بن یسار سے احکام و غیرہ میں بہت سی روایتیں بیا ن کیں مثلاً 15 ، 36 ، 58 ، 138 ۔۔۔، 2280 ، 2333، 2334، 2377۔۔۔

معلو م ہوا کہ اما م ابن خز یمہ کے نز دیک ابن اسحاق ثقہ وصدوق تھے ۔

15 ۔ اما م ابن الجا رود النیسا بوری نے اپنی مشہور کتا ب المنتقی میں ابن اسحاق سے کئی روا یا ت بیا ں کیں مثلاً 31 ، 158 ،291، 321 ۔۔۔

سیو طی نے صحیح ابن خز یمہ ،صحیح ابی عوا نہ اور المنتقی لابن جارود کے با رے میں لکھا ہے :

“فالعزو إلیھا معلم بالصحة أیضاً .”

’’ان کی طرف روا یت کا منسو ب کر نا اس کی صحت کی علا مت بھی ہے۔‘‘ (دیبا چہ جمع الجوا مع: 1؍ 20 )

جنا ب اشرف علی دیو بندی نے کہا:

“و أورد هذا الحدیث ابن الجارود فی المنتقی فهو صحیح عنده فإنه لا یأتی إلا بالصحیح کما صر ح به السیوطی فی دیباجه جمع الجوامع .”

’’ اور اس حد یث کو ابن الجارود نے المنتقی میں روا یت کیا ، لہٰذا وہ ان کے نز د یک صحیح ہے کیو نکہ وہ ( اس کتاب میں ) صرف صحیح ہی روا یت کر تے ہیں، جیسا کہ سیو طی نے جمع الجوا مع کے دیبا چے میں صرا حت کی ہے ۔‘‘ ( بوادر النوا در: ص 135 )

16 ۔ اما م ابو العباس محمد بن عبد الرحمن الدغو لی نے فرما یا :

“محمد بن إسحاق إمام فی المغازی، صدوق فی الروا یة.”

’’ محمد بن اسحاق مغازی میں اما م ( اور ) روا یت میں صدوق ( سچے ) ہیں۔‘‘ (کتا ب القرأ ت للبیہقی: ص 59 ح 114 و سندہ حسن ، محمد بن ا حمد بن یحی السر خسی الفقیہ تر جمۃ فی تا ریخ نیسا بور شیو خ الحا کم : ص 373 ۔ ت 633)

“وقال الحاکم:کان من الفقهاء الشافعین و ممن یرجع إلی أدب وکتابة وفضل)

17 ۔ ابو بکر ا حمد بن الحسین البیہقی نے فا تحہ خلف الامام کے مسئلہ میں محمد بن اسحاق کی بیا ن کر دہ حدیث کے با رے میں فر ما یا :

“وھذا اسناد صحیح .”

’’ اور یہ سند صحیح ہے۔‘‘ ( کتا ب القرأ ت: ص 58، ح 114 )

اس سے معلو م ہوا کہ بیہقی کے نز د یک ابن اسحاق ثقہ تھے، لہٰذا بیہقی سے سرفراز صفدر کی نقل کردہ جرح یا تو منسو خ ہے یا پھر ابن اسحاق کی معنعن ( عن والی ) روا یا ت پر محمو ل ہے۔

18 ۔ اما م ابو الحسن علی بن عمر الدار قطنی نے محمد بن اسحاق کی حد یث الفا تحہ خلف ا لا ما م کے با رے میں فرما یا :

“هذا اسناد حسن .” ’’یہ سند حسن ہے۔‘‘

( سنن الدار قطنی: 1؍ 318 ،ح 1200 )

معلو م ہوا کہ دار قطنی کے نز دیک ابن اسحاق حسن الحد یث تھے، لہٰذا ان کی ابن اسحاق پر جرح منسو خ ہے یا معنعن روا یا ت پر محمو ل ہے۔

19 ۔ حا کم نیشا پوری نے المستد ر ک میں کئی مقا ما ت پر ابن اسحاق کی حد یث کو صحیح علی شر ط مسلم کہا ہے۔ مثلاً د یکھئے: 1؍ 111، ح 379 ، 1؍281 ، ح 1039)

معلو م ہوا کہ امام حا کم کے نز د یک محمد ابن اسحاق ثقہ وصدوق تھے ۔

20 ۔ حا فظ ذہبی نے کئی مقا ما ت پر تلخیص المستد ر ک میں حا کم کی موا فقت کر تے ہو ئے ابن اسحاق کی حدیث کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے مثلاً

د یکھئے ح 379 ، 1039 ، اور فقرہ سا بقہ :19۔

معلو م ہوا کہ

ابن اسحاق پر سر فراز خا ن کی حا فظ ذہبی سے نقل کردہ جر ح منسو خ ہے ۔ ابن اسحاق کے بارے میں حافظ ذہبی نے طو یل کلا م کے بعد فر ما یا :

“وأما فی أحادیث ا لأحکا م فینحط حدیثه فیها عن رتبة الصحة إلی رتبة الحسن إلا فیما شذّ فیه فإ نه یعدّ منکراً .”

’’ احادیث ا حکا م میں ان کی حد یث در جہ صحیح سے نیچے درجہ حسن پرپہنچتی ہے سوائے اس کے جس میں وہ شذوذ (ثقہ را ویو ں کی مخا لفت )کریں تو اسے منکر قرار دیا جا ئے گا ۔‘‘ ( سیر اعلام النبلاء: 7؍ 41 )

نیز دیکھئے الموقظۃ للذ ہبی : ص 81 بتحقیق سلیم الہلالی )

ذہبی نے مز ید کہا :

“کان صدوقاً من بحور العلم و له غرائب فی سعة ما روی تستنکروا اختلف فی الاحتجاج به وحدیثه حسن وقد صححه جماعة.”

’’وہ سچے علم کے در یا ؤں میں سے تھے اور ان کی وسیع روا یا ت میں غرا ئب بھی ہیں جن کا انکار کیا جا تا ہے ان کے حجت ہو نے میں اختلا ف ہے اور ان کی حدیث حسن ہے ، اسے ( ان کی حد یث کو ) ایک جماعت نے صحیح قرار دیا ہے ۔‘‘ ( الکا شف : 3؍ 18، ت 4789 )

حا فظ ذہبی نے کہا :

“صدوق.”

(معرفۃ الرواۃ المتکلم فیھم بما لا یو جب الرد : 289)

21۔ حا فظ ابو عوا نہ نے صحیح ابی عوا نہ میں محمد بن اسحاق بن یسار سے روا یتیں بیا ن کیں۔ مثلاً د یکھئے: 1؍ 360 ، ح 827؛ 2؍ 28 ح 2022)

22۔ اما م ا حمد بن حنبل نے محمد بن اسحاق کے با رے میں فرمایا :

“هو حسن الحدیث ولقد قال مالك حین ذکرہ: دجال من الدجاجلة.”

’’ وہ حسن الحد یث ہیں اور ( اما م ) ما لک نے ان کا ذکر کیا تو کہا : دجا لو ں میں سے ایک د جال۔‘‘

( تا ریخ بغداد: 1 ؍ 223 و سندہ صحیح )

اس سے دو با تیں معلو م ہو ئیں :

1 ۔ اما م ا حمد کے نز دیک اما م ما لک کی جر ح منسو خ یا مرجو ح ہے ۔

2 ۔ اما م ا حمد کی ابن اسحاق پر جر ح منسو خ ہے ۔

22 ۔ حا فظ ضیا ء الدین محمد بن عبد الوا حد المقدسی نے المختا رہ میں ابن اسحاق سے ( بطور حجت ) روا یتیں لیں: مثلاً د یکھئے المختا رہ ( جلد 8 ص 339 ح 411 )

24 ، اما م ابو سلیما ن حمد بن محمد الخطا بی البستی ( ف 388ھ ) نے محمد ابن اسحاق کی فا تحہ خلف ا لا ما م وا لی حدیث کے با رے میں فر ما یا :

“واسنادہ جید لا طعن فیه.”

’’اور اس کی سند اچھی ہے،اس میں طعن نہیں ہے۔‘‘ (معا لم السنن: 1؍ 177، ح 252 )

معلو م ہوا کہ خطا بی کے نز د یک ابن اسحاق جید الحدیث یعنی ثقہ و صدوق تھے۔

25 ۔ اما م حسین بن مسعو د البغوی نے محمد بن اسحاق کی بیا ن کردہ ایک روا یت کے با رے میں فر ما یا :

“هذا حدیث حسن.”

’’یہ حدیث حسن ہے ۔‘‘ ( شر ح السنہ: 1؍ 394 ، ح 199 )

معلوم ہوا کہ بغوی بھی ابن اسحاق کوحسن الحد یث سمجھتے تھے ۔

26 ۔ ابو یعلی خلیل بن عبد اللہ بن ا حمد الخلیلی القز وینی ( ف 446ھ ) نے فر ما یا:

” کبیر عالم من أهل المد ینة… و هو عالم واسع العلم ثقة.”

’’ وہ اہل مدینہ کے بڑے عا لم ۔۔۔ وہ وسیع علم وا لے ثقہ عا لم ہیں ۔‘‘ ( ا لارشاد فی معرفۃ علماء الحد یث : 1؍ 288 ، ت 138 )

27 ۔ اما م ابو زر عہ الد مشقی نے فر ما یا:

“و محمد بن إسحاق رجل قد أجمع الکبراء من أهل العلم علی الأخذ عنه، منهم: سفیان بن سعید وشعبة وابن عیینة، وحماد بن زید و حماد بن سلمة و ابن المبارك وإبراهیم بن سعید و روي عنه من الأکابر: یزید بن أبی حبیب وقد اختبره أهل الحدیث فرأوا صدقاً و خیراً مع مدحة ابن شهاب له.”

’’ محمد اسحاق ایسے آدمی ہیں کہ اکابر اہل علم کا ان سے روا یت لینے پر اجماع ہے ۔سفیان بن سعید ( الثوری )، شعبہ،( سفیان ) بن عیینہ ، حماد بن زید ، حما د بن سلمہ ، ابن المبا ر ک او ر ابرا ہیم بن سعید ۔ اکا بر میں سے یز ید بن ابی حبیب نے بھی ان سے روا یت بیا ن کی ہے ۔ اہل حد یث نے ان کے با رے میں جا نچ پڑ تا ل (تحقیق ) کی تو انہیں سچا پا اور بہتر پا یا ، اس کے سا تھ ابن شہاب (زہری) نے بھی ان کی مد ح ( تعریف ) کی ہے۔‘‘ ( تا ریخ ابی زر عہ الدمشقی : 1454)

معلوم ہوا کہ ابن اسحاق کا سچا اور بہتر ہونا محدثین کرام کی زبر دست تحقیق کا خلا صہ ہے ۔

28 ۔ خطیب بغدادی نے محمد بن اسحاق پرتشیع مسئلہ تقدیر اور تد لیس و غیرہ جرو ح کا ذکر کر کے آ خر میں فرما یا :

” فأما الصدق فلیس بمدفوع عنه.”

’’ رہا سچ تو اس کا ان سے انکار نہیں ہو سکتا ۔‘‘ ( تا ریخ بغداد: 1؍ 224 )

معلو م ہوا کہ خطیب بغدادی انہیں سچا (صدوق ) سمجھتے تھے۔

29 : حا فظ عبد العظیم بن عبد القوی المنذری نے محمد بن اسحاق کے با رے میں فیصلہ کن انداز میں فر ما یا :

“أ حد الاعلام ، حدیثه حسن.”

’’ وہ بڑے علماء میں سے تھے ان کی حدیث حسن ہے۔‘‘

پھر جر ح و تعدیل کی لمبی بحث کے بعد فر ما یا :

“وبالجملة فهو ممن اختلف فیه وهو حسن الحدیث کما تقدم واللہ أعلم .”

’’اور مجموعی طور پر ان کے با رے میں ا ختلاف ہے اور وہ حسن الحد یث ہیں جیسا کہ گزر چکا و اللہ اعلم۔‘‘

( التر غیب و التر ہیب: 4؍ 577؛ دوسرا نسخہ: 4 ؍497)

30۔ ابن القطان الفاسی المغر بی نے محمد بن اسحاق بن یسار کے بارے میں فر ما یا:

“ر أی انس بن ما لك و المتحصل من أمره الثقة و الحفظ و لاسیما للسیر و لم یصح علیه قادح.”

’’انہو ں نے ( سید نا ) انس بن ما لک کو د یکھا ان کے معا ملے میں خلا صہ یہ ہے کہ وہ ثقہ اور حافظ ہیں ، خا ص طور پر سیر ( اور مغازی ) میں اور ان پر جر ح صحیح نہیں۔‘‘ ( بیا ن الو ہم و ا لا یہا م فی کتا ب ا لا حکا م: 5؍ 630)

فا ئدہ : محمد بن اسحاق نے فر ما یا :

“رأیت أنس بن مالك، علیه عمامة سوداء والصبیان یشتدون ویقولون: هذا رجل من أصحاب النبی ﷺ لایموت حتی یلقی الدجال.”

’’ میں نے انس بن ما لک کو دیکھا ، انہو ں نے کا لا عما مہ باند ھا ہواتھا اور بچے دوڑتے ہو ئے کہتے تھے : یہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں اور دجا ل سے ملاقات تک فو ت نہیں ہو ں گے ۔‘‘ ( تار یخ بغداد: 1؍ 217 و سندہ حسن )

تنبیہہ : دوڑ نے وا لے بچوں کی بات صحیح نہیں تھی کیونکہ سید نا انس تو دجال کے خروج سے پہلے ہی فوت ہو گئے جب کہ دجال کا ابھی تک خرو ج نہیں ہوا۔

31۔قا ضی ابوزرعہ بن ابی الفضل عبدالرحیم بن الحسین العرا قی نے ابن اسحاق کی بیا ن کردہ ایک روایت کے با رے میں فر مایا :

“اسنادہ جید. فیه محمد بن اسحاق وقد صرح بالسماع.”

’’ اس کی سندا چھی ہے ۔ اس میں محمد بن اسحاق ہیں اور انہو ں نے سماع کی تصریح کر دی ہے۔‘‘

( طرح التثریب فی شر ح التقریب : 4؍ 42 ، با ب لاتحل الصدقۃ للنبی )

32۔ حا فظ ابن کثیر دمشقی نے محمد بن اسحاق کی بیا ن کردہ ایک روایت کے با رے میں فرمایا:

“هذا اسناد حسن.”

’’ یہ سند حسن ہے۔‘‘ ( تفسیر ابن کثیر : 4؍ 349 ، دوسرا نسخہ: 2؍ 506 ؛ سورۃ البقرہ : 285۔286)

33 ۔ ابو عبد اللہ محمد بن ا حمد القر طبی ا لا نصاری ( ف 671 ھ ) نے محمد بن اسحاق بن یسار کی بیان کردہ ایک روا یت کے با رے میں کہا:

“قد خرّج ابن ماجه بإسناد حسن بل صحیح من حد یث ابن عباس.”

’’ ابن ماجہ نے حسن بلکہ صحیح سند کے سا تھ سیدنا ابن عباس کی حدیث سے روا یت کیا۔‘‘ (تفسیر قرطبی: 4؍ 225 ، آ ل عمران)

34۔حا فظ ابن حزم ظا ہری نے محمد بن اسحاق کی حدیث سے فا تحہ خلف ا لا ما م کے مسئلے میں استد لا ل کیا اور اس حد یث پر جر ح کے بارے میں کہا:

“وهذا لیس بشيئ لأن محمد بن إسحاق أحد الآئمة و ثقه الزهری و فضله علی من بالمد ینة فی عصرہ …”

’’ اور یہ ( جر ح ) کو ئی چیز نہیں کیو نکہ محمد بن اسحاق اماموں میں سے ایک ہیں ، انہیں زہر ی نے ثقہ قرار دیا اور مد ینے میں ان کے معا صرین پر انہیں فضیلت وا لا گر دا نا۔‘‘ ( المحلی: 3؍ 241، مسئلہ 360 )

35۔ اما م ابن شہا ب الز ہری نے اپنے دربا ن کو ابن اسحاق کے بارے میں فر مایا :

” إذا جاء هذا فلا تمنعه.”

’’ جب یہ آ ئیں تو انہیں نہیں رو کنا ۔‘‘ ( تا ر یخ ابی زر عہ الد مشقی :1451 ، و سندہ صحیح )

اما م زہری﷫ نے ابن اسحاق کے با رے میں فر ما یا : “لا یزال بالحجاز علم کثیر مادام الأحول بین أظهرکم.”

’’یہ ا حول جب تک تمہارے در میا ن رہے گا تو حجاز میں بہت علم رہے گا۔‘‘ (الثقا ت لا بن شا ہین، ص 200 و سندہ حسن )

36۔حا فظ ابن عدی نے ابن اسحاق کے با رے میں طو یل کلا م کے بعد فر ما یا :

“و هو لا بأ س به.”

’’ اور ان کے سا تھ کو ئی حر ج نہیں ہے ۔‘‘ ( الکا مل لابن عدی: 6؍ 2125 ، دوسرا نسخہ: 7؍ 270 )

37 ۔ شیخ الاسلا م حا فظ ابن تیمیہ ﷫ نے کہا :

“و ابن اسحاق إذا قال حدثنی فهو ثقة عند أهل الحدیث و هذا اسناد جید.”

’’اور ابن اسحاق جب حد ثنی کہیں تو وہ اہل حد یث کے نز دیک ثقہ ہیں اور ( ابن اسحاق کی بیا ن کردہ ) یہ سند ا چھی ہے ۔‘‘ ( مجموع فتاوی: 33 ؍85 )

38۔ حا فظ ابو حفص عمر بن شا ہین ( ف 386ھ ) نے محمد بن اسحاق بن یسار کو کتا ب الثقا ت میں ذکر کیا (ص 199 ۔ ت 1200 )

39۔حا فظ ابن القیم﷫ نے ایک اعترا ض کے دو جوا بو ں میں سے او ل جوا ب میں فر ما یا :

“إن ابن اسحاق ثقة لم یجرّح بما یوجب ترک الاحتجاج به وقد وثقه کبار الآئمة واثنوا علیه با لحفظ و العدالة. هما رکنا الروایة.”

’’ بے شک ابن اسحاق ثقہ ہیں ، ان پر ایسی جر ح نہیں ہو ئی جو ان کے ساتھ ا حتجا ج ( استد لا ل ) نہ کر نے کو واجب قرار دیتی ہو اور اکا بر اما مو ں نے انہیں ثقہ قرار دیا ۔ ان کے حفظ اورعدا لت کی تعریف کی جو روایت کے دو رکن ہیں۔‘‘ ( جلاء ا لا فہا م: ص 32؛ دوسرا نسخہ بتحقیق مشہور حسن :ص 59)

40 ۔ اما م ابن جر یر الطبری نے محمد بن اسحاق کی بیا ن کردہ ایک روا یت کے با رے میں فر ما یا :

“و هذا خبر عندنا صحیح سنده.”

’’اور اس حدیث کی سند ہمارے نز د یک صحیح ہے۔‘‘

(تہذیب ا لآثار، الجزء المفقود:ص 36، ح 22 مطبوعہ دار الما مو ن بیرو ت )

معلو م ہوا کہ اما م ابن جر یر کے نز دیک محمد بن اسحاق بن یسار صحیح الحد یث تھے ۔

41۔ علا مہ نووی نے محمد بن اسحاق کی ایک حدیث کے با رے میں کہا :

“وهذا الإسناد صحیح والجمهور علی الاحتجاج بمحمد بن اسحاق إذا قال حدثنا…”

( اور یہ سند صحیح ہے ، جمہور کے نز د یک محمد بن اسحاق جب حد ثنا کہیں تو حجت ہے ( المجموع شر ح المہذ ب جلد8 ص 234 طبع دا ر الفکر )

42 : حا فظ ابن الجوزی نے ابن اسحاق پر جر ح کی تو اسکا جوا ب دیتے ہو ئے عینی حنفی نے کہا :

“و تعلیل ابن الجوزی بابن إسحاق لیس بشيئ لأن ابن اسحاق من الثقات الکبار عند الجمهور .”

’’ ابن الجوزی کا ابن اسحاق پر جر ح کر نا کو ئی چیز نہیں کیو نکہ ابن اسحاق جمہور کے نز د یک بڑے ثقہ (راویوں یعنی ثقہ اکا بر ) میں سے ہیں ۔‘‘ (عمدۃ القا ری : 7؍ 270 ، ھ 199 با ب ما ینھی من الکلام فی الصلوۃ )

عینی حنفی نے جمہور کے نز دیک ابن اسحاق کو ثقہ قرار دیا جب کہ سر فراز خا ن صفدر نے جمہور کے نز دیک ابن اسحاق کو مجرو ح قرار دیا !

43۔ ز یلعی حنفی نے تعصب کے با و جود کہا :

و ابن اسحاق ا لا کثر علی تو ثیقہ و ممن و ثقہ ا لبخاری و اللہ اعلم

’’ اور ا کثر نے ابن اسحاق کی تو ثیق کی ہے اور ان کی تو ثیق کر نے وا لو ں میں سے بخاری ( بھی ) ہیں۔واللہ اعلم۔‘‘ ( نصب الرا یہ :4؍ 7 ،با ب خیار الشر ط )

٭٭٭

مشائخ بیان کرتے ہیں کہ

سمع بعض الشيوخ سعيد بن إسحاق يبكي الليل كله في ليلة باردة جدا حتى اصبحفقال له أصلحك الله: سألتك بالله ما أبكاك في هذه الليلة بخلاف العادة؟ فقال له: نعم تفكرت في فقراء أمة محمد ﷺ في هذه الليلة الباردة فبكيت رقة لهم.

مشايخ میں سے کسی نے سعید بن اسحاق رحمہ اللّٰہ کو ساری رات روتے دیکھا تو پوچھا: میں تمھیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ پوری شب میں خلاف عادت تمھیں کس چیز نے رلائے رکھا؟ فرمایا: اس یخ بستہ رات میں مجھے امت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے فقرا یاد آ گئے اور میں ان کے دکھ میں آنسو بہاتا رہا۔‘‘

(ریاض النفوس، 2: 14)

تبصرہ کریں