تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

عالم فا ضل اور مقلد؟

مبا حثہ دیو بند میں اگرجناب محمد حسین بٹالوی نے ایسے الفا ظ کہے ہیں:

مجھے تعجب ہے کہ (بایں علم و فضل) آپ جیسا شخص اور مقلد ہو ، تو انہیں سمجھنے کیلئے یہ تحریر مفید ہو سکتی ہے:۔ جناب ثناء اللہ امر تسری لکھتے ہیں:

مسئلہ تقلید ہندوستان میں عر صہ سے منجھ رہا ہے یہاں تک کہ ہمارے خیال میں یہ مسئلہ بالکل صاف ہو گیا تھا مگر دار العلوم دیو بند کا ما ہوار رسالہ دار العلوم دیکھ کر ہمیں افسوس ہوا ۔ یہ رسا لہ ابھی اس بحث کے ابتدا ئی حصہ میں بھٹک رہا ہے ۔ ابتداء میں یہ مسئلہ یوں پیش کیا جاتا تھا کہ دلا ئل علمیہ سے قطع نظر کر کے ایک دوسرے پر طعن و تشنیع سے کام لیا جا تا تھا ۔ تھوڑی مدت بعد وہ زما نہ آ یا کہ اس مسئلہ میں علمی دلا ئل سے کام لیا گیا ۔ یہ وہ زما نہ ہے جس میں معیار الحق حضرت میاں صاحب مر حوم اور ا لارشاد مصنفہ مولوی محمد ابویحی شاہجہان پوری ہمارے سا منے آئیں ۔ اس کے بعد ہمیں یقین یا گمان ہو گیا تھا کہ اب اس مسئلہ کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ اگر رہے گی تو علمی شکل میں ہمیں نظر آ ئے گا ۔ لیکن رسالہ دار العلووم دیو بند بابت اپریل مئی 1946ء دیکھنے سے ہمارے خیال کو صد مہ پہنچا ۔ کیو نکہ فا ضل مضمون نگار نے اس بحث میں انتقا می شکل اختیار کر لی جو اتنے بڑے دار ا لعلوم کے لئے زیبا نہ تھی ۔ ہم خوش ہو تے اگر مضمون نگار اس کو علمی شکل میں لکھتے اور مطاعن سے کام نہ لیتے ۔ ہم نے ایک اشتہار 1943ء میں مسئلہ تقلید سے متعلق علماء دیو بند کو مخا طب کر کے شا ئع کیا تھا جو اہل حدیث مور خہ 3 دسمبر 1943ء میں بھی شا ئع ہو چکا ہے ۔ اس کا خلا صہ یہ تھا کہ تقلید کر نا اس شخص کا کام ہے جو دلا ئل شرعیہ نہ جا نتا ہو ۔ یعنی قر آ ن و حدیث سے واقف نہ ہو ۔ اس پر ہم نے علماء دیو بند کو مخاطب کر کے سوال کیا تھا کہ آ پ حضرات بفضلہ تعا لی علوم شر عیہ سے واقف ہیں، درس اور افتاء میں دلا ئل و براہین سے کام لیتے ہیں ۔ قر آ ن و حدیث اور کتب فقہ میں تطبیق دیتے ہیں ۔ پھر آپ اپنا نام مقلد کیوں تجویز کرتے ہیں جو آ پ کی شان کے مطابق نہیں ہے ۔ امام غزا لی نے مستصفی میں لکھا ہے لیس التّقلید فی شیء من العلم یعنی تقلید علم کا کو ئی در جہ نہیں اور مسلّم الثبو ت جو علم اصول میں چو ٹی کی کتاب ہے اس میں لکھا ہے :

“أمّا المقلّد مستندہ قول مجتھدہ

’’ مقلد کا سہارا اپنے اما م کے قول پر ہو تا ہے۔‘‘

اس حیثیت سے ہم نے علماء دیو بند کو تقلید سے اعلی اور ارفع سمجھا تھا لیکن رسالہ دار العلوم دیکھنے سے معلوم ہوا کہ علماء دیو بند با و جود فر سٹ کلاس کا ٹکٹ رکھنے کے تھر ڈ کلاس میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ہم اس بارے میں ان کو کسی قسم کا الزام یا طعنہ نہیں دیتے ،ہاں حدیث نبوی کے الفا ظ پیش کئے دیتے ہیں جو یہ ہیں انز لوا الناس مناز لھم ہر آ دمی کو اس کی مناسب جگہ میں بٹھا یا کرو ۔ کتب اصول اور فقہ دیکھنے سے ہمیں تو پختہ یقین ہے کہ کو ئی عالم جو قر آ ن وحدیث کا باقا عدہ درس دیتا ہو، مقلد کہلا نے کا مستحق نہیں ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کو ئی توا ضعاًاپنا نام مقلد یا حنفی رکھ لے ۔ ور نہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ جس شخص کو مسا ئل دینیہ میں بصیرت حاصل ہے وہ مقلد ہر گز نہیں ہو سکتا ، چا ہے وہ ساری عمر حنفی یا شا فعی کہلائے ۔ مگر منصب علمی کے لحا ظ سے وہ مقلد نہیں ہے ۔

اب ہم دکھا تے ہیں کہ رسالہ مذ کور ( دار العلوم) میں اس بارے میں کیا خیال ظا ہر کیا گیا ہے ۔

رسالہ مذ کور میں لکھا ہے :

اجتہاد، جہد بمعنی کوشش سے مشتق ہے ۔ اصطلاح شریعت میں احکام شر عیہ کو ادلہ تفصیلیہ سے معلوم کر نے کے لئے کوشش خر چ کر دینے کا نام اجتہاد ہے ۔ مجتہد کے لئے پہلی شر ط یہ ہے کہ وہ علوم عر بیت میں حاذق اور ما ہر ہو ۔ کیو نکہ قر آ ن اور حدیث عربی ہے ، بغیر عر بی زبان جا نے ہو ئے نفس مطلب بھی نہیں سمجھ سکتا اجتہاد تو در کنار ۔ اور علوم عربیت میں لغت اور صرف اور نحو اور بلا غت یہ تمام علوم دا خل ہیں۔ اعراب کے بد ل جا نے سے اور تعریف و تنکیر کے فرق سے معنی میں زمین آ سمان کا فر ق ہو جا تا ہے اس لئے اجتہاد کے لئے ان علوم میں حاذق اور ما ہر ہو نا غایت در جہ ضروری ہے ۔ دوم یہ کہ کتاب و سنت اور اقوال صحا بہ و تا بعین پر پورا مطلع ہو تا کہ مختلف فیہ مسائل صحا بہ اور تابعین کے دائرہ سے با ہر نہ ہو جائے۔ ( دار العلوم۔ اپریل مئی 1946ء۔ ص 27 )

جناب ثناء اللہ امر تسری کہتے ہیں :

نا ظرین ! ہم نے علماء دیو بند و امثا لہم کے لئے مقلد کا لفظ غیر موزوں سمجھا تھا ۔ اس کے علاوہ کو ئی نام ان کے لئے تجویز نہیں کیا تھا ۔ لیکن مضمون نگار صاحب نے مجتہد کی جو تعریف کی ہے اور جو او صاف بتا ئے ہیں للہ ان پر غور کر کے بتا ئیے کہ علماء دیو بند پر یہ سب صادق آ تے ہیں یا نہیں ؟ وہ علوم عر بیہ اور شرعیہ سے واقف ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں ہیں تو پڑ ھا تے کیا ہیں ؟ سب کچھ پڑ ھا تے ہیں ۔ سب کچھ جا نتے ہیں ، پھر ان کے مجتہد ہو نے میں کیا شک ہے ؟ صحیح بخاری صحیح مسلم ابو دا ئود کے دیو بندی شرا ح بھی اگر مسا ئل شر عیہ کو دلا ئل سے نہیں جا نتے تو اور کون جانتا ہو گا ؟ علماء دیو بند کی قا بلیت کے لحا ظ سے ہم کہہ سکتے ہیں اگر یہ حضرات دوسری تیسری صدی میں ہوتے تو سب کے سب مجتیہدین میں شمار کئے جا تے لیکن آ ج ہمارے سا منے کہا جا تا ہے کہ ہم سب مقلد ہیں۔ علماء اصول کی تصریحات کو دیکھ کر ہم کسی طر ح یہ جرات نہیں کر سکتے کہ علماء دیو بند و امثا لہم کو مقلد کہیں کیو نکہ سر گروہ دیو بندیہ مو لا نا اشرف علی یوں بیان کرتے ہیں :

’’کسی قول کا محض اس حسن ظن پر مان لینا کہ یہ دلیل کے موافق بتلا ئے گا اور اس سے دلیل کی تحقیق نہ کرنا ۔‘‘ ( ا لا قتصاد ۔ ص 17 )

اس تعریف کے تحت ہمارا حوصلہ نہیں پڑ تا کہ علماء دیوبند و امثا لہم کو مسا ئل شر عیہ کی دلیل سے بے خبر قرار دے کر ان کا نام مقلد تجویز کریں ۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم، ابو دائود کے دیوبندی شرا ح بھی اگر مسائل شر عیہ کو دلا ئل سے نہیں جا نتے تو اور کون جانتا ہو گا ۔ بحالیکہ مو لا نا رو م مقلد کی شان میں یہ فرما گئے ہیں:

آ ں مقلد ہست چوں طفل علیل گر چہ دارد بحث باریک و دلیل

قا بل مضمون نگار نے ایسے علمی مسئلہ کو صر ف زبا نی باتوں سے نبھا نا چا ہا ہے اور کو ئی ثبو ت کتب اصول سے نہیں دیا ۔ چنا نچہ لکھتے ہیں :

منجا نب اللہ مجتہد کو نور فہم اور فرا ست سے خا ص حصہ ملا ہو ۔ ذکاوت اور ذہا نت میں ممتاز ہو بڑے بڑے اذکیاء اور عقلاء کی گر دن تسلیم اوس کے خدادا دفہم کے سا منے خم ہو ۔ اجتہاد کے لئے معمو لی فہم کا فی نہیں ۔ اجتہاد کے لئے ایسا غیر معمو لی فہم چا ہیے کہ جو لو گوں میں ضر ب المثل بن گیا ہو ۔ معمو لی فہم تو ہر عالم میں ہو تا ۔ مجتہد کی کیا خصوصت ۔( دار ا لعلوم اپریل و مئی 1946ء ص 27 )

مضمون نگار نے جو کچھ لکھا ہے وہ سب اس کے دلی خیالات اور نکتہ بعد الوقوع کا مصداق ہے ۔باو جود اس کے ہمیں اس سے انکار نہیں ہے کہ مجتہد کو نور فراست حاصل ہونا چا ہیے۔ لیکن یہ چیز اس کی ما ہیت میں دا خل نہیں ہے ۔ اگر ہے تو فا ضل مضمون نگار یا ان کے ہم خیال کتب اصول سے اس دعوی کا ثبو ت دکھا ئیں ۔ کتب اصول نور ا لا نوار و غیرہ میں صرف اتنی تصریح ملتی ہے کہ دلا لا ت لفظیہ کو استعمال میں لانے وا لہ مجتہد ہو تا ہے اور یہ خاصہ مجتہد کا ہے۔ علاوہ اس کے ہم کر سکتے ہیں کہ نور فراست و غیرہ کلی مشکک ہے جس کے مرا تب مختلف ہو تے ہیں۔ہمارا گمان بلکہ یقین ہے کہ علماء دیو بند اس کلی مشکک کے کسی نہ کسی در جہ میں شریک ہیں ۔ کیا کو ئی حو صلہ کر سکتا ہے کہ شر ح بخاری لکھنے وا لے یا شر ح مسلم کے دیو بندی شارح کو نور فہم و فراست سے بے نصیب کہہ دے :

کبرت کلمة تخر ج من أفوا ھھم

مو لا نا رشید احمد مر حوم ، مو لا نا اشرف علی مر حوم، مولا نا انور شاہ مر حوم و غیر هم کی نسبت معتقدین دیوبند کھلے لفظوں میں ہمیں اطلاع دے سکتے ہیں کہ کیا یہ لو گ اس صفت سے خا لی تھے جو قا بل نا مہ نگار نے پیش کی ہے ؟ اگر وہ ان کو خا لی بتا ئیں گے تو بادل نخواستہ ہم بھی تسلیم کر لیں گے کہ ا ن کا در جہ واقعی مقلد کا تھا ۔

اس کے بعد مضمون نگار نے ایک اور قید لگا ئی ہے جو در اصل نور فراست میں آچکی ہے ۔ اس کے الفا ظ یہ ہیں:

ور ع اور تقوی کا مجسمہ ہو۔ اوس کا چہرہ اور اوس کی پیشانی اوس کے تقوی اور پر ہیز گاری پر شہادت دیتی ہو ۔ حق پرست ہو ،ہوا پرست نہ ہو ۔ زبان قال نہیں بلکہ زبان حال یہ شعر پڑ ھتی ہو:

أنا عبد الحق لا عبد الھوی لعن اللہ الھوی فیما لعن

’’ میں بندہ حق ہوں ہوا ئے نفس کا بندہ نہیں ہوں ۔ ہوا ئے نفسا نی پر اللہ کی لعنت ہو ۔ ‘‘

(دار العلوم، اپریل مئی 1946ء۔ ص 27۔28)

جناب ثناء اللہ امر تسری ؒ کہتے ہیں:

ہم اس پر کچھ زیادہ نہیں لکھنا چا ہتے ۔ صرف اکا بر دیوبند کے حا لات پر تو جہ دلا تے ہیں کہ کہاں تک الفاظ کی بھر مار ہو تی ہے ۔ ان کی شان میں قطب الاقطاب و غیرہ الفا ظ معمولی ہو تے ہیں ۔ ان الفا ظ کو سا منے رکھ کر ہمیں بتا یا جا ئے کہ کیا ایسے حضرات کو ان اوصاف میں حصہ نہیں ملا تھا ۔ میں کہوں گا انکار کی صورت میں انعام خداوندی سے کفران لازم آ ئے گا۔ خدا ہمیں اس سے محفو ظ رکھے۔

اس بحث میں ہمارا رو ئے سخن دیو بند کی طرف چلا آ یا ہے ۔ تاہم بر یلوی جماعت کے ارکان بھی ہمیں بتا ئیں کہ مو لا نا مو لوی احمد ر ضا خان مر حوم جن کو مجدد ماۃ حاضرہ کہا جا تا ہے ، کیا وہ ان اوصاف سے خا لی ہیں ۔ ہرگز کو ئی ایسا کہنے کا حو صلہ نہیں کر سکتا پھر اس مجدد اور عظیم المر تبت شخصیت کو مقلد کہنا کیا معنی رکھتا ہے بحا لیکہ علماء کا اصول ہے :

إنما التقلید و ظیفة الجاهل

اس لئے ہم کہتے ہیں کہ یا تو یہ دو نوں گروہ اپنے اکابر کی نسبت علم و فضل اورزہدو تقوی کا عقیدہ چھو ڑ دیں یا ان کو مقلد کہنا تر ک کر دیں۔ ( اہل حدیث ، امر تسر، 5 جو لا ئی 1946ء: 3۔4 ؛ 12 جو لائی : 3 ۔4)

اشتہار مسا ئل عشر ہ اور ادلّہ کا ملہ

1877ء میں جاری ہو نے والے اپنے اشتہار مسا ئل عشر ہ ( جو متن میں منقول ہو چکا ہے ) کے بارے میں مو لا نا محمد حسین بٹالوی ؒلکھتے ہیں :

مسا ئل عشرہ جو اس اشتہار میں در ج ہیں جن کے دلائل کے سوال ہی حنفی مذ ہب کے مسا ئل ہیں اور ان کی کتب میں مو جود ہے کہ با عث جا ری ہو نے اس اشتہار کا یہ ہے کہ مو لوی عبد العزیز و غیرہ جن کا نام اس اشتہار میں در ج ہے مدعی مبا حثہ کے ہو ئے جب وقت مقا بلہ آ یا تو مسا ئل مقصودہ سے گریز کر بیٹھے اور مسئلہ فضیلت سا کنان حرمین نے بیٹھے ۔ ہر چند ان سے مسا ئل ذیل میں گفتگو کی در خواست کی گئی ۔ ہر گز اس گفتگو پر مستعد نہ ہو ئے ۔ چنا نچہ تفصیل اس کی اخبار سفیر ہندوستان میں چھپ رہی ہے ۔ پس لا چار ہو کر یہ اشتہار جاری کیا گیا ۔ ( ضمیمہ اشتہار مو ر خہ 10 ستمبر 1877ء )

اشتہارجناب بٹا لوی ؒ نے 19 مئی 1877ء کو شا ئع کیا تھا اور اس کے بعد بھی متعدد بار شائع ہوا ۔ اس اشتہار نے پورے ہند کے حضرات احنا ف میں تز لزل ڈا ل دیا ۔ رد و کد اور سوا ل و جوا ب کا ایک طو یل سلسلہ چل نکلا ۔ جواب میں متعدد علمائے احناف نے قلم اٹھایا۔ جناب بٹا لوی نے ایک ایک کا جوا ب دیا ۔ احناف میں سے سب سے اہم شخصیت غا لباً جناب قاسم نا نو توی تھے، آپ نے ادلہ کا ملہ کے نام سے جواب لکھا جسے مشاورت کے بعد جناب محمود حسن کے نام سے شا ئع کیا گیا ۔ ادلہ کا ملہ کے مصنف کا طر ز تحریر ملا حظہ فر ما ئیے :

آ پ ( بٹا لوی ) بے تکی ہا نکا کریں ۔ وا ہیا ت جا ہلا نہ سمجھ کر آپ کے حریف آ پ چپ ہو رہیں گے کیو نکہ جوا ب جا ہلا ں خا موشی باشد اور یہی و جہ ہے جو ارشاد ہوا: ﴿وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا﴾

مزید فر ما تے ہیں :

یہ شور تو ایک مدت سے ہے کہ حضرات غیر مقلدین تجویز متعہ کے در پئے ہیں چو نکہ آپ ان سب کے امام ہیں تو یہ کب ہو سکتا ہے کہ یہ شور اوپر ہی اوپر اڑا ہو ، اور نیز یہ شور بھی ایک مدت سے ہے کہ بعض غیرمقلدین خدا کے ہاتھ پا ئوں کو ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسے ہمارے تمہارے ہا تھ پا ئوں ہو تے ہیں ۔ اس میں تا مل ہے تو اتنا ہے کہ کا ہے کے ہیں ، چا ندی کے یا سونے کے یا کہیں اور کے ۔

ان دنو ں امر تسر سے ایک اخبار سفیر ہندوستان نکلتا تھا ۔ جناب بٹا لوی ؒ نے اس میں جوابی مضا مین شا ئع کئے ۔۔۔۔ مئی 1877ء سے مئی 1878ء تک یہ سلسلہ پہلے ضمیمہ اخبار سفیر ہندوستان اور تتمہ سفیر ہند کے نام سے شا ئع ہو تا رہا ۔ جو ن 1878ء کا پر چہ اشاعۃ السنہ کے نام سے شا ئع ہوا۔ اشتہار سے جنم لینے والے تحریری مبا حثے کا ذکر بار برا میٹکاف نے بایں الفا ظ کیا ہے :

A typical controversary within Sunni Islam was one between Maulana Mahmud Hasan Deobandi and two members of the Ahl-i-Hadis (S.Asghar Husain, Hayat-i-Shaikhul Hind, Deoband, 1920, pp172-76) Maulana Muhammad Hussain Batalawi, an outspoken member of the Ahl-i-Hadis resident in Lahore, initiated the debate by issuing a circular addressed to the Hanafi ulama. In it he called on them to give justification, based on Quran and Hadis, for ten specific issues in Hanafi law. He offered, as an indication of his contempt for their efforts, a reward of ten rupees for each point they could confirm in the revealed sources. A Punjabi Hanafi immediately responded, but even his fellow Hanafis found his effort something of an embarrasment. (The author was probably Maulwi Muhammad Umar Rampuri (d. 1878), who is noted as having written an answer to Batalwi (Aasharah Mubashirah) in the Tazkirah Ulma-yi Hind by Rahman Ali, Karachi ed. 1964, pp 454-55). Mahmud Hasan resolved to write a response himself. the result was his first written work, the since oft-reprinted Adilla-i-Kamilah. The popularity of the work did not derive from its originality, for it was a standard account of Hanafi belief and practice. It justified the jurisprudential position of the Hanafis, and accused the Ahl-i-Hadis, as the Deobandis always did, of following not Hadis but personal opinion, and of being excessively literal in their reading of text……Batalwi, of course, was not convinced, and used the newspaper of which he was an editor to promise a final answer to Mahmud Hasan’s points. That answer, wirtten by an associate, proved no more convincing to the other side. Mahmud Hasan, under Muhammad Qasim’s supervision, wrote a second answer, thus concluding, at least from Deobandi side, this particular debate. (Metcalf., Islamic Revival in British India, 1982, 212-.13)

بار برا کی تحریر میں جن مولوی محمد عمر کا ذکر ہے ان کا تر جمہ تذ کرہ کاملان رام پور کے صفحہ 268 پر بحوا لہ تذکرہ علمائے ہند از جناب ر حمن علی صفحہ 20 یوں منقول ہے :

مولوی محمد عمر تخلص صو لت۔ نہا یت دانشمند، عالم متبحر تھے۔ جا مع معقول و منقول، ذکی الطبع، منا ظر زبر دست، شاعر فصیح اور وا عظ بے مثل تھے ۔ حا شیہ عینی شر ح ہدا یہ، اور رسا لہ طنطہ صو لت در باب سماع ان کی یاد گار ہیں ۔ مولوی محمد حسین لا ہوری غیر مقلدین کے پیشوا نے سوا لا ت عشرہ مشتہر کئے تھے ۔

مولوی صاحب نے ہر ایک سوا ل کا جوا ب لکھا اور اس کا نام عشرہ مبشرہ رکھا۔ 13 رمضا ن المبار ک 1295ہجری کو انتقا ل کیا ۔ (جناب محمد حسین کو اس وقت اہل حد یث کا پیشوا کہنا بھی غلط ہے کیو نکہ اس وقت ان کے بڑے مو جود تھے جن میں حا فظ محمد لکھوی، محی الدین لکھوی، عبد اللہ غز نوی، غلام العلی قصوری، اور جناب میاں صا حب شامل ہیں۔بہاء)

بار برا میٹکاف کی تحریرسے یوں خیال ہو تا ہے کہ جناب محمود حسن ادلہ کاملہ کی تصنیف کے وقت بڑے علماء میں سے تھے بلکہ شا ئد احناف میں آ خری ا ٹھا ر ٹی تھے ۔ لیکن یہ بات واقعہ کے خلاف ہے ۔ جس وقت مسائل عشرہ کا اشتہار نکلا اس وقت جناب محمود حسن ایک نو آ موز مدرس تھے۔ اورجناب محمد حسین نے اشاعۃ السنہ کی جلد دوم میں وا ضح کر دیا تھا کہ ادلہ کا ملہ دراصل جنا ب قا سم کی تحریر ہے جسے جنا ب محمود حسن کے نام سے شا ئع کیا گیا ہے ۔ چنا نچہ لکھا ہے:

ہمارے اشتہار مسا ئل عشرہ مجر یہ 19 مئی 1877ء کا جوا ب برا ئے نام ایک رسالہ ادلہ کاملہ بھی تھا جس کے جوا ب کی نو بت ہم نے بو جہ قلت فر صت وکثرت مخا طبین بر طبق مشہور یک انار و صد بیمار یا یو ں کہیں کہ یک جا ن و صد آزار اختتام جوا ب ظفر احمد کے بعد ٹھہرا رکھی تھی اور اس کی تشہیر اعلان یکم و پانز دہم دسمبر 1877ء و ضمیمہ اشاعۃ السنۃ مطبوعہ ذی قعد 1295ھ میں کیا ۔ اب جوا ب ظفر احمد کے ختم ہو جا نے سے اس رسا لہ کے جوا ب کا آغاز ہوا۔

یہ امر کہ رسالہ ادلہ کا ملہ مو لوی محمد قاسم کی تا لیف ہے ہر چند محتا ج ثبو ت و لا ئق بحث نہیں ہے ۔پنجا ب وہندوستا ن بلکہ عربستان کے بہت سے لو گ اس با ت کو جانتے ہیں ۔ صد ہا اتباع قا سمیہ بڑے فخر و عجب سے یہ دعوی کرتے ہیں کہ

جناب محمد قاسم نے جواب اشتہار ایسا لکھا ہے جس کا جوا ب آج تک فریق ثا نی سے ادا نہیں ہوا ۔ اورجناب محمد قا سم خو د بھی اپنے مؤلف ہو نے کے مقرّ ہیں اور یہ اقرار کئی جگہ کہ ازانجملہ حرم مکہ ہے ( زادہا اللہ شر فاً ) بر ملا کر چکے ہیں۔

و لیکن چو نکہ بعض حق پو ش صدق فرا مو ش نے مؤاخذہ اخروی کا ڈر اٹھا کر تہدید وعید کذ ب سے بے خو ف ہو کر اس امر مستفیض کا انکار کیا ہے یا اس انکار کی جڑ کو جما دیا ہے کہ اس رسا لہ کو مولوی محمود حسن کے نام سے چھپوا یا اور انہیں کا مئو لف ہو نا خلاف واقعہ مشتہر کیا ، اس لئے مجھے بیا ن شا ن نزو ل اس رسا لہ کا (جس کو مقلدین مو لوی محمد قاسم کالو حی من السّماء سمجھتے ہیں) منا سب معلوم ہوا ،اور مو لوی صا حب کے مئولف ہو نے کا ثبو ت ضروری نظر آ یا ۔ پس بسماع تو جہ سننا چا ہیے کہ ۔۔ بعض ثقات مدرسہ دیوبند کے ( جو مو لد و منشاء اس رسا لہ کا ہے) مجھے نقل پہنچی ہے کہ جب اشتہار مسائل عشرہ مدرسہ دیو بند میں پہنچا تو حا جی عا بد حسین نے ( جو مدرسہ دیو بند کے معا و ن و ممبر ہیں) سب مدرّسو ں سے اس کے جوا ب لکھنے کی در خواست کی۔ جب کسی نے استطا عت نہ پائی اور سب نے اپنی عا جزی ظا ہر کی تو وہ اشتہار حا جی صاحب مو صو ف اور مو لوی رفیع الدین ( جو مدرسہ کے مہتمم ہیں) نے مو لوی محمد قا سم کی خد مت میں بمقام نانو تہ روا نہ کیا اور تاکیدی خط متضمن در خواست جوا ب تحریر فر ما یا ۔ مو لوی محمد قاسم نے ایک مہینہ کے بعد جوا ب لکھ کر مو لوی محمد منیر ( جو ان کے رشتہ کے بھا ئی ہیں اور بر یلی میں ملازم) کے ہا تھ دیو بند بھیج دیا ۔ مو لوی محمد منیرنے وہ جوا ب بوقت شام دیوبند میں پہنچا یا اور نقل کر نے کیلئے مو لوی کو ثر علی خوش نویس کے سپرد ہوا ۔

ناقل کہتے ہیں میں نے اپنی آ نکھ سے وہ جوا ب دیکھا اور مو لوی محمد قا سم کا دستخطی پا یا ۔ جب وہ جواب نقل ہو چکا تو اس میں کمیٹی شروع ہو ئی کہ کس کے نام سے اس کی تشہیر ہو ۔

آ خر اس تجو یز پر اتفاق رائے ہوا کہ مو لوی محمد قا سم نا می آ دمی ہیں،ان کے نام سے اس کی تشہیر ہو ئی تو جو کو ئی اس کا جوا ب لکھے گاوہ بھی مو لوی صا حب کی طرف عا ئد ہو گا او ر اس میں مو لوی صاحب کی تو ہین وبد نا می متصور ہو گی، لہٰذا تشہیر اس کی مو لوی فخر الحسن کے نام سے ہونی چاہیے یا مو لوی محمود حسن کے نام سے۔

راقم محمد حسین کہتا ہے یہ تب ہی ان حضرات کو سوجھی جب کہ ان کو خود ہی اس رسا لہ پر طما نیت حاصل نہ ہو ئی اور اس کو مجموعہ اوہام و خیالا ت جا ن لیا اور اس کے رد ہو نے کا یقین کر لیا ۔

اگر اس کو جواب صحیح با دلیل جا نتے اور لا جوا ب خیا ل کرتے تو یہ آڑیں کیو ں ڈھونڈ تے۔ یہی و جہ ہے کہ اس سے پہلے بھی جو دو تین جوا ب اشتہار اسی طر ح اورو ں کے بچا ؤ میں نکلے اور مئو لفین جوا بات خود پردہ میں رہے۔

اول جواب ایک طا لب العلم ہو شیار پوری کا جو ظفر احمد کے نام سے شا ئع ہوا جس کا جوا ب ضمیمہ اخبار سفیر ہند میں دیا گیا ۔ دو یم جوا ب بعض علماء لکھنؤ وبنارس کا جو ایک شخص خلیل الدین کے نام سے شا ئع ہوا اور اس کا جواب رسالہ اشا عۃ السنہ میں نمبر ایک سے آٹھ تک ادا ہوا ۔

سیوم جوا ب امام اہل خصا م جنا ب محمد شاہ (پاکپٹنی) کا جو میا ں یو سف کے نام سے شائع ہوا ۔ جس کا جوا ب نمبرآ ٹھ سے دس تک اشا عۃ السنہ میں دیا گیا ۔ اب یہ رسالہ چہارم ( ادلہ کا ملہ) جوا ب ہے، جو اسی طر ز قدیم سے جاری ہوا ہے ۔ آ ئندہ دیکھا چاہیے ۔

غر ض ان لو گو ں کی اس آ ڑ لینے سے یہی ہے کہ اگر کسی نے اس کی ردّ و مدافعت نہ کی تو فتح ہمارے نام رہی اور ان لو گو ں میں جو ہمارا مئو لف ہو نا جا نتے ہیں ہماری نیک نامی ہو ئی اور اگر کسی نے اس کی خبر لی اور بیخ کنی کر دی تو عا مہ خلا ئق میں بد نا می اس کی ہو ئی جس کے نام سے اس کی شہرت کرا ئی گئی ۔

لیکن ان سب میں یہ کسی نے نہ سو چا کہ یہ ہمارا راز چھپا کیو ں کر رہے گا ؟اور جو با تیں ہم اعا ظم مشا عر و عا مہ مجا لس میں فخراً ظا ہر کرتے ہیں اور ان میں کمیٹیاں ہو تی ہیں، کیو نکر با ہر نہ نکلیں گی؟

ان کی اس خام کاری پر یہ شعر خو ب صادق آ تا ہے جو ان کی اس مصیبت افشاء راز پر گو یا ایک مرثیہ ہے :

ہمہ کام ز ناکامی بہ بدنامی کشید آخر

نہاں کے ماند آن رازے کزو سازند محفلہا

یہا ں ایک اور ثقہ صا حب علم سے، جو ان د نو ں مدرسہ دیو بند میں مو جود تھے، یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جنا ب مو لوی احمد علی سہارنپوری اور جنا ب مو لوی رشید احمد گنگو ہی اس مشورہ تبد یل نام مئو لف کے شریک ہیں اور کمیٹی کے وہ بھی ممبر ہیں ۔ ان کے پاس رسا لہ بھیج کر یہ مشورہ پو چھا گیا تو انہو ں نے بھی مولوی محمود حسن کے نام سے شا ئع ہونے رسا لہ کو پسند کیا۔ جب یہ تبد یل نام مجمع علیہ آراء ار با ب کمیٹی ہو گئی اور محمود حسن صا حب کے نام سے تشہیر رسا لہ کی قرار پا ئی تو حا جی عا بد حسین نے اس کو اپنے مرید محمد انور نا می کے ( جو جا لند ھر میں ملازم ہیں) پنجا ب میں چھپوا نے کو بھیجا اور وہ ان کے اہتمام سے بنام نہاد اظہار الحق چھپا۔ ادھر مو لوی محمد منیر نے چھپنے کے لئے کا ن پور بھیج دیا ۔ وہاں مطبع نظا می میں بنا م ادلہ کا ملہ مو سوم ہو کر چھپ گیا۔ یہی و جہ ہے کہ رسا لہ ایک مضمو ن پر نام دو ۔

اگر ان دو نو ں میں فر ق ہے تواتنا ہے کہ ادلہ کا ملہ میں عنوا ن جوابات دفعہ اول ، و دفعہ دوم۔۔ الخ ہے اور اظہار الحق میں عنوا ن یہ ہے۔ جوا ب سوال اول ، جوا ب سوا ل دو ئم۔۔ الخ

اسی بناوٹ کی و جہ سے اظہار الحق چھپوا تے ہی ایسا چھپا یا گیا کہ پھر کہیں اس کا اثر نظر نہیں آ یا۔

یہ تو مشا ہدہ کی شہود کا بیان ہے، اب اقرار کے شہود کا بیان سننا چاہیے ۔ مو لوی محمد قاسم نے اپنی زبا ن گو ہر فشا ن سے حر م مکہ ( حر سھا اللہ تعا لی ) میں اس با ت کا اقرار کیا اور بڑے فخر سے ظا ہر کیا کہ ہم نے اشتہار غیر مقلدین کے جوا ب میں رسا لہ ادلہ کا ملہ لکھ دیا ہے ۔

اس اقرار جنا ب کو مو لوی صا حب کے بڑے معتقد حاجی ظفر اللہ نے ( جو اصلی متو طن میر ٹھ ہیں اور بالفعل مقیم مکہ۔ اور بتقریب تجا رت ہندوستان آتے جا تے ہیں اور 1295ھ میں ہندوستان آ ئے ہیں) دہلی میں بیا ن کیا ۔

اور اس کو بجوا ب ہمارے دوستو ں کے اس اعترا ض کے کہ مو لوی محمد قا سم اس اشتہار کا جوا ب کیو ں نہیں لکھتے اور آ پ (حاجی ظفر اللہ) ان سے مطا لبہ جواب کیو ں نہیں کرتے، بڑے زور شور سے پیش کیا۔

اس کے بعد ہمارے ایک دوست شیخ محی الدین نا می کو بتقریب ادا ئے فر یضہ حج اتفاق زیارت بیت الحرام ہوا تو وہاں انہو ں نے مو لوی محمد قا سم کے مئو لف ہو نے کا اقرار حا جی امداد اللہ پیر و مر شد مو لوی محمد قا سم و مو لوی رشید احمد کی زبا ن مبار ک سے سنا ۔

یہ اقرار حاجی امداد اللہ کا مو لوی محمد قا سم کے اقرار سے بڑ ھ کر لا ئق سند ہے، اس لئے کہ پیر و مر شد کا رتبہ صدق و دیا نت میں مرید سے با لا تر ہے ۔

علاوہ اقرار اس مو قع کے کئی موا ضع میں مو لوی محمد قاسم نے اقرار کیا ہے اور قبل طبع رسا لہ اس کی خبریں مواضع مختلفہ میں مشتہر ہو گئیں ۔

لو دہا نہ ، سا ڈھوڑہ ، پٹیا لہ ، بر یلی و غیرہ بلکہ رسالہ قلمی ان کے نام سے جا بجا منتشر ہوا ۔ اور قبل انطباع اس کا ایک نسخہ ہم کو لد ھیا نہ سے ملا جو ان کے ایک شا گرد ( جو مجھ سے بھی واسطہ استناد رکھتا ہے اور مو لوی صا حب کا بڑا معتقد) کے پاس موجود تھا ۔ اسی کی زبا ن سے لد ھیا نہ میں مو لوی صا حب کا مئو لف ہو نا مشہور ہوا ۔

٭٭٭

مسلمان تصور کھو جانے پر زبوں حالی کا شکار

فرقہ واریت سے نکل سے کر ایک امت بننا ہو گا

اسلامک دعوہ کانفرنس

امت کی زبوں حالی کا سبب امت کے تصور کا کھو جانا ہے، آج مسلمان نے بحیثیت مسلمان سوچنا چھوڑ دیا اور عمل کرنا بھی چھوڑ دیا۔ اسی وجہ سے سارا کفر ایک دستر خوان پر ان کو ہڑپ کرنے کی غرض سے اکٹھا ہو گیا ہے اور مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا ہے، اس کا حل یہی ہے کہ ہم فرقہ واریت سے نکلیں اور امت بن جائیں۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ شب مرکز ام القری بریڈ فورڈمیں منعقد ہونے والی مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کی 43 ویں سالانہ اسلامک دعوہ کانفرنس میں مقررین نے کیا۔دریں اثناء اس موقع پر مرکز ام القر یٰ کا افتتاح بھی کیا گیا، 2016ء ایک چرچ خریدا گیا تھا اور اسے ایک خوبصورت مسجد ومرکز میں تبدیل کیا گیا ہے۔ کانفرنس میں مقتدر علمائے کرام نے امت مسلمہ کی زبوں حالی کے اسباب اور ان کے حل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ پروفیسر سینیٹر حافظ ساجد میر (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان)، ڈاکٹر حافظ عبد الکریم (ناظم اعلیٰ مرکزیہ پاکستان) ڈاکٹر محمد حماد لکھوی (سربراہ شعبہ اسلامیات، پنجاب یونیورسٹی، پاکستان) پروفیسر محمد یحییٰ محدث جلالپوری، لاہور پاکستان، الشیخ ظفر الحسن مدنی، پیس ٹی وی سکالر شارجہ، لاہور کی تاریخی مسجد چینیانوالی کے خطیب مولانا شفیق احمد پسروری ایڈیشنل سیکرٹری جنرل المرکزیہ نے پُرمغز خطابات کیے، جبکہ علامہ احسان الٰہی ظہیر کے فرزند علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا، کیونکہ وہ علالت طبع کی وجہ سے سفر نہیں کر سکتے تھے، کانفرنس کی صدارت امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ، مولانا محمد ابراہیم میرپوری نے کی جبکہ انتظامی امور کی نگرانی ناظم الامور اعلیٰ المرکزیہ حافظ حبیب الرحمٰن نے کی۔ نقابت کے فرائض مولانا شفیق الرحمٰن شاہین اور حافظ شریف اللہ شاہد ناظم تبلیغ المرکزیہ نے سرانجام دیے۔ کانفرنس کے بعد نماز ظہر شروع ہوئی، ابتدائی تقاریر انگریزی میں الشیخ ابو اسامہ الذہبی برادر وسیم خان ودیگر نے کیں۔ اردو سیشن کا آغاز تلاوت اور مولانا عبد الستار عاصم کی حمدونعت سے ہوا۔ خطیب شہر مولانا منیر قاسم نے راہِ حق میں مشکلات کا سامنا کرنا سنت انبیاء ہے کے موضوع پر خطاب کیا۔ مولانا عبد الرب ثاقب کی نظم نے سماں باندھ دیا، مولانا ظفر الحسن مدنی، مولانا شفیق خاں پسروری نے مدلل انداز میں اپنے موضوع کا حق ادا کیا، پروفیسر محمد یحییٰ جلاپوری نے جو نائجیریا میں اسکاڈا یونیورسٹی کے لیکچرار بھی رہے ہیں، انہوں نے وہاں کے حکمران الشیخ عثمان محمد ببلو کے اسلامی کاز کی ایمان افروز تفصیل بیان کی، نماز عصر کے بعد ڈین شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی لاہور نے بڑے عالمانہ خطاب کیا، ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اور سینیٹر پروفیسر حافظ ساجد میر نے اپنے موضوع پر مدلل خطاب کیا، جبکہ جماعت کی جانب سے اعلامیہ مولانا حبیب الرحمٰن حبیب نے پیش کیا۔ انہوں نے حافظ شریف اللہ شاہد اور ان کے رفقاء کی تحسین کی جو ایک خستہ حال چرچ کو توحید وسنت کے مرکز میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ناظم اعلیٰ نے برطانیہ کے مختلف شہروں سے دور دراز کا سفر کر کے آنے والے تمام احباب کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے کانفرنس میں شرکت کی۔ یقیناً کانفرنس کی کامیابی کے لیے احباب جماعت کا تعاون ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور آپ لوگوں کا یہ سفر صرف اللہ کی رضا کی خاطر ہے اور علماء وفضلاء سے علم دین حاصل کرنا بھی مطلوب ہے۔ کلمات تشکر امیر جماعت مولانا محمد ابراہیم نے ادا کرتے ہوئے جماعت سے جڑے رہنے کی تلقین کی، اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے، الگ الگ سوچ پر نہیں۔ اللہ کے ہاتھ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے توفیق وتائید، حفاظت ومدد ہے، اس امت مرحومہ پر اللہ کی جانب سے جہاں بہت سے احسانات ہیں وہیں اس کا یہ بھی بڑا کرم ہے کہ امت کے تمام لوگ کبھی ناحق اور غلط باتوں پر جمع نہیں ہوتے، یہ جب بھی کسی چیز پر اتفاق کرتے ہیں وہ حق بات ہوتی ہے۔ناظم نشر واشاعت مولانا عبد الاعلیٰ درانی نے جمعیت کا عالمی حالات کے تناظر میں مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر وفلسطین کی پنجہ ہنوز ویہود سے مکمل رہائی ہی سے امن عالم وابستہ ہے۔ کشمیری حریت پسند لیڈر یاسین ملک کے خلاف بھارت کورٹ کی طرف سے جو سزا دی گئی ہے اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے ہر فورم کو استعمال کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ نیز پاکستان کے تمام معاشی مسائل کا سب سودی نظام کی بجائے اسلامی بینکنگ سے وابستہ ہونے میں ہے، حال ہی میں وفاقی شرعی عدالت نے اس کےخلاف فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کو پانچ سال کی مدت دی ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث اس فیصلے کی بھرپور تائید کرتی ہے۔ بحمد اللہ یہ کانفرنس جو 2 بجے سے شام 9 بجے تک مسلسل جاری رہی اور جس نے اپنے حاضرین پر بہت اچھا اثر چھوڑا اور علم وعمل کی دنیا میں ایک انقلابی کردار ادا کیا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں