تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

٭ہمارے دارالعلوم مو جودہ حالا ت میں صر ف اس بات کا ذریعہ بن گئے ہیں کہ اپنے مخصوص فقہی مسلک کو قر آ ن و سنت کے مطا بق ثا بت کر دکھا ئیں ۔ 1330ھ میں رشید رضا مصر ی ہندوستان آ ئے تھے ۔ اس سلسلہ میں وہ دار ا لعلوم دیو بند بھی گئے ۔ وہاں ان کے خیر مقدم کے لئے ایک جلسہ ہوا ۔ اس موقع پر مو صوف نے دار العلوم کے ایک استاد سے پو چھا کہ یہاں حدیث کے درس کا کیا طریقہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جب حدیث پڑ ھا ئی جا تی ہے تومحدث پہلے اس کے علمی نکا ت بیان کرتا ہے ۔ اگر بادی الرا ئے میں حدیث امام ابو حنیفہ﷫ کے مسلک کے خلاف ہو تی ہے تو محدث حنفی مسلک سے اس کی مطا بقت ثا بت کر تا ہے ۔ رشید رضا نے یہ سن کر کہا ،کیا یہی تمام احادیث میں ہو تا ہے ۔ کہا گیا ہاں ، انہیں یہ بات بہت عجیب معلوم ہو ئی ۔ مو لا نا محمد یوسف بنوری ﷫ (1908۔1977ء ) کی روا یت کے مطا بق ( نفحۃ العنبر: ص 71 ) ا نہوں نے کہ

أهل الحدیث حنفی ، وکیف یمکن ذ لك وهل هذا إلا عصبیة مالھا من سلطان

’’ کیا حدیث بھی حنفی ہے ۔ ایسا کس طر ح ہو سکتا ہے ۔ یہ تو محض عصبیت ہے جس کے لئے کو ئی دلیل نہیں۔‘‘

مو لا نا انور شاہ کاشمیری﷫ اس زما نہ میں حد یث کے استاد تھے ۔ انہیں یہ خبر پہنچی تو انہوں نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں اسی کو اپنا مو ضوع بنا یا اور ثا بت کر دیا کہ تمام حدیثیں فقہ حنفی کے مطا بق ہیں ( یہ نہیں کہ فقہ حد یث کے مطا بق ہے ، بلکہ حد یث کو فقہ کے مطا بق بتا یا ۔ یعنی اصل چیز فقہ ہے، حد یث تو ثا نوی چیزہے۔) تاہم جناب انور شاہ کاشمیری﷫ کو (1875ء ۔1934ء ) کو آ خر عمر میں اس طر یق تعلیم کی خا می کا احساس ہو گیا تھا ۔ مو صوف کے شا گرد مولانا مفتی شفیع ﷫( 1897ء ۔1976ء ) ناقل ہیں کہ مولانا کاشمیری ﷫ نے ان سے کہا :

ہماری تمام کدو کاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی تر جیح کو قا ئم کریں مگر کیا حاصل ہے اس کا؟ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مسلک کو صواب محتمل الخطا ثا بت کریں اور دوسرے مسلک کو خطا محتمل الصواب کہیں ۔ ہم تمام تر تحقیق و کاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ صحیح ہے لیکن احتمال مو جود ہے کہ یہ خطا ہو ۔ اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ صواب ہو ۔ قبر میں منکر نکیر یہ نہیں پو چھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا تر ک رفع یدین حق تھا ۔ آ مین با لجہر حق تھی یا بالسرّ حق تھی۔ جس چیز کو نہ دنیا میں نکھر نا ہے نہ محشر میں ۔ اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضا ئع کردی۔

( وحدت امت : ص 20 )

اجارہ فاسد

اس فقہی مسئلے پر ایک مر تبہ ہند کے احناف میں باہمی فتوی بازی اور چیلنج بازی بھی ہو ئی ۔ ہوا یوں کہ ایک طوائف کی کما ئی سے برف کی کل تیار ہو ئی ۔ اس کے خرید نے کو جناب عبد العزیز بن عبد القادر لد ھیانوی نے نا جا ئز قرار دیا ۔ جناب غلام رسول امر تسری اور جناب رشید گنگوہی نے اس کے خلاف فتوی دئیے ۔ طوائف نے عدالت میں تو ہین کا دعویٰ کیا اور جناب غلام رسول اور جناب گنگوہی کے فتوے اپنی تا ئید میں پیش گئے ۔ اس پر جناب محمد بن عبد القادر لد ھیا نوی نے لکھا :

جناب عبد العزیز لدھیانوی نے فر یق مخا لف کو کہلا بھیجا تھا کہ اگر کو ئی اس فتوی مولوی غلام رسو ل امرتسری کو ثا بت کر دے تو میں اپنی جا ئیداد جو آ ٹھ ہزار رو پے کی ہے اس کو دے دوں گا۔ ور نہ خوا جہ عبد الاحد و غلام محی الدین اپنی کل جا ئداد کو مسا جد کی تعمیر میں خر چ کر نے کی نذر مان لیں۔ طر ف ثانی کی طرف سے کو ئی جوا ب نہیں آیا ۔ اب بھی اگر کوئی تحقیق کے در پے ہو تو ہم اسی اقرار پر قا ئم ہیں، بشرطیکہ علما ئے حر مین کا منصف ہونا مانا جا ئے اور ایک اقرار نا مہ جا نبین کی طرف سے تحریر ہو کر سر کار میں رجسٹری کرا یا جا ئے تا کہ جا نبین کو وقت آنے فیصلہ ثا لثی کے موقع چوں چرا کا باقی نہ رہے ۔

اگر کوئی یہ اعترا ض کر ے کہ خر چی زنا کی جو بازاری عورتیں لو گوں سے مقرر کرکے لیتی ہیں، امام ابو حنیفہ﷫ کے مذ ہب میں حلا ل طیب ہے جیسا کہ بحرالرا ئق شر ح کنز و چلپی حا شیہ شر ح وقا یہ میں لکھا ہے:

قال وفی الاجارة الفاسد أجر المثل أی یجب أجرہ حتی ان ما أخذته الزانية إن کان بعقد ا لاجارة فحلال عند (الإمام) الأعظم لأن أجر المثل طیب و إن کان السبب حراماً و حرام عندھما وإن کان بغیر عقد فحرام اتفا قاً ۔ انتهی

ما فی الحلبی و فی المحبر و ان استجارھا لیزنی بھا لا بأس باخذہ ولأنه فی اجارة فاسدة فیطیب له وإن کان السبب حراماً. انتهى

ملخصاً تو ہم اس کے جوا ب میں یہ کہیں گے کہ ان عبارتوں سے خر چی کا رو پیہ حلا ل طیب ثابت نہیں ہوتا کیو نکہ حا صل ان عبارات کا یہ ہے کہ اگر کسی عورت کو بطور اجرت سینے یا کا تنے پر مقرر کیا اور اس میں یہ بھی شرط کر لی کہ میں تیرے سا تھ زنا کر وں گا تو ایسی صورت میں امام اعظم کے نز دیک اجر مثل کا دینا آتا ہے یعنی جس کام کے واسطے اس کو مقرر کیا تھا اس کام کی اجر ت بطور روا ج کے دینی پڑ ے گی کیو نکہ یہ ا جارہ اگر چہ جا ئز کا موں کے واسطے کیا گیا تھا لیکن بہ سبب شر ط زنا کے فاسد ہو گیا اور اجارہ فاسدہ میں مزدوری روا جی اگر مزدوری مقررہ سے زیادہ نہ ہو دینی آ تی ہے اسی بنا پر امام اعظم نے اجر مثل کو حلال طیب فر مایا۔ ( محمد لد ھیا نوی، فتاوی قادریہ: 129۔130)

قضاء قا ضی

تقسیم ہند سے قبل احناف کے اخبار العدل گو جرا نوالہ میں، فقہ حنفی بتما مہا ا حا دیث ہیں ، کے عنوا ن سے جناب محمدیعقوب مدرس مدرسہ اسلا میہ مبا ر ک پور کا ایک سلسلہ وار مضمون شا ئع ہوا ۔ اس پر جناب منشی محمد عبد اللہ معمار نے اہل حد یث امر تسر 14 نو مبر 1930ء میں چند سوا لات کئے ۔ جن کے جوا ب میں جناب محمد شر یف کو ٹلی ضلع سیا لکو ٹ اورجناب محمد یعقو ب مذکور نے قلم ا ٹھا یا ۔ جناب محمد شریف نے لکھا :

مستری عبد اللہ معمار کی طر ف سے اہل حد یث کے 14 نو مبر کے پر چہ میں علماء ا حناف سے دو سوا لات کئے گئے ہیں۔ ایک قا ضی کی قضا ( کوئی شخص کسی غیر منکو حہ عورت پر نکا ح کا جھو ٹا دعوی کر کے جھو ٹی شہادت سے بقضاء قا ضی اس کو لے لے تو اس سے ملاپ کر نا فقہ حنفیہ میں جا ئز لکھا ہے۔ اس کی طرف اشارہ ہے ) کے ظا ہر و با طن نا فذ ہو نے میں ۔ اور دوسرا شرا ب انگوری کے سوا دوسری شرا بوں کو بغرض قوت پی لینے کے جواز میں ۔ آ پ دریافت فرماتے ہیں کہ یہ دو نوں مسئلے کس حد یث سے ما خوذ ہیں۔

میں ( محمد شریف) کہتا ہوں یہ دو نوں مسئلے اور نیز وہ باقی مسئلے جو ان کو یا ان کے ہم مشر بوں کو کھٹکتے ہیں، ان سب کا جوا ب یہ ہے کہ

اَ ئمہ محد ثین نے تصریح کی ہے کہ امام اعظم کا کوئی قول ایسا نہیں جس کی سند آ یت یا حد یث یا اثر یا حد یث ضعیف منجر بکثر ت طرق یا قیاس صحیح نہ ہو ۔

امام اعظم کے زما نہ میں جو احا دیث کا ذخیرہ تھا وہ ائمہ کے سینوں میں محفو ظ تھا۔ان سب کا مجموعہ آ ج فقہ حنفیہ کی صورت میں ہماری نظرو ں کے سا منے ہے۔ آج بالفر ض اگر کو ئی شخص دنیا میں ایسا ہو جس کی نظر میں تمام کتب احا دیث مطبوعہ ،غیر مطبوعہ تمام مسانید معا جم و صحا ح و مراسیل گذری ہوں اور اس کو امام صا حب کے کسی ایک مسئلہ کی کو ئی دلیل مو جودہ کتب میں نہ ملی ہو تو بھی ہم اس مسئلہ کو بے دلیل نہیں سمجھ سکتے کیو نکہ امام بخاری﷫ کا ذخیرہ 6 لاکھ حدیث اگر ہمارے سا منے ہو تی پھر اس میں امام اعظم کے مسائل کی دلیل نہ ملتی تو البتہ ہم کہہ سکتے تھے۔ مگر نہ تو وہ ذخیرہ حد یث مو جود ہے جو قد ماء کے سینوں میں تھا، نہ کسی عالم کی اس زما نہ میں اتنی وسیع نظر ہے کہ تمام موجودہ کتب حد یث پر اس کا عبور ہو۔ پھر اس وقت امام اعظم کے مسا ئل کی دلیل طلب کر نا مقلدین کو تکلیف مالا یطاق ہے (طاقت سے با ہر)۔

لیکن پھر بھی علماء نے موجودہ کتب حد یث میں سے ہی حضرت امام کے مسائل کے دلا ئل کتب فقہ کی شروح و حواشی میں مفصل بیا ن فر ما ئے ہیں اور اردو خوان احبا ب کے لئے اردو میں بھی ایسے رسا لہ جا ت لکھ دئیے جن کے مطا لعہ سے ایسے شکو ک و شبہات کا ازالہ ہو جا تا ہے۔

( العدل، گو جرا نوالہ، 3 دسمبر 1930: ص 5 )

مولانا ثناء اللہ فر ماتے ہیں: یہ سوا ل کا جوا ب نہیں بلکہ عجز عن الجوا ب ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ کو ٹلوی صا حب نے جن علماء کی کو ششوں کا ذکر کیا ہے ان کی کتابوں سے وہ حد یث دکھا دیتے جس سے دو نوں سوال حل ہو جا تے۔ ہم سے پو چھیں تو ہم بتادیتے ہیں کہ امام بخاری﷫ نے صحیح بخاری میں کتا ب الحیل لکھی ہے اس میں اس حنفی مسئلہ کا ذکر مع تر دید کیا ہے اور تر دید میں حد یث شر یف نقل کی ہے۔

مولوی محمدیعقوب نے لکھا ہے :

روا یت حد یث کے دو طر یقے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ رسول خدا ﷺ کے قول و فعل کو بعینہ بغیر کسی تبد ل و تغیر مع سند کے بیا ن کیا جا ئے ۔ دوسرا طر یقہ یہ ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ کے قو ل یا فعل سے جو حکم معلوم ہو وہ بیا ن کیا جا ئے ۔ پہلا طر یقہ بہت سے دلائل قاہرہ و برا ہین قا طعہ کی و جہ سے غیر پسند یدہ تھا اسلئے حضرت اما منا ا لاعظم نے اس طریق سے روا یت حد یث نہ فر ما یا۔ روا یت حد یث کا دوسرا طر یقہ چو نکہ محبو ب و مرغوب تھا اس لئے امام ابو حنیفہ﷫ نے اس طریقہ سے بکثرت حدیثیں روا یت کیں اور وہ روایا ت احناف کے پاس فقہ حنفی کی صورت میں مو جود ہیں۔ (العدل 7 جنوری 1931ء ص 7)

جناب ثناء اللہ امر تسری فر ماتے ہیں :

مقسم اپنی تقسیم اقسام میں ہو تا ہے اور بو لا جاتا ہے مثلاً انسا ن کی تقسیم یوں کریں کہ انسان عر بی ہے اور عجمی تو انسا ن دو نوں پر بو لا جا ئے گا۔ صحت تقسیم کی علامت یہی ہے کہ مقسم اقسام پر صادق آ ئے۔ مگر محمد یعقوب نے عجیب منطق ہمیں سنا ئی ہے گو یا اس اصول کی ضرورت نہیں۔ کیو نکہ آ پ کے نز دیک حدیث کے دو طر یق ہو ئے۔ ایک حد یث وہ جو بعینہ روا یت ہو کر قول رسا لت ہم کو ملے ۔

دوسری حد یث وہ جو مسا ئل مستنبطہ کی شکل میں بصورت فقہ پہنچے۔ نتیجہ صا ف ہے کہ مسا ئل فقہیہ کو بھی حد یث کہنا ہو گا۔

آپ کی پاس خا طر سے مسا ئل فقہیہ کو باصطلا ح جد ید حد یث نام رکھتے ہیں لیکن یہ جو آپ نے فر مایا ہے کہ

دوسرا طر یق یہ کہ رسو ل اللہ ﷺ کے قول و فعل سے جو حکم معلوم ہو وہ بیا ن کیا جا ئے ۔

اس میں آ پ کو اعترا ف ہے کہ مسا ئل فقہ احا دیث سے ماخو ذ ہیں۔

پس یہ دو مسا ئل متنازع بھی انہی میں سے ہیں ۔ لہذا پھر وہی سوا ل لو ٹے گا کہ

جس قول یا فعل سے یہ دو مسا ئل امام کو یا آپ کو صحیح معلوم ہو ئے وہ قو ل رسول کہاں ہے ؟

آپ عینی شر ح بخاری ۔ عینی شر ح ہدا یہ، مبسو ط سرخسی ۔ تخریج زیلعی و غیرہ دیکھ جا ئیے جہاں ملے وہ سا منے لا کر منشی عبد اللہ معمار سا ئل کودے دیجئے۔

جناب محمدیعقوب پھر لکھتے ہیں :

آ پ معمار صا حب علماء احناف سے پو چھتے ہیں کہ یہ دو مسئلے کس حدیث سے مستنبط و ماخوذ ہیں ، بتلایا جا ئے :

1 ۔ قا ضی کی قضا ظا ہراً و با طناً نا فذ ہو تی ہے ۔

2 ۔ شرا ب انگوری کے سوا باقی شرا بیں جو گڑ نا رنگی وغیرہ کی بغر ض قوت پی لینی جا ئز ہیں ۔

جنا ب من! آ پ کے سوا لات تو بعینہ ایسے ہو ئے جیسے کو ئی کہے کہ صحیح بخاری میں آ یا ہے کہ جب امام ولا الضا لین کہے تو مقتد یوں کو آ مین کہنا چا ہیے۔ جامع ترمذی میں آ یا ہے کہ نماز میں تمام افعال کو حرام کر دینے وا لی چیز تکبیر تحریمہ ہے ۔ لہٰذا بتلا یا جا ئے کہ یہ مسئلہ کس حد یث سے ما خو ذ ہے۔ آ پ ہی انصا ف سے فر ما ئیے کہ جوا ب دینے وا لا سوائے اس کے کیا کہے گا کہ

میاں سا ئل یہ کتا بیں تو حد یث کی ہیں ان میں جتنے مسائل مو جود ہیں وہ سب کے سب احا دیث رسو ل ہیں پھر تم مجھ سے حد یث کا مطا لبہ کیو ں کرتے ہو ۔ کیا حد یث کے لئے بھی حد یث کی ضرورت ہے۔ اگر اس قاعدے کو تسلیم کر لیا جا ئے تو ہر حد یث کے لئے ایک دوسری حد یث کی ضرورت ہے ۔ علی ہذا القیاس اور اسی کا نام تسلسل ہے، و ھو محال ۔

( العد ل گو جرانوالہ 7 جنوری 1931ء ص 7)

جناب ثناء اللہ امر تسری ﷫کہتے ہیں کہ

بقول آ پ کے اقوا ل فقہیہ پر دلیل طلب کر نا اور دلیل دینا محا ل ہے تو صا حب ہدا یہ اور صا حب مبسو ط و غیرہ کیوں مسا ئل فقہیہ پر دلا ئل حد یثیہ پیش کر کے محا ل کا ار تکا ب کرتے ہیں۔ جناب مر تضی حسن چاندپوری نے تو فر مایا تھا کہ مسا ئل فقہیہ کو با دلیل جا ننے وا لہ غیر مقلد ہو جاتا ہے ۔

(العدل 7 جو ن 1927ء)

اور یہ مولوی یعقوب فر ما تے ہیں کہ

مسا ئل فقہیہ اور اقوا ل فقہاء پر دلیل دینا محا ل ہے ۔ انکم لفی قول مّختلف۔ اور اپنے سوا ل کا جوا ب سنیے ۔ امام بخاری﷫ اگر عنوان باب میں یہ کہتے کہ

جب امام و لا الضا لین کہے تو آ مین کہنی چا ہیے ۔ تو ہم اس پر دلیل طلب کر تے ۔ لیکن جب حد یث میں ہی یہ لفظ ہوں تو پھر یہی دلیل ہیں۔

( ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر 30 جنوری 1931ء ص 3۔5)

شبلی کا درس بخاری

ندوۃ العلماء لکھنئو کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ

دسمبر 1913ء کے آ خر میں آ خری سا ل کے لڑ کوں نے مو لا نا ( شبلی نعما نی) سے خوا ہش ظاہر کی کہ وہ انہیں صحیح بخاری کا درس دیں ۔ مولا نا نے اس کو قبول کیا اور ہر روز مغرب کے بعد درس شروع ہو گیا اور بہت سے لڑ کوں نے اس میں شر کت کی لیکن نا ظم صاحب ( جناب احمد علی سہارنپوری محشی بخاری کے فرزند)نے اس کو پسند نہیں کیا۔ انہوں نے جنا ب مفتی محمد عبد اللہ صا حب ٹو نکی سے جو ، مہتمم و مدرس اعلی تھے ،خوا ہش کی کہ وہ طلباء کو اس سے رو کیں۔

مفتی صا حب نے اس میں تا مل کیا اور اس کا تذ کرہ مولانا سے کیا ۔ انہوں نے فر مایا کہ

وہ آ پ کو تحریری حکم بھیج دیں تو آ پ اس پر عمل کیجئے ، لیکن نا ظم صا حب نے اس نا گوار فر ض کی انجام دہی سے پہلو تہی کی اور مفتی صا حب کو مجبور کیا کہ وہی اپنے قلم سے حکم لکھیں ۔ انہوں نے یہ کیا کہ

بہ تخصیص بخاری کے درس کے رو کنے کے بجا ئے طلبہ کو خار ج اوقا ت میں کسی سے درس لینے کی مما نعت کردی اس کا اثر طلبہ پر بہت برا پڑا ۔ بہت سے طلبا خارج اوقا ت میں دوسروں سے اپنے سا بق کی کمی کو پورا کرتے تھے وہ سب بند ہو گئے ۔

( حیات شبلی۔ ص ۔654)

٭٭٭

تبصرہ کریں