تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

اسلام میں جب ملو کیت قا ئم ہوئی تو بادشا ہوں اور حکمرا نو ں نے علماء صو فیا اور مشائخ کے اثرات کو کم کر دیا۔ انہیں یا تو مراعا ت دے کر اپنا ہم نوا بنا لیا، یا اقتدار سے محرو م کر کے بے کار کر دیا۔ اقتدار سے محرو می کے بعد رد عمل کے طور پر اس طبقہ نے اپنی ایک علیحدہ اور آزادا نہ حیثیت قا ئم کی اور خود کو با د شا ہوں پر فو قیت دینے کیلئے مختلف ذرائع استعما ل کئے اور اس بات کی کو شش کی کہ عوا م کے ذہنو ں میں اس بات کو راسخ کیا جا ئے کہ معا شرے کی فلاح و بہبود کے ذمہ دار ، لو گوں کے اخلاق کی تر بیت کر نے وا لے اور لو گو ں کو سید ھی راہ پر چلا نے وا لے صرف وہ ہیں اور یہی وہ لو گ ہیں جو معاشرے میں مذ ہب کو قا ئم کئے ہو ئے ہیں ۔ (المیہ تاریخ ۔58۔65 ملخصاً)

باب اجتہاد کی بندش

جناب محمد لد ھیا نوی حنفی ایک فتوی میں کہتے ہیں:

ہم لو گ ان فقہاء میں سے نہیں ہیں جو مسا ئل غیر منصو صہ میں اجتہاد کے ذریعہ د خل دے سکیں، مثل حصا ف اور طحاوی کے جو مجتہد فی المسا ئل فقہاء کے طبقہ ثا لثہ سے ہیں۔ اور نہ ہم مثل امام رازی و غیرہ کے طبقہ را بعہ اصحا ب تخریج سے ہیں جو ایک مسئلہ کودوسرے کا نظیر خیا ل کر کے حکم لگا تے تھے۔ اور نہ ہم اصحا ب تر جیح سے ہیں مثل صاحب ہدا یہ کے جو ایک روا یت کو دوسرے پر تر جیح دیں ۔ہمارا کام صرف یہی ہے کہ جو مقد مین سے منقو ل ہے اس کی تابعداری کر یں جیسا کہ صا حب در مختار نے لکھا ہے :

وأما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لوافتوا فی حیوتھم

اور صا حب طبقا ت مذ کورہ مجتہدین کے اقوا ل اور دلائل پر غور کر کے اپنا فرض منصبی ادا کرتے تھے عبارات کتب مصنفہ سے استنبا ط کر نے کا نام فقہ نہیں۔ غر ض اس زما نہ میں بلکہ صد ہا سا ل سے زما نہ استنبا ط ا حکام مفقود ہے ۔ ( فتاوی قا دریہ ۔ ص ۔ 115)

ہندی فقہائے احناف، بندش اجتہاد کے با وجود بکار خو یش ہشیار ہیں، جب نظریہ ضرورت کار فر ما ہوا تو ان فقہاء نے ایک ان پڑ ھ کو مجتہد سے اوپر امام عادل کے منصب پر بھی فا ئز کر نے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ڈنکے کی چو ٹ اعلان کر دیا:

۔۔ بعد از تد بر وا فی و تامل کا فی در غوا مض معا نی أطیعوا للہ و اطیعو ا لرسول و أولی الامر منکم و أحا دیث صحیح انّ أحبّ النّاس إلی اللہ یوم القیامة إمام عادل من یطع الأمیر فقد أطاعنی ومن یعص الأمیر فقد عصانی وغیر ذلك من الشواهد العقلية و الد لائل النقلية

قرار دادہ حکم نمو دند کہ مر تبہ سلطا ن عا دل عند اللہ زیادہ از مر تبہ مجتہد است۔ وحضرت ۔۔ جلال الدین محمد اکبر بادشاہ غازی ۔۔ اعد ل و اعقل و اعلم با للہ اند بنا بریں اگر در مسا ئل دین کہ بین المجتہدین مختلف فیھا است بذ ہن ثاقب و فکر صا ئب خود یک جا نب را۔ از اختلاف بہ جہت تسہیل معیشت بنی آ دم و مصلحت انتظا م عا لم اختیار نمو دہ بان جا نب حکم فر ما نید متفق علیہ شود و اتباع آ ں بر عمو م برا یا لازم و متحم است اگر بمو جب را ئے صوا ب نما ئے خود حکمے را از احکام قرار دہند کہ مخالف نصے نہ باشد و سبب ترفیہ عا لمیاں بو دہ باشد عمل براں نمو دن برہمہ کس لازم و متحتم است و مخالفت آ ں مو جب منحط اخر وی و خسرا ن دینی و دنیوی است ۔

( منتخب التوا ریخ ، ملا عبد القادربدا یو نی، ج 2 ص 272 مطبوعہ کلکتہ)

’’قر آ ن کی آ یت أطیعوا للہ و أطیعو الرسول و أولی الأمر منکم (یعنی اطاعت کرو اللہ کی، اطاعت کرو رسول کی اور ان لو گوں کی جو تم میں صاحبا ن امر ہیں ) اور صحیح حد یثیں مثلاً یہ کہ خدا کے نز دیک قیا مت کے دن سب سے زیادہ محبو ب امیر وہ ہو گا جو عادل ہے۔ جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی۔ ان کے سوا اور دوسرے دلائل عقلی و نقلی کی بنیاد پر یہ قرار دیتے ہیں اور فیصلہ صادر کر تے ہیں کہ خدا کے نز دک سلطا ن عا دل کا درجہ مجتہد کے مر تبہ سے زیادہ ہے اور بادشاہ جلال الدین محمد اکبر چو نکہ سب سے زیادہ عد ل وا لے، عقل وا لے اور علم وا لے ہیں، اس بنیاد پر ایسے دینی مسا ئل میں جن میں مجتہد ین باہم اختلاف رکھتے ہیں اگر وہ ( یعنی اکبر بادشاہ) اپنے ذہن ثا قب اور صا ئب را ئے کی روشنی میں بنی آ دم کی معا شی سہو لتوں اور دنیاوی انتظا م کی آ سا نیوں کے مد نظر کسی ایک پہلو کو تر جیح دے کر اسی کو مسلک قرار دیں تو ایسی صورت میں بادشاہ کا یہ فیصلہ اتفاقی سمجھا جا ئے گا اور عام مخلو ق رعا یا و برا یا کے لئے اس کی پا بندی لازمی و لا بدی ہو گی۔ ( اسی طر ح ) اگر کو ئی ایسی با ت جو قطعی نصو ص کے مخالف نہ ہو اور دنیاوالوں کو اس سے مدد ملتی ہو، بادشاہ اگر اس کے متعلق کو ئی حکم صا در فرمائیں تو اس کا ما ننا اور اس پر بھی عمل کر نا ہر شخص کے لئے ضروری اور لازم ہو گا اور اس کی مخا لفت دینی اور دنیوی بر بادی اور اخروی موا خذہ کی مستو جب ہو گی ۔

(تذ کرہ مجدد الف ثا نی۔ ص 31۔32)

اور دا ڑ ھی تراشنے کے لئے اجتہاد یوں کیا گیا:

فقہ کی کسی کتا ب میں لکھا ہوا تھا کہ دا ڑ ھی کو اس طرح نہیں ترشوا نا چا ہیے جس طر ح عراق کے او باش کرتے ہیں۔ او باش کا تر جمہ عر بی میں عصاۃ سے کیا گیا تھا ۔ ایک مولوی صا حب نے ع کو ق بنا دیا اور شاہی در بار میں انہوں نے عبارت اس شکل میں پیش کی کما یفعله قضاة العراق ( جس طر ح عراق کے قا ضی منڈایا کرتے ہیں) ۔ دلیل یہ تھی کہ جب عراق کے قا ضی دا ڑ ھی منڈا تے تھے تو ہند کے کیوں نہ منڈا ئیں۔ ملّا ابو سعید پا نی پتی جو ملّا امان کے بھتیجے تھے، ان کے پرا نے مسو دوں سے ایک حد یث بھی بار گاہ شا ہی میں گزرا لی گئی جس کا تر جمہ ملا ( بدا یو نی ) صا حب نے در ج کیا ہے پسر صحا بی متر ش در نظرا ں حضرت ﷺ آ مد فر مو دند کہ اہل بہشت بایں ہیئت خوا ہند بود (ایک صحا بی کے بیٹے دا ڑ ھی منڈا ئے ہو ئے آ نحضرت ﷺ کے سا منے سے گذ رے ۔ آپ ﷺ نے فر مایا بہشت والوں کی یہی صورت ہو گی ) (تذ کرہ مجدد الف ثا نی ۔ ص 66۔67) ۔ اور پھر یوں ہوا کہ بتایا گیا ہے:

در بار اکبری کے بڑے بڑے فضلاء و علماء روز مرہ اپنی دا ڑ ھیاں ( تراش کر ) بادشاہ کے قد موں پر نثار کرتے تھے۔ ( تذ کرہ مجدد الف ثا نی۔ ص 67)

اوّل من قاس۔۔۔۔

ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر میں جنا ب محمد علی جے پوری کا ایک مضمون شا ئع ہوا تھا جس میں امام جعفرصادق سے منسو ب یہ فقرہ حیاۃ الحیوا ن سے بھی نقل کیا گیا ہے ۔ یہ مضمون ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں : جنا ب محمد علی لکھتے ہیں:

جناب اشرف علی تھا نوی کی تصا نیف سے ایک رسالہ الا قتصاد فی بحث التقلید و ا لا جتہاد ہے ۔ اس رسالہ میں آ پ نے فضائل امام ابو حنیفہؒ بیان کرتے ہو ئے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے امام جعفر صادق کی گود میں پرورش پا ئی ۔ اصل عبارت یوں ہے ۔ بر کات اہل بیت نبوت مفتا ح السعادۃ میں ہے کہ آ پ کے وا لد ثابت کی وفات کے بعد آ پ کی والدہ صاحبہ سے حضرت جعفر صادق نے عقد فر ما یا اور آ پ نے حضرت جعفر کی گود میں پرورش پا ئی ۔ ( ا لا قتصاد۔ مطبوعہ دہلی ۔ص 55 )

احقر ( محمد علی جے پوری) کی نظر جب اقتصاد کے اس مقام پر پڑی تو تعجب ہوا کہ اتنے بڑے عالم سے ایسی غلطی ۔ ہر دو بز ر گ کا سن ولادت 80 ہجری ہے ۔ دو نوں بز ر گ ایک ہی سال میں پیدا ہو ئے۔ چھو ٹی سی کتاب اکمال فی اسماء الر جال صاحب مشکوۃ کی ہے اس میں دو نوں اما موں کا سن و لادت 80 ہجری لکھا ہے ۔ احقر نے بذریعہ معرو ضہ حضرت ممدو ح ( اشرف علی تھا نوی ) کو تو جہ دلا ئی تو جواب آ یا :۔

میں شبہ کی یہ تقریر سمجھا کہ جب امام ابو حنیفہ اور امام جعفر صادق ہم عمر ہیں اور والدہ کا ولد سے بڑا ہو نا لازم ہے تو امام صاحب کی وا لدہ حضرت جعفر صادق سے بھی اتنی ہی بڑی ہوں گی ، پھر نکا ح کیسے کیا گیا؟

اگر یہی تقریر مراد ہے تو اس میں کو ئی و جہ اشکال کی سمجھ میں نہیں آ تی ۔ کیا اپنے سے بڑی عمر کی عورت سے نکا ح معتاد نہیں۔ اگر امام صاحب اپنی وا لدہ سے پندرہ یا بیس سال کی عمرمیں بھی پیدا ہو ئے ہیں تو وہ حضرت جعفر صادق سے بھی پندرہ بیس سال بڑی ہوں گی تو منکو حہ کا نا کح سے اتنا بڑا ہو نا بکثرت شا ئع و واقع ہے ۔ البتہ اس صورت میں لفظ گود پر شبہ ہو سکتا ہے ۔ سو جہاں سے یہ روا ئت نقل کی گئی ہے اس کی عبارت عر بی ہے ۔ اس میں لفظ حجر ہے جس کا مشہور تر جمہ گود ہے۔ نقل کے وقت دو نوں حضرات کا ہم سن ہو نا ذہن میں نہ تھا ۔اس لئے یہ تر جمہ کر دیا گیا ۔ اب یہ کہا جا وے گا کہ حجر کے معنی مجازی ہیں یعنی رعا ئت و عنا ئت جیسے بزر گوں سے در خواست کی جا تی ہے کہ اپنی آغوش ر حمت میں لے لیجئے ۔ اس مضمون کی نقل کے وقت جو کتا بیں سا منے تھیں ان میں بعض اس وقت نہیں ملیں ور نہ شا ئد اس سے کچھ زیادہ لکھتا ۔ 8 شوال1356ھ

ماہ رجب سنہ رواں ( 1941ء ) میں احقر نے پھرحضرت ( اشرف علی تھا نوی ) کو توجہ دلا ئی کہ آپ اس عبارت پرکتب تاریخ سے روشنی ڈال کر صاف کر دیں اور بذریعہ تحریر شا ئع کرادیں تا کہ نا ظرین الاقتصاد کو مغا لطہ نہ لگے ۔ اس کا جواب یہ آ یا۔ اب طبع کتب و غیرہ مشقت کا کام نہیں ہو سکتا ۔ آ پ تحقیق کر کے شا ئع کر دیجئے میں رد نہ کروں گا ۔ (اشرف علی)

یعنی حضرت ممدو ح نے یہ کام مجھ نا چیز کے سپرد کیا ۔ (صورت یہ ہے ) کہ ہر دو حضرات ( امام جعفر صادق ؒ اور امام ابو حنیفہؒ ) کا ہم سن ہو نا تو مسلّم ہے۔ امام جعفر صادق کے حا لات اردو میں جہاں تک نظر سے گذرے ان میں کہیں یہ نہیں دیکھا کہ امام ابو حنیفہ کی والدہ سے امام جعفر نے نکا ح کر لیا تھا ۔ و اللہ اعلم ۔ ایک حکا ئت علامہ دمیری نے حیوۃ الحیوان کبری میں ابن شبر مہ سے نقل کی ہے، اس سے معلوم ہو تا ہے کہ جس وقت امام ابو حنیفہ مدینہ گئے اور امام جعفر صادق سے ملے، ہر دو بز ر گ باہم متعارف نہ تھے ۔ اگر امام ابو حنیفہ کی وا لدہ امام جعفر کے نکا ح میں ہو تیں تو امام جعفر ضرور واقف ہو تے ۔ حکا ئت یہ ہے:

قال ابن شبرمه دخلت أنا وأبوحنیفة علی جعفر بن محمد الصادق فقلت ھذا الرجل فقیه العراق فقال لعله یقیس الدین برأیه وھو نعمان بن ثابت ولم اعرف اسمه إلا ذلك الیوم۔ فقال جعفر الصادق اتق اللہ ولا تقیس الدین برأیك فإن أول من قاس إبلیس إذ قال أنا خیر منه خلقتنی من نار وخلقته من طین فأخطاء بقیاسه و ضلّ …. إلی ان قال۔۔۔۔ فأنا نقف نحن و من خالفنا فنقول قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ و تقول أنت وأصحابك سمعنا وربنا فیفعل اللہ بنا وبکم ما شاء۔ ( ابن شبر مہ نے کہا کہ ہم اور ابو حنیفہ امام جعفر کے ہاں گئے میں نے عر ض کیا کہ یہ شخص عراق کا فقیہہ ہے ۔ امام جعفر نے فر ما یا کہ شا ئد یہ وہی شخص ہے جو دین کو را ئے سے قیاس کرتا ہے یعنی نعمان بن ثا بت ۔ ابن شبر مہ کہتے ہیں کہ میں نے اسی دن ابو حنیفہ کا نام سنا ۔ امام ابو حنیفہ بو لے کہ میں وہی شخص ہوں۔ امام جعفر نے کہا کہ اللہ سے ڈر اور دین میں اپنی را ئے سے قیاس مت کر ۔ پہلا قیاس کر نے وا لہ ابلیس ہے جو اس نے کہا تھا کہ میں آ دم سے اچھا ہوں مجھ کو تو نے آگ سے بنا یا اور آ دم کو مٹی سے۔ ابلیس اپنے قیاس سے چو کا اور گمراہ ہوا ۔یہاں تک کہ ہم لو گ اور ہمارے مخا لفین کھڑے ہوں گے۔ ہم کہیں گے قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ اور تم اور تمہارے لو گ کہیں گے کہ ہم نے سنا اور ہماری رائے یہ ہو ئی۔ پھر اللہ جو چا ہے گا ہمارے تمہارے ساتھ کر ے گا)۔

امام جعفر صادق کا یہ فر ما نا کہ شا ئد یہ وہی شخص ہے اور امام ابو حنیفہ کا یہ کہنا کہ ہاں میں وہی شخص ہوں، ان جملوں سے معلوم ہو تا ہے کہ قبل اس کے ہر دو بزر گوں کا آ پس میں تعارف نہ تھا ۔ اگر امام ابو حنیفہ کی وا لدہ امام جعفر کے گھر میں ہو تیں تو اس طر ح کی گفتگو نہ ہو تی ۔ (اہل حدیث امر تسر ۔14 فروری 1941ء۔ ص 11۔12 )

محمود غز نوی اور قفال مر وزی

سلطان محمود غزنوی کے متعلق علا مہ تا ج الدین سبکی نے تاریخ الیمینی میں، ابن خلکان نے وفیات ا لاعیان میں، ابن کثیر نے تاریخ الکامل میں، اور امام الحر مین ابو المعا لی عبد الملک جو ینی نے مغیث الخلق فی تر جیح القول الحق میں لکھا ہے کہ وہ پہلے حنفی تھے پھر شا فعی ہو گئے۔ بعض حضرا ت نے اس کے شافعی ہو نے کی وجہ لکھی ہے کہ اس کے در بار میں قفال مر وزی نے علماء حنفیہ اور شا فعیہ کی موجود گی میں پہلے شافعی مسلک اور پھر حنفی مسلک کے مطا بق نماز پڑ ھی جس سے متا ثر ہو کر اس نے حنفیت تر ک کر دی اور شافعیت قبول کرلی ۔ حا جی خلیفہ نے کشف الظنون میں ابن خلکان کے حوا لے سے لکھا ہے:

“لما رأی أن المذھب الشافعی أوفق لظواھر الحدیث تشفع بعد أن جمع علماء المذھبین .”

یعنی شا فعی اور حنفی دو نوں مکا تب فقہ کے مجمع علماء میں جب اس نے سمجھا کہ مذ ہب شا فعی ظوا ہر حدیث کے زیادہ موافق ہے تو شا فعی مذہب اختیار کر لیا ۔ طبقا ت شافعیہ میںاس کا ذکر اکا بر شوافع میں کیا گیا ہے۔

جناب ابو القاسم سیف نے محمود غز نوی سے متعلق اس واقعہ پر بحث کی ہے، لکھتے ہیں : ۔

میں امام الحرمین عبد الملک بن ابی محمد عبد اللہ الجو ینی (جو فن حد یث میں حا فظ ابو نعیم اصبہانی کے شا گرد ہیں ) کی مشہور کتا ب مغیث الخلق ( مطبوعہ مصر ) سے اس قصہ کو مختصراً اپنے لفظو ں میں نقل کرتا ہوں: ۔

سلطا ن محمود بن سبکتگین مذ ہباً حنفی تھا لیکن فن حد یث کا بڑا شا ئق تھا۔ قفال و غیرہ محد ثین اسے حدیثیں سنا تے تو زیادہ تر حد یثو ں کو وہ اپنے مذ ہب ( حنفی ) کے خلاف پا تا تھا۔ ایک روز سلطا ن نے علماء کو بغر ض تحقیق مذ ہب جمع کیا تو قرار پا یا کہ قفال اس کے سامنے دو رکعتیں حد یث کے مطا بق اور دو رکعتیں فقہ کے موا فق پڑ ھیں۔ اس نے حدیث کے مطا بق نماز دکھا کر حنفی مذ ہب کی نماز یوں دکھا ئی کہ کتّے کی کھا ل دبا غت دی ہو ئی پہنی اور چو تھا ئی کھا ل پر گند گی مل دی ، پھر شر بت کھجور سے الٹا پلٹا و ضو کیا، سارے اعضا پر مکھیاں بھن بھنا نے لگیں۔ پھر قبلہ ر خ ہو کر اللہ بزرگ و بر تر است کہہ کر تحریمہ با ند ھا۔ اس کے بعد یوں قرأت کی ، دو بر گ سبز ۔ پھر مر غ کی طر ح ٹھونکیں لگائیں۔ آ خر میں تشہد پڑ ھ کر زور سے ریح ماری اور بغیر سلام پھیرے کھڑ ے ہو گئے ۔ بعد ازاں کتب فقہ سے تمام باتیں دکھلا دیں جس کے باعث سلطان محمود نے حنفی مذ ہب سے تو بہ کی ۔

اس واقعہ کو کتا ب مذ کور سے ابن خلکان نے اپنی تاریخ ( جلد 2 ص 86) میں نقل کیا ہے ۔ اور شیخ کما ل الدین دمیری نے حیوۃ الحیوا ن ج 2 ص 214 میں ۔ نیز امام یافعی نے مر أۃ الجنان جلد سو م ص 24، 25، اور 30، میں اس قصہ کو در ج کیا ہے ۔ ملا عبد النبی گنگو ہی کو اس قصہ کا پتہ امام یا فعی کی کتا ب مذ کور سے ہی ہوا تھا جس پر انہوں حنفیت کے دفاع میں ایک رسا لہ لکھا جس کے دیبا چہ میں فر ما یا:

لمّا وقع إلی الاطلاع علی القصة المسطورة فی کتاب مرأة الجنان نقلاً عن الإمام أبی المعالی المعروف بإمام الحرمین .الخ

اور جناب کو ثری نے بات یوں بنا ئی:

“أنّ القفال صور تلك الصلوة فی فتاواہ ولم یصلّھا بحضرة السلطان . ( تا نیب الخطیب ص 9 )

یعنی قفا ل نے محمود کے سا منے نماز پڑ ھ کر نہیں دکھائی تھی صرف اپنے فتاوی میں فقہی نماز کی شکل دکھا ئی ہے ۔

ملّا علی قا ری نے اپنے رسا لہ تشیع الفقهاء الحنفية بتشنیع السفهاء الشا فعية میں قفال کی نماز کا انکار محض استبعاد اور تلفیق کی بنا پر کیا ہے، کو ئی قوی دلیل پیش نہیں کی۔ امام جوینی کے استاد قفا ل ہیں، صحت و حکا یت جو ان کو ثا بت ہو ئی وہ ملا علی قاری کو نہیں ہو سکتی۔ انہیں کے ما نند علم اللہ بن عبد الرزاق حنفی نے بھی السیف المسلول میں پہلے اس قصہ سے انکار کیا تھا، پھر بعد تحقیق و تفتیش ان کو ماننا پڑا، چنا نچہ لکھتے ہیں :

” فظهر أنّ القصة واقعة، و إنّ الحکاية علی ما هی شائعة”

یعنی یہ قصہ ضرور واقع ہوا اور حکایت ویسی ہے جیسی کہ مشہور ہے ۔

اس قصہ کے واقع ہو نے کا پتہ سیو طی کی جز یل المواہب اور ابن تیمیہ کی منہا ج السنہ سے بھی ملتا ہے۔ مو لا نا عبد الحی حنفی فر نگی محلی نے بھی دبی زبا ن سے اقرار کیا ہے چنا نچہ الفوا ئد البہیہ کے صفحہ 102 میں لکھتے ہیں :

عبد اللہ بن أحمد القفال المر وزی أخذ عنه أبو محمد الجوینی وابنه إمام الحرمین وھو صاحب قصة الصلوة المشهورة حضرة السلطان محمود توفّی سنة 417هــ انتهی.

یعنی ابو بکر قفا ل مروزی، امم ابو محمد جو ینی اور ان کے بیٹے امام الحر مین کے استاد ہیں ۔ یہ وہی قفا ل ہیں جن کا قصہ مشہور ہے کہ انہوں نے محمود کے سا منے نماز پڑھ کر دکھا ئی تھی ، ان کی وفات 417ھ میں ہے۔

ملا کاتب حا جی خلیفہ چلپی، کشف الظنو ن میں لکھتے ہیں :

التفرید فی الفروع للسلطان محمود بن سبکتغین الغزنوی الحنفی ثم الشافعی المتوفی422هــ قال الإمام مسعود بن شیبة کان السلطان المذکور من اعیان الفقهاء وکتابه هذا مشهور فی بلاد غزنه وهو فی غاية الجودة وکثرة المسائل—وفی التاتارخانیه نقول منه ۔ و لمّا رأی أن المذھب الشافعی أوفق لظواھر الحدیث تشفع بعد أن جمع علماء المذھبین (کشف الظنون:ج 1)

کہ سلطان محمود غز نوی ف 422ھ کی تصنیف التفرید فی الفروع ہے۔ امام مسعود بن شیبہ کا کہنا ہے کہ سلطان کا شمار اکا بر فقہاء میں ہو تا تھا، اس کی یہ کتا ب غز نہ کے علاقے میں مشہور ہے۔ فتاوی تاتا ر خا نیہ میں اس سے مسا ئل در ج کئے گئے ہیں۔ جب سلطان محمود نے حنفی اور شا فعی مکا تب فکر کے مجمع علماء میں سمجھا کہ شافعی مذ ہب ظوا ہر حدیث سے زیادہ موا فق ہے تو اس نے شا فعی مذہب اختیار کر لیا۔

تبصرہ کریں