تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

بابا رتن ہندی

چھٹی صدی ہجری میں بٹھنڈہ میں رتن ہندی نامی ایک معمر شخص نے صحا بی رسو ل ہو نے کا دعوی کیا اور آپ ﷺ کی طرف نسبت کر کے کچھ روایا ت بیان کیں جن کے مجمو عہ کو رتنیا ت کہتے ہیں ۔ حا فظ ابن حجر﷫ نے اصا بہ میں اور حا فظ ذہبی﷫ نے میزان الاعتدال میں اس کے دعوی کا ذکر کر کے اس کی تکذ یب کی ہے۔ (ہندوستان میں عربوں کی حکومتیں: ص 250۔251)

سید علی ہجویری ﷫

400 ہجری کے لگ بھگ پیدا ہو ئے۔ قریباً پانچ سو سال بعد گنج بخش کے لقب سے ملقب ہو ئے ۔ یہ کہنا کہ خوا جہ معین الدین اجمیریؒ نے انہیں گنج بخش کہا ، درست نہیں۔ قدیم تذ کرو ں اور ملفو ظا ت خواجگا ن چشت سے ہر گز اس کی تا ئید نہیں ہو تی ۔

فوا ئد الفواد کی ایک روا یت میں بتا یا گیا ہے کہ

شیخ حسین زنجا نی اور شیخ علی ہجویری دو نوں ایک ہی پیر کے مرید تھے اور وہ پیر اپنے وقت کے قطب تھے۔ شیخ حسین زنجا نی ( سید علی ہجویری سے ) پہلے سے لاہور میں مقیم تھے۔ کچھ مدت بعد ان کے پیر نے سید علی ہجویری سے فر مایا کہ لاہور جا ؤ اور وہیں مقیم ہو جا ؤ۔ سید علی نے کہا کہ وہاں حسین زنجا نی مقیم ہیں ۔ پیر صا حب نے کہا تم جا ؤ۔ جب علی ہجویری لاہور پہنچے تو رات کا وقت تھا۔ صبح ہو ئی تو دیکھا کہ لوگ حسین زنجا نی کا جنازہ با ہر لا رہے ۔

( فوا ئد الفواد فارسی طبع لاہور ص 57 )

جناب محمد اسحاق بھٹی نے بھی نقل کیا ہے کہ مشہور ہے کہ حسین ز نجا نی کی وفات اس روز ہو ئی جب علی ہجویری لاہور آ ئے۔ (فقہائے ہند : 1؍ 101) 101)

فوا ئد الفواد کی یہ روا یت نادرست معلوم ہو تی ہے۔ شیخ حسین زنجا نی( مدفون چاہ میراں لا ہور )کا سا ل وفات خزینۃ ا لا صفیاء میں 600ھ اور تحقیقا ت چشتی میں 606ھ ہے ۔ ان کی لا ہور آمد کے متعلق لکھا ہے کہ وہ سید یعقو ب زنجا نی کے ہمراہ آ ئے اور یعقوب زنجا نی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ 525ھ میں وارد لاہور ہو ئے ۔ شیخ زنجا نی کی قبر کا ایک کتبہ بھی بتا یا جاتا ہے جس پر سن وفات 600ھ کندہ تھا ،جو مرمت کے وقت اتار دیا گیا ۔ یو ں شیخ حسین زنجا نی مدفو ن چاہ میرا ں سید علی ہجویری سے قریباً 130 سا ل بعد واصل بحق ہو ئے اور ان سے خوا جہ معین الدین اجمیری (م 633ھ ) نے لا ہور میں ملاقا ت کی تھی۔ ان دو نوں بز ر گوں کی ملاقا ت کا ذکر معتبر کتا بوں میں مو جود ہے ۔

(کشف المحجو ب متر جم دیبا چہ از حکیم محمد موسی: ص 51۔52)

سید علی ہجویری کی لا ہور آ مد 460ھ کے بعد زیادہ قرین قیاس ہے۔ اوران کا سا ل وفات 465ھ سے 469ھ ہے ۔

امیر کبیر سید علی ہمدا نی ؒ

شاہ ہمدا ن کا نام علی تھا ۔وہ بتر جیح روا یا ت 713 ھ (1313ء ) میں پیدا ہو ئے ۔ وا لد کا نا م شہا ب الدین تھا جو ہمدا ن کے گور نر تھے۔ اپنے استاد شیخ محمود مزدقا نی کی ہدا یت پر آپ نے خوب سیا حت کی ۔ ان اسفار میں مقر بان خدا سے استفادہ اور اشاعت دین ہو تی رہی ۔ کشمیر بھی آئے ۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس وجہ امیر تیمور کی تہد یدہے۔ چنا نچہ مرزا اکمل الدین محمد کا مل بد خشی کشمیری ف 1131ھ نے لکھا:

’’گر نہ تیمور شور و شر کردی کسے امیر این طر ف گز ر کر دی۔‘‘

( بحر العر فا ن قلمی بحوا لہ کشمیر میں اسلام کی اشاعت: ص 73 ؛ ڈاکٹر محمد فاروق بخا ری : ص 73 )

مگر واقعات اس کے خلاف ہیں کیو نکہ تیمور 788ھ یا 789ھ میں ایرا ن و عرا ق کی تسخیر کی طرف متو جہ ہوا ۔ ( یز دی ۔ ظفر نا مہ ۔ جلد 1 ۔ ص 287 ) جب کہ شا ہ ہمدا ن 786ھ میں انتقا ل کر چکے تھے ۔ لہذا امیر تیمور کی تہدید کا سوا ل پیدا نہیں ہو تا ۔

شاہ ہمدا ن کے قریب العہد مو ر خ اور تذ کرہ ان کی ایک ہی سیا حت کشمیر کے قا ئل ہیں ان کے نز د یک یہ سیا حت سلطا ن قطب الدین ( 1373ء ۔ 1389ء ) کے دور حکو مت میں ہو ئی ان کا سا ل قدوم بتر جیح روایات 785ھ ہے ۔ سلطا ن قطب الدین اور اس کے وزراء شاہ ہمدا ن اور ان کے رفقاء کو عز ت و احترام کے سا تھ شہر لا ئے ۔ سر ی نگر میں آپ نے موجودہ خا نقا ہ معلی کے پاس قیام فر ما یا اور وہاں ایک صفہ قا ئم کیا جہاں پہلی بار نماز با جماعت اور نما ز جمعہ قائم کی۔ سلطا ن قطب الدین بھی یہیں پر حا ضر خدمت ہو تے تھے ۔ اس دور میں کشمیر میں مسلمان اقلیت میں تھے۔ لباس، رہن سہن، اطوار میں ہندؤوں سے کو ئی فر ق نہ تھا۔ قطب الدین نے۔۔ دو سگی بہنو ں سے شا دی کر رکھی تھی۔ شاہ ہمدا ن نے کڑی نکتہ چینی کی تو ایک کو طلاق دی ۔

شاہ ہمدا ن نے اپنے سا تھیوں کو تبلیغ کے لئے کشمیر کے گو شو ں میں بھیجا اور مرا کز تعمیر کرائے ۔ ان کے علم وفضل، زہد و ورع، تہذ یب و اخلاق کا اثر ہوا اور بہت لوگ مسلمان ہو ئے ۔ شاہ ہمدا ن نے کشمیر کا تعلق ان مما لک سے قا ئم کیا جو اسلام اور اسلامی تہذ یب کا مرکز تھے ۔ خود کتا بیں لکھیں، رفقاء نے بھی لکھیں اور وسط ایشیاء سے بھی ساتھ لا ئے ۔ وہ خود مسلکاً شا فعی تھے ۔ اگر چا ہتے تویہاں بھی بغیر کسی اد نی مشکل اس مسلک کو پھیلا تے، مگر چو نکہ ان کے پیش رو مبلغ سید شرف الدین عبد الر حمن بلبل نے حنفی ہو نے کی و جہ سے یہاں اسی مسلک کی تبلیغ کی تھی اس لئے سید ہمدانی نے اسی مسلک کو بر قرار رکھا اور اسی کے مطابق لو گوں کو عبا دت و عقا ئد کی تعلیم دی ۔ (کشمیر میں اسلام کی اشاعت۔ ڈا کٹر محمد فاروق خا ن بخاری: ص 123 )

شا ہ ہمدا ن 786 ھ میں وا پس ہو ئے 6 ذی الحج 786 ۔ 19 جنوری 1385ء کو انتقا ل فرما یا ۔ میت ختلا ن لے جائی گئی اور 25 جمادی ا لاول 787 ۔ 12 جو لائی 1385ء کو وہاں سپر د خا ک ہو ئی ۔ ( المعارف، لا ہور۔ جو لا ئی اگست 1988ء )

صو فیاء اور تبلیغ اسلام

ہندوستان میں صو فیاء کی تبلیغ اسلام کے ضمن میں یہ بات ملحو ظ رہے کہ اس سلسلے کی بعض روایات مبا لغہ آمیز ہیں۔ مثلاً

1۔ شیخ محمد اکرام نے بحوالہ جناب ر حمان علی لکھا ہے :

تا ریخی کتا بوں میں سب سے پہلے جس مبلغ اسلام کا نام آتا ہے وہ شیخ اسماعیل لا ہوری تھے جو یہاں اس زمانے میں آ ئے جب ابھی لاہور میں ایک ہندو را جا حکمران تھا ۔ وہ شا ئد سلطان محمود غز نوی کو خراج دیتا تھا لیکن سلطان نے ابھی لاہور میں اپنا نا ئب نہیں مقرر کیا تھا ۔ شیخ اسما عیل بخاری سید تھے اور علوم ظاہری اور با طنی دو نوں میں دسترس رکھتے تھے ۔ ان کی نسبت لکھا ہے کہ وا عظین اسلام میں وہ سب سے پہلے بز ر گ تھے جنہوں نے لا ہور شہر میں، جہاں وہ 1005ء میں آ ئے تھے ،و عظ کیا ۔ ان کی مجلس و عظ میں سا معین کا ہجوم ہو تا تھا اور ہر روز صد ہا لو گ خلعت اسلام سے مشرف ہو تے تھے ۔ تذکرہ علما ئے ہند میں لکھا ہے :

از عظما ئے محدثین و مفسرین بود ۔ اول کسے است کہ علم تفسیر و حدیث بہ لا ہور آ وردہ ۔ ہزار ہا مردم در مجلس وعظ و ے مشرف باسلام شدند ۔ در سال چہار صد و ہشت ہجری در لاہور در گذ شت ۔ ( آ ب کو ثر، ص 75 )

ہر روز صدہا مسلمان ہوں تو ایک سال میں کم و بیش 30 ہزار ہندو مسلمان ہو نے چا ہئیں اور میرا خیال ہے کہ اس دور میں لاہور کی کل آ بادی بھی شا ئداتنی ہی ہو گی۔ ویسے بھی یہ محد ث ہیں ، صوفیاء میں سے نہیں۔ جیسا جناب اطہر مبارکپوری نے لکھا ہے کہ

آ پ کو حد یث و تفسیر میں اما مت کا در جہ حا صل تھا۔ حد یث و تفسیر کے علوم پہلی بار آپ کے ذریعہ لاہور میں عا م ہو ئے۔ لاہور ہی میں 448ھ میں فو ت ہوئے ۔ ( ہندوستان میں عر بوں کی حکو متیں: ص 253)

2۔ جناب محمد زکر یا کا ند ھلویؒ نے خوا جہ معین الدینؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ

وہ باتفاق اہل توا ریخ 537ھ ایران کے علاقہ سیستان میں پیدا ہو ئے۔ آپ ہندوستان کے امام الطر یق تھے۔ آپ ہی سے ہندوستان میں علوم معر فت کا افتتاح ہوا اور سلسلہ چشتیہ ہندوستان میں آ پ ہی سے پھیلا اور ہندوستان میں نوّے لا کھ آ دمی آ پ کے ہا تھ پر اسلام لا ئے ۔ دس محر م 561ھ کو اجمیر رو نق افروز ہو ئے ۔ حضرت کثیر المجاہدہ تھے ۔ ستر ( 70) سا ل رات کو نہیں سو ئے ۔

(تاریخ مشائخ چشت:ص 166۔169)

خوا جہ معین الدین اجمیری ؒ کے ہاتھ پر 90 لا کھ افراد کے مسلمان ہو نے کی بات بعض دیگر بز ر گوں نے بھی لکھی ہے، لیکن اس کے بے بنیاد ہو نے کے لئے یہی بات کا فی ہے کہ ان کی وفات کے وقت پورے ہندوستان میں مسلما نوں کی کل آ بادی بھی 90 لا کھ نہیں تھی ۔ اور یہ بات بھی غور کے قا بل ہے کہ اگر ساتویں صدی کے نصف اول میں صرف خواجہ اجمیری کے ہاتھوں مسلمان ہو نے وا لوں کی تعداد 90 لاکھ ہو چکی تھی تواس کے سات صدی بعد یعنی چودھویں صدی کے نصف میں ان کی تعداد 21 مرتبہ دو گنا ہوجا نی چا ہیے۔ اور یہ تعداد اتنی ہو جاتی ہے کہ پوری دنیا کی آ بادی سے بھی زیادہ ہے ۔

یہ تو بعض روا یات کا حال ہے، دوسری طرف جب ہم صو فیا کے مستند تذ کروں کو دیکھتے ہیں تو ان مبالغہ آرائیوں کے لئے کو ئی و جہ جواز نظر نہیں آ تی ۔ فوا ئد الفوا د خوا جہ نظا م الدین دہلوی کے ملفو ظات اور ان کی مجا لس کی کاروا ئیاںایک شر یک مجلس کی زبا نی بیان ہو ئی ہیں لیکن آپ کی کسی مجلس میں کسی غیر مسلم کے مسلمان ہونے کا ذکر نہیں ہے ۔ ایک مجلس کے حال میں لکھا ہے :

حا ضرین میں سے ایک نے پو چھا کہ ایک ہندو ہے وہ کلمہ پڑ ھتا ہے خدا کی وحدانیت اور رسو ل ﷺ کی رسا لت کو ما نتا ہے ۔ لیکن مسلمان آ تے ہیں تو خا موش ہو جاتا ہے اس کا انجام کیسے ہو گا؟ حضرت خوا جہ (نظام الدین ) نے فر ما یا اس کا معا ملہ حق تعا لی سے ہے۔ حق تعا لیٰ جو چا ہے اس سے کر ے ۔ اگر چا ہے تو اسے بخش دے اور چا ہے تو عذاب دے ۔ اس معنی ومفہوم کی منا سبت سے آ پ نے فر ما یا کہ بعض ہندو جا نتے ہیں کہ اسلام حق ہے لیکن وہ مسلما ن نہیں ہوتے ۔ ( فوا ئد الفوا د۔ ص 278۔279 )

ایک اور مجلس کے حال میں لکھا ہے: ایک غلام جو آپ کے مریدو ں میں سے تھا وہ اپنے سا تھ ایک ہندو کو بھی لا یا اور کہا یہ میرا بھا ئی ہے ۔ جب وہ دو نوں بیٹھ گئے حضرت خوا جہ ( نظا م الدین ) نے اس غلام سے پوچھا کیا تمہارے اس بھا ئی کا اسلام کی طرف بالکل میلان نہیں ۔ اس نے عر ض کیا کہ میں اسے حضرت مخدو م کی خد مت میں اسی لئے لا یا ہوں کہ وہ آ پ کی نظر کی بر کت سے مسلما ن ہو جا ئے ۔ حضرت خوا جہ (نظا م الدین ) یہ سن کر آ بدیدہ ہو گئے اور فر ما یا کہ ان لو گو ں کا دل کسی کے قو ل سے متا ثر نہیں ہو تا لیکن اگر انہیں صحبت صا لح مل جا ئے تو امید ہو سکتی ہے کہ اس صحبت کی بر کت سے یہ مسلما ن ہو جا ئیں۔ ( فوا ئد الفواد : ص 347 )

جو مسلمان ہو جاتے تھے، ان کی تعلیم و تربیت کا بھی کو ئی مناسب انتظام نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے بہت سے نومسلم نام ہی کے مسلمان ہوتے تھے جیسا کہ جناب یوسف سلیم چشتی نے بتایا ہے کہ بعض اوقا ت ہزاروں کی تعداد میں ہند ؤوں نے اسلام قبو ل کیا ہو گا، مسلمان علماء نے انہیں کلمہ پڑ ھا دیا اور ان کو اپنے حا ل پر چھو ڑ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ برا ئے نام مسلمان ہوگئے لیکن شر ک و تو ہم پرستی سے نہ نکل سکے ۔ جہانگیر نے لکھا ہے کہ ایک مر تبہ کشمیر جارہاتھا ۔ دریائے جہلم کے کنا رے قیام کیا ۔ دوران قیام مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کے مسلما ن اپنے مردوں کو دفن نہیں کرتے بلکہ چتا پر جلا تے ہیں اور اپنی مسلمان لڑکیوں کی شا دی ہند ؤوں کے سا تھ بھی کر دیتے ہیں۔ 1911ء کی رپورٹ مردم شماری میں لکھا ہے : ملکا نہ را جپو توں میں جو بظا ہر مسلمان ہیں، ابھی تک بہت سی رسوم ہندو مذ ہب کی مو جود ہیں۔ یہ لو گ ہنود کے سے نام رکھتے ہیں، مندروں میں جاتے ہیں، دیو تاؤں سے استمداد کر تے ہیں۔ سلام کی جگہ وہی رام را م بو لتے ہیں، بس مردوں کو دفن کر دیتے ہیں۔ (شاہ اسماعیل شہید۔ ص 156۔157 )

جناب ڈا کٹر مبار ک علی نے ہند میں اشاعت اسلام کے اسباب و ذرائع پر بحث کر کے اپنی را ئے یوں بیان کی ہے:

ہندوستان میں اشاعت اسلام کے بارے میں ایک بات بڑے و ثو ق سے کہی جاتی ہے اور اسے اسی طر ح بغیر سو چے سمجھے تسلیم کر لیا جا تا ہے کہ ہندوستان میں اسلام صو فیا ء کے ذریعہ پھیلا ۔۔حا لا نکہ۔۔ ہندوستان میں اسلام اول جنو بی ہندوستان میں تا جرو ں کے ذریعہ پھیلا ، پھر سند ھ میں عربو ں کی فتح کے بعد اور آخر میں تر کوں کی فتح کے بعد شما لی ہندوستان میں آیا۔ ہندوستان میں مسلمانو ں کی آ مد سے قبل یہاں جو مذہبی سیاسی سما جی اور اقتصادی حا لت تھی اس کی بنیاد ذات پات تھی۔ معا شرے کے مختلف طبقے مختلف ذاتوں اور طبقوں میں تقسیم تھے ۔ ذا ت پا ت کی تقسیم میں اس بات کی کو ئی گنجا ئش نہیں تھی کہ کو ئی شخص اپنی صلاحیت کے ذریعے معا شرے میں کو ئی اعلی مقام حا صل کر سکے ۔ یہاں انسا ن کی پیدا ئش ہمیشہ کے لئے اسے ایک نہ تبد یل ہو نے وا لہ سما جی مقا م اور مرتبہ دیتی تھی جس سے چھٹکارا پا نا یا تبدیل کر نا اس کے لئے ایک نا ممکن امر تھا ۔۔۔ جب اسلام ان کے معا شرے میں آیا تو ان کے لئے ایک راستہ نکل آ یا ۔ ۔۔ جب اعلی ذا ت کے ہند ؤوں سے رسم و روا ج کے خلاف کو ئی فعل سر زد ہو جا تا تو بد نامی سے بچنے کے لئے اسلام قبو ل کر لیتے ۔ محمود بنگلوری نے ملی بار کے حوا لے سے یہ با ت لکھی ہے کہ ۔ رسم وروا ج کے خلاف نا ئر جب کسی فعل کے مر تکب ہو تے تو اس بدنامی سے بچنے کے لئے یا تو وطن چھو ڑ کر ایسی جگہ چلے جا تے جہاں ان سے کو ئی واقف نہیں یا اسلام قبو ل کرلیتے ۔ پولیو ں کے لئے بھی اس ذلت سے بچنے کا طریقہ صرف قبول اسلام ہے۔ (محمود بنگلوری، تاریخ جنو بی ہند ۔ لا ہور ۔ 1947ء ص 58 )

جنو بی ہند میں نا ئر اعلی ذ ا ت وا لے تھے جب کہ پو لی ادنی ذا ت کے تھے ۔ اس سے یہ بات وا ضح ہو تی ہے کہ اسلام سے پہلے اس رسم و روا ج سے چھٹکارا پا نے کی ایک ہی صورت جلا و طنی تھی ۔ اسلام کے بعد جلاوطنی کے سا تھ عقیدہ کی تبدیلی کی بھی آ زادی ملی ۔ چو نکہ و طن چھو ڑ کر جا نا ہر ایک کے لئے مشکل ہوتا ہے اس لئے جب مسلم تا جر وہاں آئے اور انہو ں نے اپنی بستیا ں علیحدہ سے بسائیں تو اس صورت میں ان کے لئے یہ آسان طر یقہ تھا کہ اسلام قبو ل کر کے ان کے معا شرے کا حصہ بن جائیں ۔

اس کے علاوہ جنو بی ہند میں تا جرو ں کی آ مد ، رہا ئش ، میل جو ل شادی بیاہ کنیزو ں کی خریداری اور ان سے اولاد کا ہو نا، وہ ذرا ئع تھے جن کی و جہ سے مسلما نوں کی تعداد میں ا ضافہ ہوا۔ ان حقا ئق اور شوا ہد سے یہ بات ثا بت ہو تی ہے کہ جنو بی ہند میں اسلام کی اشاعت کا سہرا تا جرو ں کے سر ہے ، صو فیا کے نہیں ۔

جنو بی ہند کے بعد مسلما نو ں کی آ مد سند ھ میں بحیثیت فاتح ہو ئی۔۔ محمد بن قاسم کے ساتھ آ نے وا لوں میں اگر چہ ہر طبقے کے لو گ تھے لیکن اکثریت بہر حال فوجیو ں کی تھی۔ اور سند ھ میں اسلام اس وقت پھیلا جب یہاں مسلمانو ںکی حکو مت قا ئم ہو گئی۔ اس قسم کے بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ سند ھ کے سر دار یکے بعد دیگرے محمد بن قاسم کے پاس آ ئے اور اس لئے مسلمان ہو ئے تا کہ ان کی قدیم حیثیت باقی رہے اور وہ معاشرے میں اپنی قدیم مرا عا ت کو بر قرار رکھ سکیں۔ اس لئے جب حکمرا ن طبقہ مسلمان ہوا تو عام لوگو ں نے بھی ان کی پیروی کی اور اس کے مذ ہب میں شا مل ہو گئے۔

شما لی ہندوستا ن میں اگرچہ مسلمان بحیثیت فا تح آئے اس کے باو جود یہاں کی اکثریت کو مسلمان نہیں کر سکے، کیو نکہ اس علاقے میں بر ہمن ازم کی جڑ یں انتہائی مضبوط تھیں، اور اس نے اسلام کا مقا بلہ قوت کے ساتھ کیا۔ دوسرے شما لی ہندوستان میں برہمن مرا عا ت طبقہ تھا ، جس کی مرا عا ت کی بنیاد مذ ہب پر تھی، اس لئے اس نے اپنی مراعا ت اور اپنی حیثیت کے تحفظ کے لئے اپنے پیرو کارو ں کو مذ ہب پر بر قرار رکھا اس لئے یہاں جو تبد یلی مذ ہب ہو ئی وہ اد نی ذا ت کے لو گو ں میں ہو ئی۔

اگر ہندوستان میں اشاعت اسلام کا جا ئزہ لیا جا ئے تو ہمیں اس کی مند ر جہ ذیل وجوہات ملتی ہیں :

ہندوستان میں مسلما نوں کا سیاسی اقتدار قا ئم ہو نے کے بعد ایک طبقہ ان لو گوں کا تھا جو اپنے مفا دا ت کے تحفظ کی خا طر مسلما ن حکو مت سے تعا ون کر نا چا ہتے تھے تاکہ انہیں حکو مت کی ملاز متیں، عہدے اور مناصب ملیں۔

دوسرے جا گیر دارو ں اور زمینداروں کا طبقہ تھا جو اپنی جا گیرو ں کا تحفظ چا ہتے تھے اور یہ تحفظ تب ہی مل سکتا تھا جب وہ مسلما ن ہو جا تے۔ نچلی ذا ت کے لو گ اس امید پر مسلمان ہوئے کہ اس صورت میں ان کا سماجی مر تبہ بڑ ھ جائے گا اور مسلمان معا شرے میں انہیں کو ئی با عز ت مقام مل سکے گا۔ وہ لو گ جو اپنی ذات و برادری سے خارج کر دئیے گئے تھے انہوں نے اسلام قبول کر کے مسلما نوں میں پناہ لی۔ وہ لو گ بھی مسلمان ہو ئے جن پر آ پس کے میل جو ل اور خیا لات کے تبا دلے کا اثر ہوا۔

ایسے بھی تھے جو اسلام کا مطا لعہ کر نیکے بعد خا لص دینی جذ بے کے تحت مسلمان ہو ئے۔

اور نگ زیب کے زما نہ میں ایسی بہت سی مثا لیں ملتی ہیں کہ سر دار، زمین دار یا جا گیر دار زمین و جا ئیداد کے تحفظ کی خا طر مسلمان ہو ئے ۔ کا ن پور ڈسٹر کٹ کے کئی را جپو ت زمین دار اسی طر ح مسلمان ہو ئے (ٹامس آ ر نلڈ، پر یچنگ آ ف اسلام، لا ہور، ص 266) پنجا ب کے گکھڑ ، معز الدین غوری کے زیر ا ثر مسلمان ہو ئے ۔ ان کا سر دار جب گر فتار ہو کر آ یا تو اس سے کہا گیا کہ اگر وہ مسلمان ہو جا ئے تو اس کا علاقہ اور جا ئیداد اسے واپس مل جا ئیں گی ۔ اسے یہ ترغیب بھی دی گئی کہ وہ اپنے قبیلے کو بھی مسلما ن کر ے۔ (آر نلڈ۔ ص 255 )

ہندوستان میں صو فیاء کو ہم دو طبقوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک وہ جو مذہبی لحاظ سے تنگ نظر تھے اور دوسرے مذا ہب کے لو گو ں کو حقا رت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ ایسے صوفیاء کا ہند ؤوں کو اپنے اخلاق سے متا ثر کر نا ایک مشکل کام تھا ۔۔۔ دوسرے وہ صو فی تھے جو و حد ت الو جود کے ما ننے وا لے تھے اور جن کی نظر میں مذ ہب و عقیدے کی عز ت تھی ۔ یہ صوفی ذہنی لحا ظ سے وسیع المشرب تھے ۔۔ ان کے نز دیک ہندو ،مسلما ن، بدھ، عیسا ئی سب بر حق تھے ۔ ان صوفیاء نے ہندوستان میں ہندو مسلم اشترا ک کی تحریک چلائی ۔ چشتیہ ،قا در یہ، امدادیہ، اور غو ثیہ سلسلوں کے صو فیاء نے اس بات کی کوشش کی کہ تمام مذ ہبو ں میںیک جہتی کے اصو ل تلاش کر کے ان میں ہم آ ہنگی پیدا کی جا ئے ۔ انہوں نے اس قسم کی کو ئی تحریک نہیں چلا ئی کہ لو گو ں کو ان کے مذ ہب سے چھڑا کر انہیں مسلمان کیا جا ئے ۔

ہندوستان میں بہت سے قبا ئل اور برا در یاں اس بات کا دعوی کرتی ہیں کہ وہ کسی خا ص بز ر گ کے ہاتھ پر مسلمان ہو ئے ۔ ایسا محسوس ہو تا ہے کہ اس قسم کی روا یا ت ایک خا ص مقصد کے تحت و ضع کی گئی ہیں۔ اس ذریعہ سے وہ شا ئد اس بات کو پو شیدہ رکھنا چا ہتے ہوں کہ وہ کسی لا لچ اور جبر کے تحت مسلمان ہو ئے، یا خود کو ان بز ر گ سے منسو ب کر کے مسلمان معاشرے میں بہتر مقا م پیدا کر نا چاہتے ہوں ۔ مثلاً الور کے خانزادے اس با ت کا دعوی کرتے ہیں کہ ان کے جد امجدنا ھر بہادر فیروز شاہ تغلق کے عہد میں قطب الدین بختیار کا کی کے ہا تھوں مسلما ن ہو ا جب کہ دو نوں شخصیتو ں کے عہد میں تقریباً دو سو برس کا فرق ہے۔

( محمد مخدو م تھا نوی ۔ مر قع الور ۔ آ گرہ 1876ء ص 17۔18)


تاثرات غم

عبد القدیر بھائی کا ہمارا چلا گیا                                                                                                                                                                               بے حد محبتوں کا سراپا چلا گیا

اللہ کے نظام کا پابند تھا                                                                                                                                                                                                    دنیا کو چھوڑا جانب عقبی چلا گیا

توحید اس کی زیست میں شامل سدا رہی                                                                                                  سنت کا لے کے ساتھ اجالا گیا

آنی تھی موت آ گئی، کیا اس پہ اختیار                                                                                                  قدرت کا انتظام تھا جانا، چلا گیا

کتنے حسین خلق تھے عبد القدیر کے                                                                                                 خرد وکلاں کو اپنا بنایا چلا گیا

تادیر اس کو بھول نہ پائے گا یہ جہاں                                                                                                 دے کر خلوص وانس کا تحفہ چلا گیا

مل جائے اس کو جنت الفردوس میں جگہ                                                                                                 ثاقب کے دل پہ اس کا تھا قبضہ چلا گیا

اس کے ہر اک گناہ سے کردرگزر خدا                                                                                                 گاتا ہوا وہ تیرا ہی نغمہ چلا گیا

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

تبصرہ کریں