تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

مقدمہ مسجد بند ھا نیاں

1902ء ۔ با جلاس جسٹس ریڈ چیف جسٹس ، جسٹس چیٹر جی و جسٹس کننگٹن

خدا بخش سا ئل بنام قیصر ہند رسپا نڈ نٹ ۔ بصیغہ نگرانی ۔ مقد مہ

نگرا نی فو جداری نمبر 1332 بابت 1901ء

خلا صہ مقد مہ ضما نت حفظ امن ، مجمو عہ ضا بطہ فو جداری مجر یہ 1898ء دفعہ 107۔

مسجد عام :عبا دت کے وقت لفظ آ مین کو زور سے بو لنے کا استحقاق ۔ فعل بے جا

چو نکہ دفعہ 107 مجمو عہ ضا بطہ فوجداری کی رو سے کسی مجسٹریٹ کو یہ اختیار نہیں دیا گیا ہے کہ کسی شخص کو اپنے جا ئز حقوق کے استعما ل میں لا نے سے منع کر ے ۔ لہذا جس صو رت میں ایک شخص پر یہ الزام لگا یا گیا کہ غا لباً نقض امن کا با عث ہو گا یا آسائش عا مہ میں خلل انداز ہو گا اس طر ح سے کہ اس محلہ کی مسجد میں جس میں وہ رہتا تھا ، نماز میں شا مل ہو نے کے وقت لفظ آ مین کا زور سے استعمال کرتا تھا ۔ اور وہ محلہ کسی خا ص فر قہ کے لئے قطعی مخصوص نہیں کیا گیا تھا ۔ اور نامبر دہ سے ضما نت حفظ امن برا ئے شش ماہ حسب دفعہ 107 لی گئی ، تو یہ قرار دیا گیا کہ حکم خلاف قا نو ن تھاکیو نکہ وہ فعل جس کی شکا ئت کی گئی، ایک فعل بے جا نہ تھا۔ اور اس امر سے کہ شا ئد دیگر عبادت کنندگان اس کے طریق عبادت پر اعترا ض کر یں مجسٹریٹ کی یہ کا روا ئی جا ئز نہیں ٹھہر تی کہ نامبردہ کو بموجب دفعہ 107 مجمو عہ ضا بطہ فو جداری ضمانت دا خل کر نے کا حکم دے ۔

مقد ما ت ذیل بطور نظیر پیش کئے گئے ۔

کا شی چند ر داس بنا م ہر کشور داس ( جلد نوز دہم و یکلی رپورٹ ص 47 فو جداری ) ۔ بمعا ملہ شیو سر ن لا ل ( جلد سوم کلکتہ لاء رپورٹ ص 280)

قیصر ہند بنا م شمبہو نا تھ ( نمبر 21 پنجا ب ریکارڈ 1888ء فو جداری ) ۔

گنگو بنام احمد اللہ ؛ فضل کر یم بنام مو لا بخش ؛

قیصر ہند بنام ر مضا ن ؛ اور عطا ء اللہ بنام عظیم اللہ

در خواست نگرا نی با بت حکم کپتا ن ایم ڈبلیوڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ۔ دہلی

مو ر خہ 16 ۔ اکتو بر 1901ء

مسٹر محمد شفیع منجا نب سا ئل اور گو ر نمنٹ ایڈوکیٹ منجا نب رسپا نڈ نٹ حا ضر ہیں ۔ مقد مہ اجلاس بنچ میں بذریعہ حکم ذیل حاکم با جلاس کمرہ وا حد کے مرسل کیا گیا تھا ۔

13 جنوری 1902ء۔ ریڈ ،چیف جسٹس:

سا ئل سے بموجب دفعہ 107 مجمو عہ ضا بطہ فوجداری ضما نت حفظ امن برا ئے شش ماہ لی گئی ہے۔ وہ فعل جس کا الزام اس طر ح پر لگا یا گیا ہے کہ اس سے غا لباً نقض امن واقع ہو گا یا آسا ئش عامہ میں خلل ہو گا ، یہ ہے کہ اس محلہ کی مسجد میں جس میں سا ئل رہتا ہے نماز میں شا مل ہو نے کے وقت لفظ آ مین زور سے بو لا گیا ۔ یہ مسجد بند ھا نیا ں مسجد ہے اور سا ئل غیر مقلد ۔ یہ تجو یز نہیں کیا گیا ہے کہ سا ئل غا لباً نقض امن کا مر تکب ہو گا یا آسائش عا مہ میں خلل ڈا لے گا ۔ تجویز یہ ہے کہ اس کے فعل سے غا لباً دیگر اشخا ص نقض امن کا باعث ہو ں گے، یا آ سا ئش عا مہ میں خلل انداز ہوں گے۔

اس تجو یز کی رو سے دفعہ 107 ( 1 ) کے بمو جب ضرور ہے کہ وہ فعل جس کا الزام لگا یا گیا ایک بےجا فعل ہو ، اور ایسے فعل سے جو بے جا نہیں ہے حکم حسب دفعہ مذ کور جا ئز نہیں ٹھہر تا جیسا کہ بمقدمہ کا شی چند ر داس بنام ہر کشور داس تحریر کیا گیا تھا۔ یہ منشا نہیں ہے کہ کسی شخص کو کو ئی مجسٹریٹ اپنے حقوق کے استعمال سے با یں و جہ منع کر ے کہ اگر وہ ایسا کر یگا تو ایک اور شخص غا لباً نقض امن کا مر تکب ہو گا۔ معا ملہ شیو سر ن لال اور مقدمہ قیصر ہند بنام شمبھو نا تھ اسی مضمو ن کے ہیں ۔ مجمو عہ ضا بطہ فو جداری کی تر میم فیصلہ مندر جہ ویکلی رپورٹر کے اصو لو ں کی بنا پر ہو ئی ہے ۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے لفظ آ مین حسب گفتہ ملز م کے جواز پر غور کر نے سے انکار کیا اور اپیل سا ئل کاتصفیہ سر سری طور سے کیا ۔

بمقد مہ جنگو (گنگو) بنام احمد اللہ ( انڈین لاء رپورٹ جلد سیز دہم الہ آ باد ص 419) چیف

جسٹس نے نصف سے زیادہ حکام اجلاس کا مل کے فیصلہ کو صادر کرتے وقت یہ لکھا:۔

یہ ایما نہیں کیا گیا ہے کہ مدعیا ن نے بر وقت عبادت خود آ مین کو زور سے بد نیتی کے ساتھ بو لا، صر ف یہ بیا ن کیا جا تا ہے کہ مد عیا ن اس رسم سے، جو ادا کی گئی، نارا ض تھے ۔ یہ بطور امر واقعہ کے تجو یز کیا گیا ہے ،کہ مدعیا ن مسلما ن ہیں اور یہ تجو یز نہیں کیا گیا ہے کہ انہو ں نے مسجد میں کو ئی ایسی چیز کر ی یا کر نی چا ہی جو مسلما نو ں کی شریعت کے خلا ف تھی ۔

مقدمہ فضل کر یم بنام مو لا بخش (انڈین لاء رپورٹ جلد سیز دہم کلکتہ ص 448 و پریوی کو نسل) بھی یہ قرار دینے کے لئے سند ہے کہ سا ئل نے اس وقت کو ئی فعل بے جا نہیں کیا کہ جب مسجد میں نماز میں شا مل ہو نے کے وقت اس نے لفظ آ مین بآواز بلند کہا ۔ بمقد مہ قیصر ہند بنام رمضان ( انڈین لاء رپورٹ جلد ہفتم الہ آ باد ص 461 ۔ اجلاس کا مل ) سوال زیر غور یہ تھا کہ آ یا سائلا ن نے جرم حسب دفعہ 296 مجموعہ تعزیرا ت ہند کا ارتکا ب کیا ہے ، یعنی مسجد میں لفظ آ مین بآواز بلند کہہ کر عبادت کنند گا ن کو خلل پہنچایا ۔ جسٹس محمود نے ایک طویل اور باحتیا ط غور کئے ہو ئے فیصلہ میں فل بینچ کی کثرت را ئے سے اختلاف کیا جنہو ں نے یہ قرار دیا کہ مکرر تجویز برو ئے ان تنقیحا ت کے عمل میں آ نی چا ہیے کہ آ یا عباد ت کنند گا ن کو سا ئلا ن نے خلل مچا یا اور آ یا وہ خلل بباعث افعال و روئداد سا ئلا ن کے ہوا تھا جس سے ان کا ارادہ خلل مذ کور پہنچا نے کا تھا جس کی نسبت وہ جا نتے تھے یا باور کرتے تھے کہ اس سے غا لباً خلل مذ کور واقع ہو گا ۔ جس نتیجہ پرجسٹس محمود پہنچے یعنی یہ کہ جر م حسب دفعہ 296 بروئے واقعات مجوزہ ثا بت نہیں ہوا تھا ۔ اس سے دفعہ 107 کی تعلق پذیری کا سوال غیر تصفیہ شدہ چھو ڑا گیا بلحا ظ اس امر کے کہ سوا ل جو اٹھا یا گیا ہے جماعت مسلما نو ں کے واسطے بہت اہم ہے اس لئے ہم درخواست ہذا کو اجلاس ڈویژن بنچ میں مرسل کر تے ہیں، نہا ئت جلد کی تا ریخ مقرر کی جائے سرکار کی طرف سے حا ضری ہو نی چا ہیے اور ہم کو قرین مصلحت معلوم ہو تا ہے کہ در خواست کی سماعت ایسے بنچ سے کی جا ئے جس میں ہم شا مل ہوں۔

قا نو نی امر متعلقہ کا استصوا ب فل بینچ سے بذریعہ حکم ذیل ڈویژن بنچ ( ریڈ اور کننگٹن ) کے کیا گیا تھا۔ ( 26۔ اپریل 1902ء )

وکیل سر کار برو ئے ان سندا ت کے جن کا حوا لہ حکم استصواب میں دیا گیا ہے کہ سا ئل اس وقت تک کو ئی بے جا فعل نہیں کر رہا تھا جب اس نے نماز کے وقت لفظ آ مین بآواز بلند ایک مسجد میں کہا جس میں ایسی جماعت تھی جس میں سب مقلد تھے اور سا ئل غیرمقلد ہے ۔

یہ سوال کہ آ یا کسی شخص کی نسبت یہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ غا لباً آسا ئش عا مہ میں خلل انداز ہو گا اس و جہ سے کہ وہ غا لباً ایسا فعل کر ے گا جو بےجا نہیں ہے گو اس سے غالباً دیگر اشخا ص کو ر نج پہنچے گا اور اس کے با عث وہ ہنگا مہ کر یں گے یا نقض امن کے مرتکب ہو ں گے نئی قسم کا سوا ل ہے اور ہم حکام کی را ئے میں اس قدر اہم ہے کہ اس پر اجلاس کا مل میں غور ہو نی چا ہیے ۔ علاہ ازیں بلحا ظ اس امر کے بھی کہ سوا ل مذ کور مقد مہ ہذا میں بہ تعلق مذ ہبی حقوق مسلما نو ں کے اہم ہے درخواست اجلاس کامل ( فل بینچ) میں مر سل کی جاتی ہے ۔ ان فا ضل حکام کے فیصلہ کو جن سے فل بینچ قا ئل ہوا تھا جسٹس ریڈ نے صادر کیا ۔

ریڈ ۔ چیف جسٹس :۔یہ در خواست نگرا نی فل بینچ میں مرسل کی گئی ہے ۔ حکام استصوا ب مور خہ 31 جنوری اور 26 جنوری کو فیصلہ ہذا کے ساتھ پڑ ھنا چاہیے ۔

ہم حکام کا یہ قرار دینے میں اتفاق ہے کہ سا ئل نے اس وقت بے جا فعل نہیں کیا جب اس نے مسجد میں جہا ں عمو ماً اشخا ص مقلد آ یا کرتے ہیں لفظ آمین بآواز بلند کہا اور کہ غا لباً وہ نقض امن کا مر تکب نہ ہو گا ۔ جن سندا ت کا حوا لہ اول حکم استصواب میں دیا گیا ہے ان کے یہاں مکرر حوا لہ دینے کی حاجت نہیں ہے ۔

یہ سوال باقی رہتا ہے کہ آ یا سا ئل کا لفظ آ مین کو حسب متذ کرہ صدر کہنے سے آسا ئش عامہ میں غالباً خلل انداز ہو گا ۔

برا ئے اغرا ض بحث مذ کور ہم ما نتے ہیں کہ مسجد زیر غور ایک مقا م عام ہے ۔ میکسول کی کتا ب بابت تعبیر قوا نین طبع سو م صفحہ 369 میں برا ئے سندا ت محو لہ قرار دیا گیا ہے کہ کسی ایکٹ کی تعبیر کے وقت ٹھیک تعبیر کے قا عدہ کی رو سے یہ مطلوب ہے کہ عبارت کی تعبیر اس طر ح کی جا ئے کہ ایسی کسی صورتو ں کا اس کے اندر آ نا قرار نہ دیا جائیگا جو اس کے الفا ظ کے معقول معنیٰ کے اندر اور قا نو ن کی منشاء اور حیطہ کے اندر نہیں آ تے۔

بمقدمہ قیصر ہند بنام ر مضان ( انڈین لاء رپورٹ جلد ہفتم الہ آ باد ص 461 ۔ فل بینچ ) ،جسٹس محمود نے جملہ ذیل کا اقتباس بشپ کی کتا ب قا نو ن فوجداری طبع ششم جلد دو م ص 308 سے کیا تھا ۔

یہ امر کہ کسی جلسہ یا مجمع عام میں خلل اندازی یا ہنگامہ کس چیز سے قا ئم ہو گا ،ایک تعریف کے اندر جو تمام صورتو ں کے مناسب حال ہو آسا نی سے نہیں لا یا جا سکتا ۔ ضرور اس کا حصر ہر ایک خاص قسم کے جلسہ کی نو عیت اور خا صیت پر اور ان اغرا ض پر ہو گا جن کے واسطے جلسہ کیا گیا ہو ۔ اور نیز بہت کچھ اس قا عدہ اور دستور پر جس کا اطلاق ایسے جلسو ں پر ہو چو نکہ قانو ن کی رو سے یہ تعریف نہیں کی گئی ہے کہ کیا شئے خلل انداز اور ہنگا مہ متصور ہو گی ۔ پس ضرور ہے کہ اس کا فیصلہ ہر ایک خا ص صورت میں بطور سوا ل امر واقعہ کے کیا جا ئے ۔

سا ئل اس نماز میں شا مل ہوا تھا جو مسجد مذ کور میں پڑ ھی گئی اور یہ تجویز نہیں کیا گیا ہے کہ اس کا منشاء یہ تھا کہ دیگر عبادت کنندو ں کو خلل پہنچا ئے یا کہ اس نے فقط آ مین بآواز بلند کسی اور طر ح پر کہا بجز اپنی عبادت کی نیک نیتی کے ساتھ بجا آوری میں، جیسا کہ ایج چیف جسٹس نے مقد مہ عطاء اللہ بنام عظیم اللہ ((انڈین لاء رپورٹ جلد دواز دہم الہ آباد صفحہ 494 ۔فل بینچ ) تحریر کیا تھا ۔ نا مبردہ کو مسجد مذ کور میں عبادت کرنے کا استحقا ق حاصل تھا کیو نکہ یہ ثا بت نہیں کیا گیا کہ مسجد خاص فر قہ کے مسلما نو ں کے لئے قطعی مخصوص کی گئی تھی ۔

اندریں حا لا ت ہم قرار دیتے ہیں کہ سا ئل کی نسبت یہ احتمال نہ تھا کہ اپنی اس عادت سے کہ مسجد مذ کور میں عبادت کیا کرتا تھا آسا ئش عا مہ میں خلل پہنچا ئے گا اور اس امر سے کہ شا ید دیگر عبادت کنند گا ن اس کی طرز عبادت پر اعترا ض کریں حکم مصدرہ جا ئز نہیں ٹھہر تا ۔ یہ با ت کہ وہ عبادت کنند گا ن غا لباً کیا کر یں گے سا ئل کی غا لب فعل کے سوا ل سے بے تعلق ہے۔

ہم تحریر کرتے ہیں کہ در خواست گذار نیدہ بخدمت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو بطور اپیل کے پیش اور بیا ن کی گئی تھی مگر اس کا تصفیہ بطور در خواست نگرانی کے کیا گیا ۔ جیسا کہ ایک اور اردو یاد دا شت سے معلوم ہو تا ہے کو ئی اپیل بنا را ضی حکم حسب دفعہ 107 نہیں پہنچتا ۔ ہم حکام اس حکم کو منسو خ کرتے ہیں جس کی رو سے سا ئل کو ضما نت دا خل کرنے کی ہدا ئت کی گئی ۔ در خواست منظور کی گئی ۔

( منقول از فتو حات اہلحد یث)

ہا ئی کور ٹ بنگال در بارہ مقد مہ ما بین اہلحدیث و مقلدین

واقع مو ضع با ڑہ ضلع در بھنگہ

جسٹس را برٹ فلٹن ریم پینی ، جسٹس چا ر لس پیٹر کس پرز

اپیل بنا را ضی ڈگری عدا لت اپیل نمبر 455، 1904ء

اپیل بنا را ضی ڈگری با بو پرسنوں کمار بوس سب جج دوم مقام تر ہت مور خہ 19 مئی 1903ء با بت بحالی فیصلہ با بو ہیم چندر مکر جی منصف مقام در بھنگہ مر قو مہ 25 جو لا ئی 1902ء

شیخ فر زند و غیرہ مدعا علیھم از نمبر 1 تا 9 و نمبر 18 ونمبر 19 ۔ اپیلانٹان بنام

شیخ محمد اسماعیل و غیرہ مدعیان رسپا نڈنٹان

وکیل اپیلانٹا ن ۔ سو غا ت علی۔۔۔۔ وکیل رسپانڈنٹا ن سید شمس الہدی و عبد الجواد

اپیل ہذا متعلق ایک ایسے مقد مے کے ہے جس کو مدعیان نے بغر ض استقرار اس امر کے دا ئر کیا تھا کہ ان لو گو ں کو حق نماز پڑ ھنے اور اما مت کر نے کا اس مسجد میں حاصل ہے جو مو ضع باڑ ھ پر گنہ پنڈار ج ضلع در بھنگہ میں واقع ہے ۔ ہر دو عدا لت ہائے ما تحت نے مدعیا ن کو ڈگری دیا ہے اور مدعا علیھم از نمبر 7 و نمبر 18 و نمبر 19 نے اس عدا لت میں اپیل ہذا دا ئر کیا گیا اور ان لو گو ں کی طرف سے دو و جوہ اپیل کے ہم لوگو ں کے یہاں پیش کئے گئے ہیں۔ اولاً یہ کہ دفعہ 30 مجموعہ ضا بطہ دیوانی کی رو سے مقدمہ ہذا قا بل چلنے کے نہیں ہے۔

و ثانیاً یہ کہ چو نکہ مدعیان سنی نہیں اسلئے وہ لو گ مسجد متنا زعہ میں نماز پڑ ھنے کے مستحق نہیں ہیں

منجملہ ان عذرا ت کے پہلا عذر لا طا ئل و بیکار ہے ۔ دفعہ 30 مجمو عہ ضا بطہ دیوا نی کا اطلاق صریحاً مقدمہ ہذا پر نہیں ہے ، اس و جہ سے کہ مدعیا ن نے خا ص اپنے لئے مقد مہ دا ئر کیا ہے اور ان لو گو ں نے کسی جما عت عام اشخا ص کیلئے مقد مہ دا ئر نہیں کیا ہے ۔ دوسرے عذر کی نسبت ہماری یہ را ئے ہے کہ چونکہ مدعیان اپنے کو سنی یا مسلما ن بہرنوع قرار دیتے ہیں اسلئے ان لو گو ں کو اس با ت کا حق حا صل ہے کہ مسجد میں جائیں اور اس میں اپنی نماز پڑھیں۔

بمقدمہ فل بنچ عطا ء اللہ بنام عظیم اللہ مندر جہ انڈین لاء رپورٹ جلد 12 مطبوعہ الہ آ باد صفحہ 494 بھی اس عدا لت کے اس فیصلہ میں جو بمقد مہ آ دم شیخ بنا م عیسی شیخ صادر ہوا اور جو مندر جہ کلکتہ ویکلی نو ٹ جلد اول ص 76 ہے یہی را ئے قا ئم ہو چکی ہے ۔ اسلئے اپیل ہذا کیلئے کو ئی وجہ نہیں اور ہم اس اپیل کو معہ خر چہ ڈسمس کرتے ہیں ۔ ( منقول از فتو حات اہل حد یث)

مقدمات امر تسر 1912ء

7 جو ن 1912ء کی شب کو محلہ بھنگیاں امر تسرکے اہلحدیث نے مو لا نا ثنا ء اللہ کا وعظ سننے کا انتظا م کیا چنا نچہ مو لا نا مو صو ف تشریف لے گئے ۔ جو نہی کرسی پر بیٹھے چند افراد ، جو حا فظ جماعت علی شا ہ صاحب کے مرید تھے ، نے مزا حمت کی اور سا منے رکھی ہو ئی میز کو الٹ دیا ۔ ایک شخص اہل حد یث غلام محمدالمعرو ف گا ماں کو بہت مارا ۔ اس پر مقدمات کی بنا ہوئی ۔ ایک مقد مہ گاماں مضرو ب کا، دوسرا مو لا نا ابو الو فاء کا استغا ثہ ۔ تیسرا جو اسی ضمن میں اخبار اہل فقہ کے ا ڈیٹر نے مو لوی حکیم محمد الدین مر حو م کی نسبت خلا ف شان الفا ظ لکھے تھے۔ ان الفا ظ ہتک آ میز کی بنا پر حکیم صا حب کے فر زند محمد اسحاق نے استغا ثہ ازالہ حیثیت زیر دفعہ500 ۔ اڈیٹر اہل فقہ پر دا ئر کیا ۔

در ج بالا تین مقد ما ت تو اہل حد یث کی طرف سے تھے، ان کے علاوہ دو مقدمے احناف کی طرف سے دا ئر ہو ئے جن میں سے ایک مقد مہ مریدا ن حافظ جماعت علی کی طرف سے بعنوا ن بلوا تھا، جس کا بیا ن تھا کہ مو لوی ثنا ء اللہ، مو لوی نور محمد، خوا جہ حبیب اللہ وغیرہ 21۔ افراد ڈا نگیں لے کر ہمارے مکا ن پر آ ئے اور بلوا کیا ۔ مکا ن بند تھا دروازہ کو ڈا نگیں مار کر فحش گا لیاں دے کر چلے گئے ۔ دوسرا مقد مہ حنفی جما عت کی طرف سے تھا کہ کٹڑہ حکیما ں کے ایک شخص کی اپنے دا ماد سے کچھ ان بن تھی۔ دا ماد کی طرف سے لو گ لڑ کی کو لینے آ ئے۔ نامعلوم کیا واقعہ پیش آ یا، لڑ کی وا لے نے استغا ثہ دا ئر کر دیا کہ یہ لو گ میری لڑ کی کو جبراً اٹھا کر لینے آ ئے تھے ۔ ان لو گو ں میں ایک نو جوان لڑ کے ( محمد یعقو ب ) اہل حد یث کی جما عت کا نام بھی کسی و جہ سے لکھوا دیا ۔

احناف کے پہلے مقد مے میں اکیس ملز مین سے 14۔ اشخا ص کو حا کم نے سر سری بیان سن کر ہی نکال دیا اور دفعہ جو استغا ثہ میں سخت ( 147 ) لگا ئی تھی نر م کر کے 352 مقرر کی مگر ابھی تک نہ تو باقاعدہ مستغیثو ں کے بیا ن ہو ئے نہ گوا ہو ں کی باقاعدہ شہادت اور جر ح ہو ئی۔ جو ہوا صر ف سرسری بیا ن پر ہوا ۔ فریق ثا نی نے اس فیصلہ کی اپیل کی۔ تیسرا مقدمہ اس اپیل کا ہوا ۔ اس لئے کل چھ مقدمات دا ئر عدا لت ہو ئے ۔

ٹھا کر مہان چند ، جن کی عدا لت میں مقد مات تھے ، نے کئی دفعہ بر سر اجلاس فر ما یا کہ امر تسر کی انجمن اسلا میہ کو د خیل ہو کر مصا لحت کرا نی چا ہیے ۔ چنانچہ ڈپٹی کمشنر امر ت سر کے ایماء سے شیخ نجم الدین اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر امر تسر نے اہل حدیث کو حاجی فتح محمد سوداگر چر م ممبر میونسپل کمیٹی (اہل حدیث)، اور احناف کو سید بڈ ھے شا ہ (حنفی ) کے ذریعے بلا یا۔ اور سب مقد ما ت کے فیصلہ کے لئے شیخ نجم الدین منصف مقرر ہو ئے ۔

شیخ نجم الدین کا فیصلہ آ گے در ج ہو تا ہے ۔ خلا صہ اس کا یہ ہے کہ اہل حد یث کے تینو ں مقد ما ت میں فیصلہ مثبت کی صورت میں ہوا اور حنفیو ں کے مقدما ت کا نفی کی صورت میں۔ یعنی اہل حد یث کے اس مقد مہ میں مو لا نا ابو الو فاء کا استغا ثہ تھا، عزیز ملز م کو منصف نے معا فی ما نگنے کا حکم دیا چنا نچہ اس نے معا فی ما نگی اور مو لا نا نے معا فی دے دی ۔ جس مقدمہ میں گاما مضرو ب کا استغا ثہ تھا ،منصف نے گاما کو فریقین سے مبلغ ۔۔۔ رو پئہ دلوا ئے ۔ اس مقد مہ میں جو محمد اسحاق خلف حکیم محمد الدین مر حو م کا اڈیٹر اہل فقہ پر تھا منصف نے ا ڈیٹر مذ کور اخبار اہل فقہ میں افسوس شا ئع کر نے کا حکم دیا ۔

فر یق ثا نی کے اس مقد مہ میں جو اکیس افرادپر بلواکا تھا ،منصف نے بو جہ بے ثبوت ہو نے کے چھوا ہی نہیں، بلکہ صا ف فر ما دیا کہ یہ مقا بلہ میں بنا یا ہے۔ لڑ کی ا ٹھانے کے مقد مہ کو بھی اسی اصو ل سے فیصلہ میں ذکر نہیں کیا ۔ تیسرا مقد مہ اپیل کا تھا وہ چو نکہ بلوا وا لے مقد مہ کی فر ع ہے ۔ جب اصل میں فیصلہ را ضی نا مہ سے ہوا تو اس میں بھی یہی فیصلہ ہے ، لہذا اس کا ذکر بھی فیصلہ میں نہیں کیا۔

فیصلہ : امر ت سر کے اہل حدیث اور اہل فقہ ( حنفی گروہ ) کی طرف سے بالمقا بل ایک دوسرے کے خلاف کل چھ مقد ما ت فو جداری مختلف عدا لت ہائے فوجداری امر ت سر میں زیر تجو یز ہیں ۔ ان مقد ما ت کے فریقین نے تناز عا ت کے لئے مجھے منصف بنا یا ہے اور مجھے اختیار دیا ہے کہ جو کچھ فیصلہ میں کردوں اس کو فریقین منازعت منظور کریں گے ۔ میں نے فریقین کے عذرا ت اور بحث کو سنا اور ضروری امور کے متعلق نو ٹ بھی کئے اور جہاں تک ہو سکا میں نے اس منا ز عت کے متعلق بذریعہ تحقیقا ت صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے میں اپنا فیصلہ یہ دیتا ہو ں کہ شش مقد ما ت کے مستغیث اپنا اپنا مقد مہ بذریعہ اد خا ل را ضی نا مہ یا دست بر داری عدا لت متعلقہ سے ود ڈراء withdrawکریں اور اس میں یہ لکھ دیں کہ بمو جب فیصلہ منصف ہم اس مقد مہ کو ود ڈراء withdraw کرتے ہیں ۔ اس کے بعد میں مفصل فیصلہ سنا ؤں گا کہ اس نزاع میں کو ن کون شخص یا اشخا س قا نو ناً یا اخلا قاً قصور وار ہیں اور ان کو فریق ثا نی سے کس کس طر ح پر اپنی تقصیرات کی معذر ت یا تلا فی کر نی چا ہیے اور آئندہ کے واسطے اس کا رو یہ یا لہجہ کیسا ہو نا چا ہیے ۔ چنا نچہ جملہ مقد ما ت میں را ضی نا مہ جا ت یا دست بر داری دا خل ہو چکی ہیں۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا فیصلہ کرتا ہوں:

او ل: اخبار اہل حد یث نے خواہ بتحریک خود یا بنا بر نقل مضا مین اخبار بنگلور موسومہ بر ق سخن حا فظ سید جماعت علی شاہ صا حب صو فی کی شا ن میں جو فقرے یا الفا ظ در ج کر کے حا فظ صا حب پر رکیک حملے کئے ہیں ان سے حا فظ جماعت علی شاہ صا حب کے پیرو و مریدا ن یا معتقدا ن کو ضرور رنج پہونچا ہے اور چو نکہ ان متخا صمین کے در میا ن صلح ہو گئی ہے اس واسطے ا ڈیٹر اخبار اہل حد یث کا فر ض ہے کہ ان تحریرا ت کی نسبت اپنے آئندہ پر چہ اہل حدیث میں اظہار افسوس کر یں ( حا فظ جماعت علی کا معا ملہ مقدمات متدائرہ میں نہیں ہے لہذا منصف صا حب کا یہ فر ما نا فیصلہ میں نہیں آسکتا بلکہ نیک نیتی سے مشورہ ہے اس لئے میں حسب مشورہ منصف ، جناب ثناء اللہ امر تسری نے اظہار افسوس کیا)

دو ئم : اخبار اہل فقہ نے مو لوی ثنا ء اللہ کی شا ن میں خواہ صر یحاً یا معناً نامنا سب اور غیر مہذ ب الفا ظ یا فقرا ت کو اپنے اخبار یا اشتہارا ت میں در ج کر نے سے جو رکیک حملہ مو لوی ثنا ء اللہ پر بر خلا ف اخلاق اور خلاف تہذ یب کیا ہے اس کی نسبت اڈیٹر اخبار اہل فقہ آئندہ پر چہ اہل فقہ میں اظہار افسوس شا ئع کریں اور نیز حکیم محمد الدین پدر محمد اسحاق مشتغیث استغا ثہ دفعہ 500 کی نسبت جو الفا ظ بدمعاشانہ لہجہ یا خس کم جہاں پا ک در ج کئے ہیں ان کی نسبت بھی اسی اخبار اہل فقہ میں اظہار افسوس کریں ۔

سو م : چو نکہ گا ماں مضرو ب جس کو خفیف ضر ب لگی ہے ضرور ز خمی ہوا ہے مگر یہ تحقیق نہیں ہو سکا کہ کس کے ہا تھ سے اس کو چو ٹ لگی لیکن بہر حا ل میں اہل فقہ ( حنفی گروہ ) کی طرف سے عبد العزیز اور اہل حد یث کی طرف سے محمد یعقو ب دو نو ں ایسے نوجوا ن ہیں جو بے شک جو شیلے ہیں اور غا لباً زیادہ ذمہ داری 7 جو ن کے تنا زعہ کی انہی دو نو ں پر ہے کیو نکہ اہل حد یث کی طرف سے کہا جا تا ہے کہ گا ماں کو ضرب عبد العزیز سے لگا ہے اور حنفی کہتے ہیں کہ محمد یعقو ب نے ما ری اور ہنوز یہ معا ملہ ٹھیک طور پر روشنی میں نہیں لا یا گیا کہ در اصل کس کی چوٹ لگی لیکن چو نکہ اب فریقین میں صفا ئی ہو گئی ہے اور مقتضا ئے یگا نگت اور انسا نی ہم دردی یہ ہے کہ ایک غریب مضرو ب کو کچھ معا و ضہ دیا جا ئے۔ اس لئے میں تجو یز کرتا ہو ں کہ 25 رو پئہ عبد العزیز اور 25 رو پئہ محمد یعقو ب مسمی گا ما ں مضروب کو معا و ضہ دیں اور اگر وہ ایسا معا و ضہ نقد لینا پسند نہ کر ے تو دو نوں اشخا ص محمد یعقو ب و عبدالعزیز گا ما ں مضرو ب کی معذر ت با ظہار افسوس آج ہی میرے رو برو اس مو جودہ مجلس میں کریں ۔

چہا ر م : برا ئے آ ئندہ ہر دو فریق کے علماء آ زادی سے وعظ کر سکتے ہیں اور مذ ہبی مسا ئل کے اختلافات کا اظہار زبا نی یا تحریری کر سکتے ہیں لیکن ہر حا ل میں ہر ایک شخص کو اپنا لہجہ ایسا اختیار کر نا چاہیے کہ نہ تو خلا ف قا نو ن ہو اور نہ ہی خلاف اخلاق اور نہا یت شریفا نہ اور مہذ ب ہو نا چا ہیے اور اس امر کو ہر وقت وعظ میں ملحوظ رکھنا ہو گا کہ کو ئی فعل منجر بہ نقض امن نہ ہو ۔ اور وا ضح رہے کہ کسی محلہ میں کسی فریق کو دوسرے فریق کے علماء کے وعظ کو رو کنے کا حق نہیں ہے۔

پنجم : عزیز میر نے جن الفا ظ میں مو لوی ثنا ء اللہ کو وعظ سے منع کیا ان الفا ظ سے ثا بت ہے کہ اس نے ان کی شا ن میں کو ئی گستا خی نہیں کی، البتہ عبدالعزیز نے مو لوی ثنا ء اللہ کو وعظ کر نے سے نہ صرف رو کا بلکہ کسی قدر گستا خی بھی کری ۔ اس واسطے عبد العزیز اس مجلس میں مو لوی ثنا ء اللہ صاحب سے معا فی ما نگے اور وہ معا فی دے دیں گے۔

ششم ۔ محمد یعقو ب نے عز یز میر اور عبد ا لا حد وغیرہ کی خا نہ تلا شیا ں بلا وجہ کرا ئیں اور ان کو ر نج پہنچایا ہے اس وا سطے محمد یعقو ب کا فر ض ہے کہ وہ ان دو نو ں سے سر مجلس موجودہ معا فی ما نگے اور وہ معا فی دے دیں گے ۔ فیصلہ سنا یا گیا ۔

ایک ایک نقل فریقین کو دے دی جا وے اور حسب مند ر جہ فیصلہ ہذا میرے رو برو جس جس کو دوسرے سے معا فی ما نگنی چا ہیے تھی ما نگی گئی اور تعمیل فیصلہ ہو چکی ہے ۔

دستخط انگریزی ۔ شیخ نجم الدین اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر امر ت سر

(اہل فقہ کے اڈیٹر نے یہ فیصلہ 29 جو لا ئی 1912ء کے پر چہ میں بطور ضمیمہ در ج کرکے گزشتہ رنجدہ الفاظ پر حکماًاظہار افسوس کیا ہے) ۔

سری نگر

عر یضہ بخدمت جناب گور نر صا حب کشمیر

جنا ب وا لا! سننے میں آ یا ہے کہ کشمیر جیسے با امن ملک میں آ ج کل مسلما نو ں کی دو جما عتو ں میں فساد ہو رہا ہے ایک اہل حد یث دوسرے حنفی ۔

حنفیو ں کے بعض مفتیو ں نے جنا ب کو در خواست دی ہے ، اہل حد یث کو عید گا ہ میں نماز عید پڑ ھنے سے رو ک دیا جائے کیو نکہ یہ لو گ آ مین او نچی کہتے ہیں ۔

او نچی آ مین کہنے سے کسی کو رو کنا شرع شر یف میں سخت منع ہے او نچی آ مین مسلما نوںمیں ایسی مروج ہے کہ کعبہ شر یف میں بھی ہو تی ہے بیت المقدس میں بھی ہو تی ہے یہاں تک کہ بغداد شریف میں خود حضرت پیر صا حب کی مسجد میں بھی بلند آ مین ہو تی ہے۔ مگر میں جنا ب کو ان دور دراز مقا ما ت کے واقعات سننے کی تکلیف دینا نہیں چا ہتا بلکہ جیسا کہ اہل حد یث کا نفر نس کی طرف سے میں نے بذ ریعہ تا ر جنا ب کو مطلع کیا تھا خاص کر ہندوستان ہی کی ہا ئی کو ر ٹو ں کے فیصلو ں کی طرف تو جہ دلا تا ہو ں ۔

خبر پہنچی ہے کہ جنا ب نے چند سوا ل بغر ض جوا ب کسی فر یق کو دئیے ہیں ۔ ہمیں یہی خیا ل ر کھنا چا ہیے کہ جنا ب نے از راہ انصا ف ایسا کیا ہے تا کہ کسی فریق کی حق تلفی نہ ہو ۔ مگر میں آ ل انڈ یا اہل حدیث کا نفر نس کی طرف سے جنا ب کو تو جہ دلا تا ہوں کہ اس قسم کے سوا لا ت اور جوا بات کی ضرورت نہیں۔ ہندوستا ن کی تما م ہا ئی کو ر ٹو ں میں فیصلے ہو چکے ہیں کہ آ مین بالجہر کہنا ایک جا ئز کا م ہے ہر مسجد میں ہو سکتا ہے ۔ ہا ئی کو ر ٹ الہ آ با د ، ہائی کورٹ کلکتہ و غیرہ میں فیصلے ہو ئے یہا ں تک کہ 1891ء میں پر یوی کو نسل لند ن میں بھی فیصلہ بحق اہل حد یث ہوا۔

سب سے آ خری فیصلہ چیف کور ٹ پنجا ب کا 1902ء میں ہوا ہے۔ ایک شخص خدا بخش نا می ساکن دہلی نے اپنے محلہ کی مسجد میں بلند آ مین کہی مجسٹر یٹ ضلع کے ہا ں شکا یت کی گئی مجسٹریٹ ضلع نے اس کو منع کر کے آ ئندہ نہ کر نے کی ضما نت طلب کی ۔ اس نے چیف کو ر ٹ میں اس حکم کی نگرا نی کی ۔ چیف کور ٹ پنجا ب کے ججو ں نے بالاتفاق اس نگرانی کو قبو ل کیا اور صا ف لکھا کہ آ مین بلند کہنا ایک جا ئز فعل ہے ۔ جائز فعل پر کسی طر ح ضما نت نہیں لی جا سکتی چنا نچہ فیصلہ کا یہ فقرہ قا بل ملاحظہ ہے :

ہم حکا م کا یہ قرار دینے میں اتفاق ہے کہ سا ئل نے اس وقت کو ئی بے جا فعل نہیں کیا جب اس نے مسجد میں جہا ں عموماً اشخا ص آ یا کر تے ہیں لفظ آمین بآواز بلند کہا اور وہ غالباً نقض امن کامر تکب نہیں ہو گا ۔

پس ان فیصلہ جات کی بنا پر جنا ب کو تو جہ دلا تا ہو ں کہ آ پ اس مقد مہ میں زیادہ دما غ سوزی کی زحمت اپنے ذمہ نہ لیں بلکہ ہا ئی کو ر ٹو ں اور پر یوی کو نسل کے فیصلو ں پر جن پر از رو ئے قا نو ن بھی اعتماد کر نا آ پ پر وا جب ہے اعتما د کر کے اپنا قیمتی وقت بچا لیں اور حکم صادر فرما ویں کہ حسب فیصلہ جات عدا لت ہا عا لیہ ہر ایک مسجد میں آ مین او نچی کہنے کا ہر ایک کو حق حا صل ہے ۔ و السلا م ۔ آپ کا با وفا :

ابو الو فا ثنا ء اللہ آ نر یری جنر ل سکر ٹر ی آ ل انڈ یا اہل حد یث کا نفر نس ۔ از امر تسر

(اہل حد یث جلد 19 نمبر 1 ۔ 4 نو مبر 1921ء ، 3 ربیع الاو ل 1340ھ ص 2 )

جناب ثناء اللہ امر تسری بتا تے ہیں:

سری نگر نے رسمی حنفی علماء نے اہل حد یث کی عید گا ہ میں نماز عید کے لئے آ نے سے رکوا دیا اور ایک اشتہار شا ئع کیا جس کا مضمو ن یہ تھا کہ فرقہ وہا بیہ مفسد ہیں بغر ض انسداد فساد ان کو مسجدو ں میں نہ آ نے دینا چا ہیے ۔ اس پر میں نے اہلحد یث کانفرنس کی طرف سے گور نر کشمیر کو تار دیا کہ ہندوستان کی ہا ئی کو ر ٹو ں کے علاوہ پریوی کو نسل لند ن نے بھی اہلحد یث کو ہر مسجد میں نما ز پڑ ھنے کا حق دیا ہے اس لئے ہم اپنے کشمیری بھا ئیو ں کے حق میں انصا ف کی امید رکھتے ہیں ۔ چنانچہ گور نر نے اپنے حکم کو صرف ایک دفعہ تک محدود فر ما دیا اور مقد مہ ایک ذی علم مسلما ن منصف کے سپرد ہوا ۔ اہل حدیثا ن کشمیر نے ( مجھے )کہا کہ پیروی کے لئے خود آ ئو یا مو لا نا سیا لکو ٹی کو بھیجو ۔ ہم عذر کرتے رہے یہاں تک کہ خط آ یا کہ اگر یہ مقدمہ خرا ب ہو گیا تو ہمارے رہنے کے لئے کو ئی جگہ تجویز کر نی ہو گی، تو ہم دو نو ں 3 ستمبر 1922ء کشمیر میں وارد ہو ئے۔ 4 ستمبر کو میری شہادت شروع ہوئی 8 کو ختم ہو ئی ۔ فریق مخا لف نے اتنے سوا ل کئے کہ شمار سے با ہر ہیں ۔ شہادت کا خلا صہ مذ ہب اہل حد یث کی حقیقت اور ماہیت کا اظہار تھا ۔ اور مخا لفین کے اتہا ما ت کی تر دید اور مسا جد میں سب کلمہ گو مسلما نو ں کے حقو ق ادا ئے نماز مساوات فریق ثا نی کو ہر قسم کی جر ح کا حق تھا جس کا افسوس نہیں لیکن انہوں نے بعض سوا لات ایسے بھی کئے جو ایک حنفی کے منہ سے نہیں بلکہ اہل قر آ ن و منکر حد یث کے منہ سے زیبا تھے ۔ خیر ہم نے سب سوا لوں کے جوا ب دئیے ۔ مو لا نا سیا لکو ٹی کی شہادت بھی ہو ئی ۔ ( اہل حد یث امر تسر15 ۔ ستمبر 1922ء ۔ 22 محر م 1341ھ ص 1۔3 )

مو لا نا میرسیا لکو ٹی کی شہادت بھی ہو ئی مگر بہت مختصر ۔ یہی پو چھا گیا کہ مکہ معظمہ مصر اور بیت المقدس میں آ پ نے اہل حد یث کے افراد دیکھے؟ فر مایا ۔ ہاں دیکھے ۔ وہ بھی بامن و عا فیت اپنے طر یق پر نماز پڑ ھتے تھے ۔ یہ بھی فر ما یا کہ میں شر یف مکہ کے حکم سے حر م کعبہ میں وعظ بھی کہتا تھا ۔ ثنا ء اللہ ( اہل حد یث امر تسر 22 ستمبر 1922ء)

کاسگنج ضلع ایٹہ۔ 1929ء

عدا لت منصفی مقام کاسگنج ۔ نمبر ابتدائی ۔ 97 بابت 1929ء تاریخ یکم مارچ 1929ء

مرزا امام بیگ ولد حسین علی بیگ، کریم اللہ و لد فیضو سکنہ کاسگنج پر گنہ بلرام، کاسگنج ضلع ایٹہ۔ مد عیان ۔

آ ٹھ کس مدعا علیھم ۔

درخواست:

الف : مدعا علیھم کو بذریعہ حکم امتناعی دوا می ممانعت کی جاوے کہ وہ مدعیان کی عبادت نماز میں رفع یدین کر نے اور آ مین بالجہر کہنے اور سینہ پر ہاتھ با ند ھنے میں مسجد حلوا ئیاں واقع محلہ ناتھو رام واقع کا سگنج میں کسی قسم کی مزا حمت با جماعت یا جدا گا نہ ادا کر نے میں نہ کریں۔

ب : خر چہ نالش ہذا دلا یا جا ئے۔

31 جو لا ئی 1929ء ۔ یہ مقدمہ آ ج واسطے انفصا ل قطعی کے رو برو با بو رکیشوری پر شاد ایم اے بی ایس سی ایل ایل بی منصف (بحا ضری وکلاء فریقین) پیش ہوا ۔

یہ ڈگری و حکم ہوا کہ

مدعا علیھم کو بذریعہ حکم امتناعی دوامی مما نعت کی جاتی ہے کہ مدعیان کی عبادت نماز میں رفع یدین کرنے اور آ مین بالجہر کہنے اور سینہ پر ہاتھ باند ھنے میں مسجد حلوا ئیاں واقعہ محلہ ناتھو رام قصبہ کاسگنج میں کسی قسم کی مزا حمت با جماعت یا جدا گا نہ ادا کر نے میں نہ کریں خر چہ فریقین ذمہ فریقین رہے۔

آ ج بتاریخ 31 ماہ جو لائی 1929ء بہ ثبت میرے دستخط اور مہر عدا لت کے جاری ہوا ۔ (منشی ر کیشوری پر شاد منصف)

( نقل فیصلہ مو صو لہ از جناب عبد الوہاب انصاری کا سگنج)

کیکڑی ضلع اجمیر

کیکڑی میں ایک خا ندا ن کے چند ممبر اہل حد یث ہو گئے ہیں ۔ ان کومحلے کی خاندانی مسجد میں نماز پڑھنے سے حنفی بھا ئی رو کتے اور کہتے کہ پڑ ھو تو ہماری طر ح پڑ ھو ۔ حکام تک نو بت پہنچی ۔ چیف کمشنر اجمیر نے حکم دیا کہ اہل حد یث بعدا لت دیوانی اپنا استحقا ق ثابت کریں اور تا فیصلہ مسجد میں نہ جائیں۔ اہل حد یث نے عدالت دیوا نی میں دعوی دا ئر کیا ۔ پہلی عدا لت میں ان کی فتح ہو ئی، دعوی استحقاق ثابت ہوا ۔ فریق ثا نی نے اپیل کی تواپیل خار ج ہوگئی۔ چا ہیے تھا کہ قضیہ ختم ہو جا تا مگر جب اہلحد یث نے چیف کمشنر کو منسو خی حکم کی درخواست دی تو اس نے افسرا ن کیکڑی سے رپورٹ طلب کی ۔ مقا می افسر نے فریقین کو بلایا ۔ فریق حنفی نے بجا ئے نر م رو یہ کے تیزی اختیار کیا تو مقا می افسر نے لکھ دیا کہ اہل حدیث کو مسجد مذ کور میں جا نے کی اجاز ت دینے سے فساد کا خطرہ ہے ۔

قا نونی دفعہ کا منشا یہ ہے کہ جس شخص یا فریق سے فساد کا خطرہ ہو اس سے حفظ امن کی ضما نت لی جائے ۔ اس قا نو ن کے لحا ظ سے چا ہیے تو یہ تھا کہ جس فر یق سے مخل امن ہو نے کا اندیشہ تھا اس سے ضمانت لے کر فریق مستحق کو اجا ز ت دی جاتی۔ مگر مسلما نو ں کو چیف کمشنر کا حکم پہو نچا کہ پہلا نو ٹس منسو خ نہیں ہو سکتا ۔ یعنی چیف کمشنرنے دیوا نی عدا لت میں استحقا ق ثا بت کر نے کا حکم دیا ۔ جب اہل حد یث نے ایسا کر دیا تو اپنی ہی عدا لت کے فیصلہ کو پس انداز کر دیا ۔

یہ 1922ء کے گردو پیش کی بات ہے اور ایک عرصہ تک جب حا لات درست ہو نے میں نہ آ ئے تو 1934ء میں اہل حد یث لیگ نے اجمیر کی انتظا میہ سے مطا لبہ کیا کہ عد لیہ کے فیصلہ پر عمل در آ مد کروا تے ہو ئے اہل حد یث حضرات کو مذکورہ مسجد میں نماز ادا کر نے کی اجازت دی جا ئے۔ اس کے کچھ عر صہ بعدآ ل انڈ یا اہل حدیث کا نفرنس کا ایک وفد مشتمل بر حا جی عبد الغفار آ ف حا جی علی جان، حا جی بشیر الدین سودا گر، اور مو لوی ثنا ء اللہ امرتسری شملہ گیا اور سر شفیع کی وسا طت سے راجپوتانہ کے اعلی افسر سے ملا ۔ نواب لو ہارو نے بھی وفد کی تا ئید فر ما ئی ۔ وفد نے اچھی طر ح اپنا سارا حال سنایا ۔ افسر مذکور نے بڑی تو جہ سے سب کچھ سن کر ہمدردی کا اظہار کیا اور فر مایا کہ وہاں کے چیف کمشنر سے در یا فت حال کروں گا کہ باو جود فیصلہ عدالت عالیہ کیوں اہل حدیث کواجاز ت نہیں دی جا تی ۔ صاحب مو صوف کے دریافت کر نے پر وہاں کے اعلی حاکم نے جواب دیا کہ فیصلہ عدا لتی بے شک ایسا ہی ہے لیکن چو نکہ فساد کا خطرہ ہے اس لئے تا قیام امن اہل حدیث کو رو ک دیا گیا ہے ( اہلحد یث 28 ۔ اپریل 1922ء ص 2۔3 ؛ 19 جنوری 1934ء ص 11؛ 6 ستمبر ؟؟۔ ص 5)

سملی ضلع پٹنہ

مو ضع سملی ضلع پٹنہ میں ایک پختہ جا مع مسجد میں اہلحدیث اور حنفی مل کر زما نہ دراز سے نماز پڑ ھتے چلے آ ئے اور امام ہمیشہ اہل حدیث رہے۔پھر کسی نے احناف کو سمجھا یا کہ اہلحدیث کے پیچھے نماز ناجائز ہے لہذا ان لو گوں نے دوسری مسجد میں جمعہ قائم کیا اور قطعی ہر نماز میں احتراز کر نے لگے ۔ پھر اس پر یہ اضا فہ ہوا کہ چندلو گوں نے یہ تجویز کی کہ ہماری تعداد زیادہ ہے، اس پختہ مسجد سے بزور ان (اہل حد یث ) کو نکال دیا جا ئے ۔ چنا نچہ ان لو گوں نے جمعہ کے روز 15 مار چ 1929ء کو بڑی جمیعت سے حملہ کیا جس کا نتیجہ خوں ریزی تک پہنچا۔ مقدمہ فو جداری میں گیا ۔ اور ایک برس تک مجسٹریٹ دا نا پور کے ہاں رہا ۔ مجسٹریٹ نے کہا کہ مسجد کا مقدمہ ہے اس کو کو ئی قا بل مسلمان فیصل کر ے، میں اسلا می قا نون سے ناواقف ہوں ۔ چنانچہ دونوں فریق کی را ئے سے مقد مہ دار القضا پھلواری شریف امیر شریعت کے پاس گیا ۔ امیر شریعت نے طر فین سے اظہار لے کر فیصل کیا کہ دعوی حنفی با لکل غلط ہے، مسجد میں دو نوں فر یق کو مل کر نماز پڑ ھنی چا ہیے ۔ جو سب سے زیادہ قا بل ہے وہ امام ہو بلا تخصیص حنفی اور اہل حدیث کے۔ اور تحقیقات کر کے مو لوی محمد محسن صاحب کو امامت کی سند دی جو اہل حدیث ہیں اور ان کی عدم مو جود گی میں مو لوی ابراہیم صاحب کو قا ئم کیا، جو حنفی ہیں ۔ نقل سند حسب ذیل ہے ۔

اما بعد ۔ پختہ مسجد سملی ضلع پٹنہ کی اما مت کے لئے مو لانا محمد محسن ( اہل حدیث) سا کن موضع مذ کور کو مقرر کرتا ہوں ۔ وہ برا بر جمعہ و عیدین میں اما مت کریں اور مسا ئل مختلف فیہ میں احتیا ط بر تیں ۔ اور مو لا نا محمد ابرا ہیم صاحب کو ان کا قا ئم مقام مقرر کرتا ہوں کہ بصورت عدم مو جود گی و معذوری مولا نا محمد محسن صاحب مذ کور کے اما مت جمعہ و عیدین میں کریں ۔ یہ سند لکھ دی ہے کہ وقت پر کام آوے ۔ دستخط امیر شریعت، محمد محی الدین پھلواری 17 ر جب 1341ھ ۔ ( اہل حدیث امر تسر 23 جنوری 1931ء ـ ص 14)

گیا ( بہار ) میں مو حدین متبعین سنت پر بہت ظلم کئے گئے حتی کہ مو لوی فر خ حسین ناظم انجمن اہل حدیث کو حا لت نماز میں آ مین کہنے پر مار پیٹ کیا گیا۔ اس کے بعد مزید مار پیٹ کی دھمکیاں دی گئیں اور اہل حدیث خا موشی سے صبر کے ساتھ حسب دستور نماز پڑ ھتے رہے۔ ایک روز بعد نماز مغرب اعلان کر دیا گیا کہ کو ئی غیر مقلد آ مین رفع یدین کر نے وا لہ مسجد میں نماز نہ پڑ ھے، اگر پڑ ھے گا تو مار کٹا ئی ہو گی۔ یہ لو گ آ مین رفع یدین وا لے اچھوت قوم ہیں جیسے ہندؤوں میں ڈوم چمار اور دو سادھ ہیں۔ حنفی خیال کے جتنے لو گ تھے سب نے اس اعلان کی تا ئید کی ۔ پھر سختیاں بڑ ھتی رہیں ۔ یہاں تک اہل حدیث مسجد چھو ڑ دینے پر مجبور کر دئیے گئے ۔۔۔ پھر بمشورہ وکلا و معززین گیا 18 مئی 1935ء مقدمہ من جا نب اہل حدیث بغر ض استقرار حق عبادت بعدا لت منصفی دا ئر کیاگیا جس کا فیصلہ اہل حدیث کے حق میں ہوا ۔

( اہل حدیث امر تسر یکم فروری 1935ء ۔ ص 16: 14 جون 1935 ء۔ ص 16؛ 9 اکتو بر 1936ء ص 14)

ایک معا فی نامہ

( بعدا لت مجسٹریٹ امر تسر 1942ء)

امر تسر سے اہل حد یث کا اخباراہل حد یث نکلتا تھا اور احناف کا اخبار الفقیہہ نکلتا تھا ۔ اہل حد یث کی مجلس ادارت میں جناب عبد اللہ ثا نی شا مل تھے جو جناب ابرا ہیم سیا لکو ٹی کے شا گرد اور جناب ثناء اللہ امر تسری کے تر بیت یافتہ تھے۔ ان کے خلاف اڈیٹر الفقیہہ نے اپنے اخبار میں تو ہین آ میز مضا مین شا ئع کئے ۔ عدا لت تک بات پہنچی تو ا ڈیٹر الفقیہ نے جن لفظوں میں عدا لت میں معا فی نا مہ دا خل کیا اور اخبار الفقیہ میں خود شا ئع کیا ، در ج ذیل ہے

بعدا لت سردار دیواندر سنگھ اے ڈی ایم امر تسر

مو لوی محمد عبد اللہ بنام الہہ بخش و غیرہ ۔

جرم زیر دفعہ 500 ۔501

میں معرا ج الدین ولد حکیم محمد ابرا ہیم صاحب اخبار الفقیہ امر تسر کا اڈ یٹر و پبلشر ہوں ۔ عنوان مقد مہ میں ملزم ہوں ۔ میرے اخبار میں مو لوی عبد اللہ صاحب ثا نی مستغیث کے متعلق جو مختلف مضا مین ۔۔ستمبر 1941ء ۔۔۔ اکتو بر 1941ء میں شا ئع ہو ئے ہیں ۔ نیز پمفلٹ ایک مو لوی کا کر شمہ بھی شا ئع ہوا ہے ۔ اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ جو الزامات مضا مین متذکرہ با لا میں مستغیث کے خلاف شا ئع ہو ئے ہیں وہ محض افترا ہیں ان کی اشاعت سے جو مستغیث کی تو ہین ہو ئی ہے میں ان سے معا فی چا ہتا ہوں ۔ اور آ ئندہ بھی اس کے متعلق کو ئی تو ہین آ میز مضمون شا ئع نہ کرو ں گا ۔ اور مقد مہ ہذا میں ملز مین کی کسی طر ح اعا نت بھی نہ کروں گا ۔ 29 جون 1942ء معرا ج الدین احمد بقلم خود الفقیہ 7 جو لا ئی 1942ء ص 12۔ ( اہل حدیث امر تسر17 جو لا ئی 1942ء ص 8)

تبصرہ کریں