تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

آٹھویں صدی کی تحریک عمل بالحد یث

جناب اکبر شاہ خاں بتاتے ہیں :

سلطان محمد تغلق کے بارے میں ضیا برنی لکھتا ہے : باسعد منطقی بد مذ ہب و عبید شاعر بداعتقا د و نجم انتشار فلسفی صحبت و مجالست افتاد آ مد و شد مولانا علم الدین کہ اعلم فلاسفہ بود در خلوت او بسیار شد و آن ناجوانمرداں کہ مستغر ق و مبتلاء و معتقد معقو لات بو دند در مبا حثہ و مکالمہ و نشست و برخاست علم معقولات را کہ واسطہ بد اعتقا دی مذہب سنت و جماعت و وسیلت نا استواری تنبیہات و تحذیرات صد بیست و چہار ہزار نقطہ نبوت است در خاطر سلطان محمد (تغلق) چناں بنشادند کہ منقو لات کتب سماوی و احا دیث انبیاء کہ عمدہ ایمان و ستون اسلام و معدن مسلما نی و منبع نجا ت و درجات است۔ چنا نچہ باید وشاید جائے نمانس و ہرچہ برخلاف معقول بوس نشنیدی بہ یقین درخاطر مبارک او نہ نشستے کہ اگر در دل سلطان معقولات فلاسفہ احا طت نہ کر دے ودر منقو لات آ سمانی شوقے و رسوخے بودے باچنداں فضیلت جمیلہ و اوصاف سنینہ کہ ذات اوبداں متحلی بود ہر گز نتوا نستے کہ برخلاف قا ل اللہ و قال الرسول و قال انبیاء و قال العلماء در کشتن مو منے موحد حکم کند فا ما ازجہت آنکہ معقولات فلاسفہ کہ مایہ قساوت و سنگ دلی ست تما می دل او رافرو گرفتہ بود و سیاست مسلماناں و قتل موحداں خوئے و طبیعت او گشتہ و چندیں علما ومشا ئخ وسا دات وصوفیان و قلندران و نویسندگان و لشکریا ن را سیاست فرمود۔

دیکھو کہ اس زما نہ میں معقو لات و فلسفہ کو کیا سمجھا جاتا تھا اور قا ل العلماء کو کس طر ح قا ل اللہ و قا ل رسو ل اللہ کا ہم مرتبہ اور جزو لاز م قرار دیا جاتا تھا۔ ضیا بر نی قساوت و سنگ دلی اور قتل مسلم کو حقیقت ثا بتہ اور علوم متعا رفہ کے طور پر معقو لات فلاسفہ کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ اس بات پر بھی غور کرو کہ ضیا بر نی ملک سعد الدین کو سعد منطقی بد مذ ہب کا خطا ب کس غیظ وغضب کے سا تھ دے رہا ہے ۔یہ وہی سعد منطقی ہے جو خواجہ نظام الدین کا شا گرد رشید اور مرید با اخلاص ہے جس کو سلطان فیروز خلجی نے امیر خسرو کے ساتھ خوا جہ کی اجاز ت سے اپنی مصا حبت میں دا خل کیا تھا ۔ جیسا کہ خودبر نی لکھتا ہے:

امیر خسرو از مقربان در گاہ اوشد شغل مصحف داری فر مود و جامہ کہ ملوک کبار یافتندے امیر خسرو ہم چناں جامہ با کمر بند سپید یا فتے و ملک سعدالدین منطقی را کہ درمجلس شکر ستا نی بو د

( یعنی خوا جہ کی مجلس میں رہتا تھا) از جا مہ پلاس قلندری بیرون آ وردہ در خیل امراء گر دا نید ۔۔۔

یہی ملک سعد الدین یا سعد منطقی ہے کہ جب شیخ شمس الدین تر ک کے فارسی رسا لہ کو بعض امیروں نے علاء الدین کے پاس پہنچنے سے رو ک لیا، تو اس نے سلطا ن کو اس کی اطلاع دی اور سلطا ن نے اس رسا لہ کو طلب کیا ۔ بر نی کہتا ہے :

و ازاں محدث این کتاب و ایں رسالہ بر بہاء الدین دبیر ریسدہ بہاء الدین کتاب پیش سلطا ن علاء الدین رسا نید و ازطر ف قاضی حمید پنہاں داشت و من از ملک قرا بیک شنیدہ ام کہ سلطان از سعد منطقی شنید کہ ایں چنیں رسا لہ رسیدہ است آن رسالہ را طلبید ۔

یہی سعد منطقی ہیں جن کی تصنیف مراۃ العا رفین ہے اور جو بعد میں خوا جہ رکن الدین ملتا نی کے مرید ہو ئے او لیا ئے کبار میں ان کا شمار ہے ۔

مولانا علم الدین کہ علا مہ دہر بود گفت من سفر مکہ ومدینہ ومصر و شام کردہ ام( فر شتہ) انہوں نے ہی دہلی کے 53 مولویوں اور غیا ث الدین تغلق کی منشاء کے خلاف خوا جہ نظا م الدین کی نہا یت مؤثر تا ئید و حمایت کر کے خوا جہ کو مولویوں اور مفتیوں کے حملے سے بچا یا تھا اور یہی وہ مولانا علم الدین ہیں جو امام ابن تیمیہ﷫ کی صحبتوں میں شر یک رہ کر ان کی مصیبتوں مبا حثوں اور استقا متوں کو بخو بی دیکھ کر 731ھ میں ہند وا پس آ ئے تھے ۔

ضیا بر نی کی نگاہ مذ ہب کے معا ملے میں کس قدر تنگ اور کج واقع ہو ئی تھی وہ بدعیہ و شر کیہ مراسم کے مجموعہ کو۔۔ جزو اسلام اور عین اسلام یقین کرتا تھا۔۔ ضیا بر نی بڑے سے بڑے عالم ۔۔ کو فلسفہ اور معقو لا ت سے تعلق رکھنے کے الزا م میں مردود اور لعنتی قرار دینے کے لئے تیار ہے۔ علم حد یث اور عمل بالحد یث کو وہ معقو لات و فلسفہ کہتا ہے۔ حد یث اور علم حد یث کی صرف نام کی اس کے دل میں عز ت ہے لیکن جب مراسم بدعیہ و شر کیہ کو تر ک کرا کر حد یث پر عمل کر نے کی تر غیب دی جا تی ہے اور اس کے لئے دلا ئل پیش کئے جاتے ہیں تو وہ اپنے مراسم کو اصل شریعت کہہ کر تر ویج احا دیث نبوی کی کو شش کا نام معقولات و فلسفہ رکھتا اور آ پے سے با ہر ہو جاتا ہے۔ یہ بھی غور کر نے کے قا بل بات ہے شمس الدین تر ک ملتا ن سے علا ء الدین خلجی کے پاس عمل بالحد یث کی تر غیب میں رسا لہ لکھ کر بھیجتے ہیں اس زما نے کے مولوی اور مفتی اس کو اپنے عقا ئد اور مقا صد کے خلاف سمجھ کر سلطا ن تک نہیں پہنچنے دیتے۔ لیکن ملک سعد الدین سلطان سے ذکر کرکے اس رسا لے کو سلطا ن تک پہنچا نے کی کو شش کرتا ہے جس سے صا ف ثا بت ہے کہ ملک سعد الدین عمل بالحد یث کا بہت بڑا حا می تھا اور عمل بالحد یث کے مقا بلے میں وہ مولویوں قا ضیو ں اور مفتیوں کے نارا ض ہو نے کی پروا ہ نہیں کرتا ۔ اسی ملک سعد الدین کو ضیاء برنی سعد منطقی بد مذہب کا خطاب دیتا ہے ۔( آ ئینہ حقیقت نما : ص 438۔442 ملخصاً)

شاہ ولی اللہ کے کند ھے

سلمان علی خان صاحب ( لکھنئو ) نے جنگ آزادی میں علماء کرام کا حصہ، کے نام سے بیس صفحات کا ایک مختصر کتا بچہ لکھا ہے جس میں بہت سی تا ر یخی فر و گذاشتوں کے ساتھ اس افسانہ کو بھی ہوا دی ہے ۔ وہ شاہ ولی اللہ صاحب کے متعلق لکھتے ہیں :

سب سے پہلے انہوں نے انگریزوں کی بڑ ھتی ہو ئی دست درازی پر ضر ب لگا نے کے لئے شہنشاہ شاہ عالم کو خواب غفلت سے بیدار کر نے کی کو شش کی ۔۔۔ ان کی انقلا بی سرگرمیوں پر رو ک لگا نے کے لئے انگریزوں نے ان کے دو نوں پہنچوں کو اتروا لینے کی روح فرسا سزا دی ۔( ص 4 )

پہنچے اتروا نے کا قصہ خود ایک افسا نہ ہے پھر اسے انگریزوں کی طرف منسوب کرنا افسا نہ در افسانہ ہے ۔ جہاں تک پہنچے اتر وا نے کی بات ہے، اس کو سب سے پہلے امیر شاہ خان صاحب نے اپنی کتاب امیر الروایات میں بیان کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں :

اس زما نہ میں ایک تو روافض کا نہا ئت غلبہ تھا ، چنا نچہ دہلی میں نجف علی خان کا تسلط تھا ۔ جس نے شاہ ولی اللہ کے پہنچے اتروا کر ہاتھ بے کار کر دئیے تھے تا کہ وہ کو ئی کتاب یا مضمون نہ تحریر کر سکیں ۔( اروا ح ثلا ثہ : ص 33)

اس روا یت کو بہت سے علماء نے نہ صر ف نقل کیا ہے بلکہ بڑی اہمیت دی ہے جن میں مو لوی منا ظر احسن گیلا نی اور ڈا کٹر اشتیاق حسین قریشی ( پا کستان ) جیسے محققین کا نام لینا کا فی ہے ۔ مگر یہ روا یت تا ر یخی اعتبار سے سر ے سے غلط ہے ۔ نجف علی 1772ء میں پہلی دفعہ دہلی آ یا ( پھر اس نے بہت جلد تر قی کی یہاں تک کہ امیر ا لا مراء کا خطاب مل گیا )۔ اس سے پورے دس سال قبل 1762ء میں شاہ ولی اللہ کا انتقا ل ہو جا تا ہے ۔ اور عقلاً بھی یہ کسی طر ح سمجھ میں نہیں آتا کہ شاہ ولی اللہ جیسے پا یہ کا مشہور عالم اس مصیبت سے دو چار ہوا اور کسی معا صر تا ریخ میں اس کا اشارۃً ذکر تک نہ ہو۔ ان کے سارے شا گرد اور معتقد اس سے ناواقف ہوں یا اس کے خلاف آواز بلند نہ کریں ۔ پھر اس کی جو علت بیان کی گئی ہے کیا وہ پہنچے اتر وا نے سے حاصل ہو جا تی ؟ کیا شاہ صاحب املاء نہیں کروا سکتے تھے ؟ تفصیل کے لئے دیکھئے ما ہنا مہ بر ہان دہلی شمارہ نومبر 1964ء مضمون مو لوی محمد عضد الدین ایم اے۔ مسلم یو نیورسٹی علی گڈ ھ بعنوان حضرت شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے متعلق چند غلط روا یا ت صفحات 293۔تا 296 (تحریک آزادی میں علماء کا کردار ۔ ص166۔167 بھٹکلی)

ایضا ح الحق الصریح

شاہ اسماعیل شہید کی ایضا ح الحق بہت اہم تصنیف ہے۔ اسی کے جوا ب میں تنویر الحق لکھی گئی تھی جس کے جواب ( اور ایضا ح الحق کے دفاع )میں میاں نذیر حسین محد ث نے معیار الحق رقم فر ما ئی تھی ۔ اس کتا ب پر جو اعترا ضات کئے گئے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ اس میں شاہ صا حب نے اس کتا ب میں بہت سے ایسے امور کو بدعت قرار دیا ہے جن پر اکابر کا عمل بھی رہا ہے ۔

اس طر ح بالفا ظ دیگر شاہ صا حب کو ان اکا بر کو مبتد ع قرار دیا ہے ۔ میاں نذ یر حسین کے سفر حج کے گرد وپیش زما نے میں لکھنئو کے اخبار مشیر قیصر میں اس مسئلے کو ا ٹھا یا گیا تو جناب بٹا لوی نے اشاعۃ السنہ میں لکھا:

آپ نے فرمایا ہے ، ایضا ح الحق الصریح فی احکام المیت و الضر یح میں دنیا کے محدثین و فقہاء و اولیاء اللہ اور علماء کے افعا ل و عقا ئد بد عت ٹھہرا ئے گئے ہیں۔ ہم نے ما ناکہ صاحب ایضا ح نے اطلاق لفظ مبتد ع کا ان پر جا ئز نہیں رکھا مگر یہ حضرا ت مر تکب بدعت ہوئے تو پھر مبتد ع کا اطلاق خود بخود ہو گا ۔یہ عجیب بات ہے کہ ایک شخص مار تا ہو اور اسے ضا رب نہ کہیں ۔

خا کسار ( محمد حسین)ملتمس ہے جن افعا ل و عقا ئد کو مولانا محمد اسما عیل شہید نے کتا ب ایضا ح الحق میں بدعت قرار دیا ہے، وہ نئی دنیا کے محد ثین فقہاء و اولیاء کے عقائد ہو ں تو ان کا کو ئی منصف و محقق حامی نہیں ۔ پرا نی دنیا کے محد ثین فقہاء و اولیاء و علماء سے تو ایک شخص بھی وہ اعتقا د نہیں رکھتا جس کو انہو ں نے بدعت قرار دیا ہے۔ آ پ تمام دنیا کے حا لا ت کہا ں جا نتے ہیں اور کب بیا ن کرسکتے ہیں؟ یہ تو زبا نی دعوی ہیں ۔

آپ ہم کو وہ اعتقا د و اقوا ل دو چار ہی محدثین یا فقہاء یا او لیاء یا علماء قرو ن ثلا ثہ سے (جن میں ہمارے سر تا ج چارو ں امام مذ ہب اور اکثر اصحا ب متو ن حد یث اور بیسیوں متقدمین اولیاء و علماء دا خل ہیں) بہ نقل صحیح ثابت کر دیں پھر دیکھیں ہم اس کتا ب ایضا ح الحق کی کیسی خبر لیتے ہیں۔

آ پ کا یہ فر ما نا کہ گو مو لوی اسما عیل صاحب نے ان لوگوں کو مبتد ع نہیں کہا، مگر ان کے افعا ل کو بدعت کہنے سے ان کا مبتد ع ہو نا نکلتا ہے ۔

ہمارے مدعا کا عین مؤید ہے ۔ اس سے یہ تو ثا بت ہوا کہ مو لو ی اسما عیل صا حب نے مسلما نو ں کو مبتد ع نہیں کہا ، چہ جا ئے کہ کا فر کہا ہو ۔

رہا یہ کہ ان کے اقوا ل کو بدعت کہنے سے ان کا مبتد ع ہو نا نکلتا ہے ۔ سو یہ (مبتد ع ہو نا) نکا لنا آ پ لو گو ں کا فعل ہے،مو لوی محمد اسماعیل تو اس کو پسند نہیں کرتے غا یۃ ما فی الباب یہ کہ اس میں آ پ ان کی علمی غلطی تجو یز کریں، سو یہ بات دوسری ہے ۔ یہ ہم نے علی سبیل التّنزّ لکہا ہے اور سچ پو چھو تو اس میں بھی مو لوی اسماعیل غلطی پر نہیں ۔

بے شک لغۃًو عقلاً قیام مبدء حمل مشتق کا مو جب ہو تا ہے اور یہی عا میا نہ خیا ل ہے، اور اسی پر مار نے وا لے کو ضار ب کہنے کی مثا ل پھبتی ہے، مگر شر عاً ( بحکم کتاب و سنت و مذا ہب فقہاء امت ) یہ با ت کلیۃً صحیح نہیں ہے ۔ جلد اول صحیح بخاری صفحہ 9 سطر 15 میں باب المعاصی من أمر الجاهلیة ولا یکفر صاحبھا بارتکابھا إلا بالشر ک

( گناہ، کفر کے کام ہیں، مگر ان کے مر تکب کو بجز مر تکب شر ک ، کا فر نہ کہا جا ئے گا ) ملا حظہ فر ما ئیے اور فقہاء ومتکلمین کی تصا نیف میں مسئلہ عد م تکفیر اہل قبلہ دیکھ لیجئے ۔ اس کے بعد مو لا نا اسما عیل شہید کو جو کہنا ہو سو کہیے ۔ مو لا نا مر حو م ان سب کے مخا لف نکلے تو ہم پھر آ پ کے سا تھ ہیں ۔

آ پ ( مضمون نگار مشیر قیصر) نے فر ما یا ہے :

پھر صا حب ایضا ح الحق نے ایضا ح میں تقلید شخصی کو بدعت حقیقہ لکھا ہے اور تنویر العینین میں شر ک ۔ مولا نا سید محمد نذیر حسین نے معیار میں ان کی ہا ں میں ہا ں ملا یا ہے۔

خا کسار ملتمس ہے جس تقلید شخصی ( اعتقا د وجو ب و بمقا بلہ نصو ص ) کو مو لا نا محمد اسما عیل مر حو م نے شرک یا بدعت قرار دیا ہے، اور مو لانا سید محمد نذیر حسین نے اس میں ان کا اتباع کیا ہے ، وہ ایسی تقلید ہے جس کو کسی محقق حنفی، حنبلی، شافعی، ما لکی محد ث فقیہہ ولی متقی نے اختیار نہیں کیا ۔

بلکہ بہتیرو ں نے اس کو برا کہا ہے ۔دس، بیس، تیس، چا لیس، پچا س، ساٹھ، ستر جس قدر اعیا ن و اکا بر مذ ہب ( جنہو ں نے ایسی تقلید کو برا کہا ہے ) کے نام نا می آ پ چا ہیں، میں گن سنا تا ہو ں ۔ اور اگر آ پ کو اپنی کمیٹی کے صدر نشین مولوی محمد عبد الحی کے کلام پر اعتماد ہے، تو انہی کے رسا لہ النافع الکبیر اور فوا ئد بہیہ سے اس تقلید کی برا ئی ثا بت کر دکھا تا ہو ں ۔

پھر اگر مو لوی محمد اسماعیل مر حو م اور حضرت شیخنا المحدث الدہلوی نے بھی اس کو برا کہا توکیا برا کیا۔

(اشاعۃ السنہ جلد 6 ص 346۔347)

جبر و تشدد اور اخرا ج عن المسا جد

عمل بالحد یث کی تحریک کو دبا نے کے لئے عا ملین سنت کا معا شر تی، مذ ہبی با ئکا ٹ کیا گیا ۔ ان سے میل ملا پ، لین دین بند کیا گیا ۔ ان کا اپنی مجا لس میں آ نا بند کیا گیا ۔ ان کو جبر و تشدد کا نشا نہ بنا یا۔ مسا جد کے دروازے ان پر بند کئے گئے اور یہ کام 1857ء کی جنگ کے معاً بعد شروع کر دیا گیا۔مسا جد کے پیش اماموں ، خطیبوں، خا نقا ہوں کے سجادہ نشینوں، صوفیوں ، پیروں نے ومن أظلم ممن منع مساجد اللہ أن یذ کر فیھا اسمه و سعی فی خرابھا۔ ( سورہ بقرہ۔114)کی فہرست میں بڑ ھ چڑ ھ کر اپنے نام لکھوا ئے۔جرم یہ تھا کہ عا ملن بالحد یث نماز میں قبل اور بعد رکوع رفع الیدین کی صحیح اور ثا بت شدہ احا دیث پر عمل کیوں کرتے ہیں، جہری نمازوں میں سورۃ فاتحہ کے اختتام پر آ مین بالجہر کی صحیح اور ثابت شدہ حد یثو ں پر عمل کیو ں کرتے ہیں۔ اور نماز میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑ ھنے کی صحیح اور ثا بت شدہ احادیث پر عمل کیو ں کرتے ہیں۔

جناب محمد حسین بٹا لوی نے اشاعۃ السنہ جلد سوم نمبر 10 کے ضمیمہ میں لکھا :

آ رہ ضلع شاہ آ باد آ مین بالجہر اور رفع یدین پر تناز ع ہوا جس کا مقد مہ عدا لت میں پہنچا۔ ہنوز وہاں سے کچھ فیصلہ نہ ہوا تھا کہ ایک جنگی مو لوی لو دھیا نہ سے وہاں تشریف فرما ہوا۔ اس نے وہاں جا کر فتوی دیا کہ یہ لوگ آ مین کہنے وا لے مشر ک و کا فر و مر تد ہیں ان کا مسجدوں سے نکال دینا بحکم آ یت وَمَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ أَنْ یَّعْمَرُوْا مَسَا جِدَ اللہ ِ لاز م ہے۔ اور اس باب میں ایک رسا لہ بھی لکھا جس کانام انتظا م المساجد با خرا ج اہل الفتن و المفاسد ر کھا اور اس کو عظیم آ باد میں طبع کرا کر مشتہر فر ما یا ۔ اس میں یہ بھی درج کیا کہ

یہ لو گ رسو ل اللہ ﷺ پر افترا کرتے ہیں۔ اور آنحضرت ﷺ پر افترا ء کرنے وا لہ مر تد ہے۔ حکام اہل اسلام کو لاز م ہے کہ اس کو قتل کر ے اور اگر وہ لا علمی کے عذر سے تو بہ کر ے تو اس کی تو بہ قبو ل نہ کریں اور علماء اور مفتیان وقت پر لازم ہے کہ بمجرد مسموع ہو نے ایسے امر کے اس کے کفر و ارتداد کے فتوے دینے میں تردد نہ کر یں ۔ ور نہ زمرہ مر تدین میں یہ بھی دا خل ہوں گے ۔

اس فتوی و رسا لہ نے اس دیار کے دو نوں فریق مسلمانوں میں ایسا اشتعا ل و جوش پیدا کیا کہ

27 تاریخ ماہ رمضا ن 1297ھ ، (1880ء ) کو آ رہ کے قریب ایک گا ؤں میں آمین کے سبب سخت فوجداری ہو ئی اور آپس میں خو ب لا ٹھی چلی اور خو ن جاری ہو نے کی نوبت پہنچی۔ حکام وقت نے چند اشخاص کو گر فتار کر لیا۔ اسی اثنا میں ایک فر یق نے دوسرے فر یق کی نسبت حکام کو یہ خبر دی کہ ان لو گوں کا سخت بلوہ کر نے کا ارادہ ہے اس پر کلکٹر ضلع نے کمپ دا نا پور میں اس مضمون کا تار دیا ( یا دینا چا ہا) کہ

وہاں سے ایک ہزار گورے مسلح اور دو ضر ب تو پ جلد روا نہ ہوں۔

ڈ پٹی مجسٹریٹ نے کلکٹر کو سمجھا یا کہ

یہ محض غلط خبر ہے جو مذ ہبی عناد سے دی گئی ہے فو ج منگا نے کی کچھ ضرورت نہیں ہے یہاں ایسا بلوا کر نے وا لہ کو ئی نہیں ہے جس پر وہ تجو یز ملتوی ہو ئی اور مقدمہ کی تحقیقا ت شروع ہو ئی ۔ بعد تحقیقا ت سا ت اشخاص کو قید کا حکم ہوا اور صد ہا رو پئہ فر یقین کا وکیلوں و غیرہ مصا رف میں صرف ہوا ۔( 10۔11)

اور اشاعۃ السنہ جلد نہم میں لکھا تھا:

یہ (اہل حد یث) لو گ عام مسلما نوں کی مسجدوں میں اپنے طور پر نمازپڑ ھنے سے عموماً رو کے جا تے ہیں، بلکہ بعض موا ضع میں بعض اشخا ص مار پیٹ بھی کھاتے ہیں۔

ان کے درس اور وعظ کی مجا لس بھی مزا حمت غیر سے خالی نہیں ہو تیں ۔ جہاں اہلحدیث کا وعظ ہوا وہاں دنگہ فساد شروع ہوا، اینٹیں پڑ نے لگیں اور گا لی گلو چ کی آ واز یں آئیں۔ و معہذا ان پر تہمتیں قا ئم کی گئیں اور آ خر نو بت بعدا لت پہو نچی تو وہاں سے بھی اہلحدیث کو شکست ہو ئی ۔ ( اس کی و جہ بار برا میٹکا ف کی تحریر میں ملا حظہ کریں )

کسی محلہ یا کو چہ میں کسی اہل حد یث کا قیام ہواتو عام اہل محلہ میں کھل بل پڑ گئی اور وہ اس امر کے در پئے ہو ئے کہ اس واعظ یا مدرس کو محلہ سے نکا لیں یا اس کے پاس آنے جا نے وا لوں کی خبر لیں۔

ان کے مدرسے اور سو سا ئیٹیاں بھی مزا حمت غیر سے خا لی نہیں ۔ جہاں اہلحد یث کا دنیاوی یا دینی علو م کا مدرسہ قا ئم ہوا یا کسی کمیٹی کا انعقا د ہوا، وہاں چندہ دینے والوں اور ممبروں کو بہکا نا شروع ہوا ۔ اور بس چلا تو سر کار کو اس مدرسہ اور سو سا ئٹی کی طرف سے بدظن کیا ۔ اور یہ کہہ دیا کہ

اس مدرسہ اور سو سا ئٹی کا اجراء و قیام گور نمنٹ کی مخا لفت کی غرض سے ہے۔

امر تسر پنجا ب میں بار ہا مسجدو ں میں تکرار ہو ئے اور نو بت بعدا لت پہو نچی آ خر اہلحدیث پر ایک مقد مہ احراق قر آ ن قا ئم کر کے ان کو سزا ئے قید دلوا ئی گئی۔

لا ہور میں اہل حد یث واعظو ں کے وعظو ں میں بار ہا پتھر پھینکے گئے۔ اہل حد یث کے مدرسہ اسلا میہ پر سخت حملے ہو ئے جن کے سبب سے آ خر وہ ٹو ٹ گیا اور انجمن منتظم مدرسہ کا بھی خا تمہ ہوا۔

لو دیا نہ میں ایک مجلس وعظ اہل حد یث میں سخت مار پیٹ ہو ئی اور آ خر نو بت بعدالت پہو نچی اور فریقین کے چند اشخا ص کو جیلخا نہ دیکھنا پڑا۔

دہلی میں ایک مسجد معرو ف مو چیاں وا لی کی بابت کئی سا ل عدا لت میں مقد مہ رہا اس میں گو فتح اہل حد یث کے ہاتھ آ ئی مگر چو نکہ گھر در لٹواکر ہاتھ آ ئی لہذا وہ فتح شکست کے بھا ؤ پڑی ۔

آ مین بالجہر پر جا بجا وہ مزا حمت ہو تی ہے کہ

اس کی نظیر مسلما نوں کے کسی فر قہ میں کسی فعل پر پا ئی نہیں جاتی۔

پنجاب و ہندوستان کے کسی شہر میں حنفیوں کی مسجدو ں میں غا لباً کو ئی اہل حد یث آمین بالجہر کر نے نہیں پا تا ۔ جو کر بیٹھے وہ مار کھا تا ہے۔ اور آ خر فریقین کا عدا لت کی طرف رجوع ہو تا اس وقت چند مقد مات میر ٹھ بنارس و غیرہ کے عدا لت میں پیش ہیں ۔

پرچہ نصر ت السنہ بنارس بابت ماہ ربیع ا لاول 1304ھ کو ہم نے بڑے افسوس سے پڑ ھا ہے جس میں یہ خبر در ج ہے کہ ا ڈیٹر نصرۃ السنہ کو جو گروہ اہل حد یث سے ہیں حنفیوں نے عین مختار خا نہ کچہری میں زد و کوب آلودہ کیا ۔ اسی حا لت میں ا ڈیٹر صا حب عدا لت مجسٹریٹی میں پہو نچے اور مستغیث ہو ئے ۔ تاریخ مقدمہ 21 مئی 1887ء مقرر ہے ۔ چند مقد مات اور بھی اس رسا لہ میں مذ کور ہیں جن میں فریق حنفیہ کی گروہ اہل حد یث کے حق میں مزا حمتیں پا ئی گئی ہیں ۔

( اشاعۃ السنہ ج 9 ۔ ص 341۔ 343)

٭٭٭

تبصرہ کریں