تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

شا ہ ولی اللہ تقلید حرا م کی ایک مثا ل یہ بھی بیا ن کر تے ہیں :

ایسے عا می کے لئے بھی تقلید حرا م ہے جو فقہاء میں سے کسی ایک فقیہہ ( امام ) کی تقلید کر تا اور اعتقا د ر کھتا ہے کہ اس سے غلطی کا صدور نا ممکن ہے اور اس نے جو کچھ کہا ہے وہ یقینا درست ہے ۔ اور اپنے دل میں یہ عقیدہ بھی ر کھتا ہے کہ وہ اس کی تقلید نہیں چھو ڑے گا اگر چہ اس کے اما م کے قول کے خلاف دلیل بھی مل جا ئے ۔ یہ تقلید کی وہی قسم ہے جس کی با بت ترمذی میں سیدنا عدی بن حا تم کی حد یث ہے ، جس میں انہو ں نے فر ما یا ہے کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو یہ آ یت پڑ ھتے ہو ئے سنا :

﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾(سورۃ التو بہ : 13)

یہود و نصاری نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ۔

نبی ﷺ نے فر ما یا :’’ وہ اپنے علماء کی پو جا پا ٹ نہیں کرتے تھے ان کو اپنا رب بنا نے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان کو یہ حیثیت دے دی کہ جب وہ ان کے لئے کسی چیز کو حلال قرار دے دیتے ، وہ اس کو حلال سمجھتے اور جس چیز کو ان کے لئے حرا م کر دیتے اس کو وہ حرا م سمجھتے۔‘‘ ( حجۃ اللہ البا لغہ حوالہ مذ کورہ)

کیا آ ج کل کے اہل تقلید کا رو یہ بالکل ایساہی نہیں ہے؟ اور ان کے علماء عوا م کو یہی باور نہیں کرا تے کہ تمہیں حد یث سے کو ئی غر ض نہیں بلکہ اسے د یکھنا بھی تمہارے لئے گمرا ہی ہے ، تمہارے لئے بس تمہارے اما م کا قول ہی کا فی ہے ؟

ایک اور مقا م پر شاہ صا حب طا لبا ن علم سے خطا ب کرتے ہو ئے اور انہیں صرف کتا ب و سنت کا علم حاصل کر نے کی تلقین کر تے ہو ئے فر ما تے ہیں :

خضتم کل الخوض فی استحسانات الفقهاء من قبلکم و تفریعاتھم أما تعرفون ان الحکم ما حکمه اللہ و رسوله. ورب انسان منکم یبلغه حدیث من أحادیث نبیکم، فلا یعمل به و یقول: إنما عملی علی مذهب فلان، لا علی الحدیث ، ثم احتال بأنھم فھم الحدیث والقضاء به من شأن الکمل المهرة، و ان الأئمة لم یکونوا ممن یخفی علیھم ھذا الحدیث، فماترکوہ إلا لوجه ظھر لھم فی الدین من نسخ أو مرجو حية، اعلموا أنه لیس هذا من الدین فی شیء، ان آمنتم بنیکم فاتبعوہ خالف مذھباً أو وافقه، کان مرضی الحق ان تشتغلوا بکتا ب اللہ و سنة رسوله ابتداء، فإن سھل علیکم الاخذ بھا و نعمت، وان قصرت أفھامکم فا ستعینوا برأی من مضی من العلماء ماتروہ أحق وأصرح واوفق بالسنة.

’’تم اپنے سے ما قبل فقہاء کے استحسا نا ت و تفریعا ت پر خو ب بحث و تکرار اور غرو غوض کر تے ہو ۔ کیا تم نہیں جا نتے کہ حکم تو وہی ہے جو اللہ نے اور اس کے رسو ل نے دیا ہے اور تم میں سے بہت سا رے انسان ایسے ہیں کہ ان کو تمہارے پیغمبر کی کو ئی حد یث پہنچتی ہے تو وہ اس پر عمل نہیںکرتا اور کہتا ہے کہ میرا عمل تو فلاں ( اما م ) کے مذ ہب پر ہے نہ کہ حد یث پر ۔ پھر یہ بہا نہ پیش کرتا ہے کہ حد یث کا سمجھنا اور اس کی روشنی میں کسی بات کا فیصلہ کر نا تو کا مل اور ما ہر لو گو ں کا کا م ہے ( نہ کہ مجھ جیسو ں کا ) اور ( یہ بہا نہ بھی کرتا ہے کہ) یہ حد یث آخر اما مو ں کے سا منے بھی تو رہی ہو گی ، جب انہو ں نے اس کو چھو ڑ دیا تو ان کے نزدیک کو ئی و جہ ہو گی ، یا تو ان کے نز دیک منسو خ ہو گی یا مر جو ح ۔ اچھی طر ح جا ن لو! اس رو یے کا دین سے کو ئی تعلق نہیں ۔ اگر تم اپنے نبی پر ایما ن لا ئے ہو، تو اس کی پیروی بھی کرو، چا ہے اس کی با ت (تمہارے ) مذہب کے خلاف ہو یا موا فق ۔ اللہ تعا لیٰ کی مر ضی یہی ہے کہ تم سب سے پہلے اللہ کی کتا ب اور اس کے رسو ل کی سنت کے ساتھ اشتغا ل ر کھو (ان کو اپنے فکرو نظر اور ا خذ و استفادہ کا محور بنا ؤ ) اگر ان سے آ سا نی کے سا تھ ا خذ مسا ئل کر لو تو فبھا ، اور اگر اس میں کچھ دقت پیش آ ئے تو ما قبل کے علما ء سے مدد حا صل کرو ( ان کی شرو حا ت اور فقہ الحد یث پر مبنی کتا بو ں سے استفادہ کرو ) اور ان کی اس را ئے کو قبو ل کرو جو زیادہ صحیح ، صر یح اور سنت کے زیادہ موافق ہے ۔) ( التفہیمات ا لا لھیہ:1؍ 283 ؛ تفہیم نمبر 69)

شا ہ ولی اللہ﷫ اسی تفہیم میں اس سے کچھ پہلے لکھتے ہیں :

واشھد للہ باللہ انه کفر باللہ أن یعتقد فی ر جل من الأمة ممن یخطی ویصیب أن اللہ کتب علي اتباعه حتماً ۔ و إن الواجب علیّ هوالذی یوجبه هذا الرجل، ولکن الشر یعة الحققة قد ثبت قبل ھذا الرجل بزمان، قد وعاھا العلماء، و اداھا الرواوة و حکم بھا الفقهاء وإنما اتفق الناس علی تقلید العلماء علی معنی أنھم رواة الشر یعة عن النبی ﷺ و انھم علموا مالم یعلم، و انھم اشتغلوا بالعلم ما لم نشتغل، فلذلك قلدوا العلماء فلو أن حد یثاً صح، و شھد بصحته المحدثون ، و عمل به طوائف، فظهر فیه إلا مر ثم لم یعمل به ھو، لان متبوعه لم یقل به، فھذا ھو الضلال البعید .

’’ میں اللہ کی قسم کھا کر گوا ہی دیتا ہو ں کہ امت کے کسی آ د می کے با رے میں ، جس کی را ئے میں خطا اور صوا ب دو نو ں کا امکا ن ہے ، یہ عقیدہ ر کھنا کہ اللہ نے اس کی پیروی کر نے کو میرے لئے لاز می کر دیا ہے اور مجھ پر وہ چیز وا جب ہے جو یہ شخص مجھ پر وا جب کر دے ، کفر ہے ۔ شر یعت حقہ تو اس آ د می ( اما م ) سے بہت پہلے ہی ثا بت ہوچکی ہے جسے علماء نے محفو ظ ر کھا ہے ۔ راو یو ں نے اسے آ گے لو گو ں تک پہنچا یا ہے اور فقہا ء نے اس کے ساتھ فیصلے کئے ہیں ۔ البتہ لو گو ں نے علماء کی تقلید ( پیروی ) پر صرف اسلئے اتفاق کیا ہے کہ وہ نبی ﷺ سے شر یعت کے بیا ن کر نے والے ہیں ۔ ان کے پاس جو علم ہے اس سے ہم نا آ شنا ہیں اور وہ علم میں مشغو ل رہتے ہیں جب کہ ہماری مشغو لیا ت دوسری قسم کی ہیں اس لئے لو گو ں نے علماء کی تقلید ( پیروی ) کی ہے ، تا ہم اگر کو ئی حد یث صحیح آ جا ئے ، جس کی صحت کی گوا ہی محد ثین نے دی ہو اور مختلف گرو ہو ں نے اس پر عمل بھی کیا ہو ، جسکی و جہ سے معا ملے میں کو ئی اشتبا ہ نہ رہا ہو ، لیکن پھر بھی وہ شخص اس ( حد یث ) پر عمل نہ کر ے ، اسلئے کہ اس کا اما م اس کا قائل نہیں ہے تو یہ بہت ہی دور کی (بڑی ) گمرا ہی ہے۔) (تفہیما ت ا لا لٰہیہ: 1؍279؛ مطبوعہ 1970ء)

اہل تقلید کے اس رو یے کے بارے میں اور بھی متعدد علماء نے اسی قسم کے خیا لاتکا ا ظہار فر ما یا ہے جن کا ا ظہار مذ کورہ سطور میں کیا گیا ہے ۔ ان سب کی تفصیل یہاں ضروری نہیں ہے ۔ اہل علم ان سے با خبر ہیں ۔ تا ہم یہاں جنا ب اشرف علی تھا نو ی کے بھی دو اقتبا سا ت پیش کر نے مناسب معلو م ہو تے ہیں ، ان میں انہو ں نے اہل تقلید کے اس رو یے کا اعترا ف بھی کیا ہے اور اس پر سخت افسوس کا ا ظہار بھی۔ جناب تھا نوی اپنے ایک مکتو ب میں ، جو انہو ں نے جناب رشید احمد گنگو ہی کے نا م تحریر کیا ، لکھتے ہیں:

’’اکثر مقلدین عوا م بلکہ خواص اس قدر جا مد ہو تے ہیں کہ اگر قو ل مجتہد کے خلاف کو ئی آیت یا حد یث کا ن میں پڑ تی ہے ( تو ) ان کے قلب میں انشرا ح وانبساط نہیں رہتا ، بلکہ او ل استنکار قلب میں پیدا ہوتا ہے پھر تا ویل کی فکر ہو تی ہے ۔ خواہ کتنی ہی بعید ہو ، اور خوا ہ دوسری دلیل قو ی اس کے معار ض ہو بلکہ مجتہد کی دلیل اس مسئلہ میں بہ جز قیاس کے کچھ بھی نہ ہو بلکہ خود اپنے دل میں اس تا ویل کی وقعت نہ ہو مگر نصرتِ مذ ہب کے لئے تا ویل ضروری سمجھتے ہیں ۔ دل یہ نہیں ما نتا کہ قو ل مجتہد کو چھو ڑ کر حد یث صحیح صریح پر عمل کر لیں ۔ بعض سنن مختلف فیہا مثلاًآ مین بالجہر و غیرہ پر حر ب و ضر ب کی نو بت آ جا تی ہے اور قرو ن ثلا ثہ میں اس کا شیوع بھی نہ ہوا تھا بلکہ کیف ما اتفق ، جس سے چا ہا مسئلہ در یا فت کر لیا ، اگر چہ اس امر پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ

مذا ہب ار بعہ کو چھو ڑ کر مذ ہب خا ص مستحد ث کر نا جائز نہیں ، یعنی جو مسئلہ چارو ں مذ ہبو ں کے خلاف ہو اس پر عمل جا ئز نہیں کہ حق دا ئر و منحصر ان چار میں ہے، مگر اس پر بھی کو ئی دلیل نہیں ، کیو نکہ اہل ظا ہر ہر زما نہ میں رہے اور یہ بھی نہیں کہ سب اہل ہوی ہوں وہ اس اتفاق سے علیحدہ رہے ، دوسرے اگر اجماع ثا بت بھی ہو، مگر تقلید شخصی پر تو کبھی اجماع بھی نہیں ہوا ۔‘‘ (تذکرۃ الر شید: 1؍131؛ ادارہ اسلامیات لا ہور 1986ء)

اسی مکتوب میں جنا ب تھا نوی نے لکھا ہے:

تقلید شخصی کہ عوا م میں شا ئع ہورہی ہے اور وہ اس کو علماً اور عملاً اس قدر ضروری سمجھتے ہیں کہ تار ک تقلید سے ،گو کہ اس کے تما م عقا ید موا فق کتا ب و سنت کے ہو ں ، اس قدر بغض و نفرت ر کھتے ہیں کہ تارکین صلا ۃ فساق و فجار سے بھی نہیں ر کھتے ، اور خواص کا عمل و فتوی و جوب اس کا مؤ ید ہے ۔ ( حوا لہ مذ کور، و صفحہ مذ کور)

جنا ب اشرف علی تھا نوی ایک اور مقام پر تقلید و عدم تقلید کے مو ضوع پر گفتگو کر تے ہو ئے کہتے ہیں :

’’بعض مقلد ین نے اپنے آ ئمہ کو معصو م عن الخطا ومصیب و جو باً و مفروض ا لا طاعۃ تصور کر کے عز م بالجزم کیا کہ خوا ہ کیسی ہی حد یث صحیح مخا لف قو ل اما م کے ہو اور مستند قو ل اما م کا بہ جز قیاس امر دیگر نہ ہو ، پھر بھی بہت سی علل و خلل حد یث میں پیدا کر کے یا اس کی تا ویل بعید کر کے حد یث کو رد کر یں گے اور قول اما م کو نہ چھوڑیں گے ،۔ ایسی تقلید حرا م اور مصداق قو لہ تعا لی :

﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾(سورۃ التو بہ : 13)

اور خلاف و صیت آ ئمہ مر حو مین کے ہے ۔ ( امدا د الفتاوی : 5؍ 297 ؛ مکتبہ دار العلوم کراچی طبع جد ید 2004ء)

اس قسم کی تقلید جامد کو، جس کا تذکرہ مذکورہ اقتباسات میں کیا گیا ہے ، جنا ب محمود حسن دیو بندی نے بھی کفر سے تعبیر کیا ہے ۔

چنا نچہ وہ ایضا ح ا لادلہ میں تقلید کے ا ثبات پر گفتگو کر تے ہو ئے لکھتے ہیں :

تما م نصو ص رد تقلید سے اس تقلید کا بطلا ن ثا بت ہو تا ہے کہ جو تقلید بہ مقا بلہ تقلید ا حکا م خدا اور رسو ل خدا ہو اور ان کے اتباع کو اتبا ع ا حکا م الٰہی پر تر جیح دے ، سو پہلے کہہ چکا ہو ں کہ اس تقلید کے مردود و ممنوع ، بلکہ کفر ہو نے میں کس کو کلا م ہے۔ (ایضا ح ا لادلہ: ص 113 ؛ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی 1999ء اورا ضا فہ شدہ مع حا شیہ جد یدہ ا یڈیشن کا صفحہ 223۔ مطبوعہ قدیمی کتب خا نہ )

ان اقتباسا ت سے یہ تو وا ضح ہے کہ

کسی امام کی اس انداز سے تقلید کر نا کہ صحیح اور وا ضح حدیث کے سامنے آ جا نے کے بعد بھی قو ل اما م ہی کو تر جیح دینا اور اس کے مقا بلے میں صحیح حد یث کو چھوڑ دینا ممنوع ، حرا م۔

﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾(سورۃ التو بہ : 13) کا مصداق اور بقو ل صا حب ایضا ح ا لا دلہ ، کفر ہے ۔ اب د یکھنا یہ ہے کہ مرو جہ تقلید اس سے مختلف ہے یا وہ اسی ذیل میں آ تی ہے جس کی مذ مت و حر مت پر سب کا اتفاق ہے ؟

اہل تقلید کا دعوی ہے کہ ہمارا وہی طر یقہ ہے جو عہد صحا بہ و تا بعین میں تھا ، یعنی جس شخص کو مسئلے کا علم نہ ہو تا تھا وہ کسی بھی صاحب علم سے در یا فت کر لیتا تھا ۔ تین سو سا ل سے زیادہ عر صے تک یہی طر یقہ را ئج تھا ، یہ طر یقہ ظا ہر با ت ہے با لکل صحیح بھی ہے اور نا گز یر بھی ۔ کیو نکہ ہر شخص تو ما ہر شر یعت نہیں ہو سکتا ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بے خبر شخص ، با خبر شخص سے پو چھے ۔ بے علم، عالم سے در یا فت کر ے اور کم علم وا لا اپنے سے زیادہ علم ر کھنے وا لے کی طرف ر جوع کر ے ۔ یہ معا ملہ شر یعت ہی کے سا تھ خا ص نہیں ہے ، ہر علم وفن کا معا ملہ یہی ہے ۔

شر عی مسا ئل وا حکا م معلو م کر نے کا بھی یہی طر یقہ ہے اور عوا م کے لئے اس کے بغیر چارہ نہیں ۔ لیکن اس میں دو با تیں ضرری ہیں اور صحا بہ و تا بعین کے زمانے میں ان دو نوں باتو ں کا پورا اہتما م مو جود تھا ۔

1 ۔ پو چھنے وا لا صرف اللہ اور اس کے رسو ل کے ا حکا م پو چھتا تھا ، اس کے علاوہ اس کے ذہن میں کچھ اور نہیں ہوتاتھا ۔

2 ۔ بتا نے وا لا بھی اپنے علم کی حد تک اللہ اور اس کے رسو ل کے ا حکا م ہی بتلا تا تھا ، یہی و جہ ہے کہ اگر اسے مسئلے کا علم نہ ہو تا تو وہ سا ئل کو کسی اور کی طرف بھیج دیتا ، یا اپنی سمجھ کے مطا بق بتلا تا، پھر اسے اس کے مطابق حد یث مل جا تی تو خوش ہوتا کہ اللہ تعا لی نے اس کے منہ سے صحیح با ت نکلوا ئی اور اگر اسے اسکے خلاف حد یث مل جا تی تو فوراً اپنی بات سے ر جوع کر لیتا ۔

خیر القرو ن کا یہی طر یقہ شا ہ ولی اللہ﷫ نے پوری تفصیل سے ، حجۃ اللہ البا لغہ ، اور اپنی بعض د یگر کتا بو ں میں بیا ن کیا ہے حتی کہ جنا ب اشرف علی تھا نوی نے بھی امداد الفتاوی ( جلد 5 ۔ ص 294۔300 ) میں اس کی با بت یہی تفصیل بیا ن کی ہے۔ اس طر یقے کو اصطلاحی طور پر تقلید نہیں کہا جا تا ، کیو نکہ تقلید کی تعریف اس پر صادق نہیں آ تی۔ تقلید تو کسی کی با ت کو بغیر دلیل کے ما ننے کا نا م ہے ۔

علاوہ ازیں تقلید حرام میں یہ بات بھی دا خل ہے کہ ماننے وا لا ( مقلِد) مقلد ( اما م و غیرہ ) سے دلیل کا مطا لبہ نہیں کر سکتا جب کہ ایک عا م شخص جب کسی عا لم سے کو ئی مسئلہ پوچھتا ہے یا کسی مفتی سے فتوی طلب کرتا ہے تو اس کے پیش نظر اللہ اور اس کے رسو ل کا حکم معلو م کر نا ہوتا ہے، اسی لئے وہ اس کی دلیل بھی، بوقت ضرورت پو چھ لیتا ہے اور پو چھ سکتا ہے ، یا اس کی بتلا ئی ہو ئی دلیل سے اس کی تشفی نہیں ہو تی تو وہ کسی اور عا لم یا مفتی سے پو چھ لیتا ہے ۔

اس طر یقے میں عا لم اور مفتی بھی قر آ ن و حد یث کی روشنی ہی میں مسئلے کی وضاحت کر تا ہے ، کسی مخصو ص فقہ کو سا منے نہیں رکھتا ۔

یہ طر یقہ اقتداء اور اتباع کہلا تا ہے کیو نکہ اس میں اصل جذ بہ اللہ اور اس کے رسو ل کے احکا م کی پیروی کر نے کا ہوتا ہے ۔

چو تھی صدی ہجری سے پہلے تک تما م مسلما ن عوا م وخوا ص ، جا ہل و عا لم ، اسی طر یقے پر کا ر بند تھے۔ لیکن جب چو تھی صدی میں فقہی مذاہب کو فرو غ حا صل ہوا ، اور محد ثین اور ان کے ہم مسلک لو گو ں کے علاوہ دوسرو ں نے اپنے آ پ کو کسی نہ کسی مذ ہب سے وا بستہ کر لیا تو مذ کورہ طر یقہ صرف محد ثین اور ان کی روش پر چلنے وا لو ں تک محدود ہو گیا اور دوسرو ں کے ہاں ایک مخصو ص فقہ کی پا بندی ضروری ہو گئی اور ان کے عوا م و خواص سب ہی نے صحا بہ و تا بعین کے طر یقے کو چھو ڑ دیا اور تقلید کو وا جب قرار دے دیا ، جس کا مطلب ہی یہ تھا اور ہے کہ اب برا ہ را ست قر آ ن وحد یث سے ا خذ مسا ئل کی ضرورت نہیں حتی کہ علماء و مفتیا ن بھی اپنے عوام کو قر آ ن و حد یث کے مطا بق مسا ئل بتلانے کے پا بند نہیں ۔ وہ پا بند ہیں تو صرف اس با ت کے کہ ان کی مخصو ص فقہ میں کیا در ج ہے؟ اس کی روشنی میں یہ جا ئز ہے یا نا جا ئز ؟

یہی و جہ ہے کہ وہ اپنے عوا م کو ا حا دیث کی کتا بو ں کے مطا لعہ سے روکتے ہیں اور کئی مفتی حضرات تو اس حد تک جسارت کر تے ہیں کہ اسے گمرا ہی قرار دیتے ہیں۔

افتراق امت کے المیے کا ا صل نقطہ آ غاز بھی یہی ہے ، ور نہ قر آ ن و حد یث کے فہم و تعبیر کا یا اجتہاد و استنباط کا کچھ نہ کچھ ا ختلا ف تو صحا بہ و تا بعین میں بھی تھا ۔ یہ اختلاف محد ثین کے در میا ن بھی تھا اور ان کے مسلک و منہج کے پیرو کار عا ملین بالحد یث کے در میا ن بھی ہے ۔ لیکن یہ ا ختلاف فہم و تعبیر کا ہے یا استنبا ط واجتہاد کا یا پھر اس کا مبنی حد یث کی صحت و ضعف کا اختلا ف ہے جیسے صحا بہ میں ا ختلا ف کی ایک و جہ کسی حد یث سے بے خبری یا اس کے نسخ یا عد م نسخ سے لاعلمی بھی تھی ۔ یہ ا ختلاف افتراق امت کا باعث نہیں ، اسی لئے صحا بہ و تا بعین کادور ، ا ختلا فات کے باوجود ، فر قہ بند یو ں سے پا ک تھا ۔

بنا بر یں اہل تقلید کا یہ دعوی کہ

ہماری تقلید وہ نہیں جس کو ممنوع اور حرا م کہا گیا ہے ، بلکہ ہمارا طر یقہ تو وہی ہے جو صحا بہ و تا بعین کا تھا ، کس طر ح درست قرار دیا جا سکتا ہے، جب کہ دو نوں طریقے فکرو منہج سے لے کر مقصد و مد عا تک ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں اور ان کے در میا ن اتنی وسیع خلیج حا ئل ہے کہ جس کا پا ٹنا بظا ہر نہا یت مشکل ہے، إلَّا أن یشاء اللہ ۔

اس دعوی کے رد ّمیں یا دو نو ں نقطہ ہا ئے نظر کے فرق وا ختلا ف پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے اور تقلید کے وہ متعدد نمو نے بھی پیش کئے جا سکتے ہیں جن میں فقہ کے مقابلے میں صحیح ا حا دیث کو نظر انداز کیا گیا ہے یا ان میں دور از کار تا ویلیں کی گئی ہیں ،لیکن اس طر ح با ت بہت لمبی ہو جا ئے گی تاہم و ضا حت کے لئے چند مثالیں بیا ن کر نا ضروری ہے تا کہ ہمارے اس دعوی کی دلیل سا منے آ جا ئے کہ اہل تقلید جس تقلید کی مذمت کر تے ہیں عملاً وہ اسی کے قائل ہیں ۔ ایسی تقلید حرا م کی عملی مثا لیں بھی مو جود ہیں ۔ مثلاً جنا ب محمود حسن دیو بندی ایک مسئلے میں فرماتے ہیں :

“الحق والانصاف أن الترجیح للشافعی فی هذہ المسئلة، و نحن مقلدون یجب علینا تقلید إمامنا أبی حنیفة.” ( التقریر للترمذی:ص 39 مکتبہ ر حما نیہ لا ہور)

حق وانصاف کی بات یہی ہے کہ ( ا حا دیث و نصوص کے اعتبار سے اس مسئلہ خیا ر مجلس ) میں امام شافعی﷫ کی را ئے کو تر جیح حا صل ہے لیکن ہم مقلد ہیں ،ہم پر اپنے اما م ابو حنیفہ﷫کی تقلید ہی وا جب ہے ۔

اسی ذیل میں بعض وہ تبد یلیا ں بھی آ تی ہیں جو نصو ص حدیث میں محض اس لئے کی گئی ہیں کہ ان کے معمول بہ مسا ئل کا اثبا ت ہو سکے، جیسے مسند حمیدی میں سيدنا عبداللہ بن عمر کی حد یث ہے جو اثبات رفع الید ین میں وا ضح ہے لیکن الفا ظ کے معمولی رد و بدل سے اسے عدم رفع الید ین کی دلیل بنا دیا گیا ہے ۔ اسی طر ح مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک روایت اور سنن ابو دا ؤد کی ایک روا یت میں کیا گیا ۔

ان کی تفصیل بہ وقت ضرورت پیش کی جا سکتی ہے (بعض کا ذکر ہماری اس کتا ب میں ہو چکا ہے ۔ بہاء )۔ حتی کہ تقلیدی جمود کا یہ نقشہ بھی سا منے آ یا کہ

ا ثبا ت تقلید کے جوش میں قر آ ن مجید کی ایک آ یت میں ، وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ کا ا ضا فہ کر دیا گیا ۔ اسے کتابت کی غلطی اس لئے نہیں سمجھا جا سکتا کہ استد لا ل کی ساری بنیاد ہی اس ا ضا فی ٹکڑے پر ہے۔ (د یکھیں ایضا ح ا لا دلہ: ص 215۔216 )

ایک اور صا حب نے قر آ ن مجید کی ایک آ یت میں لفظی و معنوی تصرف کر کے عدم رفع الیدین کو ، ثابت ، کر دکھا یا ہے۔

( ملا حظہ ہو تحقیق مسئلہ رفع الیدین از ابو معا و یہ صفدر جا لند ھری ، ابو حنیفہ اکیڈ یمی فقیر وا لی ضلع بہاو لنگر ۔ تاریخ اشاعت ندارد )

آ ج اس فقہی تو سع کی ضرورت ہے جس کی بعض مثالیں جنا ب عبد الحی لکھنوی و غیرہ کے طرز عمل میں ملتی ہیں جس میں نصو ص شر یعت کی با لا دستی قا ئم رہتی ہے ، نہ کہ اس فقہی جمود کی جس کی کچھ مثا لیں عرض کی گئی ہیں ، جس کے عدم جواز میں کو ئی ا ختلاف نہیں ، بلکہ ان کی اپنی صرا حت کے مطا بق اس میں کفر تک کا اند یشہ پا یا جا تا ہے ۔

علما ئے اسلا م اور مفتیان دین متین کو کو ن سی را ہ اختیار کر نی چا ہیے ،یا ان کا منصب عظیم کس را ہ کو اپنانے کا تقا ضا کر تاہے ؟ اس کی و ضا حت یا فیصلہ کو ئی مشکل امر نہیں ۔

﴿فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ﴾ (الانعام: 81)

’’ دو نوں فر یقوں میں سے کو ن امن و سلا متی کا زیادہ مستحق ہے ، اگر تم علم ر کھتے ہو۔‘‘ (جاری ہے)

٭٭٭

ابو حامد المقرئ ﷫ کہتے ہیں :

«….. الفرقة الناجية هى الفرقة الموسومة بأهل الحديث وأن من خالفها هي الهالكة و إن كان من أهل هذه الفرقة فهى الناجية.فكن منها تنج برحمة الله ، ولا تفارقها فتهلك بخذلان الله»

(جزء فى بيان الفرقة الناجية من النار و بيان فضيلة اهل الحديث على سائر المذاهب و مناقبهم لأبي حامد المقرئ : 29۔30)

“….. فرقہ ناجیہ یہی فرقہ ہے جسے اہل حدیث کہا جاتا ہے، جو کوئی بھی اس فرقے کی مخالفت کرے گا وہ ہلاک ہونے والا فرقہ ہے، اور جو اس فرقے میں سے ہوا وہی نجات پانے والا ہے، تم اس فرقے میں شامل ہو جاؤ، الله کی رحمت سے نجات پا جاؤ گے، اس فرقے سے جدا نہ ہو مبادا کہ الله کے رسوا کر دینے سے ہلاک ہو جاؤ۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ اہل حدیث صرف محدثین﷭ کو نہیں کہا جاتا ، کیوں کہ کوئی بھی عالم سب کے لیے محدث بننا واجب قرار نہیں دیتا نہ ہی نجات کا مدار محدث بننے پر ہے۔

نیز اس سے معلوم ہوا کہ اہل حدیث بہت پرانا قدیم فرقہ ہے بلکہ یہی وہ گروہ ہے جو بدعات کے ظہور کے دور سے سلف کے منہج پر چلتا آ رہا ہے

٭٭٭

تبصرہ کریں