تاریخ اہل حدیث- ڈاکٹر بہاؤ الدین

خلا صۃالتحقیق:

جنا ب سر فراز خا ن صفدر نے مل ملا کر کل تئیس ( 2) جر حیں پیش کیں جن میں سے چار ( ابن المد ینی، ترمذی، ابن نمیر اور ابو زرعہ الرازی ) کو جا ر حین میں ذکر کر نا با طل ہے ، ابن الند یم الرا فضی کی جرح یا تعد یل کا ہو نا نہ ہو نا برا بر ہے با قی اٹھارہ کے مقا بلے میں ہم نے پچاس سے زا ئد حوا لے پیش کر دئیے ہیں ، لہذا سر فراز خا ن صفدرکا یہ دعوی:

تقریباً پچا نوے فیصدی گروہ اس با ت پر متفق ہے کہ روا یت حد یث میں اور خا ص طور پر سنن اور ا حکام میں ان کی روا یت کسی طر ح بھی حجت نہیں ہو سکتی اور اس لحا ظ سے ان کی روا یت کا و جود اورعد م و جود بالکل برا بر ہے۔

( احسن الکلام:2؍70 ، دوسرا نسخہ جلد 2 ص 77)

بالکل جھوٹا دعوی اور با طل مردود ثا بت ہوا۔ اور وا ضح ہوا کہ محمد ابن اسحاق بن یسار تشیع، قدریت اور تدلیس کے سا تھ مو صوف ہو نے کے باو جود جمہور کی تو ثیق کی و جہ سے صدوق حسن الحد یث تھے بشر طیکہ ان کی بیا ن کردہ روا یت میں سماع کی تصریح ہو اور روایت شا ذ و معلو ل نہ ہو۔ سیر ت، مغا زی اور فضائل ہو ں یا ا حکا م و عقا ید اور حلا ل و حرا م کی روایات محمد بن اسحاق بن یسار المد نی حسن الحد یث تھے ، ر حمہ اللہ ۔

( ما ہنا مہ الحد یث ۔ حضرو، اپر یل 2010ء ۔ جلد 7 شمارہ 4۔ عدد مسلسل 71۔ مختصراً)

ایک جعلی دستا ویز: مناظرہ مر شد آ باد میں ایک تو بہ نا مے کا ذکر بھی ہوا تھا جو بقول ا حناف، میاں نذیر حسین محد ث دہلوی ؒنے مکہ معظمہ میں لکھ کر دیا تھا۔ یہ تو بہ نا مہ جعلی تھا۔ جناب محمد حسین بٹا لوی﷫ لکھتے ہیں:

مکہ معظمہ میں میاں صا حب سے منسو ب تو بہ نامہ سے متعلق اس تحریر کی اصلیت کی تصدیق کا کو ئی مد عی ہو تو ہم کو مو لا نا کی اصل دستخطی تحریر یا اس کا فو ٹو گرا ف دکھا دیں جیسا کہ ہم خط پا شا مکہ کا فوٹو پیش کرتے ہیں ۔ ہندوستا ن سے کسی مسلما ن فو ٹو گرا فر کو سو دو سو رو پئہ خر چ کر کے مکہ شر یف بھیج دیں وہ اصل تحریر نہ لا سکے تو اس کا عکس ہی اتار لا وے ۔ اس کے مصا رف کا ان حضرا ت مخا لفین مو لا نا ممدو ح سے تحمل نہ ہو سکے تو نصف خر چ ہم سے لیں ۔

مو لا نا ممدو ح کی اصل تحریر یا اس کا فو ٹو گرا ف ہندوستان میں آ گیا اور اس کو چار معتبر اشخا ص دو مسلمان ( ایک اہل حد یث، ایک اہل تقلید ) ، دو مذہب غیر ( ایک ہندو، ایک عیسا ئی) نے مو لا نا ممدو ح کی قلم سے( جیسا کہ تو بہ نامہ جعلی میں بقلم خود لکھ رکھا ہے) لکھا ہوا بر قرار دیا اور بعینہ وہ عبارت ( جو اشتہار مطبوعہ مطبع مکہ میریہ و غیرہ میں شا ئع کی گئی ہے) دستخطی جنا ب مو لا نا ممدو ح نکل آ ئی تو ہم اس تحریر کو مان لیں گے اور جہاں تک ہمارا بس چلا ،ہم اپنے گروہ کے لو گو ں سے مو لا نا ممدو ح کی اس با ت کی کہ میں نے مکہ میں تو بہ نا مہ نہیں لکھا ،تکذ یب کرا ئیں گے۔ اگر کو ئی تکذ یب نہ کر ے گا تو ہم خود جو ان کے اخصّ تلا مذہ سے اور دلی معتقد و مر یدہیں، تکذ یب کریں گے اور اس کی خو ب تشہیر کریں گے اور اس امر میں ان کی نصر ت سے ہٹ جا ئیں گے اور ان کی حما یت اور برائت میں پھر کبھی قلم نہ اٹھا ئیں گے۔ ہم اس پر خدا کی قسم کھا تے ہیں اور اس کو ضا من و گواہ بنا تے ہیں و اللّہ ثمّ با للّہ ثمّ تاللّہ و کفی با للّہ وکیلاً و کفی باللّہ شھیداً ۔ اس سے بڑ ھ کر ہماری نیک نیتی و صداقت پر کو ئی اور دلیل کیا چا ہے گا اور اس تو بہ نا مہ کے صدق یا اس کے بر خلاف کے امتحا ن کا کو ئی اور سبیل کیا بتا ئے گا ؟

خط یا رو بکار پا شا مکہ بنا م پا شا مد ینہ صا ف اور یقینی شہادت دیتی ہے کہ یہ تو بہ نا مہ جعلی ہے اس خط میں برأت ذمہ کا بیا ن ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو جر م مو لا نا ممدو ح کے ذمہ لگا ئے گئے تھے وہ ان سے سر زد نہیں ہو ئے اور یہ مضمو ن (تو بہ نا مہ کے جس سے یہ سمجھا جا تا ہے کہ جرم سر زد ہو ئے تھے پھر ان سے مولا نا تا ئب ہو ئے ) صریح مخا لف ہے اور اس خط کی صداقت میں تو کو ئی شک نہیں کر سکتا کیو نکہ اس پر پاشا مکہ کی خا ص مہر ثبت ہے اور مخا لفین مو لا نا ممدو ح نے بھی اس کو تسلیم کر لیا ہے ( دیکھو کشف ا لا خبار بمبئی نمبر 11 جلد 31 کالم 1 سطر 4 جس میں پروا نہ را ہ داری کی تفسیر ان الفا ظ سے کی گئی ہے ۔ جو حا کم مکہ نے بعد ان کے تا ئب ہو نے بخوا ہش ان کے دیا تھا ۔) لا جرم اسی تو بہ نا مہ کو ( جو اس کے مخا لف ہے ) جعلی کہنا پڑ ے گا ۔

اس خط کے مو جود ہو نے یا اس پر پا شا مکہ کی مہر ثبت ہو نے میں کسی کو شک ہو تو موا ضع مفصّلہ ذیل سے، جس مقا م میں چا ہے اصل خط یا اس کا فو ٹو گرا ف دیکھ لے ۔ اصل تو دو مقام ( دہلی اور لا ہور ) دکھا یا جا سکتا ہے اس کا فو ٹو گرا ف موا ضع ذیل میں ہے :

٭ ضلع نا گپور حکیم محمد دلاور خا ن، سیا لکو ٹ مو لوی غلام حسن ، امر تسر مو لوی احمد اللہ، حیدر آ باد دکن مو لوی چرا غ علی یا مو لوی صلا ح الدین، ایبٹ آ باد با بو غلام محی الد ین کلر ک فا رسٹ ڈیپار ٹمنٹ ، راولپنڈی منشی محمد سعید ، آ رہ مو لوی محمد ابرا ہیم، ر حیم آ باد شیخ احمد اللہ، الہ آ باد مو لوی محمد حسین دا ئرہ شاہ حجۃ اللہ، سکھر میا ں محمدر مضا ن، بنارس مو لوی محمد سعید مہتمم مدرسہ اسلا میہ ، کہو ری ضلع سا گر ڈا کٹر سید جمال الدین، بنگلور مو لوی محمد شریف مہتمم منشور محمدی ، کلکتہ مو لوی عطا ء الر حمن کلر ک حفظا ن صحت، بمبئی حا فظ عظیم اللہ یا مو لوی عنا ئت اللہ، لکھنئو مو لوی عبد الحی، بھیرہ حکیم فضل الدین۔ لو دہا نہ مو لوی محمد حسن، پٹنہ مو لوی سید احمد حسین ، مدراس مو لوی سید فخر الدین، پشاور ما سٹر غلام حسین یا مولوی ر حمت اللہ، ملتا ن منشی محمد، پٹیا لہ منشی احمد حسن ، نا بہ ڈاکٹر فیض محمد خا ن، پور ٹ بلیر ڈا کٹر کبیر الدین ،نصیر آ باد حا جی احمد حسین نقل نو یس، جبل پور مو لوی محمد یسین یا شیخ عبدالغنی ، وزیر آ باد حا فظ عبد المنا ن، جالندھر منشی دین محمد ، ہو شیار پور مو لوی الہی بخش ۔

ان حضرا ت میں بعض اشخا ص ایسے بھی ہیں جن سے ہم کو سا بق راہ و رسم خط و کتابت نہیں ہے ۔ ان کی خد مت میں ہم بلا تعا رف و استحقا ق سا بق ( ان کو امین و خیرخواہ اسلام و طا لب و فا ق اہل اسلام سمجھ کر) یہ خط ارسا ل کریں گے۔

وہ حضرا ت از راہ لطف و کر م لوگوں کو یہ خط ملا حظہ کرا ئیں اور مو لا نا ممدو ح کو تہمت اہا نت سے اور پا شا مکہ کو الزا م ظلم اور دارو گیر و مزا حمت بے جا سے بر ی کریں تا کہ مسلما نو ں کا با ہمی جوش و نفر ت کم ہو اور کو ئی صورت وفاق پیدا ہو ۔

اسی طر ح مو لا نا ممدو ح کے مخا لفین ( اگر وہ اس آ تش بغض و عناد و فتنہ و فساد کو بدستور مشتعل رکھنا چا ہتے ہیں ) مو لا نا ممدو ح کے توبہ نا مہ کے فو ٹو گرا ف کو جا بجا مشتہر کریں اور نہیں تو دہلی و لا ہور میں ہی سہی ۔ ( ما ہنا مہ اشاعۃ السنہ ۔ جلد 6 ۔ص 329۔333 )

اس دستاویزکے جعلی ہو نے کی بات جناب ابو الکلام آ زاد نے لکھا ہے:

ایک توبہ نا مہ بھی مو لا نا نذ یر حسین مر حوم کا بعض رسا لوں میں میری نظر سے گزرا ہے اور وہ مبا حثہ مرشد آ باد میں بھی پیش کیا گیا تھا لیکن اس کے فر ضی ہو نے پر میں ایسی ایسی شہا دتیں رکھتا ہوں ، جن سے زیادہ قا بل اعتبار شہادتیں اور نہیں ہو سکتیں ۔ کیو نکہ جو تحریر مو لا نا نذ یر حسین نے دی تھی ، وہ با رہا وا لد مرحوم نے مجھے حر ف بحر ف سنا ئی ہے اور وہ وہی ہے جس کا ابھی ذکر کر چکا ہوں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں فتنے سے بچنے کے لئے ایجا بی طورپر جس و ضا حت سے انہیں اپنے عقا ئد بیان کر نا چاہیے تھا ، اس سے انہوں نے گر یز کی، لیکن منفی طور پر انہوں نے اپنے اصلی عقا ئد سے ہر گز انکار نہیں کیا ، اور ان حا لات کو دیکھتے ہو ئے، جو انہیں وہاں پیش آ ئے تھے ، ان کے اس تسا مح کو کوئی بھی قا بل الزام کمزوری نہیں قرار دے سکتا ۔ یہ صاف ظا ہر ہے کہ اگر وہ حریف کے ساتھ بحث و جدال میں اتر آ تے ، تو نتیجہ نہا ئت ہو لناک ہو تا ۔

( آزاد کی کہا نی خود آزاد کی زبا نی ۔ ص63 ۔ 66)

اس کی نظیرامام ابو حنیفہ کے طرز عمل میں ملتی ہے جیسا کہ جناب منا ظر احسن نے لکھا ہے:

ضحا ک نامی خا ر جی نے عبد اللہ بن عمر بن عبد العزیز والی کو فہ کو شکست دے کر (مروا ن بن محمد بن مروا ن کے دور میں ) کو فہ پر قبضہ کیا ۔۔۔جب امام ( ابو حنیفہ) خارجیوں کے قا ئد کے پاس آ ئے تو لو گوں نے تو جہ دلا ئی۔ ھذا شیخھم

’’ یعنی کو فہ کے مسلما نوں کا یہ مذہبی پیشوا ہے۔۔ ‘‘

خارجیوں کا دستور تھا کہ وہ ہر مسلمان سے تو بہ کرا تے تھے۔ اس لئے کہا تب یا شیخ من الکفر ۔ امام نے کہا :

انا تا ئب من کل کفر

’’ میں ہر کفر سے تا ئب ہوں ۔‘‘

کسی نے خارجی لیڈر سے کہا کہ کفر سے ان کی مراد تمہارے عقا ئد سے توبہ ہے ۔ اس لئے اس نے پوچھا۔ شیخ ہم نے سنا ہے کہ جس کفر سے تم نے تو بہ کی ہے اس سے مراد ہمارے عقا ئد اور ہمارا طر یقہ کار ہے ۔ امام نے کہا :جو تم کہہ رہے ہو کیا یہ صرف ظن اور گمان کے سوا اور بھی کچھ ہے۔ کیا آ پ کو یقین ہے کہ کفر سے میں نے وہی مراد لیا ہے جسے میری طرف تم منسو ب کرتے ہو ۔ لیڈر نے کہا ہاں ! صرف گمان اور ظن ہے ، یقین سے کیسے کہا جا سکتا ہے۔ امام نے کہا :

﴿إِنَّ بْعَضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾

’’کہ بد گما نی کر کے تم نے گناہ کا ارتکا ب کیا ہے ، اب آ پ اس کفر سے توبہ کیجئے ۔

خار جی نے کہا تم نے سچ کہا اور میں اس کفر سے تو بہ کرتا ہوں ۔ لیکن تم بھی کفر سے تو بہ کرو ۔ امام نے اپنے پہلے جملے کو دہرا یا:

میں ہر قسم کے کفر سے اللہ کی در گاہ میں تو بہ کرتا ہوں۔ کہتے ہیں خارجیوں نے یہ سن کر آ پ کو چھو ڑ دیا۔

جناب منا ظر احسن گیلانی کہتے ہیں بطور طعن کے بعض تا ریخو ں میں امام کی طرف یہ منسوب کیا گیا ہے کہ کفر سے امام کی تو بہ کرا ئی گئی ہے ۔ لیکن اس توبہ کی اصل حقیقت یہی ہے ۔

(دیکھو مو فق: 1 ؍ 177؛ (امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی ۔181 ۔ 182)

٭٭٭

وصلّی الله تعالی علی خیر خلقه محمد وآله و صحبه أجمعین.والحمد لله ربّ العالمین.

تبصرہ کریں