تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

حا فظ صا حب ! میں خدا کو حا ضر نا ظر سمجھ کر کہتا ہو ں کہ اس قسم کی روا یا ت سن کر میری دلی تمنا ہے کہ آپ سے بالمشا فہ گفتگو کرو ں ۔ میں اس روز کو روز عید سمجھو نگا جس روز آ پ کے سا تھ ا ختلا فی مسا ئل میں گفتگو ہو گی ۔ حا فظ صا حب اگر آ پ اپنی مجا لس میں ایساکہتے ہیں تو میں بذریعہ ا خبار آپ کو اطلاع دیتا ہو ں کہ میں آ پ کی ( منشاء) کے مطا بق گفتگو کر نے کو تیار ہو ں ۔ آ پ جب چا ہیں مجھ سے گفتگو کر لیں۔ سب سے بہتر مقا م آ پ ہی کا صدرمقا م سیا لکو ٹ ہے۔ پس بترا ضی فر یقین تا ریخ مقرر کر کے مجلس بحث میں مجھ کو بلا لیں۔ میں فوراً پہنچو نگا ۔ انشا ء اللہ۔ میری طرف سے سر سری شروط حسب ذیل ہو نگی:

1۔بحث سب سے پہلے ان امور پر ہو گی جو شر ک تک پہنچتے ہیں جیسے استمداد با لغیر کر نا، شیئا للہ و غیرہ پڑھنا۔

2 ۔ پھر ان امور پر ہو گی جو بدعت تک پہنچتے ہیں۔ جیسے مجلس مو لود و غیرہ ۔

3 ۔ تقلید شخصی مسا ئل خلا فیہ آ مین رفع یدین و غیرہ ۔

بحث تحریری ہو گی جس میں ہر فر یق ۔۔ گھنٹے تک پر چہ تحریر کر کے فر یق ثا نی کو دیدے گا ۔ مجلس بحث میں فر یقین کے پچاس پچاس آ د می شر یک ہو نگے ۔ مجلس کا کو ئی با رعب شخص صدرہو گا ۔

حا فظ صا حب ! کیا میں امید ر کھو ں کہ میری خوا ہش کے مطا بق میری اس چٹھی کا جوا ب دیں گے ۔ ( دیدہ با ئد ) آ پ کا بہی خواہ ابو الوفا ثنا ء اللہ ا ڈیٹر اہل حد یث امر تسر ( ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر 16 مئی 1919ء ۔ ص 4۔5 )

٭سطور با لا میں تقلید و غیرہ مسا ئل ا ختلا فیہ پر بیسویں صدی کے نصف او ل میں مبا حثوں کی با ت ہو رہی تھی ، تاہم بحث و نظر کا یہ سلسلہ ختم ہو نے میں نہیں آتا ، اور حا ل ہی میں حا فظ صلا ح الدین یوسف نے بھی اس مو ضوع پر قلم ا ٹھا یا ہے اور اپنی تحریر میں محمد بن اسحاق بن یسار کے متعلق حا فظ زبیر علی زئی کی تحریر کا ذکر فر ما یا ہے ۔

موقع کی مناسبت سے یہ دو نوں تحریریں یکے بعد د یگر ے ذیل میں نذر قا رئین کی جا رہی ہیں ۔

اہل حد یث کا منہج اور ا حنا ف سے ا ختلا ف کی حقیقت و نو عیت

حا فظ صلا ح الدین یو سف لکھتے ہیں:

حا فظ محمد گو ند لوی ﷫ اپنی کتا ب ا لا صلا ح میں جو ا حناف کی ایک کتا ب جواز الفا تحہ علی الطعا م کے جواب میں لکھی گئی تھی، میں تقلید بدعات قیاس و ا جتہاد جیسے اہم مو ضو عا ت پر محققا نہ بحثیں ہیں ۔اس میں آپ لکھتے ہیں :

اہل حد یث کے ا صو ل کتا ب و سنت اور اقوا ل صحا بہ ہیں یعنی جب کسی صحا بی کا قو ل ہو اور اسکا کو ئی مخا لف نہ ہو، اگر ا ختلا ف ہو تو ان میں سے جو قو ل کتا ب و سنت کے زیادہ قر یب ہو، اس پر عمل کیا جا ئے اور اسپر کسی عمل ، را ئے ، یا قیاس کو مقد م نہ سمجھا جا ئے ، اور بوقت ضرورت قیاس پر عمل کیا جائے ۔ قیاس میں اپنے سے اعلم پر اعتمادکر نا جا ئز ہے ۔ یہی مسلک اما م ا حمد بن حنبل اور د یگر آ ئمہ حد یث کا ہے ۔

اس کے بعد اعلا م المو قعین لابن القیم سے ایک اقتباس نقل کیا ہے جس میں اما م ا حمد کے ان پانچ ا صولوں کا بیا ن ہے جن پر ان کے فتووں کی بنیاد ہو تی تھی ۔ اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے :

اول : نصوص ( یعنی قر آ ن و حد یث کے صریح ا حکا م ) ان کے ہو تے ہو ئے وہ کسی اور کی طرف التفا ت نہ فرما تے ۔

دو م : صحا بہ کے فتاوی : جب کسی صحا بی کا فتوی ملتا ، جس کا کوئی مخا لف معلو م نہ ہو تا ، تو اسی پر فتوی دیتے ۔

سو م : جب صحا بہ میں ا ختلا ف ہو تا تو اس قول کو لیتے جو کتا ب و سنت کے زیادہ قر یب ہو تا ، ان کے اقوا ل سے با ہر نہ نکلتے۔

چہا رم : مر سل اور حسن حد یث کو لینا ، جب کہ اس باب میں کو ئی اور دلیل اس کے مخا لف نہ ہو ۔ ان کے نز دیک حسن کے مختلف مرا تب ہیں ، جب اس با رے میں کو ئی مخا لف ا ثر یا قو ل صحا بی سے اجماع سے نہ ملے تو اس حسن ( جس کو وہ اپنی مخصو ص ا صطلا ح میں ضعیف سے تعبیر کرتے ہیں ) پر عمل کر نا ان کے نزدیک قیاس سے اولی ہے ۔ اس حد یث سے مراد با طل، منکر اور وہ حد یث نہیں جس میں کو ئی راوی متہم ہو ، جس پر فتوی دینا منع ہو ۔ آ ئمہ ار بعہ میں سے ہر ایک فی الجملہ اس با ت میں ان کے سا تھ موا فق ہے۔

پنجم : قیاس ، اس کو ضرورت کے وقت لیتے ،جیسے امام شا فعی سے بھی منقو ل ہے کہ قیاس کی طرف صرف ضرورت کے وقت ر جوع کیا جا تا ہے۔

اما م ا حمد﷫ کے فتاوی کے یہی پانچ ا صو ل ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ پانچ ا صو ل صرف اما م ا حمد﷫ کے ہی نہیں بلکہ ان کے علاوہ تینو ں آ ئمہ ( امام ما لک، امام شافعی ، امام ابو حنیفہ﷭) کے بھی ہیں ۔

علاوہ ازیں محد ثین یعنی اہل حد یث کے نز د یک بھی تقریباً یہی اصو ل ہیں ۔ صرف مرسل روایت سے حجیت و استنا د کے وہ قا ئل نہیں لیکن مذ کورہ اقتباس میں مر سل کا حوا لہ جس اعتبار سے آ یا ہے وہ ہے قیاس کے مقا بلے میں مر سل روا یت سے استد لا ل کرنا ، اور یہ با ت ایک حد تک صحیح ہے ، مطلقاً مر سل روا یت محد ثین کے نز دیک نا قا بل حجت ہے ۔ علاوہ ازیں یہ وہ نکتہ ہے اور ا صو ل ہے جو د یگر تما م علما ئے اہل حد یث بھی تسلیم اور بیا ن کر تے ہیں۔ شکر اللہ سعیھم

٭ حا فظ محمد گو ند لوی کا یہ بیا ن ان کے نہا یت گہر ے مطا لعے اور وسعت کا مظہر ہے اور وہ اس طر ح کہ جہاں تک اما م ابو حنیفہ﷫ اور ان کے جلیل القدر تلامذہ ( اما م محمد ، قا ضی ابویوسف و غیرہ ) کا اور ان کاسا طرز فکر و عمل ا ختیار کر نے وا لو ں کا تعلق ہے ، اس کواگرسا منے ر کھا جا ئے تو واقعی اہلحد یث اور احناف کے اصو لوں میں کو ئی فرق نظر نہیں آ ئے گا ۔ اور فروع ا صو ل کے تا بع ہو تے ہیں اس لئے فروع میں ا ختلاف بھی کو ئی معتد بہ حیثیت نہیں ر کھتا۔

ادھر بر صغیر پا ک و ہند میں فقہی ا ختلا فا ت کی جو معر کہ آ را ئی ہے وہ اہل حد یث اور ا حنا ف کے در میا ن ہے ۔ (دوسری فقہو ں کے پیرو کار یہاں نہیں ہیں اگر کہیں ہیں تو وہ اتنی محدود تعداد میں ہیں کہ وہ کا لعدم کے حکم میں ہیں) اسلئے جب یہ کہاجا ئے کہ اہل حدیث اور ا حناف میں کو ئی ا ختلاف ہی نہیں، نہ ا صو لی نہ فروعی، تو اسپر ا ظہار تعجب فطر ی امر ہے ۔ بنا بر یں مذ کورہ ا صو لی با ت نہا یت اہمیت کی حا مل ہے اور اس سے فقہی ا ختلا فا ت کی ا صل نو عیت بھی سا منے آ جا تی ہے۔

اگر مذ کورہ دعوی صحیح ہے اور یقینا صحیح ہے تو پھر احناف اور اہل حد یث کے در میا ن فقہی معر کہ آ را ئی کا یہ سلسلہ جو کم و بیش ڈیڑ ھ صدی سے عروج پر ہے ، کیوں ہے ؟ اور اس کی شدت کیو ں وسعت پذ یر ہے ؟ زیر نظر تا ریخ اہل حد یث کا ( جو اسی فقہی ا ختلا فا ت کی وا دی پر خا ر کی آ بلہ پا ئیوں کی تفصیلا ت اور رز م و بزم کی حکا یا ت پر مشتمل ہے ) مطا لعہ کر نے سے قبل اس کی حقیقت و نوعیت کا جا ننا ضروری ہے۔

اس کی و جہ فقہا ئے ا حنا ف کا ایک دوسرا گروہ ہے جوا کثر یتی گروہ ہے ۔ اس نے دعوی تو یہ کیا کہ وہ اما م ابو حنیفہ کا مقلد ہے لیکن انہو ں نے اپنے اما م اور صاحبین ( اما م محمد﷫ اور اما م ابو یوسف﷫ ) کے طرز فکروعمل سے یکسر انحرا ف کا راستہ ا ختیا ر کیا ، حا لانکہ فقہ حنفی ان تینوں آ ئمہ کے اقوا ل کے مجموعے کا نا م ہے ۔ فقہ حنفی میں مفتی بہ قو ل کبھی اما م ابو حنیفہ کا ہو تا ہے ، کبھی اما م محمد کا اور کبھی قا ضی ابو یوسف کا ، اور بعض دفعہ اما م زفر و غیرہ کا بھی ۔ یہ صورت حا ل فقہ حنفی میں تو سع کی اور ا حا دیث صحیحہ سے عدم انحراف کی ایک بڑی بنیاد بن سکتی تھی، لیکن افسوس بعد میں آنے وا لے فقہا ئے ا حناف نے اپنے آ ئمہ ثلاثہ کے مسلک اور طر ز عمل سے انحرا ف کیا جس کی و جہ سے فقہی ا ختلا فا ت کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہو تی گئی اور نوبت با یں جا رسید کہ اب اس کاپا ٹنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے ۔

اس دوسرے گرو ہ کی دو قسمیں ہیں :

ایک گروہ میں انحرا ف کم ہے، یا کم از کم ا صو ل میں وہ اپنے آ ئمہ ثلاثہ کے بہت قریب ہے ، گو عمل کے اعتبار سے دور ہے ۔

دوسر ی قسم ان علماء و فقہاء کی ہے جو بد تر ین قسم کے تقلیدی جمودکا شکا ر ہے اور بر ملا حد یث کی حجیت کا انکار کرتا ہے۔

اس اعتبار سے ا حنا ف تین گرو ہو ں میں منقسم ہیں :

پہلاگرو ہ اما م ابو حنیفہ﷫ اور ان کے شا گر دا ن رشید اما م محمد﷫ اور اما م ابو یوسف﷫ اور ان کا سا طر ز عمل ا ختیار کر نے وا لو ں پر مشتمل ہے ۔ ان سے اہل حد یث کا اصو لی طور پر ا ختلاف نہیں ۔ اہل حد یث علماء ا حنا ف سے ا صو ل و فرو ع میں ا ختلاف کی جو نفی کر تے ہیں اس کا تعلق اسی گروہ سے ہے ۔

ہم چند اقوال اور مثا لو ں سے اس گروہ کا ا صو لی موقف بیا ن کر تے ہیں تاکہ بات وا ضح ہو جا ئے۔

اما م ابو حنیفہ﷫ کی عظمت و فقاہت مسلّمہ ہے، اس میں دورا ئے نہیں۔ لیکن ان کا ذرا طرز عمل د یکھئے۔ امام صاحب سے پو چھا گیا کہ اگر آ پ کی کو ئی ایسی بات ہو جو کتاب اللہ کے مخا لف ہو تو کیاکیاجائے ؟ آپ نے فر ما یا کتا ب اللہ کے مقا بلے میں میری بات چھوڑ دو ۔ ان سے کہا گیا، جب آ پ کی بات حد یث رسو ل کے خلاف ہو ؟ آ پ نے فر ما یا: حد یث رسو ل کے مقا بلے میں میری با ت تر ک کر دو ۔ پھر آ پ سے کہا گیا اگر آپ کی با ت قو ل صحا بی کے خلاف ہو تو ؟ آپ نے فر ما یا اس کے مقابلے میں بھی میری رائے کو نظر انداز کر دو ۔ اما م صا حب کا یہ قو ل اما م شوکانی﷫نے القول المفید میں نقل کیا ان کی ا صل عبارت یہ ہے:

قا ل صا حب الهدایة فی رو ضة العلماء:

إنه قیل لأبی حنیفة إذا قلت قو لاً و کتاب اللہ یخا لفه؟ قا ل:

اتر کوا قو لی بکتا ب اللہ، فقیل له: إذا کان خبر الرسو ل یخا لفه؟ قا ل اترکوا قولی بخبر الرسو ل ﷺ ، فقیل له: إذا کان قول الصحابی یخالفه؟ قا ل اترکوا قولی بقول الصحابی.

( القو ل المفید فی ا دلۃ ا لا جتہا و التقلید ۔ ص 63)

٭٭٭

تبصرہ کریں