تاریخ اہل حدیث-ڈاکٹر بہاؤ الدین

حجۃ اللہ البا لغہ میں شا ہ صا حب نے انہی محققین فقہا ئے اہل حد یث کے ان قواعدکا تذ کرہ فر ما یا ہے جو ان کے نز د یک تطبیق بین النصو ص، استنبا ط مسا ئل ، ا جتہا دو را ئے کے لئے معیار اور بنیادی ا صو ل ہیں، جن کا اردو تر جمہ حسب ذیل ہے :

جب قر آ ن مجید میں کو ئی حکم صرا حتاً مو جود ہو تو اہل حد یث کے نز دیک کسی دوسری چیزکی طرف تو جہ کی ضرورت نہیں۔ اگر قر آ ن مجید میں تا ویل کی گنجا ئش ہو اور مختلف مطا لب کا ا حتمال ہو، تو حد یث کا فیصلہ ناطق ہو گا ۔ قرآ ن کا وہی مفہو م درست ہو گا جس کی تا ئید سنت سے ہو تی ہو ۔ اگر قر آ ن مجید کسی حکم کے متعلق خا موش ہو، تو عمل حد یث پر ہو گا ۔ وہ حد یث چا ہے فقہاء کے در میا ن مشہور و معرو ف ہو، یا کسی شہر کے سا تھ مخصوص ہو ،یا کسی خا ندا ن یا کسی خا ص طریقے سے مروی ہو ،اور چاہے اس پر کسی نے عمل کیا ہو، یا نہ کیا ہو ، وہ حد یث ( بشر ط صحت ) قا بل استناد ہو گی ۔ جب کسی مسئلے میں حد یث مل جا ئے تو کسی اما م اور مجتہد کی پروا ہ نہ کی جا ئے گی ، نہ کو ئی ا ثر قابل قبو ل ہو گا۔ جب پوری کو شش کے با و جود کسی مسئلے میں حدیث نہ ملے ،تو صحا بہ و تا بعین کے فتووں پر عمل کیا جائے گا اور اس میں کسی قوم اور شہر کی قید یا تخصیص نہیں ہو گی ۔۔۔۔ فقہاء میں ا ختلا ف ہو ،تو زیادہ متقی وعا لم اور زیادہ حفظ و ضبط ر کھنے وا لے شخص کی حد یث قبو ل کی جا ئے گی ،یا پھر جو روا یت زیادہ مشہور ہو گی اسے لیا جا ئے گا۔ اگر علم و فضل ، ور ع و تقوی اور حفظ و ضبط میں سب برا بر ہو ں، تو اس مسئلے میں متعدد اقوال متصور ہو ں گے جن میں سے ہر ایک پر عمل جائز ہو گا۔اگر اس میں بھی ا طمینان بخش کا میا بی نہ ہو، تو قر آ ن و سنت کے عمو ما ت، اقتضا اور ایما ء ا ت (اشارات ) پر غور کیا جا ئے گا ۔ ا صو ل فقہ کے مرو جہ قواعد پر اعتماد نہیں کیا جا ئے گا بلکہ طما نیت قلب اور ضمیر کے سکو ن پر اعتماد کیا جا ئے گا ، جس طرح متوا تر روا یا ت میں ا صل چیز راویو ں کی کثر ت اور ان کی حالت نہیں بلکہ ا صل شئے دل کا ا طمینا ن اور سکو ن ہے۔ یہ ا صو ل پہلے بزر گو ں ( صحا بہ و تابعین ) کے طریق کار اور ان کی تصریحا ت سے ما خوذ ہیں ۔

اس کے بعد شا ہ ولی اللہ نے ان آ ثار کا ذکر کیا ہے جن میں ان ا صو ل کی طرف ر ہنما ئی کی گئی ہے جن میں اولیت قر آ ن حد یث اور آ ثار صحا بہ کو دی گئی ہے۔

ہمارے خیا ل میں ا جتہا د کا یہ طر یقہ جسے شا ہ صا حب نے تفہیما ت میں بین بین اور عقد الجید میں محققین فقہا ئے اہل حد یث کا طرز بتلایا ہے ،جس میں ظا ہر یوں کی طر ح قیاس صحیح اور با قا عدہ ا جتہاد کا انکار ہے ، نہ اہل علم فقہاء کی صحیح فکری کاو شو ں سے اعرا ض، اور نہ جا مد مقلد ین کی طر ح نصو ص قر آ ن و حد یث سے بے اعتنا ئی ،اور ا ن میں تو جیہا ت بعیدہ اور تاویلات رکیکہ کی تر غیب ہے ، یہی طر یقہ ا جتہاد صحیح ہے اور یہ پہلے گذ ر چکا ہے کہ شا ہ صا حب نے اپنی وصیت میں انہی فقہا ئے محد ثین کی پیروی کی تا کید کی ہے ۔ جو حدیث و فقہ کے جا مع ہو ں اور ہمیشہ فقہی تخریجا ت کو کتا ب و سنت پر پیش کر نے کو ضرور ی سمجھتے ہوں۔ ۔۔

بعض لو گ شائد اس نقطہ نظر کو تلفیق قرار دے کے اسے مسترد کر دیں لیکن یہ رویہ صحیح نہیں۔۔ اور خود اما م ابو حنیفہ ﷫بھی اسکے جوا ز کے قا ئل ہیں، چنا نچہ ملا علی قا ری﷫ فر ما تے ہیں:

“وحکی الحناطی وغیرہ عن أبی إسحاق فیما إذا اختار من کل مذهب ما هو أهون علیه انه یفسق به، و عن أبی حنیفة انه لایفسق به.” ( مر قا ۃ المفا تیح : 7؍ 33، مکتبہ امدادیہ)

حنا طی و غیرہ نے ابو اسحاق کا یہ قو ل نقل کیا ہے کہ جو شخص ہر مذ ہب سے آ سا نیا ں اور ر خصتیں ہی پسند کرے گا تو اس طر ح وہ فاسق ہو جا ئے گا اور اما م ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اس سے وہ فاسق نہیں ہو گا۔

صرف ر خصتیں تلاش کر نا بھی امام صا حب کے نزدیک فسق نہیں تو نصوص شر یعت کی با لا دستی اور عوام کی سہو لتو ں کے نقطہ نظر سے مختلف مذا ہب کی باتیں ا ختیار کر نا کیسے غلط ہو گا ؟ چنا نچہ ہر دور میں علماء نے ایسا کیا ہے ، خود پا ک و ہند کے حنفی علماء نے زو جہ مفقو د الخبر کے بارے میں فقہ حنفی کی بجا ئے ما لکی فقہ کا مسلک اپنا کر اسے چار سا ل کے انتظا ر کے بعد چار مہینے دس دن کی عد ت گزار کر نکا ح کر نے کی اجاز ت دی ہے ۔

اسی طر ح عورتو ں سے متعلقہ بعض اور مسا ئل میں بھی یہ اجاز ت دی ہے جس کی تفصیل الحیلۃ النا جزۃ میں د یکھی جا سکتی ہے ۔ اور اس کی تا ئید متحدہ ہندوستان کے دیگر علمائے ا حنا ف نے بھی کی ہے ۔ علاوہ ازیں فقہاء نے صرا حت کی ہے کہ اس طر ح کر نے سے کو ئی شخص تقلید اما م کے دا ئرے سے نہیں نکلتا ۔ جیسا کہ پا ک وہند کے ا حناف مالکی مسلک کے اپنانے کی و جہ سے حنفیت سے خار ج نہیں ہو ئے ۔ بلکہ ایک اور حنفی عا لم ، جنہو ں نے فقہ حنفی کو مد لل کر نے کے لئے پانچ ضخیم جلدو ں میں ایک کتاب، مجموعہ قوانین اسلا م لکھی ہے ،ڈا کٹر تنز یل الر حمن( سا بق چیئر مین اسلا می نظر یا تی کو نسل پا کستان ) نے زو جہ مفقود الخبر کے مسئلے میں چار سا ل سے بھی کم مد تکے اندر ، یعنی ایک سا ل اور بوقت ضرورت فی الفور عدالت کو نکا ح فسخ کر کے مذ کورہ عور ت کو دوسری جگہ شادی کر نے کی اجاز ت دی ہے چنا نچہ وہ ایک سال کے قو ل کو ( چار سا ل کے مقا بلے میں ) مو جودہ زما نے کے لحا ظ سے تر جیح دیتے ہو ئے لکھتے ہیں :

مگر لاز م ہے کہ مز ید ایک سا ل انتظار کا حکم اس صورت میں دیاجا ئے گا جب کہ عورت کے پاس ایک سال کے نفقے کا انتظا م مو جود ہو ۔ بصورت د یگر عدالت ، بعد ثبوت مفقو د الخبری ، بو جہ مفقو د الخبر ی ء شو ہر وعدم مو جو د گی نفقہ ، فی الفور نکا ح فسخ کر نے کی مجاز ہو گی ۔ ( مجموعہ قوانین اسلا م ۔جلد2 ص 701 ۔ شائع کردہ، ادارہ تحقیقات اسلا می اسلا م آ باد، پا کستان)

جنا ب تقی عثما نی سا بق جج وفا قی شرعی عدالت پاکستا ن ، جناب اشرف علی تھا نوی کی کتا ب ، الحیلۃ النا جز ہ فی الحلیلۃ العاجزہ ، کے نئے اڈیشن کے دیبا چے میں فقہ حنفی سے خرو ج کا جواز تسلیم کرتے ہو ئے اس حقیقت کا اعترا ف کر تے ہیں کہ فقہ حنفی میں عورتو ں کو پیش آنے وا لی مشکلا ت کا کو ئی حل نہیں۔ چنا نچہ وہ لکھتے ہیں:

ایسی خوا تین جنہو ں نے نکا ح کے وقت تفو یض طلاق کے طر یقے کو ا ختیار نہ کیا ہو ، اگر بعد میں کسی شد ید مجبوری کے تحت شو ہر سے گلو خلاصی حا صل کر نا چا ہیں ، مثلاً شو ہر اتنا ظا لم ہو کہ نہ نفقہ دیتا ہو ،نہ آ باد کرتا ہو ، یا وہ پا گل ہو جا ئے ،یا مفقود الخبر ہو جا ئے، یا نا مرد ہو، اور از خود طلاق یا خلع پر آ مادہ نہ ہو،تو ا صل حنفی مسلک میں ایسی عورتو ں کے لئے شد ید مشکلات ہیں ، خا ص طور پر ان مقا مات پر جہا ں شر یعت کے مطا بق فیصلے کر نے والا قا ضی مو جود نہ ہو ، ایسی عور تو ں کے لئے ا صل حنفی مسلک میں شوہر کی رہا ئی کی کو ئی صورت نہیں ہے ۔۔۔۔ حکیم الا مت ( تھا نوی ) نے ایسے بیشتر مسا ئل میں ما لکی مذ ہب کے مطا بق فتوی دیا ہے ( الحیلۃ النا جز ۃ فی الحلیلۃ العا جزہ ۔ ص 9۔10۔ مطبو عہ دار ا لاشا عت اردو با زار کرا چی )

علاوہ ازیں فقہائے ا حناف نے صرا حت کی ہے کہ اس طر ح کر نے سے کو ئی شخص تقلیداما م کے دا ئرے سے نہیں نکلتا جیسا کہ پا ک و ہند کے ا حناف ، ما لکی مسلک کے اپنا نے کی و جہ سے حنفیت سے خار ج نہیں ہو ئے ۔ مو لا نا عبدالحی لکھنوی ، شاہ ولی اللہ ،شا ہ عبد العزیز اور مرزامظہر جان جا نا ں اور د یگر بہت سے حضرات نے ا حا دیث کی بنا پر فقہ حنفی کے بعض مسائل کو چھو ڑ دیا ۔ خود صا حبین نے دو تہا ئی مسائل میں اما م ابو حنیفہ کا خلا ف کیا ، کسی نے بھی یہ فتوی نہیں دیا کہ اس طر ح کر نے سے یہ حضرات حنفیت یا تقلید اما م سے خار ج ہوگئے ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہی طرز فکر و عمل ہے جو اما م ابو حنیفہ اور ان کے ارشد تلا مذہ نے ا ختیار کیا ، اور اس میں کو ئی خرا بی نہیں بلکہ یہ نہایت پسندیدہ ، مستحن اور ایک مسلما ن سے مطلوب ہے ۔ اور ا حناف کا یہی وہ گروہ ہے جس کی بابت بجا طورپر کہا گیا ہے کہ ان کے اور اہل حد یث کے ما بین نہ کوئی ا صو لی ا ختلا ف ہے اور نہ فروعی ۔ نیز اتحاد امت کا بھی یہ ایک بہتر ین طر یقہ بلکہ واحد حل ہے ۔

ان کے علاوہ د یگر علمائے ا حناف ہیں ، ان کا معا ملہ اس پہلے گروہ سے بہت مختلف ہے۔ اور پھر ان میں بھی دو گروہ ہیں ، ان دو نوں کے طرز عمل سے اہل حد یث کو شدید ا ختلا ف ہے۔پہلا گروہ اکثر و بیشتر حد یث کی صحت و ضعف کے اس معیار کو اور نقد و تحقیق حدیث ان ا صولو ں کو تسلیم کرتا ہے جو محدثین کرا م نے وضع اور مقرر کئے ہیں۔ جیسے جنا ب سر فراز خا ں صفدر گکھڑوی جنہو ں نے حنفی مسلک کی تائید میں متعدد کتا بیں تحریر کی ہیں۔ ان کی ایک کتاب مسئلہ فا تحہ خلف ا لا ما م میں ا حسن الکلا م کے نا م سے ہے (جس کے جوا ب میں جنا ب ارشاد الحق ا ثری کی کتاب تو ضیح الکلام ہے) ۔ جنا ب سر فراز صفدر اپنی کتاب کے ابتدا ئیے میں لکھتے ہیں :

ہم نے بعض مقا ما ت پر آ ئمہ جر ح وتعدیل اور جمہور محد ثین کرا م کے مسلّمہ اور طے شدہ ا صول و ضوا بط کے عین مطا بق ثقہ راویو ں سے متعلق ثقا ہت اور عدالت کے اقوال تو نقل کر دئیے ہیں ، لیکن اگر بعض ا ئمہ کا کو ئی جر حی کلمہ ملا ہے، تووہ نظر انداز کر دیا ہے۔ اسی طر ح اگر کسی ضعیف اور کمزور راوی کے بارے میں امام کا کو ئی تو ثیق کا جملہ ملا ہے تو اسکو بھی در خور اعتنا نہیں سمجھا، کیو نکہ فن ر جا ل سے اد نی وا قفیت والے بھی بخو بی اس امر سے وا قف ہیں کہ کو ئی بھی ایسا ثقہ ( را وی ) جس پر جر ح کا کو ئی کلمہ منقول نہ ہو یا ایسا ضعیف ( راوی ) جس کو کسی ایک نے بھی ثقہ نہ کہا ہو ، کبر یت ا حمر کے مترادف ہے ۔۔۔ بایں ہمہ ہم نے تو ثیق و تضعیف میں جملہ آ ئمہ جر ح و تعدیل اور ا کثر ائمہ حد یث کا ساتھ اور دا من نہیں چھو ڑا ۔ مشہور ہے:

زبا ن خلق کو نقا رہء خدا سمجھو ۔( ا حسن الکلا م ۔ج 1۔ ص 40 طبع دوم )

جنا ب سر فراز صفدر نے ثقہ اور ضعیف راویوں کی جرح و تعدیل کے با رے میں جو کچھ فر ما یا وہ سو فیصد درست ہے ، اہل حد یث کو اس سے مکمل اتفاق ہے ۔ لیکن ا صل مسئلہ دیا نت دا ری سے مذ کورہ ا صو ل کو اپنانا اور اس پر عمل کر نا ہے ۔ کاش ایساہو تا، اور عمل بھی اسکے مطا بق ہو تا تو بیشتر فقہی ا ختلا فات ختم ہو جاتے یا ان کی شد ت و وسعت ضرور کم ہو جا تی ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ تحقیق حد یث کے مسلمہ ا صو ل وضوا بط پر فر یقین کے اتفاق کے باو جو د ا حا دیث کی صحت و ضعف پر فیصلہ نہیں ہو پا تا ،اور یو ں ا ختلاف کی صورت ختم نہیں ہو تی ، و جہ اس کی یہی ہے کہ اصول و ضوا بط کے انطباق میں جس علمی دیا نت ،حز بی تعصب سے علیحد گی، اور بار گا ہ الہی میں جوا ب دہی کے ا حساس کی ضرورت ہے اس فر یق میں اسکا سخت فقدان ہے اس کے مقابلے میں تقلیدی جمود غا لب ہے ، جو مسلمہ اصول کو ما ننے کے با و جود ان کے اپنانے اور ان کے نتائج کو تسلیم کر نے میں ما نع بن جاتا ہے ۔ خود جنا ب سر فراز صفدرنے بھی اپنے بیا ن کر دہ ا صو ل پر عمل نہیں کیا جس کی ، مشتے نمو نہ از خر وارے ، کے طور پر ایک مثا ل پیش خد مت ہے ۔

محمد بن اسحاق ، جن کو اما م المغازی کہا جا تا ہے ، ایک ایسے راوی ہیں جن کی تو ثیق و تضعیف میں بلا شبہ اختلاف ہے جس کی و جہ ان کا تشیع ، قدر یت ، اورتد لیس کے سا تھ متصف ہو نا ہے اور ثقہ راوی کا فرق باطلہ کی طرف رجحا ن محد ثین کے نز د یک قا بل جرح شمار نہیں ہو تا جیسے خو د جنا ب سر فراز صفدر نے بھی لکھا ہے :

اور ا صو ل حدیث کی رو سے ثقہ راوی کا خا ر جی یا جہمی معتز لی یا مر جی و غیرہ ہو نا اس کی ثقا ہت پر ا ثر انداز نہیں ہو سکتا اور صحیحین میں ایسے راوی بکثر ت موجود ہیں ۔( احسن الکلام ۔ج 1۔ ص 30 )

اور یہ بھی محد ثین کے نز دیک مسلّمہ اصو ل ہے کہ مدلس راوی کی روا یت ، عن ، کے سا تھ ہو،تو مقبول نہیں ۔لیکن جہاں وہ سما عت کی تصریح کر دے، تو وہ روایت مقبو ل اور قا بل حجت ہے ، بشر طیکہ صحت کی دوسرے شرا ئط مو جود ہوں ، اس لئے محمد بن اسحاق کے بارے میں دیا نت داری سے یہ د یکھنا ہوگا کہ اکثریت کے نز د یک وہ ثقہ ہے یا ضعیف ؟ جیسا کہ جناب سرفراز نے بھی اس ا صو ل کو تسلیم اور بیا ن کیا ہے کہ اعتبار اکثر یت کا ہو گا ۔ بنا بر یں جب ہم یہ دیکھتے ہیں تو محمد بن اسحاق کو ثقہ قرار دینے وا لے ائمہ و محد ثین کی اکثر یت ہے اور تضعیف کر نے والے اقلیت میں ہیں ۔ جیسا کہ

سر فراز صفدر نے 22۔23 ۔ اقوال ان پر جر ح کر نے وا لو ں کے نقل کئے ہیں ۔ ان کے مقا بلے میں ان کی تو ثیق کر نے وا لے 52 سے زیادہ آ ئمہ و محد ثین ہیں (ملاحظہ ہو جناب زبیر علی زئی کا مضمو ن: محمد بن اسحاق بن یسار اور جمہور کی تو ثیق ۔ شا ئع شدہ ما ہنا مہ الحد یث، حضرو ۔ اٹک شمارہ نمبر 71 ۔ ر بیع الثا نی 1431ھ) (اسے ہم عنقریب نقل کر رہے ہیں ۔ بہاء )

محد ثین کے مسلمہ ا صو ل کی روشنی میں ،جس کو خود جنا ب سر فرازصفدر نے بھی تسلیم کیاہے ، محمد بن اسحاق صدوق اور حسن الحدیث قرا ر پا تے ہیں ، جن کی حد یث مقبو ل اور حجت ہے بشر طیکہ ان کی بیا ن کردہ روا یت میں سماع کی تصریح ہو اور اس روا یت میں کو ئی شذوذ اور د یگر کو ئی علت قا د حہ نہ ہو ۔

اب محمد بن اسحاق راوی کے با رے میں خود جنا ب سرفراز کا طرز عمل د یکھیں ، ان سے فا تحہ خلف ا لا ما م کے مسئلے پر یہ روا یت آ ئی ہے جس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ( اپنے پیچھے نماز پڑ ھنے وا لو ں سے ایک مر تبہ ) فر ما یا :

میں تمہیں د یکھتا ہو ں کہ تم اما م کے پیچھے پڑ ھتے ہو ؟ صحابہ کرا م نے کہا:﷾ اے اللہ کے رسو ل ! اللہ کی قسم ہم پڑ ھتے ہیں ۔

آ پ ﷺنے فر ما یا :

اس طر ح مت کیا کرو ، سوا ئے سورہ فا تحہ کے ( یعنی وہ ضرور پڑ ھا کرو ) کیو نکہ اس شخص کی نماز نہیں ہو تی جس نے سورہ فا تحہ نہیں پڑ ھی۔( مسند ا حمد : 5؍ 322 ( 23125)

اس حد یث سے چو نکہ جہر ی نماز میں بھی اما م کے پیچھے سورہ فا تحہ پڑ ھنے کی فر ضیت ثا بت ہو تی ہے تو یہاں جنا ب سر فراز صفدر نے اس حد یث کو رد کر نے کے لئے محمد بن اسحاق کے با رے میں فر ما یا :

محد ثین او ر اربا ب جرح و تعدیل کا تقریباً پچا نوے فیصد گروہ اس با ت پر متفق ہے کہ روا یت حد یث میں او ر خا ص طور پر سنن و احکا م میں ان کی روا یت کسی طر ح حجت نہیں ہو سکتی اور اس لحا ظ سے ان کی روایت کا و جود اور عدم و جود بالکل برا بر ہے ۔،

اس کے بعد مو صوف نے محمد بن اسحاق کے بارے میں آ ئمہ جر ح و تعدیل کے وہ اقوا ل جر ح نقل کئے ہیں جن سے وہ ضعیف اور مجروح راوی ثا بت ہو تے ہیں۔ ( احسن الکلا م۔ ج 2،ص 70۔72 )

اسی محمد بن اسحاق کی ایک روا یت جو مستد ر ک حا کم میں ہے ، جس میں حضرت عیسی کے نز و ل کا ذکر ہے ، اس میں یہ بھی ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فر ما یا :

بلا شبہ وہ میری قبر پر آ ئیں گے ، حتی کہ مجھے سلا م کہیں گے اور بلا شک میں ان کے سلا م کا جوا ب دو نگا۔

اس حد یث کو نقل کر کے جنا ب سر فراز صفدر فر ما تے ہیں:

اس صحیح روا یت سے بھی معلو م ہو تا کہ عند القبر آنحضرت ﷺ صلاۃ وسلام کا سماع محقق ہے اور آپ کا جوا ب دینا بھی ثا بت ہے اور اس کا انکار صحیح حد یث کا انکار ہے ۔( تسکین الصدور، از سر فراز صفدر ، طبع چہار م۔ ص 340)

تبصرہ کریں