تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

مثال کے طور پر سیدنا ابو ہریرہ نے خود کو اہل حدیث کہا۔ (اصا بہ: 4؍ 204؛ تذ کرۃ الحفاظ: 1؍ 29، تا ریخ بغداد: 9؍ 467،سیدنا ابن عباس کو اہل حد یث کہا گیا۔ تاریخ بغداد للخطیب: 3؍ 227؛ 9؍ 154؛ سیدنا ابو سعید خدری نے فر مایا :

إنکم خلو فنا و أھل الحد یث بعدنا ، (شرف اصحا ب الحدیث ، خطیب: ص 21) کہ ہمارے بعد تم ( تا بعی ) اہل حدیث ہو : امام شعبی نے پانچ سو صحا بہ کو دیکھا اور 48 صحا بیوں سے حد یثیں پڑ ھی تھیں، تمام صحا بہ کو اہل حد یث کہا ہے۔ ( تذ کرۃ الحفا ظ : 1؍ 74)

خود امام شعبی﷫ تابعی کا اہلحدیث ہونا۔ (تاریخ بغداد ج3ص227،ج9ص154میں بایں الفاظ مرقوم ہے۔)

وکان ابن شھاب اعلم عند أھل الحدیث بالمدینة من غیره

’’مدینہ میں جو اہلحد یث ہو ئے ان میں سب سے بڑے عا لم زہری تھے ۔‘‘ ( مو طا امام محمد ۔ کار خا نہ نور محمد اصح المطابع : ص 363 )؛سفیا ن ثوری تبع تا بعی کا اہل حدیث ہونا۔ (تاریخ بغداد: 3؍227؛ 9؍ 154) میں موجود ہے ،نیز ان کا ارشاد ہے کہ اہل حدیث رو ئے زمین کے نگہبا ن ہیں۔(مفتا ح الجنۃ للسیو طی: 49 و شرف اصحاب الحد یث: 45؛ اور امام ابو حنیفہ﷫ کے متعلق بھی کتا ب اصو ل الدین میں لکھا ہے : أصل أبی حنیفة فی الکلام کأصول أصحا ب الحدیث۔ ج 1 ص 312 کہ امام صاحب کے اصول ( عقا ئد و ذم تقلید میں ) اہل حدیث کے اصو ل ہیں ؛ سفیان بن عینیہ﷫ کہتے ہیں کہ مجھے پہلے پہل امام ابو حنیفہ﷫ نے اہل حدیث بنا یا ہے (یہ الفا ظ مولوی فقیر محمد جہلمی حنفی کی کتا ب حدا ئق الحنفیہ ص 134 طبع نو لکشور کے ہیں)؛ غا یۃ ا لاوطار میں ہے کہ امام ابو حنیفہ﷫ جب بغداد آ ئے تو اہلحدیث نے سوا ل کیا کہ رطب کی بیع تمر سے جا ئز ہے یا نہیں؟ ( تر جمہ درمختار مطبوعہ نو لکشور ج 3 ص 130)

حضرۃ ا لامام ابو حنیفہ کا فر مان: إذا صحّ الحدیث فھو مذهبی ان کے بعض مقلدین کو ہضم نہیں ہوتا اور وہ الٹا اہل حدیث پر تنقید کرتے ہیں کہ یہ فرمان پیش کیوں کیا جاتا ہے ،جیسا کہ کسی نے لکھا ہے :

’’فتنہ پرور غیر مقلدین عوام کو دھو کہ دینے کے لئے ارشاد امام ابی حنیفہ﷫ بڑے زور شور سے پیش کرتے ہیں: إذا صح الحد یث فھو مذھبی یعنی جب صحیح حدیث سا منے آ جا ئے تو وہی میرا مذ ہب ہے۔ مگر مقلدین ابی حنیفہ اپنے امام کی اس بات کو نظر انداز کر کے قیاس و را ئے ابی حنیفہ کو حد یث صحیح کے بالمقا بل اپنا مذ ہب بنا ئے ہو ئے ہیں، حا لا نکہ غیرمقلدین کی بات محض تلبیس اور حقیقت سے قصداً رو گردانی ہے ۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ جہاں بھی صحیح حد یث نظر آ جا ئے اس پر عمل کر لیں۔ یہ کسی کا بھی مذ ہب نہیں اس لئے کہ بہت سی احا دیث صحیحہ متعا ر ض ہیں ان میں تطبیق یا تر جیح یا تنسیخ کا پتہ مجتہد ہی لگا سکتا ہے، ذخیرہ حد یث کا ادنی سا مطا لعہ کر نے وا لا بھی اسے جا نتا ہے۔ (تحریک لامذہبیت غیر مقلدیت ، سلفیت دور حا ضر میں افتراق بین المسلمین کی سب سے خطر نا ک عالم گیر مہم ۔ از مفتی سید محمد سلمان منصور پوری استاد مدرسہ شاہی مراد آ باد ، ص 11۔12 ملخصاً ۔ (جائزہ تحفظ سنت کانفرنس۔ رئیس ندوی۔ ص 614)

امام مالک ﷫ (جو تبع تا بعی ہیں)بھی اہل حدیث تھے۔ امام مسلم﷫ نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں صفحہ 23 پر آ پ کو ا ئمہ اہل حدیث میں شمار کیا ہے اور وہیب نے آپ کو امام اہل الحدیث کہا ہے۔ (تذ کرۃ الحفاظ۔ ج 1 ص 188)

تبع تا بعین کے بعد کے ا ئمہ میں سے امام شا فعی ﷫ کے متعلق منہاج السنۃ میں ہے: أخذ مذهب أهل الحدیث و اختار لنفسه۔ ج 4 ص 143، کہ انہوں نے اپنے لئے اہل حدیث کا مذ ہب پسند کیا تھا۔ تہذیب نووی میں ہے: نشر علم الحدیث و أقام مذهب أهله ( ج 1 ص47) کہ آ پ نے علم حدیث کو پھیلا یا اور مذ ہب اہل حدیث قا ئم کیا ۔ آپ لو گوں سے کہتے : “علیکم بأصحاب الحدیث فإنھم أکثر صواباً من غیرھم (توالی التا سیس مصری: ص 64 ) کہ تم اہل حدیثو ں کے پاس جا ؤ ، یہ لو گ دوسروں سے زیادہ صواب پر ہیں ۔

امام احمد بن حنبل﷫ کو قتیبہ بن سعید﷫ نے اہلحدیث کہا ہے۔ (شرف اصحا ب الحدیث:ص 74) اور منہاج السنہ میں ہے: کان علی مذهب أهل الحدیث ۔ اور طبقا ت الحنا بلہ میں ہے: أحمد رجل من أھل الحدیث ( ص 8 طبع دمشق) ۔ ایک دفعہ آپ سے فرقہ نا جیہ کا پوچھا گیا تو فرمایا: إن لم یکونوا أصحاب الحدیث فلا أدری منهم۔(شر ف اصحا ب الحدیث: ص 24)

امام ابو یوسف﷫ کو ابن معین نے صا حب حد یث اور صا حب سنت کہا ہے۔ (تذکرۃ الحفاظ: 1؍267)؛ تاریخ بغداد میں ہے: یحب أصحاب الحدیث و یمیل إلیهم ( ج 14 ص 255 ) کہ آپ اہل حدیث سے محبت رکھتے تھے اور انہیں کی طرف مائل تھے۔ آپ نے اہلحدیثوں کو اپنے دروازے پر جمع دیکھ کر فر مایا تھا: ما علی الأرض خیر منکم۔ ( شر ف اصحا ب الحد یث للخطیب ، ص 51) کہ روئے زمین پر تم اہل حدیثوں سے بہتر اور کوئی نہیں۔

اسماء البلاد

سند ھ و ہند کے وہ بلاد و امصار جن کے نام اسلام کی ابتدا ئی تاریخ سند ھ سے متعلق لٹریچر میں وارد ہو ئے ہیں وہ شہر قصبات یا علاقے عام طور پر اب اپنے پرانے ناموں سے پہچا نے نہیں جاتے ۔ ان میں سے کئی ایک تو ویسے ہی نسیاً منسیاً ہو چکے ہیں ۔ کئی ایک اب مختلف نا موں سے پہچا نے جاتے ہیں۔ یہاں چند اسماء البلاد کی و ضاحت کر کے بتا نے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ آ ج کے قا ری انہیں کن نا موں سے پہچان سکتے ہیں ۔

٭ارما ئیل۔ بلو چستان میں مکران اور دیبل کے وسط میں سمندر سے کچھ دور ہے اب اسے ارمن بیلہ کہتے ہیں، قلات میں ضلع لس بیلہ کا صدر مقام ہے، کرا چی سے تقریباً 70 میل شمال میں۔

٭الور، سند ھی زبان میں آ ج کل اس کو ا ڑ وڑ کہتے ہیں۔ روہڑی سٹیشن سے 4 میل جنو ب میں واقع ہے کھنڈرات دور دور تک پھیلے ہو ئے ہیں اور یہاں ایک جد ید العہد گاؤں آ باد ہے۔ (الرور، الور، سند ھ کا قدیم شہر تھا یہاں پر رائے خاندا ن کی حکو مت تھی عر ب اس کو عام طور پر الرور لکھتے ہیں ۔ یہ شہر در یا ئے سند ھ کے سا حل پر باغات اور چشموں کے در میا ن بڑے پُرفضا مقام پر واقع تھا۔ الور کی حکو مت قدیم زمانے میں بہت بڑی تھی، مشرق میں کشمیر و قنو ج تک، مغرب میں دیبل اور ساحل سمندر تک، جنو ب میں گجرا ت اور سورت تک اور شمال میں قندھار کر مان جبل سلیمان اور گیگان(قلات) تک اس کی عمل داری تھی۔ (ہندوستان میں عربوں کی حکومتیں: ص 131)

ہباری دور میں الور کی آ بادی ملتان کے برابر تھی، شہر کے گرد دو پناہ گاہیں تھیں، بحری تجارت کا مرکز تھا۔ دریا ئے سندھ سا منے تھا ،تا جر یہاں تجارت کے لئے ٹھہرتے تھے ۔یاقوت حموی کا بیا ن ہے کہ الور تجارت کی جگہ اور اطراف کے شہرو ں کی بند ر گاہ ہے۔ الور بہت بڑا شہر تھا، وہاں مسلما نوں کی بہت زیادہ آ بادی تھی ، الور کے ایک راجہ کا نام قر آ ن کریم کے تراجم کے سلسلے میں آتا ہے۔

٭بھا ڑ بھوت : بھڑو چ سے سات میل مغر ب کی جانب ایک کچی بندرگاہ تھی ۔ جہاں جہاز سمندر کے مدوجذر کے ساتھ آتے جاتے تھے۔

٭ بر ہمن آ باد: سندھ میں ایک چھو ٹا سا گاؤں با منّا بھی ہے شا ید بر ہمن آ باد کی بگڑی شکل ہو۔سندھ میں بہنوا نامی ایک قدیم شہر تھا جسے عر ب سیاح اور جغرافیہ نویس برہمنا آباد لکھتے ہیں۔ آ خر میں یہ شہر بالکل ویران ہو گیا تھا۔ اس ویرانہ سے دو فر سخ دور منصورہ شہر آباد کیا گیا ۔

٭بوقان: قاضی مبارک پوری بتا تے ہیں کہ بوقان، سندھ کے ان شہروں میں سے تھا جہاں قدیم زمانہ سے مسلمان آباد تھے بلا ذری نے تیسری ہجری کے وسط میں لکھا: أهل البوقان الیوم مسلمون (بوقان کے باشدے ہمارے زما نہ میں مسلمان ہیں۔ فتو ح البلدا ن ص 423) اسی کے آس پاس عباسی گورنر عمران بن موسی نے بیضاء نامی شہر آ باد کیا تھا۔

٭بیرون یا نیرو ن: سند ھ کے بڑے شہروں میں دیبل اور منصورہ کے در میان واقع تھا ، تجارتی بندرگاہ تھا شہر دیبل سے چار مرحلہ اور منصورہ سے پندرہ فرسخ پر تھا۔ محمد بن قا سم کے ہا تھوں صلحاً فتح ہوا۔ یہ شہر موجودہ حیدر آباد کے پاس تھا ۔ ( ہندوستان میں عربوں کی حکو متیں : ص 133) سمندر سے نکلی ہو ئی کھاری پانی کی خلیج اس کے آس پاس سے گذر تی تھی۔ بیرو ن کی اصل شکل نیرو ن ہے اور حیدر آ باد (سندھ) اس کا جدید نام ہے۔

٭بیضاء : اس شہر کو عمران بر مکی نے بوقان کے قریب ضلع بودھیہ میں آ باد کیا تھا ۔ یہ علاقہ دریائے سند ھ کے مغر بی جا نب واقع تھا ۔ اس علاقے میں زیادہ تر جا ٹ آ باد تھے ۔ یہ شہر عمران بر مکی نے220ھ (1835۔836ء ) میں اس وقت آ باد کیا تھا جب کہ اس نوا ح کے جا ٹو ں نے بغاوت کی تھی۔ وہ بڑی تیزی سے فو ج لے کر ان کے مقا بلے کے لئے قیقان (قلات ) پہنچا اور ان کو شکست دے کر حفاظتی نقطہ نظر سے یہ شہر آباد کیا اور اس میں مستقل چھاؤ نی قائم کی تاکہ ہر وقت فوج تیار رہے۔ اس شہر کا تذکرہ صرف بلاذری کی فتو ح البلدان میں ملتا ہے ۔ قیاس چاہتا ہے کہ اس شہر نے کو ئی ترقی نہیں کی اور اس کی حیثیت صرف ایک چھا ؤ نی کی رہی۔ (تاریخ سندھ،قدوسی : ص 311)

٭بیلمان: بھیلما ن کا معر ب ہے، گجرا ت میں بھیل اور گو جر قوم کا دار الحکومت تھا۔

٭دیبل : بکری نے معجم ما استعجم میں لکھا ہے ، دیبل سندھ کا مشہور شہر ہے، اسے دیبلا ن بھی کہتے ہیں ۔ دیبل میں زلز لے آ تے رہے، کئی مر تبہ تباہ ہوا۔دیبل کوآ ج کل بھمبور کہتے ہیں، یہ لب ساحل ٹیلہ ہے۔ کچھ عر صہ قبل اس کی کھدا ئی ہو ئی تو ایک مسجد نکلی جس پر ایک کتبہ 109 ہجری کا ہے ۔ کراچی سے 32 میل جنوب میں واقع ہے۔ بلاذری کے مطابق 15ھ میں عمان اور بحرین کے حاکم مغیرہ بن ابوالعا ص ثقفی نے اپنے بھا ئی عثمان کو خلیج دیبل پر چڑھائی کے لئے بھیجا تھا ۔ الہند فی العھد ا لاسلا می کے صفحہ 134 پر ہے کہ محمد بن قاسم نے دیبل فتح کر نے کے بعد وہاں ایک مسجد تعمیر کی جسے 4 ہزار بچوں کی تعلیم کا مر کز کہا جا تا ہے اور وہ پنڈت جو اس سے قبل قیدیوں کی نگرا نی کرتا تھا محمد بن قاسم کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا تھا ۔ اسے دیبل کا نائب مقرر کیا گیا ۔ قاضی مبار کپوری لکھتے ہیں کہ دیبل کا شہر سندھ میں محد ثین اور رواۃحد یث کا سب سے پہلا اور اہم مرکز تھا۔ یاقوت حموی کے مطا بق شہر دیبل کی جانب حدیث کے راو یوں کی ایک جماعت منسو ب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں پر حدیث کی تعلیم و روایت عام تھی۔ خطیب بغدادی نے تا ریخ بغداد میں امام خلف بن محمد موازینی دیبلی کے ذکر میں امام علی بن موسی دیبلی کی درس گاہ کی نشا ن دہی کی ہے جو دیبل میں تھی جس میں امام خلف بن محمد دیبلی نے اپنے شیخ امام علی بن موسی سے حد یث پڑ ھی۔ خلف بن محمد کا بیان ہے حدثنا علی بن موسی الدیبلی با لدیبل ( علی بن موسی دیبلی نے ہم کو دیبل میں حدیث کی تعلیم دی ) ۔ دیبل ساحلی شہر تھا اور ہند و عر ب کی تجارت کا اہم مرکز تھا اس لئے یہاں کے بعض محدثین تا جر بھی تھے چنانچہ ابو محمد حسن بن حا مد دیبلی بغدادی جو علم حدیث میں اہم مقام کے ما لک تھے بغدادکے بڑے تاجرو ں میں سے تھے ۔ خطیب بغدادی نے ان کے بارے میں لکھا ہے : و کان صدوقاً وکان تاجراً ممولاً ( وہ حدیث میں صدوق اور ما لدار تا جر تھے) بغدادمیں ان کی سرا ئے خا ن حا مد کے نام سے مشہور تھی۔

٭رن کچھ :گجرات کا ٹھیا وا ڑ اور را جستھان کی سرحد پر ۔

٭ سیو ستان: سیوہن ضلع دادو میں لعل شہباز کے مزار کی و جہ سے مشہور ہے ۔

٭مکرا ن : کسی خاص شہر یا مقا م کا نہیں بلکہ پورے ساحلی علاقے کا نام ہے جس کے دو واضح حصے ہیں، ایک بلاد و امصار کا حصہ جو اپنے علاقا ئی ناموں سے مشہور ہے، مثلاً کیز، تیز، قنز پور، بند،قصرقند، در ک، فلہفرہ، ارما ئیل، قنبلی۔ نیز مکران میں بڑے علاقے بھی ہیں مثلاً خرو ج، جس کا مرکزی شہر راسک ہے، دوسرے علاقے کا نام جدران، تیسرے کا مشکی جو کرمان کی سمت ہے ۔ یہ نام اصطخری نے 340ھ کے بتائے ہیں۔ مقدسی نے 375ھ کے یہ بتائے ہیں بنجپور جو یہاں کا صدر مقام ہے اور مشکہ، کیج، سرا ئے شہر، بر بور، خواش، ومندان، جا لک، دز ک، دشت علی اور تیز ۔

٭ قندا بیل سند ھ کا بڑا شہر تھا خا رجیوں کا مر کز رہا ۔

٭ قند ھار کو ہندی میں گند ھار کہتے ہیں اوریہ پشاور اور راولپنڈی کے علاقوں کی ریاست کا پرا نا نام تھا یہاں بد ھ مت کو فرو غ ہوا تھا یہاں کی گندھارا تہذیب مشہور ہے۔ افغانستان میں بھی ایک شہر کا نام قند ھار ہے عر بوں کے حملوں میں وہی مقصود ہے۔ گجرا ت کے ضلع میں بھڑو چ میں بھی گندھارا نام کی ایک قدیم بند ر گاہ اور بستی ہے۔ برو ص ( بھڑو چ ) اور با ر بد( بھار بھو ت ) کی فتوحات کے سلسلے میں بلاذری نے اسی گند ھارا کو قند ھار لکھا ہے ۔

٭ قیقان:قدیم زما نے میں قلات کا کو ئی مقا م تھا، اب قلات ڈویژن میں واقع ہے اس کو گنڈاوہ کہتے ہیں۔ ضلع ہے، درہ بو لان اسی میں واقع ہے۔

٭قصدار یا قزوار : طورا ن کا مر کزی شہر تھا اسے امیر معاویہ کے دور میں سنا ن بن سلمہ ہذلی نے فتح کیا تھا۔چھو ٹا قلعہ چھو ٹے باغات، لیکن نفع بخش تجارتی شہر تھا۔ خوار ج کا مر کز رہ چکا ہے ۔ دار البیضاء اسکے پاس ہی آباد تھا ۔ آ ج کل اس کو خضدار کہتے ہیں یہ قلات ڈویژن کا جدید مر کز ہے۔

٭ملتان: اصطخری نے لکھا ہے کہ ملتان اپنی آبادی اور عمارت کے اعتبار سے منصورہ کا نصف ہے۔ مقدسی بشاری نے لکھا ہے کہ ملتان منصورہ کے ما نند ہے البتہ منصورہ زیادہ آباد ہے، یہاں میوے اور پھل زیادہ نہیں ہیں ، البتہ ارزا نی بہت ہے۔ ( ہندوستان میں عربوں کی حکو متیں: ص 241)

٭ منصورہ : سند ھ کے ضلع سا نگھڑ کے شہر شہداد پور سے 9 میل مشرق میں جمڑا ؤ نہر ہے۔ اس نہر سے 2میل پر منصورہ کے وسیع و عریض کھنڈر ہیں 1965ء میں یہاں کھدا ئی ہو ئی۔ اب اس کو دلور کہتے ہیں۔ (ہندوستان میں عر بوں کی حکو متیں: ص 75۔76) سند ھ کا پایہ تخت پہلے ارور تھا لیکن حکم بن عوا نہ کلبی والی سندھ( ف 121ھ) نے سندھ ندی کے مشرقی جانب ایک شہر محفو ظہ کے نام سے آ باد کر کے پایۂ تخت بنایا ۔ تقریباً اسی سال محمد بن قاسم کے لڑ کے عمر بن محمد نے جو حکم بن عوانہ کے ماتحت رسالوں کا افسر تھا ، ایک اور مقام پر اس نے ایک شہر کی بنیاد رکھی جس کا نام بطور فال نیک کے اس نے منصورہ رکھا کیونکہ وہ دشمنوں پر فتح پا کر وا پس آ یا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ شہر بڑا بارو نق بن گیا اور آ خر میں یہی دار السلطنت قرار پا یا ۔ ( دسنوی : ص 194)

دیبل کے بعدبحری تجارت کا دوسرا مر کز منصورہ تھا جو در یا ئے سندھ سے نکلی ہو ئی ایک خلیج کے درمیا ن جزیرہ نما کی شکل میں تھا۔یا قوت کا بیا ن ہے کہ خلیج منصورہ در یا ئے سندھ سے نکلی ہے جو شہر کے اطراف سے بہتی ہے سمندر سے آ نے وا لے تجارتی سا ما ن دریائے سندھ میں لائے جاتے ہیں پھر وہاں سے کشتیوں کے ذریعہ خلیج منصورہ پہنچا ئے جا تے ہیں۔ دریا سندھ دو حصو ں میں تقسیم ہوکر ایک حصہ مغر ب میں منصورہ کی پشت سے ہو کر گذ ر تا تھا، دوسرا شما ل مغر ب کی طرف منصورہ کے پیچھے بارہ میل پر بہتا تھا۔

ایک روا یت کے مطا بق ابو جعفر منصور کے زمانہ میں سند ھ کے عا مل عمر و بن حفص ہزار مرد نے یہ شہر آباد کر کے خلیفہ منصور کے نام پر اس کا نام منصورہ رکھا مگر یہ روا یت صحیح نہیں معلوم ہو تی۔ مسعودی کا بیا ن ہے کہ سند ھ کے اموی عا مل منصور بن جمہور کے نام پر اس کا نام منصورہ رکھا گیا، مگر منصور بن جمہور کی آمد سے پہلے منصورہ آ باد ہو چکا تھا ،چنا نچہ اس نے منصورہ ہی میں رہ کر عباسی خلافت کے خلاف سرکشی کی تو 134ھ میں ابو العباس سفا ح نے اس کی سر کو بی کے لئے موسی بن کعب تمیمی کو سندھ کا مستقل حاکم بنا یا اس نے سب سے پہلے منصورہ کی مرمت کرائی اور یہاں کی مسجد کو وسیع کیا۔ (فتو ح البلدان: 3؍431)

مقدسی بشا ری کے مطابق (جو ہباریوں کے زوال سے تقریباً 40 سال پہلے منصورہ آیا ) منصورہ اقلیم سند ھ کا سب سے بڑا شہر ہے اس کی وسعت دمشق کے برا بر ہے۔ مکانات لکڑی اورمٹی کے ہیں۔جامع مسجد بازاروں کے وسط میں واقع ہے جوپتھر اور اینٹ سے بنی ہے ۔ اس کے ستو ن سا گوا ن کے ہیں اور لمبا ئی چوڑا ئی میں عمان کی جا مع مسجد کے برا بر ہے۔ شہر منصورہ کے چاروں طرف چار دروازے ہیں۔ باب البحر، با ب طوران، با ب سندا ن، با ب ملتان ( احسن التقا سیم) ۔ منصورہ کسی نہ کسی شکل میں 643ھ تک باقی رہا۔ (ہندوستان میں عر بوں کی حکو متیں:ص 125۔ 128)

فتح سند ھ کا پس منظر

اس مقا م پر اکبر شاہ نجیب آبادی کے آ ئینہ حقیقت نما سے ایک طویل تحریر ملخصاً نقل کر نا مناسب معلوم ہوتا ہے جس میں فتح سند ھ کا پس منظر، ان مہمات میں حصہ لینے والے افراد اور مہلب بن ابی صفرہ کی فتح ملتا ن بھی ذکر ہے۔ لکھتے ہیں:

جس زمانے میں ایرانیوں اور مسلمانوں کی لڑائیاں شروع ہوئیں اس زمانے میں سندھ اور ایران کے درمیان صلح تھی مگر اس سے پہلے ایرانی سلطنت کے صوبہ حصیر کا گورنر ہرمز سندھ کے ساحل پر بار بار حملہ آور ہوتا رہا اور یہاں سے بہت سے آدمیوں کو پکڑ کر لے گیا۔ یہ لو گ جاٹ تھے۔ہرمز کے پاس ایک بڑی فو ج انہی اسیران جنگ کی فرا ہم کردہ تھی۔ جنگ ذا ت السلاسل میں جو 12ھ میں (عہد صدیقی میں ہو ئی) پہلی مر تبہ ہند کے جاٹ مسلمانوں کے قیدی بنے، پھر بخوشی مسلما ن ہو ئے ۔

جنگ ذا ت السلا سل کے دو برس بعد جنگ قادسیہ ہوئی جس میں ایرانیوں کی طرف سے سندھ کے را جہ کی فو ج نے بھی حصہ لیا جس میں ہاتھی بھی شامل تھے۔ جنگ قادسیہ کے بعد جنگ نہا وند کا واقعہ ہوا۔ ایرا نی گورنر ہرمزا ن نے جاٹوں کو بھی اپنی فو ج میں بھرتی کیا، اور سندھ کے را جہ سے بھی مدد لی لیکن شکست کھا کر تستر پہنچا۔ وہاں سیدنا ابوموسی اشعری نے اس کا محا صرہ کیا اور سند ھی فو ج یعنی جا ٹوں سے مذا کرات کئے اور خلیفہ کی منظوری سے ان کی شرا ئط مان کر اپنے ساتھ ملا لیا۔( بعد میں ہر مزان گر فتار ہوا اور اس نے مدینہ پہنچ کر اسلام قبول کر لیا) ۔ یہ جا ٹ ان جا ٹوں کے ساتھ مل کر جو 12ھ میں مسلمان ہو چکے تھے،عراق میں مقیم ہو گئے (اور عر ب قبائل کے ساتھ دوستی اور موا خاۃ قائم کر لی یہ لو گ قوم زط کے نام سے مشہور ہوئے۔سیدنا علی کے دور میں بصرہ کے خزا نہ کا محافظ دستہ اسی قوم زط سے تھا)۔

بعد میں کسریٰ کی سلطنت ختم ہو گئی اور سند ھیوں نے چو نکہ نہا وند، ذا ت السلا سل، قا دسیہ اور مکران میں مسلما نوں کا مقا بلہ کیا تھا اس لئے ان پر حملے کا جواز پیدا ہو چکا تھا تاہم سیدنا عمر نے ایسا کر نا مناسب نہ سمجھا۔ سیدنا عثمان کے دور میں بصرہ کے حا کم عبد اللہ بن عامرنے عبد الرحمن بن سمرہ عا مل مکرا ن کو اجاز ت دی کہ سند ھی فو ج کو جو راجہ چج کے سبب سرحد مکران پر جمع ہو کر حملہ کی دھمکی دے رہی تھی، نکا ل دے ۔چنا نچہ عبد الرحمن بن سمرہ نے سند ھی فوجوں کو بھگا دیا اور مکرا ن سے سر حد کیکا ن تک کا تمام علاقہ چھین لیا۔ پھر اسی مفتو حہ علاقے میں(جسکی مشرقی سر حد بلو چستان کے مشر قی پہا ڑو ں پر ختم ہو تی تھی) ایک بغاوت برپا ہوئی جس کو سند ھ کے را جہ نے امداد پہنچا ئی۔ اس بغاوت کو فرو کر نے کے لئے 38ھ میں حارث بن مرّہ نامی سردار نے عا مل مکران کے حکم سے ایک ہزار سواروں سے حملہ کیا اور دشمن کو شکست دے کر امن و امان بحا ل کیا۔ 41ھ۔ 42ھ میں پھر اس علاقے میں سرکشی کے آثار نظر آئے تو سیدنا امیر معا و یہ نے عبد اللہ بن سوار عبدی کو چار ہزار سپاہیوں کے سا تھ بطور سر حدی محا فظ دستہ کے مشر قی سر حد پر قیام کا حکم دیا۔ یہاں با غیو ں نے انہیں شہید کر دیا۔ اس کے بعد سنان بن سلمہ مقرر ہوئے کچھ دنو ں بعد راشد بن عمر مقرر ہوئے۔ راشد ایک معرکہ میں شہید ہوئے اور سنا ن دو بارہ ما مور ہوئے ۔

کا بل اور قندھار کے با غیوں نے سند ھ کے راجہ کی عمل داری میں پناہ لی تو44ھ میں مہلب بن ابی صفرہ کابل سے در یا ئے سند ھ کے کنارے تک آئے اور ان کا تعاقب ملتا ن ( جو سلطنت سند ھ کا حصہ تھا ) تک کیا، پھر ان کو حکم بن عمرو غفاری کی طلب پر یہاں واپس جا کر بلخ اور ما ورا ء النہر کی مہموں میں شر یک ہونا پڑا ۔ یوں مہلب وا لہ حملہ سند ھ مؤثر نہ ہو سکا،تا ہم مسلمانوں نے بلو چستان کے اس حصہ کوجو مکران سے کیکان تک وسیع تھا اپنے قبضہ میں رکھا اور چو نکہ کچھ دنوں یہ علاقہ سندھ کے را جہ چج کی حکو مت میں رہ چکا تھا اس لئے وہ اس علاقہ کو ملک سند ھ کے نام سے تعبیر کرتے اور یہاں کے عا ملوں کو ملک سند ھ کا عامل کہتے رہے۔ را جہ چج 55ھ میں فوت ہوا۔ اس کا جا نشین راجہ چندر مسلما نوں کے سا تھ مصا لحا نہ رو یہ رکھتا تھا اس لئے اس کے دور میں ( یعنی 63ھ تک ) مسلما نوں نے سند ھ پر کو ئی حملہ نہیں کیا ۔(63ھ میں را جہ دا ہر حکمرا ن ہوا) ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں