تاریخ اہل حدیث- ڈاکٹر بہاؤ الدین

بلحا ظ معنی لفظ جما عت کے جو حسب صرا حت با لا فریقین بیا ن کرتے ہیں مدعیا ن یہ کہتے ہیں کہ سنت جماعت وہ لو گ ہیں جو قول و فعل نبی صا حب ( ﷺ ) کی پیروی کریں ۔ اور فعل صحا بہ کی پیروی کریں کہ جو فعل صحا بہ کا نبی صاحب نے بذریعہ خا موش رہنے کے پسند کیا ہو۔ پس حسب بیا ن مدعیا ن کے سنت جماعت وہ لو گ ہیں کہ جو پیروی قر آ ن و حدیث کرتے ہوں۔مدعا علیھم کہتے ہیں کہ سنت جما عت وہ لو گ ہیں جو قول و فعل نبی صاحب کی پیروی کرتے ہو ں اور قول و فعل صحا بہ و تا بعین تبع تا بعین اور سلف صا لحین کی کرتے ہو ں ۔ از رو ئے بیان مدعا علیھم کے ہر شخص کو ضروری ہے کہ من جملہ چار امام کے کسی ایک امام کی پیروی کر ے ۔

فر یقین نے جو کتب مذ ہبی پیش کی ہیں اس کے انگریزی اور اردو تر جمہ سے جس قدر مطلب ہم دریافت کر سکے ،ہم سمجھتے ہیں کہ فریقین نے جو مطلب لفظ سنت و جماعت کا ظا ہر کیا ہے اس کے لئے ہر ایک کے پاس دلیل ہے ۔ لیکن ہم کو کوئی و جہ معلوم نہیں ہو ئی کہ کیو ں ایک فر یق دوسرے فریق پر یہ جبر دے گا کہ جو مطلب ہم نے سمجھا ہے وہی مطلب تم کو بھی ضرور سمجھنا چا ہیے ۔ حسب بیان مدعیا ن کے مدعیان کو تقلید کسی خاص امام کی ضرور نہیں ہے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کہیں زیادہ دور چلے گئے ہیں کیو نکہ واسطے تصفیہ اس مقدمہ کے اس با ت کا تصفیہ کر نا ضرور نہیں ہے کہ آ یا مدعیان سنت جماعت ہیں یا نہیں۔ صرف اس قدر تجویز کر نا کا فی ہے کہ مدعیا ن مسلمان ہیں یا نہیں؟ واسطے اسلام کے ضروری امر ہے کہ خدا اور نبی صا حب کی رسا لت پر ایمان رکھتا ہو اور مدعیا ن کو خدا اور رسا لت نبی پر ایما ن ہے۔ وہ لوگ قر آ ن اور قول و فعل نبی کے پیرو ہو نے کا اقرار کرتے ہیں ۔ پس مدعیا ن پورے طورپر مسلمان ہیں۔ اور از رو ئے قا نو ن اسلام کے ہر مسلمان کو حق ہے کہ ہر مسجد میں نماز پڑ ھے ۔ بمجر د اس بات کے کہ مسجد تیار ہو ئی اور ایک مسلما ن نے اس میں نماز پڑ ھی وہ مسجد خا نہ خدا ہو گئی ۔ یہ شر ط حسب قا نون ہبہ کے ہے کہ جس میں عطا کر نا اور قبول کر نا لاز می ہے ۔ پس تعمیر مسجد گو یا عطا کر نا ہے اور کسی مسلمان کا نماز پڑھنا گو یا من جا نب اللہ قبول کر نا ہے ۔ پس جب مسجد خا نہ خدا ہو ئی تو کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ دوسرے مسلمان کو اس مسجد میں نماز پڑ ھنے سے رو کے۔ کتب مذہبی پیش کردہ مدعیا ن سے ظا ہر ہو تا ہے کہ نبی صاحب نے غیر مسلم کو بھی اپنی مسجد میں اپنی جماعت میں نماز پڑ ھنے دی ۔ اور قر آ ن میں مضمون ذیل در ج ہے: ۔ اس شخص سے بڑ ھ کر ظا لم کو ن شخص ہے کہ جو مسجد میں خدا کا نام ذکر کر نے سے رو کے۔

یہ جملہ قر آ ن کا ہماری را ئے میں بمقد مہ ہذا قطعی فیصلہ کر دیتا ہے۔ مدعا علیھم نے اپنے گوا ہو ں سے یہ اظہار کرا یا ہے کہ مکہ شریف میں چار مصلے ہیں جو شخص کسی امام کا مقلد نہیں اس کو کسی مصلے پر نماز پڑ ھنے کا حکم نہیں اور ایک فتوی بھی بہ ثبو ت اس بیا ن کے دا خل کیا گیا ہے لیکن ہم کو اصلیت میں اس فتوے کے شک ہے اور اگر یہ فتوی صحیح بھی ہو تو بھی فتوی کسی ایسے شخص کے اظہار سے ثا بت نہیں ہوا جو بے علاقہ و غیرجا نبدار ہو ۔ ہماری دا نست میں اس قسم کے فتوے سے قانون مذ ہبی تبد یل اور منسو خ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی ظا ہر ہوتا ہے کہ بعض جگہ شیعہ کی اپنی مسجد علیحدہ ہے اور ہم بھی یہ بہتر سمجھتے ہیں کہ فریقین مقد مہ ہذا بھی اگر اپنی اپنی مسجد علیحدہ رکھیں تو بہتر ہو گا لیکن از رو ئے شرع محمدی کے کسی خا ص فر قہ کے مسلما ن کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی دوسرے فر قہ کے مسلمان کو مسجد میں نماز پڑھنے سے رو کے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر مسلمان کو یہ حق ہے کہ ہر مسجد میں نماز پڑ ھے ۔

اب ہم ایشو ئے اخیر کی جو بہت ضروری ہے تجویز کرتے ہیں ۔ فریقین نے اپنے اپنے مذ ہب کے علماء کا اظہار کرا یا ہے اور کتب مذ ہبی پیش کی ہیں۔ مختلف روا یا ت اور ترجمہ سب پر ہم نے غور کیا ۔ اکثر تر جمہ غلط بھی پا یا گیا۔ جو روا یا ت من جا نب مدعیان پیش کی گئیں من جملہ ان کے حدیث مند ر جہ صحیح بخاری ہے جس میں لکھا ہے کہ ابن زبیر اور ابو ہر یرہ آ مین زور سے کہتے تھے کہ مسجد گو نج جا تی تھی ، اور جو روا یا ت کہ منجا نب مدعا علیھم پیش کی گئی ہیں من جملہ اس کے حدیث مندر جہ صحیح مسلم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نبی صاحب(ﷺ) نے فر ما یا کہ جب امام لفظ ولا الضا لین پر پہنچے تب تم لو گ آ مین کہو ۔ وکلاء مدعا علیھم یہ بحث کرتے ہیں کہ اگر آ مین بآواز بلند لوگ کہتے تھے تب یہ حکم دینے کی ضرورت نہ تھی کیو نکہ سننے سے معلوم ہو سکتا تھا کہ کس وقت آ مین کہنا چا ہیے اور ایک جملہ قر آ ن شریف کا اس مضمو ن کا دکھلا یا گیا کہ عبادت نہ بآواز بلند کہو اور نہ بہت آ ہستہ کہو، بلکہ اوسط آواز میں عبادت کرو۔ اور بلحا ظ جملہ قرآن شریف کے یہ بحث کی گئی ہے کہ آ مین ایک عبادت ہے، تب اس کو بآواز کہنا چاہیے بلکہ اوسط آواز میں کہنا چا ہیے ۔ ہم نہیں کہہ سکتے ہیں کہ اس مضمو ن قر آ ن شریف سے کہاں تک اثر پیدا ہو گا ۔ کیونکہ یہ امر مقبولہ فریقین میں ہے کہ نماز میں بعض مضا مین بآواز بلند اور بعض چیز یںبآواز آ ہستہ پڑ ھی جا تی ہیں۔ اور یہ بھی ظا ہر ہوتا ہے کہ آ مین بآواز کہنے کا طریقہ بہت قدیم نہیں ہے ۔ حسب بیان غو ث خا ن گواہ مدعی کے مقام اٹاوہ میں آ مین بآواز بلند عر صہ بیس سا ل سے جاری ہے ۔ یہ ممکن ہے کہ بآواز بلند آ مین کہنے کا طر یقہ ایک یا دو صدی سے جا ری ہو مگر زیادہ تر قی اس کو انگریز ی صدی کے آخر سے ہے ۔ اور یہ ایک تعجب کی بات ہے کہ پیروان امام شا فعی جب آ مین بآواز بلند کہتے ہیں تو ان کے ساتھ مزا حمت نہیں ہو تی ہے مگر وہی فعل جب اہل حدیث کرتے ہیں تب مزا حمت ہو تی ہے ۔ اس بارہ میں مدعا علیھم یہ جوا ب دیتے ہیں کہ اس کی و جہ یہ ہے کہ شا فعی لو گ جب حنفی کے پیچھے نماز پڑ ھتے ہیں تو وہ حنفی کی عظمت کرتے ہیں اور آ مین آہستہ کہتے ہیں۔ مدعا علیھم ایک روا ئت یہ بھی دکھا تے ہیں کہ جب ایک دفعہ امام شافعی خودقبر پر امام ابو حنیفہ کے نماز پڑ ھنے لگے تو برا ہ تعظیم امام ابو حنیفہ کے انہو ں نے آمین آ ہستہ کہی ۔ مدعا علیھم کا مقصود یہ ہے کہ چو نکہ مدعیا ن آ مین بآواز بلند کہنے کو ایک ضروری مذ ہبی امر تصور کرتے ہیں اس واسطے ہم ان کے آ مین بآواز بلند کہنے پر را ضی نہیں ہیں اور مدعیا ن کی یہ خوا ہش معلوم ہو تی ہے کہ وہ چا ہتے ہیں کہ آ مین بآواز بلند کہیں تا کہ ظا ہر ہو کہ ان کو فتح حاصل ہو ئی ۔ تکرار اور اختلاف بہت سخت ہے اور تعداد اہل حدیث کم ہے ۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ کو ئی فریق دوسرے فر یق کے طریقہ کو کسی طر ح سے بھی جا ئز ر کھنا گوارا نہیں کر تا ۔

ہماری یہ خوا ہش تھی کہ ہم یہ مشورہ فریقین کو دیں کہ آمین اوسط آواز میں کہی جا ئے چنا نچہ اس بارہ میں مضمو ن قر آ ن شریف مند ر جہ با لا بھی مو جود ہے لیکن ہم کو مذ ہب اسلام کا علم بہت کم ہے اور جس قدر ہے وہ بھی صرف بعض تر جمہ انگریزی کے ذریعہ سے۔ اس واسطے ہم نہا ئت عا جزی کے سا تھ پیروی نظیر مند ر جہ انڈین لاء ر پورٹ الہ آباد جلد 13 صفحہ 442 کی کرتے ہیں۔ خصو صاً پیروی فیصلہ جسٹس محمود کی کر تے ہیں کہ جن کا فیصلہ امور شرع محمدی میں سارے ہندوستان میں فر د ( منفر د) ہو تا ہے۔ پس یہ حکم کر تے ہیں کہ مدعیان مستحق ہیں کہ مسجد میں آ مین بآواز بلند کہیں اور مدعا علیھم کو کو ئی حق نہیں کہ مدعیا ن کو اس بارہ میں روکیں ۔ پس ہم مدعیان کو یہ ڈگری دیتے ہیں کہ ان کو حق ہے کہ بعد سورۃ فا تحہ کے آ مین بآواز بلند کہیں اور ہم بحق مدعیا ن اوپر مدعا علیھم کے حکم امتنا عی صادر کرتے ہیں کہ مدعا علیھم نماز پڑ ھنے میں اور آ مین بآواز بلند کہنے میں مدعیان کے ساتھ مزا حمت نہ کریں اور یہ کہ مدعا علیھم مدعیا ن کا خر چہ دیں ۔ 23 جو ن 1892 ۔دستخط ما دھو داس، منصف ۔

(مجمو عہ فیصلہ جا ت مقد ما ت آ مین با لجہر۔ منقول از ضمیمہ شحنہ ہند مطبو عہ 16 مئی 1897ء)

مقدمہ آ مین با لجہر میر ٹھ

فیصلہ مسٹر رائٹ مجسٹریٹ میر ٹھ۔ 1892ء

(غلام محمد پنجا بی نے جو حا جی محمد حسین اہل حد یث پر جامع مسجد میر ٹھ میں آ مین بالجہر کہنے پر حملہ کیا تھا اور پولیس نے حسب دفعہ 296 تعزیرا ت ہند ملز م کو چا لان کیا تھا ۔ اس میں مجسٹریٹ نے ملز م پر 25 رو پئے جرمانہ کیا۔ اور سو رو پئہ کا مچلکہ اور سو رو پئہ کی دو ضما نتیں میعادی چھ ماہ با بت نیک چلنی لی گئیں ۔ ذیل میں اس مقدمہ کا فیصلہ نقل کیا جا تا ہے جو احنا ف نے انیس اہل حد یث پر بدیں مضمون دا ئر کیا تھا کہ یہ لو گ سا ڑھے بارہ بجے مسجد خند ق میں نماز جمعہ ادا کر کے بغر ض فساد و بد نیتی جا مع مسجد میں آ کر نماز میں مکرر شریک ہوئے، اور اس زور سے آ مین کہی کہ ہم ( حنفی ) لو گ پر یشا ن ہو گئے ۔ اور جب پو چھا گیا تو ہمارے امام اعظم کو برا کہا، و غیرہ ۔ جیساکہ فیصلہ میں مذ کور ہے مجسٹریٹ نے حنفیوں کا دعوی خا ر ج کر دیا )

نصیب خا ن مدعی بنام عبد المجید ، عبد اللطیف ، حسینی (حا جی محمد حسن ) ، حا فظ کریم بخش ، حافظ نتھو ، نجم الدین، مو لوی حمید اللہ ، کریم بخش ، محمد یو سف ، خلیل الدین، محب رسول ، مو لوی احمد حسن ( مدیر شحنہ ہند ) حا فظ عبد الکریم ، منگلا ، بلا قی ، شمس الدین ، مو لوی منصور الر حمن ، ر حیم بخش ، عبد الہا دی مدعا علیھم۔

دفعہ 296 تعزیرا ت ہند…فیصلہ :۔

مقد مہ ہذا حسب دفعہ 296 تعزیرا ت ہند نصیب خان نے انیس اشخا ص پر دا ئر کیا ہے

واقعات مقد مہ حسب ذیل ہیں:۔

بتا ریخ 29 جو لا ئی 1892ء بو قت نماز دو پہر جا مع مسجد میں چند مسلمان فرقہ غیر مقلد کے و نیز دیگر مسلمان مو جود تھے ۔ اہل اسلام فر قہ غیر مقلد کسی امام کے منجملہ چار امام کے پیرو کار نہیں ہیں ۔ فر قہ ہذا میں یہ دستور ہے کہ لفظ آ مین بآواز بلند بعد ختم کر نے الحمد دونوں ر کعت میںکہتے ہیں۔ جا مع مسجد شہر میں سب سے بڑی ہے، امام مقلد حنفی ہے ۔ اور دیگر فریق صرف حنفی ہیں ۔ جب غیر مقلد مذ کور مسجد میں آ نے لگے اورظا ہر ہوتا ہے کہ انہو ں نے سا ل ہذا (1892ء ) کی ماہ جو لا ئی سے آ نا شروع کیا ہے تو مقلدوں کو ان کا آ نا نا گوار گذرا اور متوا تر جمعو ں کو اس غر ض سے پولیس بھیجی گئی کہ تکرار نہ ہو بتا ریخ 29 جو لا ئی بعد ختم ہو نے نماز کے فساد واقع ہوا ۔ من جملہ مدعا علیھم ہذا کے ایک مدعا علیہ کو غلام محمد نے جو تو ں سے مارا ۔ پو لیس درمیان میں آ گئی ۔ غلام محمد کو بجر م دفعہ 296 عدالت ہذا میں چا لان کیا اس پر مقلدو ں نے عدا لت ہذا میں مدعا علیھم پر ایک استغا ثہ دا ئر کیا اس بیا ن پر کہ مدعا علیھم مذ کور نے جما عت مذ ہبی میں لفظ آ مین بآواز بلند کہنے سے عمداً دست اندازی کی ۔ مقدمہ ہذا میں نصیب خا ن مقلدو ں کا قا ئم مقا م سمجھا جا سکتا ہے ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں