تاریخ اہل حدیث۔ڈاکٹر بہاؤ الدین

  جر م  دفعہ 296  تعزیرا ت  ہند کی تا ئید  کے واسطے یہ ثا بت کر نا  ضروری ہے: 

 اول:  ایک جما عت  عبادت مذ ہبی  میں قا نو ناً مشغول  تھی  ۔

 دو م:   جما عت مذ کورمیں ملز ما ن مخل ہو ئے ۔

 سو م :  یہ فساد  قصداً کیا گیا  ۔

امور ہذا با لتر تیب  ثا بت کر نے چا  ہئیں ۔

نسبت امر اول میں کو ئی شک نہیں ہے ۔ نسبت  امر دوم جسٹس محمود نے تحریر کیا ہے  ، بحوا لہ  الفا ظ چیف جسٹس کے، قا نو ن میں  یہ نہیں در ج ہے کہ کس امر کو  فساد تصور کر نا چا ہیے   ہر ایک خا ص مقدمہ   میں یہ امر بطور بحث واقع فیصل ہو نا چا ہیے ۔

 تحریر مذ کور جسٹس محمود ،  بمقدمہ سر کار بنا م  رمضان   و غیرہ کی ہے ۔  مقد مہ ہذا کے واقعات سے ملتے ہیں ۔ مقد مہ مذ کور  میں امور ذیل ثا بت  کئے گئے تھے ۔

اول  یہ کہ ملز ما ن  برا بر  چارو ں جمعہ کو مسجد میں گئے۔   دو م  یہ کہ انہو ں نے  لفظ آ مین بآواز بلند کہنے  سے جما عت میں، جو نماز  پڑ ھ رہی تھی،  فساد پیدا کیا ۔ سو م یہ کہ  پو لیس  نے اس فساد کو جو ملز ما ن  نے پیدا کیا ، رفع کر نے کے واسطے  دست اندازی کی۔

مقد مہ  مذ کور میں  ہا ئی کو ر ٹ  نے مدعا علیہ

م کو جرم سے  بری کیا تھا  ، مقدمہ ہذا  میں بھی یہ ثا بت کر نے کی کو شش کی گئی  ہے کہ ملز ما ن   برا بر تین  یا چار متواتر  جمعو ں کو  ماہ جو لا ئی میں آ ئے   اور انہو ں نے  لفظ آمین  بآواز بلند کہنے سے فساد کیا  او جما عت میں،  جو نماز   پڑھ  رہے   تھے، مخل ہو نے کا ارادہ کیا  ۔ مقد مہ ہذا میں بھی  پو لیس نے  اسی فساد  میں جو ملز ما ن  کے لفظ آ مین  کہنے سے  پیدا ہوا دست اندازی کی ۔

بمقدمہ جنگو  بنام احمد اللہ و غیرہ بطور نظیر فیصل ہو چکا ہے کہ غیر مقلد جو مسلمان ہیں مسجد میں جا نے کا اور نماز  پڑ ھنے کا  اورلفظ آ مین  بآواز کہنے کا استحقاق ر کھتے  ہیں اور نیز  یہ طے ہو چکا ہے کہ کو ئی  حد آواز کی  از رو ئے  قا نو ن اہل اسلام  مقرر نہیں ہے  ۔ مقدمہ مذ کور  میں چیف جسٹس  نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ کو ئی مسلما ن  یا اور شخص مسجد میں  نماز   پڑھنے کے  وا سطے  نہ جا ئے، بلکہ  بد نیتی سے  فسا د بر پا کر نے  کے لئے  جا وے  اور مسجد  کے دیگر اشخا ص کی عبادت میں دست اندازی کر ے تو  اس پر فوجداری   مقد مہ قا ئم کیا  جاوے گا  ۔ مقد مہ  ہذا میں بیا ن ہوا ہے کہ ملز ما ن مسجد میں نماز پڑ ھنے کیلئے نیک نیتی  سے نہیں گئے۔ اس امر کی  تا ئید میں مستغیث  بیا ن کرتا ہے کہ عدا لت  دیوا نی  میں ایک نالش ما بین مقلد و غیر مقلد نسبت  کہنے آ مین بآواز بلند  زیر تجویز ہے اور جب تک   نالش مذ کور فیصل نہ ہو جا وے تب تک استحقاق کی با بت جس کی نسبت دعوی کیا گیا ہے کچھ  کاروائی نہ ہو نی چا ہیے ۔

 دو م: یہ کہ آواز،  جس قدر اجازت ہے  اس سے،  بہت زیادہ بلند تھی  ۔ بر و ئے نظیرا ت  محولہ  با لا و عد م مو جو دگی  شہادت  نسبت اس امر  کے کہ آواز مسجد سے با ہر گئی  جیسا کہ  لفظ آ مین معمو لی آواز میں  18 ، 19   اشخا س  کے کہنے سے آواز بلند  پیدا کرے گا، دلیل  مذکور قا بل لحا ظ نہیں ہے ۔

 سوم :یہ کہ غیر مقلدو ں  کے واسطے  ایک مسجد  جداگا نہ مو جود ہے ۔ اور جمعہ کی نماز   بارہ بجے مسجد مذ کور میں پڑ ھی جا تی ہے ۔ علاوہ  بر یں ملز ما ن  جمعہ کی  نماز خا ص  اپنی مسجد میں  پڑ ھنے  کے بعد جا مع مسجد میں آئے ۔

یہ امر تسلیم ہوا کہ محلہ خند ق  میں ایک  خا ص مسجد غیر مقلدو ں کی ہے۔ من جملہ گوا ہان  ثبوت  کے ایک گوا ہ مسمی محمد عمر نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ جو مسلمان  جمعہ کی نماز جا مع مسجد میں پڑ ھے  اسے  ستر نماز کا  ثوا ب  ہو تا ہے ۔ اس سے  یہ قیاس  ہو تا ہے کہ ہر ایک  مسلمان خواہ کسی فر قہ  کا ہو ، جا مع مسجد میں  جا نے کی  ایک و جہ رکھتا ہے  ۔ دلیل ہذا  کا دوسرا  جزو میری تسلی کے لا ئق  پورے طور پر  ثا بت نہیں  ہوا ہے ۔ جزو مذ کور کا پیش کر نے وا لا مسمی نصیب خان مستغیث محمود  خا ن  و محمد عمر  ہیں ۔ نصیب خا ن کا بیا ن ہے کہ جملہ  ملزما ن سے میں واقف  ہو ں،  میں مسجد خندق کے سا منے رہتا ہو ں ۔ میں نے ان سب کو مسجد مذ کور میں جاتے ہو ئے دیکھا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد ان سب کو  جا مع مسجد میں دیکھا  ایسا  بیان  مشکل سے  یقین ہوسکتا ہے ۔

مستغیث کے طریقہ بیان  سے اور اس امر سے کہ اس کا  بیا ن  دوسرے  اظہار سے  جو اس نے تحقیقات   ابتدا ئی  میں کیا، سا قط ہوا  ۔ میں اس کے  بیا ن پر یقین نہیں کر تا ۔  واقعا ت  ہذا علاوہ بر یں  اس کے اول  در خواست  میں نہیں در ج تھے  ۔ نہ نصیب خان نے پو لیس کے رو برو نہ میرے  رو برو تحقیقات ابتدا ئی  میں اس قسم کا بیا ن کیا کہ بیا ن  مذکور کی تا ئید بھی  نہا ئت کمزور نو عیت کی ہے  ۔ محمود خا ن، جس نے حلفیہ  یہ بیا ن کیا ہے کہ مسجد خندق  میں جملہ ملز ما ن تھے نیز جا مع مسجد میں موجود تھے ، مظفر نگر  سے میر ٹھ  میں خا ص اس   روز جمعہ کو آ یا تھا۔   یہ نا ممکن ہے کہ وہ  جملہ  ملز ما ن کو  جان جاتا اور حقیقت یہ ہے کہ  وہ تین  اشخا ص  سے زیادہ کی شناخت نہیں کر سکا ۔   اور اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ میں عدا لت میں  بہ تلاش روز گار آ یا ہوں۔  تیسرے گوا ہ  محمد خا ن کا  بیا ن  اسی طر ح  غیر قرین قیاس  ہے کہ میں مسجد خندق کی طرف گیا تھا  اور جملہ ملزما ن کو مسجد خندق سے  نکلتے ہو ئے دیکھا  تھا ۔ اور ان  سے  یہ در یا فت کیا تھا کہ کہاں جا تے ہو؟  انہو ں نے جواب میں کہا تھا کہ تمہیں ابھی معلوم ہو جا ئے گا ۔ اور تھو ڑی دیر بعد اس نے سب کو مسجد میں دیکھا تھا  اور ان میں سے چار اس کے سا منے تھے ۔ باقی کی نسبت  وہ یہ بیا ن کرتا ہے کہ میں نے   با  ہر جا کر دیکھے  تھے ۔ اس امر میں  بہت شبہ ہوتا  ہے ۔ جس کے  یہ  وجوہات ہیں کہ دو ہزار اشخاص وہاں مو جود تھے  اور گواہ مذ کور اس فساد کے دیکھنے کے واسطے جو بعد نماز واقع ہوا ان میں ٹھہرا رہا ۔ اس موقع پر میری را ئے میں دو تین گوا ہ کی  شہادت جو بدیں مضمون کے ہے کہ ہم نے  مولوی  حمید اللہ  و دیگر اشخا ص  سے جو من جملہ ملزمان ہیں گفتگو کی تھی اور یہ کہ مو لوی  حمید اللہ نے کہا تھا کہ ہم  اپنا مذ ہبی استحقاق  رکھتے ہیں اور مقلدوں کے امام ( ابو حنیفہ) کو گا لی دی تھی،  قا بل یقین نہیں ہے ۔ اس  طریقہ سے جس میں ہر ایک گوا ہ نے  اپنا  اظہار دیا،یہ امر ظا ہر ہوا کہ وہ سب سکھا ئے  ہوئے ہیں  ۔ میری را ئے   میں یہ شہاد ت  اس لئے پیش کی گئی  تا کہ ملز ما ن کی شنا خت کا  ثبو ت پختہ ہو ۔ 

چہارم :  دلیل مستغیث کی یہ ہے کہ ملز ما ن اس سے قبل تین  جمعہ کو مسجد  میں آ ئے تھے، مگر اس  امر کا کوئی  ثبو ت نہیں ہے کہ یہی  ملز ما ن  آ ئے تھے  اور نہ یہ بیا ن ہوا کہ کون آ ئے تھے  ۔ میں تمام  بیا ن کو بمقا بلہ  ملز ما ن  بطور ثبو ت  کے متصور نہیں کر سکتا  ۔

  پنجم : مستغیث نے  اخبار شحنہ ہند  میں بھی ایک مضمون ،  جو  احمد حسن شو کت  نے جو من جملہ  مدعا علیہم ہے تحریر  و طبع کیا تھا ، پیش کیا  ہے ۔ مضمو ن مذکور میں غیر مقلدو ں کو اس امر کی با بت کہ وہ اپنے استحقاق  ثا بت ہو نے کے واسطے عدا لت دیوانی میں نہیں گئے جو  ہا ئی کو ر ٹ  نے پیشتر تجویز کر دی ہیں ، ملا مت کرتا ہے ۔ مضمو ن  مذ کور میں  یہ نصیحت  ہے کہ وہ اپنی  نماز جا مع مسجد میں پڑ ھیں اگر وہاں  پیٹے جا ئیں  تو عدا لت میں جاویں ۔  اس سے  غیر مقلدو ں کو یہ نصیحت  ہو  تی ہے کہ  وہ ، وہ کا م کریں جن کے  کرنے کا  ان کو حق حاصل ہے ۔ یعنی  جا مع مسجد میں جا  ویں  اور لفظ آ مین  زور سے کہیں  ، صرف استحقاق کا قا ئم کر نا کو ئی جر م نہیں  ہے ۔  نیز اگر چہ  دیگر اشخا ص کو  اس امر سے کہ استحقاق موجود ہے  اور اس پر عمل کیا جا تا ہے، نا خو شی  پیدا ہووے ۔ لہٰذا  اخبار  میں ایسے حق کا ذکر کر نا  دیگر اشخاص کو فساد کر نے کا جوش   دلا نا نہیں کہا جا سکتا ۔  میں یہ امر قطعی نہیں یقین کر تا کہ جا مع مسجد میں  لفظ آ مین  بآواز بلند  پڑ ھنے  کے لئے جا نے سے کوئی  ذا تی عداوت  پیدا ہو ۔ لیکن صرف  ایک حر کت سے کہ غیر مقلد اپنی نماز کی رسم  پورا  کرنے  کے لئے کسی ایسی مسجد میں  جہا ں  بہ نسبت  دیگر مسا جد  کے زیادہ  ثوا ب  ہو تا ہے، رو کے گئے ۔  و نیزاس وجہ سے کہ غیر مقلد یہ بات  چاہتے ہیں کہ ہمارا استحقاق مسجد مذ کور میں نماز پڑ ھنے کی نسبت  وا ضح ہو جا ئے، ایسا کو ئی بیا ن نہیں  ہے کہ انہو ں نے کسی اور طریقے  میں کو ئی  بے ضا بطگی کی ہو  یا انہو ں نے لفظ آ مین  بے موقع  پڑ ھا ہو  ۔  مولوی رشید احمد  نے جو  فر قہ حنفی  کے سردار ہیں  یہ تجویز کی ہے کہ  لفظ آ مین بآواز بلند کہنے سے کسی کی نماز میں خلل واقع نہیں ہو تا بجز اوس شخص کی نماز کے جو لفظ آ مین بآواز بلند  پڑ ھے۔ منجملہ  چار  کے تین امام کے پیروکار    لفظ آ مین با لجہر کہتے ہیں ۔ اور کتا ب  درمختار میں جو جا مع مسجد کے قا ضی  نے،  جو گواہ  ثبو ت ہے، منظور کی  ہے ،  لفظ جہر کی  بابت تحریر  ہے کہ  ہر ایک شخص مسجد میں سن سکتا ہے ،  صورت مذ کور میں لفظ آ مین  بآواز بلند کہنے سے کسی اہل اسلام کی نماز  میں خلل نہیں ہو سکتا  ۔ در حقیقت  اس سے صرف یہ خلل  پیدا ہو تا ہے کہ پرستش کنند گا ن کے خیالا ت  خدا کی طرف سے بد ل جا تے ہیں اور بعد الحمد کہنے (سورہ فا تحہ ختم کر نے کے بعد )  کے قا ضی جو کہ امام ہے  بہ نسبت معمول  کے زیادہ  عرصہ تک ٹھہرا رہا اور بمو جب ان کی غیر تا ئید شہادت  کے وہ اصل  فقرہ  قر آ ن کا، جس کے پڑھنے کا ارادہ تھا،   بھو ل گیا۔ گواہ  ہذا کے مر تبہ پر غور کر نے سے  میری یہ را ئے ہے کہ آ پس کی رنجش کی و جہ سے  ان کی جماعت کے لو گو ں  نے ان کو ایسے  بیا ن کر نے پر مجبور کیا ہے ۔ اس موقع پر میں تجویز کرتا ہوں کہ مقد مہ ہذا میں  گواہان  علاوہ قا ضی عبد الباری کے ایسی  حیثیت کے نہیں ہیں  جیسے  ایسے شدید مقد مہ میں ہو نے چا ہییں جو کہ دو  ہزار اہل اسلام  میں سے منتخب کئے گئے تھے ۔ فی الحقیقت مجھ کو   یہ ظا ہر ہو تا ہے کہ استغا ثہ ہذا صرف مقد مہ سر کار  بنام محمد کا بد لا ہے جس کا تجویز ہذا میں  او پر جوا ب دیا ہے ۔  یہ ثا بت کر نے کی کوشش کی ہے کہ ملز ما ن  جا مع مسجد  میں  متواتر  تین جمعو ں کو گئے تھے۔ مگر اول جمعہ کو ، نہ دوم جمعہ کو نہ اس تیسرے موقع پر  مقلدوں نے لفظ آ مین  بآواز  بلند کہنے  کے مقا بلہ میں کو ئی کاروا ئی کی۔  انہو ں نے  استغاثہ اس وقت دا ئر کیا جب کہ ان میں سے  ایک پر یہ الزا م  لگا یا گیا کہ فریق   مقا بل ایک شخص کو  بوجہ  لفظ آ مین  بآواز بلند  پڑ ھنے   کے جو تو ں  سے مارا ۔  میری را ئے  میں   بروئے  واقعات  جو بمو جب شہادت ثا بت ہو ئے ہیں، کو ئی  فساد متعلقہ  دفعہ 296  تعزیرات ہند  واقع نہیں ہوا ۔ اور  نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملز ما ن  جا مع مسجد میں فساد  پیدا کر نے کے لئے  گئے ۔  لہٰذا  حسب دفعہ 253  ضا بطہ  فوجداری  استغا ثہ ڈسمس کیا گیا  اور ملز مان رہا  کئے گئے۔  18 ۔ اگست 1892ء   دستخط مسٹر را ئٹ (بحرو ف انگریزی )

(مجمو عہ فیصلہ جا ت  مقد ما ت آ مین  با لجہر۔ منقول  از ضمیمہ شحنہ ہند مطبو عہ 16 مئی  1897ء)

مقد مہ آ مین  با لجہر1892ء

باجلاس مسٹر را ئٹ مجسٹریٹ  میر ٹھ

سر کار     بنا م غلام محمد ۔  دفعہ 296  تعزیرا ت ہند

فیصلہ :  واقعا ت  متذ کرہ  مقد مہ   ہذا  برو ز جمعہ  29 جولا ئی  1892ء   بوقت نماز دو پہر   جامع مسجد میں واقع ہو ئے ۔ مسجد مذ کور  میں تین جمعہ گز شتہ کو   چند آدمی اہل حدیث  کے  آئے ۔ مسجد مذ کور  اس وقت تک اہل اسلام  متعلقہ فر قہ حنفیہ  کے جدا گا نہ استعمال میں تھی ۔ نتیجہ  یہ ہوا کہ فریقین  میں تنازعہ  بر پا ہوا  چو نکہ فر قہ اہل  حد یث  دو نوں رکعت میں لفظ آ مین  بآواز   بلند پڑ ھتے ہیں  اور فر قہ حنفی  اس لفظ کو آ ہستہ کہتے ہیں،  پس فساد رو کنے کیلئے مسجد  مذ کور میں  پو لیس بھی مو جود تھی ۔ تا ریخ تنازع کو  نماز حسب معمول شروع ہوئی   اور دونوں  رکعت  میں بعد پڑ ھنے الحمد کے  لفظ آ مین  بآواز بلند  پڑ ھا گیا  ۔ نماز کے ختم  ہونے  پر  بروقت  دعا  ما نگنے   غلام  محمد  اٹھ کر حسینی (حا جی محمد حسین)  کی طرف گیا  جس نے  لفظ  آمین  زور سے  پڑ ھا تھا  اور اس کو جو تے  ما رے ۔ پو لیس نے  فوراً  دست اندازی کی ۔ اور ملز م پر  یہ الزام لگا یا گیا  وہ ایک جما عت  میں جو نماز  پڑ ھ رہے تھے، مخل ہوا  ۔ مقد مہ ہذا  میں حملہ تسلیم  کیا گیا  ۔ حالانکہ  ملز م  نے یہ  ثا بت کر نے کی کو شش کی  اور گواہ پیش کئے کہ حملہ اس  زبا نی تکرار کی و جہ سے لفظ آ مین پر واقع ہوا  جس میں حسینی  نے  ملز م  اور اس کے امام کو گا لی دی ۔   بر خلاف  اس کے حسینی کا یہ بیا ن ہے کہ بلا کچھ کہنے  کے جو تے ما رے  اور میں خا موش  رہا ۔  سب انسپکٹر  جو نماز پڑ ھ رہا تھا  ( حا لا نکہ وہ مقلد ہے ) حسینی  کے بیا ن کی تا ئید کر تا ہے  اور میں کو ئی و جہ بیا ن مذ کور  پر یقین نہ کرنے کی نہیں دیکھتا  ۔  ثبو ت  کا  نہا ئت معزز گواہ مسمی قا ضی عبد الباری  یہ نہیں بیا ن کرتا کہ  ما ر نے سے پہلے  جو ش کی کو ئی گفتگو  ہو ئی تھی ۔ اور جن گوا ہو ں  نے ملز م کی  تائید کی  ہے میں انکے بیا نا ت  پر یقین نہیں کر تا میں بلا  تو قف تحریر کر تا ہو ں کہ  غلام  محمد  نے ازخود حملہ کیا ۔

اب یہ اَمر فیصلہ طلب ہے کہ جو فعل  صادر  ہوا وہ  ایسا ہے کہ حسینی ایک  جما عت  میں جو نماز پڑ ھنے  میں قانو ناً  مشغول تھے، خلل پیدا کیا۔  اس موقع  پر  میں مقد مہ سر کار  بنا م ر مضا ن  و غیرہ کا حوا لہ دیتا ہوں  جس میں جسٹس محمود نے یہ الفا ظ استعمال  کئے ہیں :  اگر  بحث  نماز  میں یا  بعد  میں واقع  ہو حا لا نکہ وہ مسجد میں ہو، میرے یقین میں گو بحث  مذ کور  فساد تصور کی جا وے  تا ہم وہ  منشا دفعہ 296 میں نہیں ہو سکتی  ۔

جسٹس محمود  نے انگریزی مقد مہ  ولیم  بنام کلکٹر کا بھی  حوا لہ  دیا  جس میں یہ قرار  پا یا ہے کہ مدعا علیہ پر جس نے  ایک نو ٹس  پادری کمرہ  میں جا تا تھا  جب کہ عبادت نہیں ہو رہی تھی،  پڑ ھا ، مقد مہ فو جداری  قائم نہیں ہو سکتا ۔  حا لا نکہ مسجد گر جا سے  ہر صورت میں   مطابق نہیں ہو سکتی ۔ تا ہم   میری   رائے میں  مقد مہ مذ کور  میں جو فعل  مدعا علیہ نے کہا وہ اس فعل سے  مقد مہ ہذا میں  واقع ہوا، مطا بق ہے ۔ میری را ئے میں  دعا ما نگنا   اس نماز سے  جو انگریز ی نماز  کے ختم ہو نے پر  خا موشی سے پڑ ھی جا تی ہے،  مطا بق ہے  ۔ قا ضی کی شہادت سے  وا ضح ہو تا ہے کہ دعا ما نگنا  عمو ماً اس وقت تک جاری رہتا ہے جب کہ امام از خود  نماز ختم کر لیتا ہے جیسا کہ انگریزی نماز  میں پادری کی نماز ختم کر نے سے  یہ سمجھا جا تا ہے کہ  جملہ  حا ضرین  ر خصت ہو ں  ۔ تاہم کسی صورت میں  نماز کی کو ئی   ظاہرا  حد نہیں ۔  اور نہ کسی  صورت  میں دعا بطور ایسی  چیز کے ہے کہ  بغیر اس کے  نماز نہیں ہو تی۔ دعا ما نگنے کی نسبت  یہ وا ضح ہو تا ہے کہ وہ  مکا ن  پر ما نگی  جا وے ۔ اکثر وہ قطعی نہیں ما نگی جا تی  ۔ وہ نماز کا کو ئی ضروری  جزو نہیں، کو ئی فر ض نہیں مگر اس کے ما نگنے سے فا ئدہ ہے ۔ اگر نہ ما نگی جا ئے تو کو ئی گناہ نہیں۔ مستغیث نے تسلیم کیا  ہے کہ حملہ  امام کے دعا  ما نگنے  میں واقع ہوا۔  جس امر کی نسبت تفاوت  پیدا ہو تا ہے  وہ یہ ہے کہ غیر مقلدو ں کا  یہ بیا ن ہے کہ  دعا نماز کا  ضروری جزو ہے ۔ اور مقلدو ں کا  یہ بیا ن ہے کہ  وہ  ضروری  جزو نہیں۔ فریقین نے اپنے اپنے بیا نات کی تا ئید میں منتخب حد یثیں  پیش کی ہیں ۔ مگر میری را ئے  میں وز ن شہادت  مدعا علیہ  کے دلا ئل کی جانب ہے۔  اہل  اسلام میر ٹھ  کے مذ ہبی سردار  نے یہ را ئے  ظا ہر کی ہے کہ وہ نما زکا ضروری  جزو نہیں۔ لہٰذا  میری  را ئے میں   نماز کا کو ئی  ایسا جزو  جس کا ادا کر نا  فر ض ہے  اور جس کے  پڑ ھنے سے  خاص ثوا ب  حا صل ہو تا ہے،  بر وقت   ارتکا ب حملہ  جا ری نہ تھا ۔ اس موقع پر  یہ تحریر کر نا پچھلی بات کی تائید کے  واسطے  ضروری ہے کہ حملہ  فوراً ان الفا ظ  کے بعد، جن سے فساد  پیدا ہوا،  واقع  نہ ہوا تھا ۔  اس سے ظا ہر ہو تا ہے کہ ٹھہر نے سے  ملز م کی کو ئی  خاص غر ض تھی۔ یہ قیاس ہو تا ہے کہ اس کا ارادہ  نماز ختم  ہو جا نے کے بعد تک ٹھہرے  رہنے کا تھا  ۔ اگر اس کا  ارادہ  یہ ہو تا  تو وہ  لفظ آ مین  پر جو زور سے  پڑ ھا گیا  فوراً کھڑا ہو جا تا ۔ اس صورت میں اشتعال شدید  دفعتاً ہو تا  اور ایسی کاروا ئی کر نے کا  اس کو زیادہ  استحقاق   قانوناً  حا صل ہو تا  ۔ مگر ظا ہر ہو تا ہے کہ ا س کا منشا  دیگر اشخا ص کی نماز  میں دست اندازی کر نے کا نہ تھا  اور نہ وہ  خا ص اپنی نماز چھو ڑ نا چا ہتا تھا۔ اس لئے وہ نماز ختم ہو نے تک ٹھہرا رہا ۔ لہٰذا میری را ئے میں  بمو جب دفعہ 296 تعزیرا ت  ہند کو ئی جر م واقع  نہیں ہوا  مگر  غلام محمد  بلا شک  بموجب  دفعہ 323  تعزیرا ت ہند آ تا ہے،  اس نے  از خود  ضر ب پہونچا ئی  ۔ میری را ئے میں   اس قدر جوش نہ تھا  جس کی بنا  پر اس کو کاروا ئی کر نے کا استحقاق  حا صل ہو تا ۔ میں غلام  محمد پر دفعہ 323  تعزیرا ت ہند قا ئم کر تا ہو ں  اور مبلغ 2۵ رو پئے جرما نہ کر تا ہو ں ۔ اگر جر ما نہ  ادا نہ کر ے  تو دو ہفتہ قید سخت رہے اور حسب  دفعہ 106  ضا بطہ فو جداری  میری را ئے ہے کہ  غلام محمد سے مچلکہ تعدادی  سو رو پئہ معہ دو  ضمانت تعدادی سو سو رو پیہ میعا دی چھ ماہ لیا جا ئے ۔ اگر مچلکہ و ضما نت دا خل نہ کر ے  توچھ ماہ قید محض رہے ۔ چنا نچہ یہ حکم دیا جا تا ہے ۔ 20۔ اگست  1892 ء ( دستخط مجسٹریٹ )

(مجمو عہ فیصلہ جا ت  مقد ما ت آ مین  با لجہر۔ منقول  از  ضمیمہ شحنہ ہند مطبو عہ 16 مئی  1897ء)

٭٭٭

تبصرہ کریں