تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

حضرت الا مام﷫ نے اپنے شاگرد رشید امام ابویوسف﷫ سے کہا :

ویحك یایعقوب! لاتکتب عنی کل ماأقول. فإننا بشر. نقول القول الیوم، ونرجع القو ل غداً، ونرجع عنه بعد غد. ( الا نتفاء فی فضا ئل الثلا ثۃ ا لآ ئمۃ الفقہاء ، لا بن عبد البر: ص 145)

’’اے یعقوب ! میری زبا ن سے نکلی ہو ئی ہر با ت مت لکھا کر و، اس لئے کہ ہم بھی ایک انسا ن ہیں ، آ ج ہم ایک بات کہتے ہیں اور کل اس سے ر جوع کر لیتے ہیں ، کل کی کہی ہو ئی با ت سے پر سو ں ر جوع کر لیتے ہیں۔‘‘

آ پ نے اہل علم و فتوی کو تا کید فر ما ئی :

حرام علی من لم یعرف دلیلی أن یفتی بقو لی. ( المیزا ن الکبری للشعرا نی، ص 38 )

’’جس شخص کو میری کہی ہو ئی با ت کی دلیل کا علم نہیں ، اس پر حرا م ہے کہ وہ میرے قو ل پر فتوی جاری کرے ۔‘‘

اور آ پ نے اپنا مذ ہب ان الفا ظ میں بیان فر ما یا :

إذا صح الحدیث فهو مذهبی

’’جب حد یث صحیح ثا بت ہو جا ئے تو وہی میرا مذ ہب ہے ۔‘‘

یعنی حد یث صحیح کے مقا بلے میں کسی کی رائے کو اہمیت حا صل نہیں ۔ میری را ئے بھی حد یث کے خلاف ہو تو وہ بھی قا بل التفات نہیں بلکہ تر ک کے لا ئق ہے اور حد یث صحیح ہی ا صل چیز ہے اور یہی میرا مذ ہب ہے ۔ آ پ جب فتوی دیتے تو فر ما تے :

یہ نعمان بن ثا بت کی را ئے ہے ہمارے خیا ل میں یہ بہت ا چھی را ئے ہے ۔ جو اس سے بہتر بات پیش کر ے اس کی با ت کو تر جیح ہے ۔ (اعلام الموقعین: 1؍75)

آ پ حد یث کو کتنی اہمیت دیتے تھے؟ اس کاانداز ہ امام ابو یو سف کے اس واقعہ سے لگا سکتے ہیں کہ اما م ابو حنیفہ کا مسلک یہ بیا ن کیا گیا ہے کہ وقف کا فرو خت کر نا جا ئز ہے، حا لا نکہ حد یث میں وا ضح طور پر مو جود ہے :

لا یباع اصلھا و لا یوھب و لا یورث ( بخاری :رقم الحدیث 2772)۔ وقف نہ فرو خت کیا جا ئے، اور نہ ورثے میں تقسیم کیا جا ئے ۔

اما م ابویو سف فر ما تے ہیں :

لو بلغ أبا حنیفة هذا الحدیث لقال به، ورجع عن بیع الوقف ( سبل السلا م شر ح بلو غ المرا م للصنعا نی : 3؍ 86)

’’اگر اما م ابو حنیفہ کو یہ حد یث مل جا تی تو اس کے مطابق ہی مو قف ا ختیار کر تے اور اپنے بیع وقف کے مسلک سے ر جوع کر لیتے ۔‘‘

قا ضی صدر الدین ابن ابی العز حنفی لکھتے ہیں :

وقد قال أبو یوسف لما رجع عن قوله فی مقدار الصاع وعن صدقه الخضروات وغیرھا: لو رأی صا حبی ما رأیت لرجع کما رجعت ( ا لا تباع لا بن ابی العز الحنفی : ص 28 مکتبہ سلفیہ لا ہور )

’’جب اما م ابو یو سف نے صا ع کی مقدار اور سبز یوں میں زکوۃ و غیرہ کے مسا ئل میں ر جوع کر لیا تو فر ما یا : اگر میرے استاد کے علم میں بھی وہ چیز آ جا تی جو میرے علم میں آ ئی تو وہ بھی اسی طر ح ر جوع کر لیتے جیسے میں نے ر جوع کر لیا ۔‘‘

گو یا اما م ابو حنیفہ ؒنے اپنے تلا مذہ کی تر بیت ایسے انداز میں فر ما ئی کہ قر آ ن و حد یث کے نصو ص کا ا حترا م اور ان کا تسلیم کر نا ضروری ہے اور یو ں ان کو فقہی جمود سے بچنے کا درس دیا ۔ یہی و جہ ہے کہ امام صا حب ؒ کے خصو صی تلا مذہ امام ابو یو سف ؒاور اما م محمدؒ نے اپنے استا د سے بے شمار مسا ئل میں ا ختلا ف کیا ، یہاں تک کہ ان کی دو گنی د وتہا ئی بیا ن کی گئی ہے ۔ اما م غزا لی ؒ فر ما تے ہیں :

استنکف أبو یوسف و محمد من اتباعه فی ثلثی مذ هبه (المنحو ل من تعلیقا ت ا لا صو ل للغزا لی ۔ دار الفکر بتحقیق محمد حسن ھیتو)

’’ ان دو نو ں شا گر دو ں نے اپنے امام کے مذ ہب کے دو تہا ئی مسا ئل کا انکار کیا ہے۔‘‘

اور یہ ا ختلا ف فروعی مسا ئل تک محدود نہیں بلکہ یہ اختلاف جنا ب عبد الحی لکھنوی کے بقو ل ا صو ل میں بھی کچھ کم نہیں چنا نچہ وہ مقد مہ ، عمدۃ الر عا یہ ، میں تحریر فر ما تے ہیں :

فإن مخالفتھما لأبی حنیفة فی الأصول غیر قلیلة حتی قال الإما م الغزا لی: إنھما خا لفا أبا حنیفة فی ثلثی مذ هبه (مقدمہ عمدۃ الر عا یہ فی حل شرح الوقا یہ: ص 8 ۔ مطبع مجتبا ئی دہلی )

’’ یعنی دو نو ں شا گر دو ں کی اپنے استاد اما م ابو حنیفہ﷫ سے ا صو ل میں مخا لفت بھی کچھ کم نہیں ، حتی کہ اما م غزالی﷫ نے کہا کہ انہوں نے اپنے استاد کے مذ ہب سے دو تہائی مسا ئل میں ا ختلا ف کیا ہے۔‘‘

مذ کورہ تفصیل سے وا ضح ہے کہ اما م ابو حنیفہ اور ان کے تلا مذہ خا ص ہر گز اس فقہی جمود کے قا ئل نہیں ہیں جو ان کے بعد ان کے اکثر پیرو کا رو ں اور نا م لیواؤں میں پیدا ہوا ۔ نہ انہو ں نے ا حا دیث سے انحراف و گر یز کے لئے خا ص ا صو ل و ضع اور استعما ل کئے جیسا کہ بعد کے اعتزا ل سے متا ثر فقہا ئے حنفیہ نے و ضع کئے اور ان کی بنیاد پر بہت سی ا حا دیث کو رد کر دیا جیسا کہ آ گے اس کی کچھ ضروری تفصیل آ ئے گی ۔

انہی کے نقش قدم پر چلنے وا لے وہ بعض علماء ہیں جنہوں نے احا دیث صحیحہ کی بنیاد پر اپنی فقہ حنفی کے بہت سے مسا ئل یا بعض کو چھو ڑ دیا اور ا حا دیث کو ترجیح دی، جیسے جنا ب عبد الحی لکھنوی و غیرہ ہیں جس کی تفصیل جنا ب ارشاد الحق ا ثری کی کتا ب ،مسلک احنا ف اور مولا نا عبد الحی لکھنوی ، میں ملا حظہ کی جا سکتی ہے ۔ انہو ں نے ایک دو نہیں ، بیسیو ں مسا ئل میں حنفی فقہ کوچھو ڑ کر اس مسلک اور را ئے کو ا ختیار کیا جس کا ا ثبا ت ا حا دیث سے ہو تا ہے ۔ اس طر ح اور بھی بعض حنفی علماء ہیں جنہو ں نے یہی موقف ا ختیار کیا اور حد یث کو اور اس سے ثا بت شدہ مسئلے کو تر جیح دی ۔ ان میں ایک نہا یت نما یا ں مثا ل شا ہ ولی اللہ محدث دہلوی ( ف 1176ھ ) کی بھی ہے جن کے طرز فکر و عمل کو اپنا نے کا دیو بندی ا حناف بھی دعوی کر تے ہیں لیکن یہ ان کا صرف دعوی ہی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہو تا تواہل حد یث اور ا حنا ف کے در میا ن فقہی ا ختلا فا ت کی خلیج یا شد ت کم ہو جا تی ۔ شا ہ صاحب کے موقف کو ہم اپنی با ت کی و ضا حت کے لئے یہاں اپنے الفا ظ اور سیاق میں بیا ن کر نا منا سب سمجھتے ہیں ۔

علا وہ ازیں شا ہ صا حب ؒ نے اپنی مخلصانہ مسا عی سے جہاں ایک طرف فقہی جمود کو تو ڑا ، وہاں دوسری طرف اس کو کم کر نے کے لئے ایسے فکری و نظر یا تی خطو ط کی بھی نشا ن دہی فر ما ئی ہے جنہیں ا ختیار کر کے فقہی ا ختلا فا ت کی شد ت و وسعت اور حز بی تعصب کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انہو ں نے اس کے لئے ایک تجو یز تو یہ پیش کی ہے کہ فقہی ا ختلا فا ت بالخصو ص حنفی شا فعی ا ختلا فا ت قر آ ن و حد یث کے ظوا ہر پر پیش کئے جا ئیں ، جو ان کے مطا بق یا ان کے اقرب ہو ں انہیں تسلیم کر لیا جا ئے اور جو فقہی مسا ئل قر آ ن و حد یث کے خلاف ہو ں انہیں تر ک کر دیا جا ئے ۔ دوسری تجو یز یہ پیش کی کہ فقہا ئے اہل حد یث اور فقہا ئے اہل الرا ئے دو نو ں اعتدا ل کا را ستہ ا ختیار کر یں ۔ اول الذ کر گروہ قر آ ن و حد یث کے ظوا ہر کو تقدس کا اتنا در جہ نہ دے کہ تفقہ بالکل نظر انداز ہو جا ئے ، جیسے اہل ظا ہر ( اما م ابن حز م﷫ و غیرہ ) نے کیا ، اور ثا نی الذ کر گرو ہ اقوال آ ئمہ کو اتنی اہمیت نہ دے کہ قر آ ن و حدیث کے نصوص سے بھی وہ فائق تر ہو جا ئیں ، بلکہ اس کے بین بین را ستہ ا ختیار کیا جا ئے ۔ فقہا ئے کرا م کی فقہی کا و شو ں سے بھی استفا دہ کیا جا ئے لیکن نصوص صر یحہ کا بھی پورا ا حترا م و تقدس ملحو ظ خا طر رہے ۔ اسے وہ محققین فقہا ئے اہل حد یث کا طر یقہ بتلا تے ہیں اور اسی کی تلقین انہو ں نے بہ شد و مد اور بہ تکرار و ا صرار کی ہے ۔ اس سلسلے کی چند عبارتیں پیش خد مت ہیں ۔

اپنی مشہور تا لیف التفہیما ت ا لالٓہیہ میں عقا ید کے بارے میں کتا ب و سنت ، قد ما ئے اہل سنت اور سلف کے منہا ج کی پا بندی کی و صیت کر تے ہو ئے فروعات کے بارے میں شا ہ ولی اللہ محد ث ؒ لکھتے ہیں:

و در فروع پیروی علمائے محد ثین کبار کہ جا مع با شند میان فقہ و حدیث کردن و دا ئماً تفر یعا ت فقہیہ رابر کتاب و سنت عرض نمو دن آ نچہ موا فق با شد در حیز قبول آ وردن و الا کالائے بد بر یش خا ونددا دن ۔ امت راہیچ وقت از عر ض مجتہدات بر کتاب و سنت استغناء حا صل نیست و سخت متقشفہ فقہاء کہ تقلید عالمے را دست آ ویز سا ختہ تتبع سنت را تر ک کر دہ اند نشنید ن و بہ ایشاں التفات نہ کر دن و قر ب خدا جستن بدو ریء ایناں . ( تفہیما ت، طبع جد ید: 2؍288)

’’فروع میں علمائے محد ثین کی پیروی کر نا جو حد یث وفقہ کے جا مع ہیں ۔ مسا ئل فقہیہ کو کتاب و سنت پر پیش کر نا، جو ان کے موا فق ہو ں انہیں قبو ل کر نا اور مخا لف کو پھینک دینا ۔ امت کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ ہر وقت اجتہادی مسا ئل کو کتا ب و سنت پر پیش کر تی رہے اور وہ خشک فقہاء جنہو ں نے تقلید کو ضروری قرار دے ر کھا ہے اور سنت کی تلا ش و جستجو کو تر ک کیا ہوا ہے ، ان کی با تیں نہ سننا ، نہ ان کی طرف نظر التفات کر نا ، ان کے بغیر ہی حق تعالی کے قرب کی جستجو کر نا ۔‘‘

التفہیما ت ا لالٰہیہ میں شا ہ ولی اللہ﷫ فر ما تے ہیں:

أنه أقول لهؤلاء المسمین أنفسھم بالفقهاء الجامدین علی التقلید یبلغهم الحدیث من أحادیث النبیﷺ بإسناد صحیح، وقد ذهب إلیه جمع عظیم من الفقهاء المتقدمین، ولا یمنعھم إلا التقلید. لمن لمیذهب إلیه، و لهؤلا الظاهرية المنکرین للفقهاء الذین هم طراز حملة العلم. وآئمة أهل الدین إنھم جمیعاً علی سفا هة وسخافة رأی و ضلالة و إن الحق أمر بین بین . ( طبع جد ید شا ہ ولی اللہ اکیڈ یمی حیدر آ باد سندھ : 1؍277)

’’میں ان سے کہتا ہو ں جو خود کو فقہاء سمجھتے ہیں اور ان میں انتہا ئی تقلیدی جمود آ چکا ہے کہ جب ان کو امت میں معمو ل بہ صحیح حد یث پہنچتی ہے تو اس پر عمل سے انہیں صرف تقلید جا مد ر و ک دیتی ہے اور با لکل ظا ہر پرست حضرات سے بھی کہتا ہو ں جو ایسے فقہاء کا انکار کر تے ہیں جو حا ملین علم اور آ ئمہ دین ہیں کہ یہ دونوں فر یق غلط را ہ پر رہے ہیں ۔ یہ کم فہمی کی را ہ ہے اور معا ملہ ( حق) ان دو نوں کے بین بین ہے ۔‘‘

کچھ آ گے چل کر شا ہ ولی اللہ فر ما تے ہیں :

وأشھد للہ باللہ انه کفر با للہ أن یعتقد فی رجل من ا لآئمة ممن یخطی و یصیب ان اللہ کتب علیّ اتباعه حتماً، و ان الواجب علیّ هو الذی یو جبه هذا الرجل علیّ، ولکن الشر یعة الحقة قد ثبتت قبل ھذا الرجل بزمان، قد وعاھا العلماء، وأداها الرواة. وحکم بھا الفقهاء، وإنما اتفق الناس علی تقلید العلماء علی معنی انهم رواة الشر یعة عن النبیﷺ انھم علموا ما لم نعلم ، و انھم اشتغلوا بالعلم ما لم نشتغل، فلذلك قلدوا العلماء، فلو أن حدیثاً صح، و شهد بصحته المحدثون، و عمل به طوائف، فظهر فيه الأمر، ثم لم یحمل به هو، لأن متبوعه لم یقل به، فهذا ھو الضلال البعید . ( حوا لہ مذ کور: ص279)

’’میں اللہ کے لئے اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہو ں کہ امت میں سے کسی آد می کے متعلق ، جس سے خطا و صوا ب دو نو ں باتو ں کا ا حتما ل ہے ، یہ اعتقا د ر کھنا کہ اللہ نے اس کی اطا عت مجھ پر فر ض کر دی ہے اور میرے لئے صرف وہی چیز وا جب ہے جسے وہ وا جب قرار دے ، کفر ہے ، کیو نکہ شر یعت اس شخص سے مد تو ں پہلے مو جود ہے ، جسے علماء نے یاد کیا، راویوں نے بیا ن کیا اور فقہاء نے اس کے مطا بق فیصلے کئے ۔ لو گو ں نے علماء کی تقلید پرصرف اس لئے اتفاق کیا کہ وہ نبی کریمﷺ سے شر یعت کے راوی ہیں ، انہیں جو علم تھا ہمیں نہیں اور علم ان کا مشغلہ تھا ، جب کہ ہمارا ویسا مشغلہ نہیں ۔ لیکن اگر حد یث صحیح ہو ، محد ثین نے اس کی صحت کی گوا ہی دی ہو ، لو گو ں نے اس پر عمل کیا اور معا ملہ وا ضح ہو چکا ہو ، پھر اس حد یث پر اس لئے عمل نہ کیا جا ئے کہ اس کے اما م یا متبوع نے اس کے مطا بق فتوی نہیں دیا، تو یہ بہت بڑی گمرا ہی ہے۔‘‘

نیز شا ہ ولی اللہ محد ث فر ما تے ہیں :

ونشأ فی قلبی داعية جهة الملأ الاعلی، تفصیلھا ان مذهبي أبی حنیفة و الشا فعی هما مشهوران فی الأمة المرحومة. وهما أکثر المذاهب تابعاً وتصنیفاً، وکان جمهور الفقهاء والمحدثین والمفسرین و المتکلمین والصوفية متمذهبین بمذهب الشافعی، وجمهور الملوك و عا مة الیونان متمذهبین بمذهب أبی حنیفة، و ان الحق الموافق لعلوم الملأ الاعلی الیوم أن یجعلا کمذهب واحد، یعرضان علی الکتب المدونة فی حدیث النبی ﷺ من الفریقین، فما کا ن موا فقاً بها یبقی، و مالم یوجد له أصل یسقط، و الثابت منها بعد النقد أن توافق بعضه بعضاً فلذلك الذی یعض علیه با لنواجذ، و ان تخالف تجعل المسئلة علی قولین، و یصح العمل علیھما أو یکون من قبل اختلاف أحرف القرآن أو علی الرخصة و العزیمة أو یکونان طر یقین للخروج من المضیق، کتعدد الکفارات أو یکو ن أخذا بالمباحین المستویین. لا یعد و الأمر هذه الو جوه إن شاء اللہ تعالی. (التفہیمات ا لا لٰہیہ: 1؍280، حیدر آ باد سند ھ ۔ 1967ء )

اس عبار ت کا خلا صہ یہ ہے:

’’ملا علی کی طرف سے میرے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اما م ابو حنیفہ اور اما م شا فعی کے مذا ہب کو جو امت میں مشہور ہیں ، ان دو نو ں کو یکجا کر دیا جا ئے ( جس کا طر یقہ یہ ہے کہ ) دو نو ں مذا ہب کے فقہاء و علماء کی مرتبہ کتا بو ں کو حد یث نبوی پر پیش کیا جا ئے ، جو مسائل حد یث کے موا فق ہو ں ، قبو ل کر لئے جا ئیں اور جن کی ا صل حد یث میں نہ ہو ، انہیں ساقط کر دیا جا ئے ۔ اس طر ح نقد و نظر ( جا نچ پڑ تا ل ) کے بعد جن مسا ئل میں اتفاق ہو جا ئے ان پر مضبو طی سے عمل کیا جا ئے ۔ اگر ا ختلا ف ہو تو وہا ں دو را ئیں تصور کر لی جا ئیں اور دو نو ں پر عمل صحیح سمجھا جا ئے ۔‘‘

التفہیما ت جلد دو م میں اس کی با یں طور و ضا حت فرماتے ہیں :

ونحن نأخذ من الفروع ما اتفق علیه العلماء، لاسیما ھاتان الفرقتان العظیمتان الحنفية و الشا فعية، وخصوصاً فی الطهارة و الصلوة، فإن لم یشیر الاتفاق، واختلفوا، فناخذ بما یشھد له ظاهر الحدیث و معروفه ونحن لا نزدری أحداً من العلماء، فالکل طالبوا الحق، ولانعتقد العصمة فی أحد غیر النبی ﷺ و المیزان فی معرفة الخیر والشر الکتاب علی تأویله الصریح، ومعروف السنة، لااجتهاد العلماء و لا أقوال الصوفیة. (التفہیمات الالٰہیہ: 2؍ 242۔243)

اس عبارت کا خلا صہ حسب ذیل ہے :

فروعات میں وہ چیزیں لے لی جا ئیں جن پر علماء متفق ہو جا ئیں ۔ با لخصو ص حنفی ، شا فعی فقہ سے نماز اور طہارت کے متفقہ مسا ئل لے لئے جا ئیں ۔ اور اگر اتفاق نہ ہو سکے توپھر ظا ہر حد یث اور معروف حد یث کے مطا بق عمل کیا جا ئے ۔ ہم کسی صا حب علم کی تحقیر نہیں کرتے سب حق کے طا لب تھے ،تا ہم نبی اکرمﷺ کے علاوہ ہم کسی اور کی عصمت کا اعتقا د نہیں رکھتے، اور خیر و شر کی معرفت کے لئے میزا ن ہمارے نز د یک اللہ کی کتا ب اور معرفت سنت ہی ہے نہ کہ علما کے اجتہاد اور صو فیہ کے اقوا ل۔

ا لانصا ف اور عقد الجید میں بھی شا ہ ولی اللہ نے اس موضوع پر بڑی عمدہ اور مفیدبحثیں کی ہیں، بلکہ یہ دونوں کتا بیں خا ص اسی مو ضوع پر ہیں اور فقہی اختلاف کا ایک معتد ل حل پیش کر تی ہیں ۔

ان اقتباسا ت سے دو با تیں بہر حا ل وا ضح ہیں:

1 ۔ انکے نز دیک نصوص قر آن و حد یث د یگر تما م اجتہا دا ت واقوا ل آ ئمہ سے زیادہ اہم ہیں ۔

2 ۔ وہ فقہی اختلا فا ت اور تقلیدی جمود پر مطمئن نہیں بلکہ وہ اس کو ختم کر نے کی شد ید آ رزو اور خوا ہش رکھتے تھے اور ان دو نوں با تو ں سے معلو م ہو تا ہے کہ وہ تقلیدی اور فقہی جمود کو سخت نا پسند کر تے تھے ۔

3۔ شا ہ ولی اللہ ان خود سا ختہ فقہی ا صو لو ں کے بھی خلاف ہیں جن کی بنا پر غا لی مقلدین نے بہت سی احادیث صحیحہ مسترد کر دی ہیں چنا نچہ ایک جگہ لکھتے ہیں :

ہر حامل مذ ہبے برائے مذ ہب خود اصول درست کرد و حنفیاں برائے احکام مذہب خود ا صلے چند ترا شیدہ اندمثل الخاص مبین فلا یلحقہ البیان۔ العام قطعی کالخاص، المفهوم المخالف غیر معتبر، الترجیح بکثر الرواة غیر معتبر، الزیادة علی الکتاب نسخ، إلی غیر ذلك. ( قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین: ص 176)

’’ہر مذ ہب وا لے نے اپنے مذہب کے ( اثبا ت کے ) لئے ا صو ل بنا لئے ، احنا ف نے اپنے مذ ہب کی پختگی کے لئے کچھ ا صو ل ترا ش لئے ہیں ( جن کی روشنی میں وہ ہر چیز کو د یکھتے ہیں ) مثلاً خا ص مبین ہے ، اسے بیا ن کی ضرورت نہیں ۔ عا م بھی خا ص کی طر ح قطعی الدلالۃ ہے ۔ مفہو م مخا لف معتبر نہیں ، کثر ت رواۃ کی و جہ سے تر جیح معتبر نہیں ، کتا ب اللہ پر زیاد تی ، کتا ب کا نسخ ہے ،و غیرہ ۔‘‘

ان خود سا ختہ ا صو لو ں کی بنیاد پر بہت سے لو گو ں نے کتنی ہی ا حا دیث صحیحہ و قویہ کو رد کر دیا ہے جس کی تفصیل بڑی لمبی اور دل خراش ہے شا ہ صا حب نے حجۃاللہ البا لغہ جلد1 ص160، اور ا لا نصا ف میں بھی ان و ضع کردہ ا صو لو ں اور ان کی بنا پر ا حادیث کو رد کر نے کا ذکر کیا ہے۔

ہم نے یہا ں شا ہ صا حب کا یہ اقتباس صرف اس پہلو کی و ضا حت کے لئے پیش کیا ہے کہ وہ ایسے تقلیدی جمود کے سخت خلاف ہیں جس کی دعوت مقلدین دیتے ہیں ۔

4 ۔ شا ہ صا حب کی فقہی وسعت ان کے اس طرز عمل سے بھی وا ضح ہو تی ہے جو انہو ں نے ، اجتہاد ، کے سلسلے میں ا ختیار فر ما یا ہے ۔ شا ہ صا حب نے مختلف مقا مات پر ا جتہاد اور استنباط مسا ئل کے دو طر یقے بیان فر ما ئے ہیں، چنا نچہ ایک جگہ لکھتے ہیں :

با ید دا نست کہ سلف استنبا ط مسا ئل و فتاوی بر دو و جہ بو دند ۔ یکے آ نکہ قر آ ن و حد یث و آ ثار صحا بہ جمع می کر دند و ازاں جا استنبا ط می نمو دند ایں ا صل را ہ محد ثین است و د یگر آ نکہ قوا عد کلیہ کہ جمع از آ ئمہ تنقیح و تہذ یب آ ں کر دہ اند یاد گیر ند بے ملا حظہٗ ایں ما خذ آ نہا پس ہر مسئلہ کہ وارد می شد جوا ب آ ں از ہما ں قواعد طلب می کر دند و ایں طر یقہ اصل راہ فقہاء است و غا لب بر بعض سلف طر یقہء او لی بود و بر بعض آ خر طر یقہ ثا نیہ ( مصفی شرح مو طا ،طبع قد یم ۔ج 1 ص 4)

’’سلف میں استنباط مسا ئل ( اجتہاد ) کے دو طر یق تھے۔

پہلا یہ کہ

قر آن و حدیث اور آ ثار صحا بہ جمع کئے گئے اور ان کی روشنی میں آ مدہ مسا ئل پر غور کیا گیا ۔ یہ محد ثین ( اہل الحد یث ) کا طر یقہ تھا ۔

دوسرا طر یقہ یہ کہ

( قر آ ن و حد یث اور آ ثار صحا بہ کی بجائے) آئمہ کے منقح اور مہذ ب قواعد کلیہ کی روشنی میں پیش آ مد ہ مسا ئل کا حل تلاش کیا گیا اور ا صل ماخذ ( قر آ ن و حدیث) کی طرف تو جہ کی ضرورت ہی نہ سمجھی گئی ۔ یہ فقہاء کا طر یقہ ہے ۔سلف میں سے ایک گروہ پہلے طر یق کا پا بند ہے اور ایک دوسرے طریق کا ۔‘‘

اور عقد الجید میں شا ہ صا حب نے اہل حدیث (محدثین ) کے بھی دو گروہوں کا ذکر کیا ہے ۔ ایک محققین فقہا ئے اہل حد یث اور دوسرے ظا ہری اہل حد یث اور اہل ظوا ہر کو محققین اہل حد یث سے الگ قرار دیا ہے ۔ ظا ہر یو ں کی علا مت یہ بتلا ئی ہے کہ وہ قیاس و اجماع کے قائل نہیں ۔ چنا نچہ شا ہ صا حب محققین فقہا ئے اہل حد یث کے طرز ا جتہاد اور استنبا ط مسا ئل کے ذکر کے بعد لکھتے ہیں:

فهذا طر یقة المحققین من فقهاء المحدثین ، وقلیل ماھم ، وھم غیر الظاهرین من أهل الحدیث الذین لا یقولون بالقیاس و الاجماع. ( عقدالجید مع تر جمہ سلک مر وارید ۔ص44 طبع مجتبا ئی دہلی)

’’محققین فقہا ئے اہل حد یث محد ثین کا یہ طر یقہ تھا اور ایسے کم لو گ ہیں اور یہ لو گ علیحدہ ہیں ظا ہری اہل حد یث سے جو قیاس کے قا ئل ہیں نہ اجماع کے۔‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں