تاریخ اہل حدیث-ڈاکٹر بہاؤ الدین

ذیل میں جبر و تشد، مارپیٹ ، منع عن المسا جد کے چند واقعات لکھے جاتے ہیں کہ یہ اہلحد یث کی تاریخ دعوت و عزیمت کا حصہ ہیں:

٭اس واقعہ کے راوی جنا ب حافظ یو سف ہیں جو مظفر نگر کے رہنے وا لے تھے اور ضلع دار نہر ہونے سے پہلے امرتسر میں کتب فروشی کرتے تھے۔ حنفی المسلک تھے لیکن 1860ء میں اپنے مطا لعہ کی بنا پر عامل با لحد یث ہوئے ۔

بعد ازاں سید عبد اللہ غز نوی﷫ نے جب امر تسر میں قیام فر ما یا، تو ان کے اخص مریدوں میں شامل ہوئے۔حا فظ محمد یو سف کہتے ہیں:

1860ء کا واقعہ ہے کہ میری عمر تخمیناً 20 برس کی تھی ، میں امر تسر میں کتب فرو شی کرتا تھا کہ میرے پاس مظا ہر حق ( تر جمہ مشکوٰۃ از نوا ب مو لوی قطب الدین دہلوی ) بھی آئی ۔ میں نے اس میں رفع یدین کی حد یث دیکھی تو اپنے استاد مو لوی غلام العلی امرتسریؒ کی خد مت میں پیش کی ۔مولوی صا حب چونکہ ان دنو ں حنفی تھے اس لئے انہو ں نے جواب دیا کہ یہ حد یث شافعیوں کی ہے ۔ امام شافعی﷫ نے اس کو لیا ہے ہمارے امام اعظم ؒ نے اسے قبو ل نہیں کیا۔ میں نے کہا حد یث رسو ل اللہ ﷺ کی ہے یا نہیں؟ اور میں مولوی غلام رسو ل (امر تسری)کی مسجد میں رفع یدین کرتا رہا ، ایک دفعہ مو لوی صاحب مو صو ف نے مجھ کو اپنی مسجد سے نکا ل دیا ۔ (چند روز بعد) میں دہلی گیا۔ وہاں بھی (میرے) آ مین بالجہر کہنے پر شور بپا ہوا۔ میں نے نوا ب قطب الدین کی مسجد میں جا کر عمل بالحد یث کیا ،تو نوا ب صاحب خفا ہو ئے ، میں نے کہا آپ کی کتا ب مظا ہر حق سے تو مجھے ہدا یت ہو ئی اور آپ ہی منع کرتے ہیں، مگر نوا ب صاحب یہی فر ماتے رہے کہ یہاں مت آ یا کرو ۔ حضرت میاں ( نذیر حسین) صاحب مر حو م بھی ان دنو ں عمل بالحدیث نہ کرتے تھے ۔ اس لئے ( مو لوی سید عبد الخا لق کے بیٹے، دہلی کے مشہور واعظ اور میاں نذیر حسین محد ث کے برادر نسبتی ) مو لوی عبد الر ب نے بڑی سختی سے میری تر دید کی اور بطور طعنے کے کہا کہ اگر یہ سنت ہے تو مولوی نذ یر حسین کیو ں نہیں کرتے؟ یہ سن کر میں نے حضرت میاں صا حب کی خدمت میں جا کر عر ض کیا :

یا تو یہ فر ما ئیے کہ یہ فعل سنت نہیں یا خود کیجئے ، علما ہم کو طعن دیتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت میاں صاحب نے فرمایا، اچھا ہم بھی کریں گے۔ چنا نچہ انہو ں نے عمل بالحدیث شروع کر دیا ۔ بس پھرکیاتھا؟ حضرت میا ں صا حب کا سلسلہ شاگردی تو بہت وسیع تھا ، اس لئے دور دور تک اثر پہنچ گیا ۔ ( بعد ازاں) میں امر تسر ملاز مت کے طبقے میں داخل ہوا ۔ اس عر صہ میں مو لوی عبد اللہ غز نویؒ امرتسر تشریف لا ئے، جن کے اثرصحبت سے عمل بالحدیث کو بہت تر قی ہو ئی ۔

( نقوش ابو الو فا ۔ ابو یحی امام خان ص 39 ۔42 ۔ بحوا لہ اہل حد یث 26 مئی 1911ء ۔ منقو ل از دیباچہ رسائل اہل حد یث جلد دوم، لاہور طبع 1991ء ص ۔ 21۔24 )

٭اور سید عبد اللہ غزنوی کو عمل بالحد یث کے جرم میں جن مصا ئب سے دو چار ہو نا پڑا وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ وہ افغانستان کے رہنے وا لے تھے، جناب غلام رسول قلعوی نے لکھا ہے:

’’کا بل و غز نی کے گر دو نوا ح کے ملّا جو علم حدیث سے بے بہرہ تھے اور ایک عمر انہو ں نے عقلی فنو ن اور فلسفی دقیقوں میں بر باد کی ہو ئی تھی اور بعض نے فقط فقہ کی ہر طر ح کی روا یتیں حا طب لیل کی طر ح جمع کی ہو ئی تھیں اور دینی تحقیقوں سے بالکل نا واقف تھے، انہوں نے شورش کے ساتھ سر اٹھا یا اور جوش وخروش کے ساتھ جنگ و جدل کے لئے پیش آ ئے اور تکفیر اور تضلیل کے ساتھ زبان کو کھو لا اور ایک لشکر آپ کے سر پر کھینچ لائے۔ لیکن اس سبب سے کہ آپ کے مخلص تا بعدارو ں اور مریدو ں کی ایک جماعت سنت کے زندہ کر نے پر متفق تھی اور مذاق ایما ن کے ساتھ ذکر الٰہی کی حلاوت چکھ چکی تھی اور سنت سنیہ کی تا بعداری اختیار کر چکی تھی۔ یہ سب ان کے مقا بلہ کو تیار ہو گئے ۔ جب وہ مقا بلہ نہ کر سکے تو ناچار بھا گ گئے اور دغا اور فر یب کو اپنا دست آ ویز ٹھہرا یا، یعنی امیر کو کہنے لگے کہ یہ شخص امیر بننے کا داعیہ رکھتا ہے اور ملک گیری کا پختہ ارادہ کر چکا ہے ۔ لہٰذا قاضی عبد الکریم جا ن کے کہنے کے موا فق جو وہ آپ کے مریدو ں میں سے ایک مرید تھا اور عالم مدقق اور ذی فنو ن اور مو حد کا مل تھا، امیر کا بل کے پاس گئے ۔ مجمع میں ملاؤ ں نے ر نگا ر نگ کی باتیں کیں اور طر ح طر ح کے بہتا ن آپ کے ذمہ لگائے جو سب کے سب وا ہیا ت ہیں ۔ ازانجملہ ایک شخص بو لا کہ یہ رفع سبا بہ کرتا ہے ۔ امیر بو لا ہم بھی رفع سبا بہ کرتے ہیں ۔ وہ بو لا، تو بھی برا کرتا ہے ۔ آپ کا ہمشیر زادہ قسم کھاکر کہنے لگا کہ میں نے ان سے سنا ہے کہ کہتے تھے وہ ارادت کہ میں مولانا اسما عیل شہید کے حق میں رکھتا ہوں با یزید بسطا می﷫ کے ساتھ نہیں رکھتا ۔ امیر بو لا ، چھو ڑ دے، یہ کلمہ کفر نہیں ہے ۔ غرض ہر چند امیر کو معلوم تھا کہ یہ شخص سچا ہے۔ لیکن علما کی شورش سے ڈر کر بو لا کہ مصلحت یہی ہے کہ آپ یہاں سے نکل جا ؤ اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ اور فرماتے تھے کہ جب میں اٹھنے کے لئے تیار ہو تا امیر کے ملازم کہتے ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ شورش کم ہو جاوے اور مخلو قا ت کا اس قدر ہجوم تھا کہ قیاس میں نہیں آتا تھا۔ وہ لو گ جس کو ہمارے مریدو ں میں دیکھ لیتے اس کو ما رتے اور ایذا پہنچا تے۔ جب فتنہ فرو ہو گیا ہم ہمراہ ہو کر ہجوم سے نکل گئے ۔ اس جگہ سے ملک سواد میں اخو ند صا حب کے پاس پہنچے ۔(اور فرماتے تھے کہ مصیبت کے د نو ں میں بہت مصیبتیں جن کا آ یت و لنبلونّکم۔۔الخ میں وعدہ دیا گیا ہے، وارد ہو ئی تھیں۔) چنا نچہ سواد میں بہت دن گذر گئے کہ سب یار بھو کے تھے اور دشمنو ں کا خوف ہر جگہ اس قدر تھا کہ سوا ئے قتل کے نہ چھوڑیں گے اور عیال کی تنگ دستی اس قدر تھی کہ معاش کی کو ئی و جہ مقرر نہ تھی اور کا بل اور غز نی کے ملّا سخت سخت پیغام بھیجتے تھے کہ دیکھو برف مو قوف ہو نے کے بعد تمہارا انتظام کرتے ہیں۔ (سوا نح عمری عبد اللہ غز نوی )

٭ سا نبہ، جموں

سا نبہ ضلع جمو ں میں ایک مسجد خا ص اہل حد یث کی بنائی ہو ئی ہے۔ اہل حد یث چو نکہ پا بندی شریعت کسی کلمہ گو کو اپنی مسجد میں نماز پڑ ھنے سے نہیں رو کا کرتے ، حنفی بھی نماز پڑ ھتے رہے ۔ مسجد کے با نی میا ں فتح دین سو دا گر صا بن تھے جو آ ج کل امر تسر میں مقیم تھے۔ اس مسجد میں بھی احنا ف نے شور مچا یا کہ امام ( اہلحد یث )ہم کو منظور نہیں ۔ کو ئی پو چھے کہ آپ کو دوسرے گھر میں منظور نا منظور کر نے کا اختیار کیا ہے ؟ خبر آ ئی کہ ایک حا جی صا حب کی مہر با نی سے بے چارے اہلحد یث کو سخت زد و کو ب ہو ئی۔ (اہلحدیث امر تسر 28 ۔ اپریل 1922ء ص 2۔3 )

٭رو ڑی ضلع حصار میں مو لوی سلیمان بن مولوی جمال الدین میں 1850ء میں پیدا ہو ئے ۔ آپ کا خاندان قدیم ا لایام سے حنفی المسلک تھا تا ہم جب آپ نے حافظ محمد لکھوی کی زینت الاسلام اور انوا ع محمدی دیکھی تو ان کے دل میں حافظ محمد کی ملاقات کا شوق پیدا ہوا اور یوں لکھو کے حاضر ہوکر ان سے استفادہ کیا جس کے نتیجے میں عمل با لحدیث کی راہ کھلی۔ پھر آپ کو جناب عبد الجبار غزنوی کی صحبت میں بیٹھنے کا مو قع ملا اور مسلک اتباع سنت میں پختہ ہوئے۔ بعد ازاں آپ کے ذریعہ ضلع حصار میں کتاب و سنت کی کر نیں پھو ٹیں ۔ آپ کے بیٹے حکیم عبداللہ نے لکھا تھا:

’’ تقریباً 40 سال پہلے ( یعنی 1880ء کے گر دو پیش ) ہمارے اس ضلع (حصار) میں شا ئد کو ئی قلیل ہی اہلحدیث ملتا ہو گا ۔ بلکہ محقق حنفی بھی دو چار عالموں کے سوا نہ تھے ۔ ایک تو میرے جد امجد مو لوی جمال الدین تھے اور دوسرے مو لوی نور محمد سو تروی مصنف شہباز شریعت ، اور شا ئد ایک دو عالم اور ہوں۔ ان کے علاوہ سب بد عتی تھے۔ ہمارے ارد گرد یعنی سر سہ کی تحصیل میں تو رسوم شر کیہ و بد عیہ (گا نا با ند ھنا ، سہرا لگا نا ، جا نٹی کا ٹنا و غیرہ ) قبروں پر قرآ ن شریف پھیر نا ۔ قبروں پر نو شہ لے جا نا ۔ ستر قدم وا پس آ کر دعا ما نگنا ۔ تیجا ، چو تھا، چہلم ، ختم و غیرہ کا نہایت زور تھا ۔ مو لوی جمال الدین کی وفات کے بعد ہمارے گا ؤں کو بھی بد قسمتی نے آ گھیرا ۔ یعنی ان بدعتی ملا نوں نے وہی مذ ہب پھیلا دیا۔ اس وقت عین جا ہلیت کا زما نہ تھا ۔میرے جد امجد ، میرے والد مولوی محمد سلیمان کو صغر سنی و حا لت طا لب علمی میں ہی چھو ڑ گئے تھے ۔ میرے والد کچھ عرصہ تو اسی مذہب (مقلد محقق حنفی) پر ہی رہے۔ پھر بوجہ صحبت، حافظ محمد لکھوی و مو لوی عبد الجبار غز نوی، مذہب اہلحدیث اختیار کر لیا اور رسوم شر کیہ کی بیخ کنی شروع کردیاور مذ ہب اہلحدیث کی تر غیب دینے لگے۔ بس اب کیا تھا ، سارا زما نہ دشمن ہو گیا ۔ اس وقت مولوی سلیمان کے دو تین دوست تھے ۔ ایک تو آپ کے بھا ئی مو لوی علاؤ الدین اور دو شخص اور تھے۔ اب یہ دو نوں تینوں شخص طعن کا نشا نہ بنے ہوئے تھے ۔ کو ئی کہتا تھا کہ یہ کوکے سکھ ہیں، کو ئی کہتا تھا کہ لا مذ ہب و غیر مقلد وہا بی ہیں۔ جب دھمکیوں سے کام نہ نکلا تو بڑے بڑے عا لموں کو بلا نا شروع کر دیا تا کہ وہ ان سے منا ظرہ کر کے ان کو دبا لیں اور عام لو گوں میں یہ خیال با طل جما رہے کہ ہم حق پر ہیں ۔ غر ض یہ کہ آ پ کا بہت سے عا لموں سے منا ظرہ بھی ہوا ۔ انجام یہ ہوا کہ مخا لفوں نے آ پ کو مسجد میں آنے اورجمعہ جماعت و غیرہ سے رو ک دیا ۔ آپ نے اس زما نہ میں جو ہڑوں اور تا لا بوں پر نماز باجماعت پڑھنا شروع کیا ۔ کچھ مد ت یہی حال رہا ۔ نہ کو ئی سلام کہنے وا لہ ۔ نہ کو ئی سوائے برا کہنے کے، کلام کر تا تھا۔ نہ کسی سے لین دین تھا۔آہستہ آہستہ اوپرے دل سے وعظ و نصیحت سننے لگے ۔ سیدنا عمر کی طر ح جب غور سے سنا تو کلام ر با نی نے اپنا جو ہر دکھا نا شروع کر دیا۔ ( اہل حد یث امر تسر ۔13 ۔ اکتو بر 1922ء)

٭پر نام بٹ شمالی ارکا ٹ سیجناب پی عبد الصمد لکھتے ہیں:

’’ علماء دیوبند میں سے مفتی عز یز الرحمن پر نام بٹ میں مع اپنے چند تلا مذہ کے بغرض حصول چندہ تشریف لائے اور نئی مسجد میں جو یہاں با زار میں واقع ہے، ماہ رمضا ن میں بعد نماز ترا ویح آپ کا وعظ ہو تا رہا ۔ آپ کے موا عظ کے مضا مین نہا یت فتنہ خیز اور فساد انگیز ہوئے۔ کبھی یہ کہا کہ غیر مقلد ملحد ہیں اور کبھی اہلحدیث کے پیشوا شیخ العر ب و العجم حضرت محد ث بے نظیر سید محمد نذیر حسین مرحوم دہلوی پر ایک بڑا غلیظ بہتا ن با ند ھ کر کفر کی طرف منسو ب کیا جس کی وجہ سے لوگوں میں خصو صاً فر قہ اہل حد یث میں سخت تشویش پیدا ہو گئی اور عوا م میں درہمی برہمی پیدا ہو کر فتنہ و فساد کا دروازہ کھل گیا اور ہا تھا پا ئی تک نو بت پہو نچ گئی۔

بعض معتقدین مفتی صا حب ممدو ح یعنی یہاں کے ایک مسلما ن یو نین چیئرمین و غیرہ مجسٹر یٹ صا حب کے ذریعہ سے اہل حدیث کے بعض واعظو ں کا وعظ جو جا مع مسجد اہل حد یث میں ہوا کرتا تھا، بند کر وا دیا اور یہ کہا کہ یہ لو گ واعظین (اہل حد یث) اپنے وعظ میں عوا م کو مخا لفت و بغاوت حکو مت بر طا نیہ پر آمادہ کرتے ہیں خصو صاً اس دعائے قنو ت کی نسبت جو اسی مسجد میں پنجگا نہ نما زو ں میں حسب ارشاد و اشاعت مولا نا حبیب الر حمن نا ئب مہتمم مدرسہ دیو بند پڑ ھی جا تی تھی یہ ظا ہر کیا کہ یہ لو گ اہل حدیث حکو مت برطانیہ پر بدعا کرتے ہیں ۔خیر الحمد للہ خوش آمدی کی غر ض فاسد پوری نہ ہو سکی اور کلکٹر کے ہاں مرا فعہ کرنے کے بعد وعظ و غیرہ حسب دستور جاری رکھنے کی اجاز ت ڈپٹی کلکٹر نے عطا کی ۔ (اہل حد یث امرتسر 16 جو لا ئی 1920ء )

٭اوکا ڑہ

تھا نہ او کا ڑہ ضلع منٹگمری پنجا ب کے ایک گاؤں میں ایک شخص اہلحدیث کو مخالفین نے محض مذہبی تعصب سے قتل کر دیا تھا اس میں 13 ۔ آدمی گرفتار ہوئے جن میں سے 10 کو 3، 3 سا ل سزا ہو ئی ۔ تین بری ہو ئے ۔ (اہل حد یث امر تسر21 جو لا ئی 1922 ء ص 13)

٭ کھیتڑی ضلع جے پور سے حکیم عبد الغفار لکھتے ہیں:

کھیتڑی ہندو را جہ کی بستی ہے جا نب شمال شہر جے پور۔ کچھ عر صہ قبل ایک ذی علم مو حد مولوی حا فظ حکیم عبد العلی صا حب ریاست ٹو نک سے آ کر مقیم ہوئے ان کی کوشش سے کا فی لو گ نماز روزہ کے پا بند ہو ئے ایک چھو ٹا مدرسہ بھی جاری کیا ۔ خوش عقیدہ تھے نوا ب صدیق حسن کی کئی کتا بیں انکے پاس تھیں شا ئد یہی وجہ تھی ۔

ان سے پڑ ھنے وا لوں میں ہمارے بز ر گ حکیم محمد داور بخش بھی تھے جن سے انہیں بڑی محبت تھی۔ جب آ پ نے عمل بالحدیث شروع کیا تو لوگوں نے تنگ گیا ، وہابی رافضی کہا جا نے لگا، مسجدو ں میں نہ گھسنے دیتے۔ ایک دفعہ آ پ دہلی گئے میاں(نذیر حسین) صاحب کی خدمت میں حا ضر ہو ئے، تر جمہ قرآ ن سنا۔ بعد تر جمہ میاں صاحب سے عرض کیا کہ میں ایک غریب ایک بستی میں رہتا ہوں جب سے عمل بالحد یث شروع کیا ہے لو گ سخت مخا لف ہو گئے ہیں۔ میں آ پ کی خد مت میں دہلی آنا چا ہتا ہو ں ۔

میا ں صا حب نے فرمایا، بھا ئی دین پرجو مصیبت آ ئے صبر سے برداشت کرو۔ دیکھو انبیاء پر کیسی کیسی مصیبتیں آئیں اور انہوں نے کس صبر سے برداشت کیں اور بھا ئی پہلے حق وا لٰہ ایک ہی ہو تا ہے، بعد میں اس کے سا تھی اللہ تعا لیٰ انہیں میں سے کر دیتا ہے ۔ تم گھبراؤ نہیں اپنی بستی میں اتباع سنت کرتے رہو ۔ تمہارے آ نے میں دینی نقصا ن ہے ۔ آپ نے میاں صا حب کی اس نصیحت کو قبو ل کیا اور آ پ وہیں اسی بستی میں مقیم ہوئے، کام کر تے رہے۔ پھر دو بیٹوں کو دہلی پڑ ھنے بھیجا جن میں سے ایک عبد الجبار ہے جو اس وقت کھنڈیلہ ریاست جے پور کے مدرسہ اہلحدیث میں صدر مدرس ہے۔

اب اس گاؤں میں ایک مسجد اہل حد یث اور کنوا ں بھی بن گیا ہے، جس کو حا فظ حمید اللہ صا حب سودا گر سو ت دہلی نے تعمیر کرا یا ہے چنا نچہ اس بستی میں ایک دینی گلشن لگا ہوا ۔ (اہل حد یث امر تسر ، 19 جنوری 1923ء ص 3۔4 )

٭ رو پڑ سے جناب عبد الرشید کلرک محکمہ نہر سر ہند لکھتے ہیں:

تقریباً 1880ء کا ذکر ہے کہ رو پڑ میں کسی فر د بشر کو اتنا علم نہیں تھا کہ اہل حد یث تو کجا حد یث کسے کہتے ہیں؟ شر ک و بدعت سے یہ علاقہ بھر پور تھا۔ پھر خدا نے ایک بندے کو راہ حق دکھا ئی ۔

خلیفہ فضل الٰہی (عبد الرشید کے نانا) گو عالم نہ تھے لیکن علماء کے صحبت یافتہ تھے اور ان کے خد مت گار اور امور شرکیہ بدعیہ میں مبتلا۔ عمر کوئی 30 برس ہو گی ایک روز اپنے وا لد کے ساتھ با زار میں تھے کہ کتب فروش کی دکان پر تقویۃ ا لا یمان نظر آئی۔ آ پ نے اسے اٹھایا، قیمت در یا فت کی، دو روپئے بتا ئے گئے۔ ان کے والدنے کہا کہ ہمارے پاس تو اس وقت صرف ایک رو پیہ ہے ۔

کتب فروش نے کہا ٹھیک ہے لے جاؤ اگر اسے پڑ ھ کر تمہارے بیٹے کو ہدا یت نصیب ہوئی تو کچھ ثوا ب بھی مل جا ئے گا ۔ یوں کتا ب خر یدی گئی اور شوق سے مطالعہ کیا۔ چند روز میں فضل الٰہی کی حالت بد ل گئی۔ کہاں شر کیہ کام کرتے تھے کہاں اب مسجد میں جا کر (جس کے متولی اس وقت ان کے وا لد تھے ) لو گوں کو تلقین کر نے لگے کہ ختم ،چا لیسویں وغیرہ رسو م سے بچیں، تعزیہ پرستی پیر پرستی سے رک جا ئیں۔ لوگ سخت نارا ض ہو ئے اور آ پ کے والد صا حب بھی ۔ جب وا لد بر گشتہ ہو ئے تو رو پڑ سے تیس میل دور ایک سر ہند بستی میں گئے اور وہاں مولوی احمد علی کی خد مت میں حا ضر ہو کر کہنے لگے کہ ہمارے لڑ کے نے ایک نیا مذ ہب ا ختیار کر لیا ہے وہ فلاں فلاں باتو ں سے رو کتا ہے ۔ مو لوی صاحب نے کہا کہ اسے ہمارے پاس لے آؤ، ہم اسے ٹھیک کریں گے وہ اسی وقت رو پڑ آئے اور فضل الٰہی کو ساتھ لے کر وہاں گئے۔ سوا ل جوا ب ہو ئے تو مولوی صا حب نے کہا کہ بیٹا یہی سید ھی راہ ہے اسے مضبو طی سے پکڑ لینا ۔ وا لد سے کہا کہ تمہارا بیٹا درست کہتا ہے تم بھی جا کر اس کی مدد کرو ۔ اس روز سے وا لد آ پ کے سا تھ ہو گئے اور آپ نے خو ب تبلیغ کی پھر آپ کو ایک آپ کے پرانے استاد نے اپنی مسجد میراں صا حب میں بلایا۔ اس محلہ کے تما م لو گ سید کہلا تے تھے اور تعز یہ پرست تھے۔ وہاں سوا ل جوا ب ہو ئے۔ آپ نے تقویۃ ا لا یما ن کی روشنی میں جوا ب دئیے تو اس نے طیش میں آ کر حکم دیا کہ اسے مارو ۔ لو گو ں نے خوب مارا ۔ ز خمی ہو کرگھر پہنچے۔ کنویں پر جا نے اور مسجد جانے کی اجاز ت نہ تھی۔ میا ں بیوی گھر میں نماز ادا کرتے۔ تقریباً 10 روز بعد فجر کے وقت مسجد چلے گئے جو تیلیا نوا لی مسجد مشہور ہے ۔ وہاں لو ٹو ں میں پا نی ڈا ل کر غسل خا نہ میں چلے گئے ۔ امام مسجد نے حکم دیا کہ تمام لو ٹو ں اورمٹکو ں کو توڑ دو اور مسجد کو دھو ڈا لو۔ کہ یہ لا مذ ہب ہو گیا ہے اور خلیفہ شہر نے اس کے ساتھ ایسا کر نے کو کہا ہے۔پھر فضل الٰہی اپنی مسجد گئے۔ لوگ جمع ہو گئے اور آپ کو مسجد سے نکا لنے پر مصر ہوئے او ر تین جوا ن مقا بلے میں آ کر ہار گئے۔ بعد ازاں لو گ آ پ کے پیچھے نماز پڑ ھنے اور اپنی اولاد کو قر آ ن پڑ ھا نے کے لئے آ پ کے پاس بھیجنے لگے۔ دو تین سا ل بعد ایک روز اسی مسجد میراں صاحب کے (جہا ں آ پ کو نا در شا ہی حکم ملا تھا ) فر ش پر رمضا ن کے مہینے میں دن کے وقت رو پڑ کے ایک سید صا حب ( جو اس وقت دہلی میں پو لیس افسر تھے ) کے کسی عزیز کا چہلم کھلا یا جا نے وا لہ تھا۔ آ پ کو پتہ چلا تو جا کر کہا کہ چہلم کا کھا نا تو ویسے ہی حرا م ہے ،تم لوگ کیسے بے حیا ہو کہ ر مضا ن میں دن کے وقت مسجد کے فر ش پر کھا نے کے لئے بیٹھے ہو؟ یہ سن کر بہت سے لو گ اٹھ کر چلے گئے۔جب پو لیس افسر کو پتہ چلا تو اس نے انتقام لینے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

پھر آپ امر تسر جا کر سید عبد اللہ سے بیعت ہو ئے (سید عبد اللہ غز نوی 1879ء میں فوت ہو گئے تھے ۔ اس لئے یہ واقعہ اس سے پہلے کا معلوم ہوتا ہے) اس روز سے علماء کی صحبت کا شوق ہو گیا دور دور سے علماء کو رو پڑ بلا تے اور اپنی مسجد میں وعظ کرا تے پھر انہیں گر دو نوا ح کے گا ؤں میں ہدا یت کی غر ض سے پھرا تے جس سے اس طرف جہاں کو ئی اہل حد یث نہ تھا، ہدایت ہو ئی ۔ مو لا نا ابو سعید محمد حسین بٹا لوی کا دورہ رو پڑ کے لئے خاص طور پر قا بل ذکر ہے وہ مع قبا ئل یہاں اکثر آ یا کرتے تھے اور عرصہ تک قیام کیا کرتے تھے بلکہ ایک دفعہ انہو ں نے یہا ں درس و تد ریس کا سلسلہ بھی شروع کر دیا تھا ۔

پھر فضل الٰہی نے مسجد کو فرا خ کر نا چا ہا تو محلہ وا لے مخالف مزا حم ہو ئے۔دن کو جو کام ہوتا وہ رات کو اسے مسمار کر دیتے ۔ اس پر آ پ نے عدا لت میں چارہ جو ئی کی جس میں آ پ کو کا میا بی ہو ئی اور مسجد ایک اچھی پو زیشن میں تبد یل ہو گئی۔ اس کے بعد آپ نے مو لوی محمود شا ہ ہزاروی کو رو پڑ بلا یا اور ان کی معرفت چندہ اکٹھا کر کے عا لی شان شاہجہا نی مسجد کی مرمت کرائی اور اسے جمعہ کے لئے مخصو ص کر دیا۔ یہ مسجد کما ل وا لی کے نام سے مشہور ہوئی۔

اس مسجد کے قریب کچھ ویرا ن زمین پڑی تھی اس میں دو تین کمر ے بنوا ئے، وہاں مدرسہ اہلحد یث قا ئم کر دیا جو کچھ عر صہ بعد بند ہو گیا۔

1915ء میں مو لوی حا فظ عبد اللہ امر تسری کو جب کہ آ پ ابھی تحصیل علم سے فار غ نہیں ہو ئے تھے، مو لا نا ابو سعید محمد حسین کے کہنے سے رو پڑ بلا یا اور یہیں آپ سے اقرار لے لیا کہ بعد از تکمیل علم رو پڑ میں درس و تد ریس کا سلسلہ جاری کیا جا ئے گا ۔ 1916ء میں آپ یہاں تشریف لا ئے اور اس مسجد میں پڑ ھا نے لگے ۔( فضل الٰہی 21 ستمبر 1920ء کو انتقا ل کر گئے )۔ (اہلحد یث امر تسر 19 جنوری 1923ء ص 7۔9)

٭چیتا پور، گلبر گہ، دکن سے محمد یوسف بن حا جی عبد الکر یم سودا گر لکھتے ہیں:

چیتا پور میں 21 ذی قعد کوچیتا شاہ ولی کا سا لا نہ میلہ ہوتا ہے ، شر ک و بدعت کا زور تھا اور انیسویں صدی کے اختتام تک یہاں سنت کا نام لیوا کوئی نہ تھا ۔ جب ریلوے کا نظا م شروع ہوا تو اس کے ایک کنٹر یکٹر مولوی ذکر یا خا ن اہل حد یث ہو ئے، ریلوے کا کام چیتا پور میں آ غا ز ہوا تو مولوی صا حب برا ئے نماز یہاں جا مع مسجد میں آئے جو ایک ہی تھی۔ آ مین

رفع یدین شروع کیا اور تبلیغ سنت بھی کرتے رہے جس کے اثرات ہو ئے اور ایک جماعت اہل حد یث قا ئم ہوئی۔ اس کے سا تھ ہی مخا لفت شروع ہو گئی اور عاملین با لحد یث کو وہا بی اور لا مذ ہب کہا گیا۔ اختلاف کی و جہ سے دوسری مسجد کی بنا قا ئم ہو ئی جو مسجد گڑی کے نام سے مو سو م ہوئی ، اس پر مو لوی ذکر یا خان نے مسجد گڑی کا ر خ کیا وہاں بھی خو ب تبلیغ کی۔ اس وقت قحط کا زما نہ تھا، لیکن مولا نا نے اپنی فیا ضی سے سارا قصبہ گر ویدہ کر لیا ۔

آ خر یہاں بھی حا لات بھی بدل گئے پھر ایک مسجد کی بنا ہو ئی جو مسجد گد وا لی سے موسوم ہو ئی (جو بعد ازاں مسجد اہلحد یث کہلائی)۔ پھر مو لوی ذکر یا خا ن نے اس مسجد کا ر خ کیا اس لئے کہ بااثرحضرات ادھر ہی تھے۔ وہاں بھی وعظ ہو تے رہے ۔ میرے چچیرے دادا محمد اسما عیل گد وا لی اور والد حا جی عبد الکر یم و محمد قا سم بیلدار و مو لوی میرمنور علی زمرہ شا گردی میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد مو لا نا حیدر آ باد چلے گئے۔جماعت کا فی تھی اور میر منور علی نے مطا لعہ کتب سے جماعت کو مزید فرو غ دینا چا ہا۔ ان کتا بوں میں ایک ظفر المبین بھی تھی ۔

احنا ف نے کہا کہ یہ ہمارے مسا ئل ہیں تم نکل جاؤ۔ یوں مسجد سے نکال دیا گیا۔ کل 60۔ اشخاص تھے ۔ پھر اہلحد یث نے محلہ کمہار وا ڑی کی مسجد میں نماز شروع کی۔ محمد قاسم بیلدار تر قی کی کوشش کرتے رہے۔ تعداد 80 ہو گئی، سب کا لباس ایک ہو نے کی وجہ ان کو اہل حد یث پلٹن کہا جا نے لگا ۔ احناف مخالفت کرتے رہے اور ایک روز مار پیٹ بھی ہو ئی ۔

بہر حال کام چلتا رہا اور با ہر سے حا فظ عبد العظیم ناگپوری ، سید احمد مد نی کرنو لی، مو لوی خدادا د خان حیدرآبادی، مو لوی عبد الحی حیدر آبادی، حا فظ عبد اللہ مد نی کر نو لی، مو لوی فخر عا لم نارا ئن کہڑی، مو لوی عبد الحق بھو پا لوی و غیرہ آ کر تبلیغ کرتے رہے ۔ پھر جمادی الثا نی 1339ھ میں انجمن اہل حد یث بنا ئی گئی ۔ شعبان 1339ھ میں رفیق شاہ فقیر نے آ کر فساد بر پا کئے اور ملا ملتا نی کے اشتہارات شا ئع کئے تو مسلما نو ں نے تکفیر المؤمنین از جناب ثناء اللہ امرتسری شا ئع کر کے وسیع پیما نے پر تقسیم کی ۔

(اہل حدیث امر تسر 21 ستمبر 1923ء ص 9۔10 )

٭٭٭

تبصرہ کریں