تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

جنا ب گلا ب دین جا ئنٹ سکرٹری انجمن اہل حد یث میر پور جنا ب کر م الدین جہلمی سے مبا حثہ کے تسلسل میں لکھتے ہیں :

انجمن حنفیہ میر پور کے جلسہ منعقدہ 11۔12۔13 ۔ اکتو بر 1921ء پر بحث کے وا سطے سکر ٹری انجمن حنفیہ کو نو ٹس دیا گیا کہ مو لوی کر م الدین نے بحث تقلید کو گذ شتہ جلسہ پر آ ئندہ سا ل کے وا سطے ملتوی کر دیا تھا اور تحریر فر مایا تھا :اب آ ئندہ سا ل یار زندہ صحبت باقی۔

الحمد للہ کہ اللہ عز و جل نے فر یقین کو ایفاء وعدہ کے واسطے زندہ ر کھا، وقت منا ظرہ مقرر کر کے اطلاع دیں ۔

جواب آیا کہ : رقعہ پہنچا ۔مو لوی کر م الدین کے آ نے پر اطلاع دی جا ئے گی ۔

مو لوی کر م الدین صا حب آ ئے تو چنا ں خفتہ اند کہ گو ئی مردہ اند، صدا ئے بر نخواست۔ زبا نی مطا لبہ پر یہ ہوا کہ ، وہابی ملعو ن ہیں ایسے ہیں ویسے ہیں ۔، جس پر وفداہل حد یث مو لوی صا حبا ن کی خد مت میں گیا اور جو گفتگو ما بین ہو ئی میں اس کو مو لوی اور ہم کے عنوان سے قلم بند کر و نگا:

مو لوی : آ پ کدھر آ ئے ۔

ہم ۔ وعدہ یاد دلا نے آ ئے ہیں۔ آپ نے فر مایا تھا کہ آئندہ سا ل بحث تقلید پرہو گی ۔ وقت عنا یت فر ما یا جاوے۔

مو لوی : میرا وعدہ یار سے ہے۔ یار زندہ ہے یا مر گیا ۔

ہم : یار بفضل خدا زندہ ہے ۔ وقت منا ظرہ کا اعلا ن ہو۔ یار سر پر پہنچے گا ۔

مو لوی : پھر طلب کر یں ہم منا ظرہ کے لئے تیار ہیں۔

ہم ۔ تاریخ منا ظرہ مقرر فر ما ویں۔

مو لوی: کل مو لوی ثنا ء اللہ یہاں پہنچ جا ئیں گے ہم پرسو ں منا ظرہ کر کے جا ویں گے۔

ہم : تحریر کر دیویں۔

مو لوی : ہم تحریر نہیں دیتے ،آ پ بلا لیں۔

ہم : تیار ہو جا ویں، کل جنا ب ثناء اللہ امر تسری پہنچ جاویں گے۔

بس اتنا کہنا تھا کہ حا لت دگر گو ں شد

مو لوی : ثنا ء اللہ سے میں بحث نہیں کرو نگا مو لوی ابراہیم کو دہلی سے بلا لیں ۔

ہم : اس سے معلو م ہوا کہ آ پ گر یز فر ما رہے ہیں ۔ یہ تو وہی مثل ہو ئی کہ نہ نو من تیل ہو، اور نہ راد ھا ناچے۔ نہ مو لوی ابرا ہیم صا حب کل تک دہلی سے پہنچ سکیں اور نہ منا ظرہ ہو۔ کیو نکہ دہلی سے آ نے والے کے واسطے ،اگر وہ بن بلا ئے آ ویں تو تین یو م چاہییں، ور نہ چار ۔ وہ بھی اس حا لت میں کہ گا ڑی کہیں نہ ر کے اور آپ ایزادی تا ریخ کے بھی مخا لف ہیں جو بین دلیل فرار ہے ۔

مو لوی : میں سوا ئے مو لوی ابرا ہیم کے منا ظرہ نہیں کرتا خواہ وقت پر پہنچ سکیں یا نہ۔

ہم : کھڑے ہو گئے اور حاضرین کی طرف مخا طب ہو کر بلند آوازسے کہا کہ آ پ سمجھ گئے ہو ں گے کل تک مو لوی ابرا ہیم دہلی سے آ سکتے نہیں ( وہ ان دنوں دہلی کے دار الحد یث ر حما نیہ میں مدرس تھے ۔ بہاء ) اور تا ریخ منا ظرہ بھی ایزاد نہ ہو سکے تو یہ مو لوی کر م الدین کا فرار ہے یا نہیں؟ آ ہ ! وقت بھی کیسا عجیب تھا مجمع معہ مو لوی صا حبا ن رعشہ میں مبتلا نظر آ تا تھا بجلی گر گئی جلسہ میں ہو کا مکا ن نظر آ نے لگا۔۔ ( نیاز مند گلا ب دین ، میر پور )

جنا ب ثنا ء اللہ امر تسریؒ اپنے ادارتی نوٹ میں لکھتے ہیں:

آ پ کو معلو م ہو گا کہ آ پ کے جلسہ سے ۔۔۔۔ پہلے جہلم میں جلسہ حنفیہ تھا،جس کی تیاری سن کر میں منتظر رہا کہ دعوت آ ئے گی۔ نہ آ ئی تو میں نے از خود ۔۔ جلسہ کے ایا م میں مو لوی کر م دین صا حب منتظم جلسہ سے بذریعہ تار در یافت کیا کہ کیا آ پ ہم کو مبا حثہ کے لئے وقت دیں گے۔ اس کا جواب بھی خاموشی ہی میں ملا۔ سنا ہے کہ جنا ب مو صوف نے پہلے تو میرا تار ہی چھپا ئے ر کھا، جب لو گو ں نے تنگ کر کے پو چھا ،توکہا تار آ یا ہے، مگر ہمارے اشتہار میں جو تا ریخ اطلاع کے لئے لکھی تھی، اس کے بعد تار آیا ہے ۔ حا لا نکہ اس اشتہار کی میں نے شکل بھی نہیں دیکھی تھی ۔ کیا مو لوی کر م الدین پر وا جب نہ تھا کہ وہ اشتہار بذریعہ ر جسٹری میرے پاس بھیجتے۔

میرے لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ منا ظرہ کر نا نہیں چا ہتے تو آ پ ان بے چارو ں کو کیو ں تنگ کر تے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مو لوی ابرا ہیم میر کا پنجہ کچھ نر م ہو گا ۔ ان کو اطلاع رہے کہ یہ خیا ل آ پ کا غلط ہے، ابرا ہیمی گر فت معمو لی نہ ہو گی ۔ شوق ہو تو آ زما لیں

( ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر 2 دسمبر 1921ء ص 7 )

جنا ب کرم الدین جہلمی کسی تعلیمی ادارے سے مستند نہ تھے۔ اور اس و جہ ایک دفعہ ایک منا ظرے میں بڑی دل چسپ صورت حا ل پیدا ہو گئی تھی ۔ جیسا کہ لکھا ہے:

میر پور میں حنفیوں کا جلسہ

اور اہل حد یث سے مبا حثہ اور غیر مستند علماء کا فرا ر

میر پور ریاست جموں میں ایک ضلع ہے جو جہلم سے 19 میل کے فا صلہ پر ہے ۔ یہاں پر ا حناف کا جلسہ 13۔14۔15 نو مبر 1922ء کو ہونا قرار پایا اشتہار میں اہل حد یثو ں کو چیلنج مبا حثہ دیا مگر شر ط یہ لگا ئی کہ مبا حثہ میں اس منا ظر کو وقت دیا جا ئے گا جو مستند ہو اور شکست یا ب نہ ہو ۔ ادھر سے انجمن اہل حد یث نے فوراً اشتہار دیا کہ ہم کو دو نوں شر طیں منظور ہیں مگر یہی دو نوں شر طیں تم پر بھی عا ید ہوں گی ۔ پس مستند عا لم اور شکست یا فتہ کی تحقیق ایک ہفتہ پہلے ہو نی چا ہیے تا کہ فریقین کو انتظا م میں آ سا نی ہو۔ مگر افسوس انجمن حنفیہ اس فیصلے کی طرف نہ آ ئی صرف خطو ط میں لکھتے رہے کہ دو نوں طرف سے مستند عا لم پیش ہو ں گے اس لئے انجمن اہل حد یث نے اپنے علماء کو تکلیف دی دہلی سے مولوی محمد صاحب کو سیالکوٹ سے مو لا نا ابرا ہیم کو امر تسر سے مو لا نا ثنا ء اللہ کو بلا لا ئے ۔ مولوی محمد امین و مولوی عبد الحی بھی آئے ۔ انجمن حنفیہ کے بڑے کار کن مو لوی کر م الدین ضلع جہلم کے رہنے وا لے ہیں ۔ انجمن حنفیہ میں جو علماء تشریف لا ئے تھے ان کے اسماء گرا می یہ ہیں :

مو لوی کر م دین ، مولوی غلام ا حمد اخگر امر تسری ، مولوی عبد المجید ملتا نی ،مولوی محمد عظیم گکھروی ، مولوی محمد مسعود چو نڈہ ، بہاء الحق طالب علم امرتسری ، مولوی غلام حیدر ، مو لوی عبد اللہ او ہڑ وی اور ملا نظا م الدین ملتا نی ۔

اشتہارات کی بنا پر انجمن اہل حد یث کی طرف سے تقاضا ہوا کہ حنفیہ کی طرف سے مستند عا لم کو ن ہو گا ۔ مستند علماء کی سندیں چند معززین کے سامنے پیش کی جائیں جس کا جوا ب یہی آ تا رہا کہ وقت پر ہم د کھا دیں گے ۔

ادھر یہ ہوا کہ مولانا امر تسری نے ایک بھر ے اجلاس میں جس میں میر پور کے ہندو و کلاء بھی شر یک تھے اپنی تعلیمی سندیں مع سند مو لوی فا ضل د کھا دیں۔ اس پر لا لہ کر پا رام مہا جن میر پور نے ایہ حدیث کے جلسہ میں اعلا ن کیا کہ میں نے مو لوی کرم دین حنفی کی سندیں د یکھی ہیں وہ تعلیمی سندیں نہیں ہیں بلکہ ایک مقد مہ کے دورا ن میں کسی حاکم عدالت کا ا ظہار را ئے ہے ۔ اس پر و کلاء صا حبا ن اور دیگر معزز ہندو صا حبا ن نے انجمن اہل حد یث سے کہا کہ اگر چہ فر یق ثا نی کے علماء میں سے کسی کے پاس بھی کو ئی تعلیمی سند نہیں مگر ہم پبلک کی طرف سے درخواست کرتے ہیں کہ

مستند عا لم ہو نے کی شر ط کو ا ٹھا کر بحث کر کے پبلک کو مستفید فر مایا جا وے ۔ اس پر جنا ب ثناء اللہ نے جلسہ میں فر مایا کہ ہم وکلاء کا شوق پورا کر نے کو تیار ہیں مگر اس شر ط پر کہ وہ فریق ثا نی سے اتنا لکھوا دیں کہ ہمارا کوئی عا لم مستند نہیں ہے ۔ اس کے جوا ب میں و کلاء نے کہا اس امر کی تحریرحا صل کر نا مشکل ہے ۔ جنا ب امر تسری نے فر مایا اچھا وہ نہ لکھیں گے، تو وکلاء صاحبان بعد کا مل تحقیقا ت کے لکھ دیں کہ ہم نے تحقیق کر لیا ہے کہ فریق حنفیہ میں کو ئی عا لم بھی مستند نہیں ۔ اور مو لا نا نے کہہ دیا کہ اب بحث کا ہو نا نہ ہو نا وکلاء کے ہا تھ میں ہے ۔

تاہم فریق ثا نیہ نے کو ئی مستند عا لم پیش نہ کیا اور نہ اس شر ط کی تخفیف پر معا فی ما نگی ۔ ا خیر وقت میں لاچار ہو کر کہہ دیا کہ ہم انجمن اہل حد یث کی جملہ شرائط پوری کر نے کو تیار ہیں اس پر انجمن اہل حد یث نے ایک وفد بشر کت لا لہ کر پا را م مہا جن مع ایک چٹھی کے حسب شرا ئط منظور شدہ علماء حنفیہ کی سندیں د یکھنے کو بھیجا ۔ اس وفد کے سا تھ نہا یت بد ا خلاقی کا برتا ؤ کیا گیا یہاں تک کہ لا لہ کر پا را م ثا لث کو بھی نامنا سب الفا ظ و تر ش لہجہ سے خطا ب کیا اور کہا کہ چلے جا ؤ ،نہ ہم کو ئی تحریر لے سکتے ہیں نہ سندا ت دکھا تے ہیں ہماری نیند کا وقت ہے حا لا نکہ نماز مغر ب اور نماز عشا ء کا در میا نی وقت تھا ۔

مختصر یہ کہ باو جود بہت کو شش کے حنفی علماء نے خصوصاً مولوی کر م دین نے اپنے آ پ کونہ مستند ثابت کیا نہ سندیں د کھا کر مبا حثہ کے میدا ن میں آئے ۔

( ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر24 نو مبر 1922ء ص 7 ۔ رپور ٹ از گلا ب دین جا ئینٹ سکر ٹری انجمن اہل حد یث میر پور )

سطور با لا میں پیر جماعت علی شاہ کا ذکر بھی آ یا کہ وہ اہل حد یث کے خلاف بہت سر گر م رہتے تھے اور ان کے زیر اثر ان کے مر ید بھی اسی کا م میں مصروف ہوتے تھے ۔ پیر صا حب ، جنا ب ثنا ء اللہ امر تسری پر بھی عنا یا ت فر ما تے رہتے اور اپنی تقا ریر میں انہیں خوب لتا ڑ تے تھے۔ بنا بریںجنا ب ثنا ء اللہ نے چند مرتبہ پیر جماعت علی کو مخا طب کیا۔ مثلاً ایک دفعہ، کھلی چٹھی بنا م حا فظ جماعت علی صا حب علی پوری ، کے عنوا ن سے آ پ نے لکھا:

حافظ صا حب ! میں مدت سے سنتا ہو ں اور اس دفعہ آپ کے سفر بنگلور کے زما نہ میں تو بکثرت سنتا رہا ہو ں کہ آ پ ہر وعظ میں میرا نا م لے لے کر للکارا کر تے ہیں کہ ثنا ء اللہ ہمارے سا منے آ کر بحث کر لے ۔ پھر مرزا قا دیا نی کی طر ح پیش گو ئی بھی کیا کرتے ہیں کہ وہ نہیں آ ئے گا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں