تاریخ اہل حدیث-ڈاکٹر بہاؤ الدین

امن و سلا متی کی راہ وہی ہے جس کے علم بر دار آ ئمہ ا حناف کا پہلا گروہ اما م ابو حنیفہ، اما م محمد، اما م ابو یوسف اور ان کی روش پر چلنے وا لے علماء ( جنا ب عبد الحی لکھنوی و غیرہ ) ہیں اور یہی راہ امت مسلمہ کی و حد ت کی ضما نت بھی ہے اور فقہی ا ختلا فا ت و حز بی تعصبات کے خا تمے یا کم از کم اس کی شد ت کو کم کر نے کا وا حد ذریعہ بھی ۔ اور یہ محد ثین کی را ہ ہے ، کسی ذہنی تحفظ کے بغیر عمل بالحد یث کی را ہ ہے ، فقہی جمود کی بجا ئے فقہی توسع کی را ہ ہے اورہر صو رت میں نصو ص شر یعت کی بر تری کو ما ننے اور قا ئم ر کھنے کی را ہ ہے اور اس کے خطو ط حسب ذیل ہیں:

محد ثین کا مسلک و منہج اور اہل تقلید کارویہ

1 ۔ محد ثین کے نز دیک بجا طور پر حد یث کی صحت و ضعف کی تحقیق میں سند کو بنیادی اہمیت حا صل ہے لو لا الاسناد لقال من شاء ماشا ء ۔ سند کو تسلیم نہ کیا جا ئے توپھر ہرشخص جوچا ہے کہہ سکتا ہے۔

سند ہی غیر صحیح روا یات کو جانچنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ اس بنیاد سے غیر صحیح روا یا ت کو صحیح قرار دینے کے تما م چور دروازے بند ہو جا تے ہیں لیکن اس چور دروازے کو کھلا ر کھنے کے لئے اس بنیادی ا صو ل سے گر یز کی بہت سی را ہیں ا ختیار کر لی گئی ہیں جیسے مثلاً کہا جا تا ہے:

فلا ں اما م نے جو با ت کہی ہے آ خر ان کے سا منے بھی تو کو ئی حد یث ہو گی۔

یا ان کے دور تک اس حد یث کی سند میں کو ئی راوی ضعیف مترو ک اور کذا ب نہیں ہو گا۔

یا حد یث کی صحت و ضعف ایک اجتہادی امر ہے ، اس لئے ایک مجتہد نے جس حد یث سے استد لا ل کیا ہے ، چا ہے وہ ضعیف بلکہ مو ضوع ہی ہو ، اسکا استد لا ل صحیح ہے ۔ کسی دوسرے مجتہد کو اس با ت کو رد کر نے کا کو ئی حق نہیں ہے ۔

یا روایت تو ضعیف یا مو ضوع( من گھڑ ت ، یعنی بےسند ) ہے لیکن اسے ، تلقی بالقبو ل ، کا در جہ حا صل ہے جیسے اول ما خلق اللہ نو ری ، یا ، لو لا ک لما خلقت الا فلاک ، جیسی بے سند بنا ئی ہو ئی حد یثیں ہیں ۔ یہ دونوں من گھڑ ت روایا ت بر یلوی حضرات ہی نہیں علماء دیو بند بھی اپنی کتا بو ں میں لکھتے اور اپنے وعظ و تقریر میں بیا ن کر تے ہیں ۔

یا حسن ظن کی بنیاد پر مرسل روا یات کو صحیح تسلیم کر نا۔

یا درا یت کے خلاف ہو نے کا عوی کر کے روا یت کو رد کر دینا۔

یا اپنے خود سا ختہ ا صو لو ں کی روشنی میں صحیح ا حادیث کو رد کر دینا ، جس پر شا ہ ولی اللہ اور شا ہ عبد العزیز دہلوی نے بھی ا حتجا ج کیا ہے۔

یا ( بزعم خو یش ) یہ دعوی کر کے کہ فلاں حد یث قرآن کے معار ض ہے ، حد یث کو رد کر دینا ( جب کہ کو ئی صحیح حد یث قر آ ن کے معار ض نہیں )

یاا حا دیث آ حاد کو نظر انداز کر نا ۔

یا غیر فقیہ راوی ( صحا بی ) کی روا یت قیاس کیخلاف ہو گی تو نا مقبو ل ہو گی۔

اور اسی قسم کے دیگر طر یقے یا اصو ل ، جن کے ذریعے سے صحیح حد یث کو بلا تا مل رد کر دیا جا تا ہے اور ضعیف،مر سل حتی کہ مو ضوع حد یث تک کو قبو ل کر لیا جا تا ہے ۔ یہ محد ثین کے مسلک و منہج کے خلاف یا بالفا ظ دیگر ثا بت شدہ نصو ص حد یث کو مسترد کر نے یا غیر ثا بت شدہ بات کو شر یعت باور کرا نے کی مذمو م سعی ہے جس کے ہو تے ہو ئے کبھی نصوص شریعت کی با لا دستی قا ئم نہیں ہو سکتی اور نہ ا ختلا فا ت کا خا تمہ ہی ممکن ہے ۔ علاوہ ازیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان چور در واز و ں کا کو ئی تعلق اما م ابو حنیفہ سے نہیں ہے یہ سب بعد کے لو گو ں کی ایجاد ہیں ان میں سے کو ئی ایک ا صو ل بھی اما م ابو حنیفہ سے ثا بت نہیں کیا جا سکتا۔ گو یا محد ثین کی روش کو اپنا نا اما م صا حب کی تقلید کے منا فی نہیں ہے ۔

2 ۔ محد ثین کا دوسرا وصف اما نت و دیا نت کا اہتما م ہے۔ انہو ں نے ا حا دیث کی جمع و تد وین میں بھی کمال دیا نت کا مظا ہرہ کیا ہے اور جر ح و تعدیل کے اصولوں کواستعمال کر کے ا حا دیث کا رتبہ متعین کر نے میں بھی انہو ں نے کسی ذہنی تحفظ کا مظا ہرہ کیا ہے، نہ حز بی و فقہی تعصب کا ۔

اہل تقلید میں امانت و دیا نت کی بھی کمی ہے اس کی بہت سی مثا لیں دی جا سکتی ہیں لیکن یہاں ہم صرف چار مثا لیں پیش کر یں گے ۔ دو علما ئے دیو بند کی تیسری، بر یلوی حضرات کی۔ (یہ دو نوں ہی اما م ابوحنیفہ کے مقلد کہلا تے ہیں )۔ چو تھی مثا ل ، دو نو ں میں قدر مشتر ک کی حیثیت ر کھتی ہے۔

پہلی مثا ل : خواتین نماز کس طر ح پڑ ھیں ؟ یعنی وہ رکوع سجدہ کس طر ح کر یں ؟ ہا تھ کہا ں با ند ھیں ؟ رفع الید ین کس طر ح کر یں ؟

عورتو ں کی با بت کسی بھی صحیح حد یث میں ان امور کی وضا حت نہیں ملتی ، اس لئے وہ نبی ﷺ کے فر ما ن صلوا کما رأیتمو نی اصلی ( بخاری: رقم حدیث 231) کے عمو م میں شا مل ہو ں گی اور مذ کورہ سارے کا م مردو ں ہی کی طر ح سر انجا م دیں گی۔ جیسا کہ اس کی کچھ تفصیل اس سے پہلے بھی ہم نے بیان کی ہے لیکن علمائے ا حناف کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کی نماز میں فرق ہے۔ خواتین کا طر یقہ نماز ، تالیف جناب عبد الر ؤف سکھر وی ہمارے سا منے ہے۔ اس میں ان فروق کو بیان کر نے کے لئے احادیث کے نام سے کئی ا حا دیث بیا ن کی گئی ہیں لیکن ان میں سے کو ئی ایک حد یث بھی صحیح نہیں ہے ۔ اور ستم ظر یفی کی انتہاء ہے یا ا ما نت و دیا نت کے فقدا ن کا یہ حا ل ہے کہ ان بیا ن کردہ ا حا دیث میں ، السنن الکبری للبہیقی، کی دو روا یا ت بھی ہیں جن کو در ج کر کے اما م بہیقی نے لکھا ہے ۔ لا یحتج بامثا لھما (یہ روایات اتنی ضعیف ہیں کہ ان جیسی روا یات سے استد لا ل نہیں کیا جا سکتا ) لیکن مذ کورہ کتا ب کے مولف نے الفاظ کو تو نقل نہیں کیا ، البتہ دو نو ں نا قا بل استد لا ل روا یا ت کو اپنے استد لال میں پیش کیا ہے۔ یہی حا ل دیگر روا یا ت کا ہے جو انہو ں نے پیش کی ہیں فا لی اللہ المشتکی۔

دوسری مثا ل :ا حناف کے چو ٹی کے عا لم جنا ب ا حمد علی سہارنپوری کی ہے جن کا حا شیہ صحیح بخاری متدا ول ہے ۔ انہو ں نے حد یث : اذا اقیمت الصلوۃ فلا صلاۃ الا المکتوبہ ( صحیح مسلم : 810) جسے اما م بخاری نے تر جمۃ البا ب ( کتاب الصلوۃ باب 38 ) میں ذکر کیا ہے ۔ اس کے حا شئے میں سنن بہیقی کے حوالے سے یہی حد یث نقل کی ہے اس میں الا رکعتی الفجر کے الفا ظ کا ا ضا فہ ہے ۔ یعنی فر ض کی تکبیر ہو جا نے کے بعد کو ئی نماز نہیں ، البتہ فجر کی دو ر کعتیں( سنتیں ) پڑ ھنا جا ئز ہے ،۔ حا لا نکہ اما م بہیقی نے اس ا ضا فے کی با بت صرا حت کی ہے کہ ، یہ اضافہ ( یعنی فجر کی دو سنتیں پڑ ھنا جا ئز ہے ) بے ا صل ہے ۔ اور لکھتے ہیں کہ اس اضافے کوبیا ن کر نے وا لے حجا ج بن نصیر اور عباد بن کثیر ہیں اور یہ دو نو ں راوی ضعیف ہیں ( السنن الکبری للبہیقی۔ جلد 4 ص 483 طبع قدیم) اس کے با و جود ایک صحیح حد یث کو رد کر نے اوراپنے خلا فِ حد یث روا ج کو صحیح باور کرا نے کے لئے صحیح بخاری کے فا ضل محشی نے اس بے ا صل اضافے کو حد یث رسول کہہ کر بیا ن کیا ہے ۔( صحیح بخاری ۔ج 1 ص 197 طبع نور محمد )

یہ با ت بھی دل چسپی سے خا لی نہ ہو گی کہ صحیح بخاری کا یہ حا شیہ آ ج سے تقریباً سوا سو سا ل قبل جب چھپ کر پہلی مر تبہ منظر عا م پر آ یا تھا تو شیخ الکل میا ں نذ یر حسین محد ث دہلوی ؒنے ایک مکتو ب کے ذریعہ سے اس کو تا ہی یا بد دیا نتی کی طرف تو جہ دلا ئی تھی لیکن اس کی ا صلا ح نہیں کی گئی اور صحیح بخاری کے عر بی حا شئے میں یہ بے ا صل حد یث ، حد یث رسو ل کے نا م سے اب تک مو جود ہے ۔ میا ں نذیر حسین محد ثؒ دہلوی کا یہ مکتو ب جو عر بی میں ہے کتاب ، اعلام اہل العصر ، تا لیف جنا ب شمس الحق ڈیا نوی میں مو جود ہے فا لی اللہ المشتکی

غا لباً اسی بے بنیاد روایت کی بنا پر عا م مسجدو ں میں فجر کی جماعت کے دوران میں لو گ بے د ھڑ ک سنتیں پڑھ رہے ہو تے ہیں اور حد یث رسو ل ، نماز کی تکبیر ہو نے کے بعد فر ض نماز کے علاوہ کو ئی نماز نہیں (صحیح مسلم ) کی خلا ف ورزی کی جا تی اور واذا قرئ القر آن فا ستمعوا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون ( ا لاعرا ف) جب قر آ ن پڑ ھا جا رہا ہو تو تم کا ن لگا کر سنو اور خا موش رہو ۔، کا ذرا لحا ظ نہیں کیا جاتا ۔ اور علماء یہ منظر روزا نہ اپنی آ نکھو ں سے د یکھتے ہیں لیکن فقہی جمود نے ان کی آ نکھو ں پر پٹیا ں باندھی ہیں ۔

تیسری مثا ل : بر یلوی حضرات کے ہا ں رواج ہے کہ نماز جنازہ کے فوراً بعد میت کے ارد گر د کھڑے ہو کر سب ہا تھ ا ٹھا کر دعا ما نگتے ہیں۔ اسکو وہ بہت ضروری سمجھتے ہیں ۔ دلیل کیا ہے ؟

نبی ﷺ کی حد یث ہے : اذا صلیتم علی المیت فا خلصوا لہ الدعا ( سنن ابو داؤد: رقم حد یث 3199 )۔ اسکا صحیح تر جمہ تو یہ ہے کہ جب تم میت کی نماز جنازہ پڑ ھنے لگو تو ا خلا ص کے سا تھ اس کے لئے( مغفرت کی ) دعا کرو ، جیسے قر آ ن مجید میں ہے یا ایھا الذین آ منوا اذاقمتم الی الصلوۃ فاغسلوا و جوھکم ( الما ئدہ )

اے ایما ن وا لو! جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو نے لگو تو و ضو کرو ۔

لیکن بر یلوی حضرات ( اذا صلیتم ۔۔۔ ) کا تر جمہ کرتے ہیں ، جب تم نماز پڑ ھ چکو تو ۔۔۔ ۔ اور اس طر ح ترجمے میں بد دیانتی کا ارتکا ب کر کے جنا زے کے بعد دعا ما نگنے کے اپنے غیر مسنو ن عمل کا جواز ثا بت کر تے ہیں حا لا نکہ اگر یہ تر جمہ صحیح ہے ،تو پھر ان کو وضو بھی نماز کھڑے ہو نے کے بعد ہی کر نا چا ہیے ، نہ کہ نماز سے پہلے ،جیسا کہ آ یت یا ایھا الذین آمنوا اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوھکم کا تر جمہ بر یلوی استد لا ل کے مطا بق کر نے کا اقتضا ہے۔

اسی طر ح قر آ ن کے اس حکم فاذا قرأت القر آن فاستعذ با للہ( نحل :98 ) کا تر جمہ و مفہو م بھی یہ ہو نا چا ہیے کہ جب تم قر آ ن پڑ ھ چکو تو شیطا ن سے پنا ہ ما نگو ۔ یعنی اعو ذ با للہ تلاوت قر آ ن کے بعد کیا کرو ۔ کیا یہ تر جمہ و مفہو م صحیح ہو گا ؟

چو تھی مثا ل ۔ یہی حا ل ان ا حا دیث کی صحت و ضعف کے معا ملے میں ہے جو ا ختلا فی مسا ئل میں مدار بحث بنتی ہیں ۔ ان میں نہا یت بے خو فی سے اما نت و دیا نت کا خو ن کر کے ثقہ راویو ں کو ضعیف اور ضعیف راویوں کو ثقہ ثا بت کر نے پر سارا زور صرف کیا جا تا ہے جس کی تفصیل التنکیل بما فی تأنیب الکو ثری من الا با طیل ( تا لیف شیخ عبد الر حمن بن یحی یما نی ) میں ملا حظہ کی جاسکتی ہے ۔ اس میں ایک لطیفہ یہ بھی ہو تا ہے کہ ایک راوی اپنی کسی من پسند روا یت میں ہوتا ہے تواسے اس وقت ثقہ باور کر ا یاجا تا ہے اور وہی راوی جب اس روا یت میں ہو تا ہے جس سے دوسرا فر یق استد لا ل کرتا ہے تو وہ ضعیف قرار پا جا تا ہے ۔ ایک اور لطیفہ یہ ہو تا ہے کہ ایک حد یث میں دو تین باتیں ہو تی ہیں ، ان میں سے کو ئی ایک بات تو قبو ل کر لی جا تی ہے کہ اس سے ان کے کسی فقہی مسئلے کا ا ثبا ت ہو تا ہے اور دوسری با تیں رد کر دی جا تی ہیں کیو نکہ وہ فریق مخا لف کے موافق ہو تی ہیں، حا لا نکہ حد یث ایک ہے، سند ایک ہے، اگر وہ حد یث صحیح ہے تواس میں بیا ن کردہ سا ری ہی با تیں صحیح ہیں ، ان میں سے کسی بات کو ما ن لینا او ر بعض کو نہ ما ننا ، اسے کو ن معقول طر ز عمل قرار دے سکتا ہے ؟ اسی طر ح اگر وہ ضعیف ہے ، تب بھی معا ملہ ایسا ہی ہے ۔ اس کی ساری ہی با تیں نا قا بل تسلیم ہو نی چا ہییں اس کا کو ئی ایک جزء قا بل استد لا ل نہیں ہو سکتا ۔

یہ لطا ئف ہمارے فقہی جد ل و منا ظرہ میںعا م ہیں۔ ظا ہر بات ہے اما نت و دیا نت کی مو جود گی میں ان کا امکا ن ہے نہ جواز ہی ہے۔

3 ۔ محد ثین کے منہج کی تیسری نما یا ں خو بی جمع و تطبیق کا اہتما م ہے ۔ بعض روا یا ت میں جو ظا ہری تعار ض نظر آ تا ہے اسکے حل کے لئے محد ثین حسب ذیل طر یقے ا ختیار کر تے ہیں

1 ۔ سند کے اعتبار سے اگر ایک روایت صحیح ہے اور دوسری ضعیف ،تو صحیح السند روا یت کو وہ قبو ل کر لیتے ہیں اور ضعیف کونظر انداز کر دیتے ہیں۔

2 ۔ اگر سند کے اعتبار سے دو نو ں صحیح ہو تی ہیں لیکن در جہ صحت میں ایک کو دوسری پر کسی و جہ سے بر تری حا صل ہو تی ہے تو وہ راجح قرار پا تی ہے ۔ جیسے ایک روایت سنن کی ہے جب کی دوسری متفق علیہ یا صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی ہے ، تو یہ دوسری قسم کی روا یا ت صحت کے اعتبار سے سنن ار بعہ کی روایا ت سے فا ئق ہیں انکو سنن کی روایا ت کی روا یا ت پر تر جیح حا صل ہو گی۔

3 ۔ بعض متعار ض روا یا ت میں قرا ئن سے تقدیم و تاخیر کا علم بھی ہو جا تا ہے وہا ں مو خر روا یت کو ناسخ اور مقدم روا یت کو منسو خ تسلیم کر لیا جا تا ہے

4 ۔ جہاں تقدیم و تا خیر کا علم بھی نہ ہو اور صحت کے لحاظ سے بھی دو نو ں یکسا ں ہو ں تو محد ثین دونو ں روایات کا ایک محمل اور مفہو م بیا ن کر تے ہیں جس سے ان کا ظا ہری تعا ر ض دور ہو جا تا ہے ، اس کو جمع و تطبیق سے تعبیر کیا جا تا ہے ، جیسے مزا رعت کی احادیث ہیں ، بعض سے مزارعت کا جوا ز ثا بت ہو تا ہے بعض سے مما نعت ۔ محدثین نے کہا کہ مما نعت کا تعلق ان صورتو ں سے ہے جن میں کسی ایک فر یق پر ظلم و زیادتی کا امکا ن ہے، اور جن میں ایسی صورت نہ ہو ،وہا ںجواز ہے ۔

اسی طرح کئی اور ا حا دیث ہیں جن میں کسی میں نہی ہے تو کسی میں جواز ہے ۔ یہا ں محدثین نہی کو نہی تنز یہی قرار دیتے ہیں ، یعنی اس کا م کو نہ کر نا بہتر ہے تا ہم کسی موقع پر اسے کر لیا جا ئے تو اس کا جواز ہے۔ جیسے کھڑے ہو کر پا نی پینے کی مما نعت کی روا یا ت بھی ہیں اور جواز کی بھی ۔ اس میں بھی تطبیق یہی ہے کہ بیٹھ کر پا نی پینا بہتر ہے تا ہم کھڑے ہو کر پینا بھی جا ئز ہے و علی ہذا القیاس ، اس طر ح کی دیگر روایا ت ہیں ۔

منہج محد ثین سے انحرا ف کر نے وا لے جمع و تطبیق کے معا ملے میں بھی بہت سے گھپلے کر تے یں ، وہ حد یث کو اہمیت دینے کے بجا ئے فقہی اقوا ل و آ را ء کو اہمیت دیتے ہو ئے بعض متعار ض روا یات میں خلاف واقعہ ناسخ و منسو خ کا فیصلہ کر تے ہیں۔ جیسے بعض لو گ کہتے ہیں کہ رفع الید ین کی احا دیث منسو خ ہیں اور رفع الید ین نہ کر نے کی احا دیث نا سخ ہیں جب کہ اس کی کو ئی معقو ل دلیل ان کے پاس نہیں ہے، حتی کہ جناب سید انور شا ہ کشمیری نے بھی اس دعوی کی نفی کی ہے۔ لیکن اپنے عوا م کو مطمئن کر نے کے لئے اس قسم کے دعوے ان کی طرف سے عا م ہیں اور بعض ستم ظریف تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ ابتداء میں رفع الید ین کا حکم اس لئے دیا گیا تھا کہ لو گ اپنی بغلوں میں بت چھپا کر لے آ یا کر تے تھے جب بتو ں کی یہ محبت ختم ہو گئی تورفع الیدین کا حکم بھی منسو خ ہو گیا : ما لھم به من علم و لا لآبا ئھم کبرت کلمة تخرج من افوا ھھم ان یقو لو ن الا کذباً ۔ الکہف

یا محد ثین کرا م کی اس طر ح تو ہین کر تے ہیں کہ محدثین تو محض عطار ( دوا فروش ) تھے، جس طر ح ایک عطار اپنی دو کا ن پر ہر طر ح کی جڑی بوٹیا ں ر کھتا ہے لیکن وہ ان کے خوا ص اور تا ثیرا ت سے لا علم ہوتا ہے ، ان کے خواص و تاثیرا ت سے ایک طبیب حاذق ہی واقف ہو تا ہے۔ مجتہدین یا فقہاء کی حیثیت بھی طبیب حا ذق کی طر ح ہے ، ایک فقیہہ ہی نے یہ فیصلہ کر نا ہے کہ محد ثین نے اپنی دکا ن ( احا دیث کے مجموعوں ) میں جو ( نعو ذ با للہ ) ہر طر ح کی جڑی بوٹیاں ( احادیث ) جمع کرلی ہیں ،ان میں سے کو ن سی حد یث کو لینا ہے اور کس کوتر ک کر نا ہے ؟ یعنی تطبیق و تر جیح یا اخذ و تر ک کا فیصلہ نقد و تحقیقِ حدیث کے مسلمہ اصولو ں کی روشنی میں نہیں ، بلکہ فقیہہ نے اپنی فقاہت کی روشنی میں کر نا ہے ۔ اور یہ فقا ہت ایک مخصوص عینک کا نا م ہے ۔ ہری عینک وا لے کوہر چیز ہر ی ، کا لی عینک وا لے کو کا لی ، لا ل عینک وا لے کو لا ل نظر آ تی ہے ۔ چنا نچہ حنفی فقیہہ کااستد لا ل کچھ ہو تا ہے، شا فعی فقیہہ کا کچھ و ھلمّ جرّاً ۔ اس لئے کہ ان سب کی عینکیں الگ الگ ر نگ کی ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ اسلام کی تعبیر : شد پر یشا ن خوا ب من از کثرت تعبیرھا ، کی آ ئینہ دار بن جا تی ہے محد ثین کی صاف شفا ف بے غبار اور بے آ میز عینک کو ئی استعما ل نہیں کر تا جس میں ہر چیز اپنی صحیح اور ا صلی شکل میں نظر آتی ہے ۔

طبیب حا ذق کی یہ حذا قت یا فقیہہ کی یہ فقا ہت ہی یا الگ الگ ر نگ کی یہ عینکیں ہی افتراق امت کے المیے کا سب سے بڑا سبب ہیں اسلئے جب تک محد ثین کے منہج و مسلک کو ا ختیار نہیں کیا جا ئے گا ، اس افتراق کاسد با ب ممکن نہیں ہے ۔

محد ثین کرا م کوفقا ہت سے عا ری محض ایک عطا رکہنا اسی طر ح خلاف واقعہ اور ان کی تو ہین ہے جیسے نور الا نوار اور ا صو ل الشا شی و غیرہ میں حضرت ابو ہر یرہ ؓ اور حضرت انس ؓجیسے صحا بہ کو غیر فقیہہ قرار دینا خلاف واقعہ اور ان کی تو ہین ہے ۔ اور یہ دو نو ں ہی با تیں انکار حد یث کے چور دروازے ہیں ۔ مذ کورہ صحا بہ کو غیر فقیہہ قرار دینے سے مقصود بھی ان کی بیا ن کر دہ روایات سے جا ن چھڑا نا اور اپنے قیاس و را ئے کو تر جیح دینا ہے، اسی طر ح محد ثین کو عطا ر کہنے سے مقصود بھی ان کی جمع کردہ حد یثو ں کے مقا بلے میں فقہا ء کی مو شگا فیو ں کو ا ختیار کر نا ہے ، حا لا نکہ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ صحا بی غیر فقیہہ تھے، نہ محد ثین ہی فقاہت سے عا ری تھے ۔ ان کی فقا ہت تو ابوا ب بندی ( تراجم ) ہی سے واضح ہو جا تی ہے بالخصوص اما م بخاری کی فقاہت تو ان کے ایک ایک تر جمۃ البا ب میں نما یا ں ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے فقہ البخاری فی ترا جمہ ( اما م بخاری کی فقاہت ان کے ترا جم میں ہے ) تا ریخ اسلا م کے ایسے بے مثا ل فقیہہ کو محض عطا رکہنا ایک ایسی شو خ چشما نہ جسارت ہے جس کا حو صلہ ایسے ہی لو گ کر سکتے ہیں جن کے دلو ں میں حد یث کی عظمت کی بجا ئے فقیہا نہ قیل و قال کا ا حترا م زیادہ ہے سبحا نک ہذا بہتا ن عظیم

بہر حا ل با ت ہو رہی تھی محد ثین کرا م کے جمع و تطبیق کے ا صو لو ں کی ۔ اگر ان ا صو لو ں کو ان مسا ئل میں بھی ا ختیار کر لیا جا ئے جو فر یقین کے در میا ن ما بہ النزاع ہیں تو بہت سے نزا عا ت کا خا تمہ ہو سکتا ہے اور اگر محد ثین کی مذ کورہ تینو ں امتیازی خصو صیات ہی کو اپنا لیا جا ئے جن کی و ضا حت کی گئی ہے تو بیشتر اختلافات کا خا تمہ ممکن ہے ۔ ا ختلا فا ت کی بنیا د حدیث کے بارے میں نقطہ نظر کا فرق ہی ہے ۔ جب تک نقطہ نظر کا یہ فرق ختم نہیں ہو گا اور حد یث کی عظمت کو اس طر ح تسلیم نہیں کیا جا ئے گا جس طر ح کہ اس کا حق ہے ، اور ا حا دیث صحیحہ کو کسی بھی عنوا ن حیلے یا وضعی ا صو لو ں سے رد کر نے کا طر یقہ نہیں چھو ڑا جا ئے گا ، جن کی با بت پورے یقین و اذ عا ن سے ہمارا دعوی ہے کہ اما م ابو حنیفہ کا ان ا صو لو ں سے کو ئی واسطہ نہیں ہے ، اس وقت تک ا ختلا فات کا خا تمہ تو کجا ان کی شد ت کو کم بھی نہیں کیا جا سکتا۔

بات قدرے طو یل ہو گئی ہے لیکن اس لئے نا گز یر تھی کہ علما ئے ا حنا ف کے جن دو گرو ہوں سے اہل حد یث کا ا ختلاف ہے، وہ وا ضح ہو جا ئے ، یہ دوسرا گروہ آ ئمہ ا حناف ( امام ابو حنیفہ و صا حبین و غیرہ ) یعنی احناف کے پہلے گروہ سے قو لاً تو متفق ہے لیکن عملاً اس سے مختلف ہے ،اسی لئے اہل حد یث کا ان سے بھی شد ید ا ختلا ف ہے ۔

علمائے ا حناف کادوسراگروہ

اپنے آ ئمہ ثلا ثہ کی روش سے یکسر مختلف روش ا ختیار کر نے وا لے علمائے ا حنافکی دوسری قسم نہا یت غا لی قسم کی ہے اور یہ قو ل کی حد تک بھی حد یث کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتا ، نیز تقلید حرا م پر بھی فخر کا ا ظہار کرتا ہے جس کو جناب اشرف علی تھا نوی اور جنا ب محمود حسن دیو بندی و غیر ھما نے بھی کفر قرار دیا ہے جیسا کہ ان کے اقتبا سات پہلے گذر چکے ہیں ۔ اس کی بابت زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں چند اقتبا سا ت ہی سے اس کی ا صل حقیقت سا منے آ جا تی ہے۔ اس گروہ کے اس دور کے سر خیل جنا ب امین او کا ڑوی ہیں ، جو چند سا ل قبل فوت ہو ئے ہیں ، اسی گروہ کے ایک، شیخ الحد یث و التفسیر ، جنا ب منور ا حمد ہیں ، ان کی ایک کتا ب، بارہ مسا ئل ، کے نا م سے مطبوع ہے ، یہ کتا ب مغا لطا ت و تلبیسا ت بلکہ کذ با ت و خدا عا ت کا مجموعہ ہے۔ مو صو ف اس کے حصہ او ل میں تحریر کرتے ہیں:

احا دیث کی صحت و ضعف کے بارے میں ہمارا ا صو ل یہ ہے کہ اما م اعظم ابو حنیفہ اور ان کے تلا مذہ حضرات نے آثار صحابہ اور آ ثار تا بعین و تبع تا بعین اور عملی توا تر کی روشنی اور رہنما ئی میں اپنے اجتہادی ا صو لو ں کے تحت، جن جن ا حا دیث کے معمول بہ وصحیح ہو نے کا فیصلہ فقہی مسا ئل کی صورت میں دیا ہے ، ہمارے نز د یک وہی صحیح ہیں ،اگر چہ محد ثین ان کو سند کے اعتبار سے ضعیف لکھ دیں۔ اور جن حدیثوں کو ان حضرات نے غیر معمو ل بہا قرار دیاہے، وہ ہمارے نز دیک ضعیف ہیں اگر چہ محد ثین ان کو سنداً صحیح قرار دیں ۔

(کتا ب بارہ مسا ئل۔ ص 9 ۔ نا شر اتحاد اہل السنت و الجماعت ۔ملنے کا پتہ مر کز اہل السنت و الجماعت 87 جنو بی لا ہور روڈ سر گو دھا مطبوعہ دسمبر 2005ء)

٭٭٭

تبصرہ کریں