تاریخ اہل حدیث۔ڈاکٹر بہاؤ الدین

ہو شیار پور سے جناب غلام اللہ کا تب لکھتے ہیں:

1880ء سے 1916 تک مو لوی عطا ء محمد و مو لوی عمر دین و میا ں عبد اللہ مر حو مین و جنا ب مو لوی الہی بخش وکیل 1919ء تک ہو شیار پورمیں فرداً فر داً اہل حدیث رہے ۔اول الذ کر حضرات نے اہل ہو شیار پور سے بہت تکلیفیں ا ٹھائیں، حتی کہ سنہری مسجد ہو شیار میں حضرت مو لا نا عطاء محمد کو لو گوں نے مارا بھی تھا ۔ تب سے بو جہ کمزوری اہلحد یث جمعہ کی نماز پریم گڈہ میں پڑ ھتے رہے۔

1911ء میں خا کسار کو بھی مو لوی الہی بخش صا حب مر حو م کی صحبت سے فیض حد یث حا صل ہو کر اہل حد یث سے محبت ہو گئی ۔ بس پھر کیا تھا دن را ت حدیث کی کتا بو ں کا مطا لعہ کا شوق بڑ ھتا گیا اور نو ر ایمان میں ترقی ہو تی گئی ۔ 1912ء میں خا کسار اور دیگر احبا ب نے ایک مسجد ڈھا بہ وا لی ہو شیار پور کو ( جو بالکل چھو ٹی اور بے آ باد تھی ) مل جل کر فرا خ کیا اور اس میں نماز پڑ ھتے رہے ۔ 1914ء میں جب کہ مسجد مذ کور کی آ بادی و رو نق قا بل رشک ہو گئی اچا نک چند مخالف لو گو ں نے وہاں نما ز ادا کر نے سے مجھے اور میرے احباب کو رو کا ۔ بہت سمجھا یا کہ یہ خدا کا گھر ہے اس میں سب کے حقو ق برا بر ہیں لیکن کسی نے نہ ما نا ۔ با لآ خر میں نے اور احبا ب نے وہا ں نماز پڑ ھنا مجبوراً چھو ڑ دیا ۔ 1915ء میں محلہ پیر پھلا ہی میں اخبار اہل حد یث کے خر یدار مو لوی امام الدین سے میری ملاقا ت ہو گئی حا لا ت مذ کورہ بیا ن کر کے میں نے بمشورہ مو لوی الہی بخش صا حب مر حوم انجمن اہل حدیث قا ئم کردی ادھر مو لوی امام الدین کے محلہ پیر پھلا یئئی میں ایک چھو ٹی سے غیر آ باد مسجد تھی انہوں نے کہا کہ افراد اہل حد یث یہا ں نماز ادا کرلیا کریں۔ 1915ء سے متوا تر انجمن اہل حد یث ہو شیار پور کے جلسے بھی ہو تے رہے اور نماز یں بھی اسی مسجد میں ادا ہو تی رہیں ۔ ۔۔۔ اپریل 1922ء ماہ ر مضا ن کی چھٹی را ت کو جب کہ افراد اہل حد یث نماز ترا ویح میں قر آ ن سن رہے تھے یکا یک ارا ئیں قو م کا ایک جم غفیر لا ٹھیو ں اور حقّوں سے مسلح مسجد کے قریب آ بیٹھا جوں ہی نماز ختم ہو ئی افراد اہل حد یث کو ما ر نا شروع کر دیا اور کہنے لگے یہاں اہل حد یث کو مطلق نماز نہیں ادا کر نے دیں اور مسجد کو قفل لگا کر رکھیں گے ۔

اس ہنگا مے میں خا کسار کو بہت چو ٹیں آئیں ۔ مجھے ہسپتا ل پہنچا یا گیا علا ج معا لجہ ہوا ۔ دوسری رات پھر اہل حد یث اسی مسجد میں ترا ویح کے لئے پہو نچے تو انہیں بھگا دیا گیا اہل حد یث نے با ہر کھیتو ں میں نماز ادا کی ۔

اس کے بعد اہل حد یث ہو شیار پور کے پاس کو ئی مر کز نہ رہا ، بہت فکر رہا ۔ 25 دسمبر 1922ء خا کسار نے ایک عام اجلاس منعقد کیا اور ما لی مدد کی اپیل کی ۔ لوگوں نے کا فی تعا ون کیا جن میں مو لوی امام دین ، مو لوی اکرا م الحق، چو ہدری نور بخش جٹ، مسٹر علی بخش ، ڈا کٹر خلیل الر حمن ڈنٹسٹ، میا ں عبد اللہ، میاں ر حمت اللہ، چو ہدری بڈ ھا، چو ہدری کر یم بخش، چو ہدری با بو ، میا ں نظا م دین ، با بو ر حمت علی، میا ں اسما عیل، شیخ سردار محمد، میا ں فتح محمد کند ن ساز اور خاکسار شامل ہیں۔ اب مسجد کی تعمیر کے لئے جگہ کی تلاش ہو رہی ہے ۔ ( اہل حد یث امر تسر 26 جنوری 1923ء ص 11 ) اور چار سال بعدجناب غلام اللہ نے بتا یا ۔ ہو شیار پور میں مسجد اہل حد یث کی بڑی ضرورت تھی اللہ کی

مہر با نی سے ۔۔۔مسجد کے لئے زمین خریدی گئی، کنواں لگ گیا ہے باقی کام ہو رہا ہے۔ ہم برادرا ن احناف کے ان مظا لم کا شکر یہ ادا کرتے ہیں جو انہوں نے اپنی مسا جد سے روکنے پر ہم پر کئے۔ (اہل حد یث 29 اپریل 1927ء ص 15)

پیغمبر پور اور سمیلا

جناب محمد عبد الوہا ب مدرس مدرسہ محمدیہ عر بیہ دیو دہا ضلع در بھنگہ لکھتے ہیں:

در بھنگہ سے 12۔14 میل واقع پیغمبر پور ایک مو ضع ہے ۔ 1295ھ میں ایک راجپوت بز ر گ حا جی عبد العزیز نو مسلم یہاں آ ئے ۔ ان کا و طن ڈو مری علاقہ مد ہو بنی تھا ، بعد قبول اسلام مولانا محمد ابرا ہیم آ روی کی صحبت کے فیض سے پکے مو حد اور متبع سنت ہوئے۔ پیغمبر پور میںایک شب مولوی عبد العزیز اور منشی اصغر سے تقلید شخصی پر بحث ہوئی اور پھر منشی اصغر بھی اہل حد یث ہو گئے اور کئی برس مولوی حکیم محمد اسحاق مو حد رئیس در بھنگہ کی خد مت میں رہے جس سے آپ مز ید پکے مو حد ہو گئے۔ بعدہ مکان آ ئے اور تبلیغ کر نے لگے ۔ احناف سخت دشمن ہو ئے ، آزار کے در پئے ہوئے حتی کی وا لد نے ان کو مع اہلیہ گھر سے نکا ل دیا ۔ پھر ایک رفیق شیخ مو لا بخش کے یہاں( جو اسی خاندا ن سے اہل حد یث ہو ئے تھے) قیام کیا اور کام کرتے رہے۔ ایک انجمن بنا کر مولاناعبدالعزیز رحیم آ بادی، مو لوی اسحاق کو بلا کر وعظ کروا تے۔ نتیجتاً پیغمبر پور باڑہ سمیلا ، نرا ئن پورنذرامحمد آ باد ، نزرا پالی ، کر ہارا ، رانی پور ، کنور ، ککو ڑا، چر یا ، راجباندھ، بسوریا ، نور چک ، کر ھیٹا ۔ اسرا ہا ، کھرایان، بگھا ، مو لا نگر و غیرہ موا ضعات میں ان کی وجہ سے کچھ لو گ اہل حد یث ہو ئے ۔ بارہ سمیلا میں احناف نے اہل حد یث زبردست حملہ کیا اورمسجد میں نماز پڑ ھنے سے رو ک دیا ۔ پھر ایک غریب اہلحدیث شیخ جماعت علی کے دا لان میں نماز قا ئم کر تے۔ کچھ روز بعد بعض با اثر لو گوں کی مدا خلت سے مسجد میں جا نے کی اجازت ملی ۔ پھر احناف نے مسجد میں بلوہ کرا دیا۔ جماعت نے اپنے حقوق کا دعوی عدا لت دیوا نی در بھنگہ میں کیا جس میں اہل حد یث کا میا ب ہو ئے اور نماز خوا نی اور اما مت کی ڈگری ملی ۔ احنا ف نے اپیل کی مظفر پور ججی میں ۔ وہاں بھی فیصلہ بحا ل رہا ۔ بعد ہائی کو ر ٹ کے احنا ف لو گ بیٹھ گئے اور باز آ گئے پس اہل حد یث مسجد میں داخل ہو کر اذا ن دے کر اما مت جمعہ کرانے لگے ( یہ فیصلہ ہائی کو ر ٹ چھپ گیا تھا مولوی ضیاء الر حمن کلکتہ سے مل سکتا تھا )۔ ( اہلحدیث امر تسر 11 دسمبر 1925ء ص 10۔11 )

وزیر آ باد

حا فظ عنا ئت اللہ گجرا تی بتاتے ہیں : ۔

دسمبر 1928ء کا ذکر ہے کہ ایک دیو بندی مو لوی صاحب جو حکیم بھی تھے اور مسجد ککے زئیاں وزیر آ باد میں امام و مدرس بھی تھے ۔ چو نکہ ذی علم اور نیک تھے اس لئے میں جب کبھی وزیر آباد جا تا تو مو صوف کے درس میں ضرور حا ضر ہو تا ۔ ایک روز درس کے بعد اتفاقیہ فا تحہ خلف ا لامام پر مکا لمہ شروع ہو گیا ۔ موصوف نے فر ما یا کہ نص قر آ نی کی رو سے اس کا سماع ضروری ہے ۔ میں نے کہا کہ جب جہر ہی نہیں تو سماع کیسے ؟ فر ما یا کہ سری نما زوں میں پڑ ھ سکتا ہے ۔ میں نے کہا پنج گا نہ نما زوں کی کل سترہ ر کعات ہیں جن میں سے گیارہ رکعتوں میں آ پ نے اجازت دے دی، صرف چھ ر کعتوں میں نہیں ۔ اچھا تو جہری ر کعتوں میں بہروں اور پچھلی صفوں کا کیا حکم ہے ۔ چونکہ اصو لاً سما ع شرط قرار پا چکا تھا اس لئے مو صوف کو فر ما نا پڑا کہ وہ بھی پڑ ھ سکتے ہیں ۔ میں نے کہا امام کے سکتو ں میں کیا حکم ہے، تو اس پر بہت دیر تک بات چیت کے بعد با لآ خر فر ما یا کہ اجازت ہے ۔ تب میں نے کہا کہ اللہ تعا لی کا شکر ہے کہ مکا لمہ با بر کت ختم ہوا جس پر ہم سب نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ زوال کے قریب ہم وا پس ہو ئے اور یہ خبر شہر میں بجلی کی طر ح پھیل گئی ۔ مو صوف سے جا معہ مسجد حنفیہ ریلوے رو ڈ میں جوا ب کا مطا لبہ ہوا توآپ نے فر ما یا کہ میں نے حنفی مذہب کے خلاف کسی بات کا اقرار نہیں کیا جس کسی نے کو ئی بات کر نی ہے وہ میرے پاس گھر آ ئے ۔ مگر سب جاہل تھے بات کون کر ے ۔ آ خر ان لو گوں نے مو لوی صا حب کو نکال دیا جس کا مجھے بے حد افسوس ہوا ۔ ( جسر البلیغ ۔ ص 66۔67 )

بانس بر یلی

اہل حد یث امر تسر کے نامہ نگار 1932ء میں بتا تے ہیں کہاس شہر میں مسلما نوں کی آ بادی تخمیناًستر ہزار کی ہے۔ ان مسلما نوں میں کثیر تعداد ان احناف کی ہے جو عقیدۃً مو لوی احمد ر ضا کے معتقد اور پیرو کار ہیں۔ ان سے کم تعداد احناف دیو بند کی ہے ۔ کچھ اہل حدیث بھی ہیں ۔ شہر میں جس قدر مسا جد ہیں ان میں سے زیادہ تر مسا جد زیر اثر جماعت ر ضا ئیہ کی ہیں ۔۔۔۔۔ ہر دو گروہ مذ کور ہ اہل حدیث کو غیر مقلد وہابی کہتے ما نتے ہیں اور کسی مسجد میں آ مین بالجہر و رفع یدین نہیں ہو تی ہے ۔ ہر دو گروہ کی مسا جد میں اہل حدیث کے دا خلہ کی مما نعت ہے،یعنی عام اجازت نہیں ہے۔ اگر کو ئی عامل بالحد یث اتفاقیہ دا خل مسجد ہو کر شریک جماعت ہوکر آ مین با لجہر کہے اور رفع یدین کر ے تو بعد جماعت اس کو بجبر نکال دیا جاتا ہے، اگر نہ نکلے تو پیٹا جاتا ہے ۔ جماعت ر ضا ئیہ کے لوگ تو غیر مقلد کے دا خلہ کی و جہ سے مسجد کے فر ش کو دھوتے ہیں ۔ ( اہل حدیث امر تسر 15 اپریل 1932ء۔ص 8)

کاسگنج ضلع ایٹہ سے ایک دفعہ مرزا امام بیگ نے لکھا :

یہاں چند نفر اہل حدیث ہمارے رہنما یاں اسلام علماء کرام کے دلوں میں کھٹک رہے ہیں اور ہمارے اوپر نت نئی بلا ئیں ڈا لنا چا ہتے ہیں ۔ 2، اکتو بر 1929ء کو اشرفی میاں کچچہوی نے یہاں آ کر اہل حدیث پر ہر طرح کی ملا مت اور لعنت کی بو چھا ڑ کی ۔ 18 نو مبر 1929ء کو ایک تقریب میں میں مو لوی مفتی نثار احمد آ گرہ و مو لوی حبیب اللہ عرف عکن ایٹہ ومو لوی آفاق حسین و لد اشتیاق حسین ڈپٹی نہر گنگ مدعو تھے۔ مفتی نثار احمد تو خاص کر مقد مہ آ مین با لجہر کی ناکامیا بی کی جو جلن ان کے دل میں تھی اس کو نکا لنے آئے تھے ۔ چنا نچہ انہوں نے اپنے بیان میں اہل حدیث کے بارے میں بہت زہر اگلا۔ لوگوں کو مخاطب کر کے فر ما یا کہ ان لا مذ ہب اہل حدیثوں کی وجہ سے تمہاری نمازیں خراب ہو تی ہیں،ان کو اپنی مسجدوں سے رو ک دو ۔ آ مین با لجہر و رفع یدین قطعی ناجا ئز ہے، میں نے ان مسا ئل کی تر دیدمیں ایک کتاب تیار کی ہے اسے لو گوں میں تقسیم کردو ۔ چنا نچہ دوسرے روز شہر کے ہر محلہ کے سر بر آ وردہ لو گوں کو بلا کر اشتہار اور کتا بیں تقسیم کیں ۔اور بہت سے لوگ گھروں میں اشتہار تقسیم کر نے پر ما مور کئے گئے جو گھر گھر کتابیں اور اشتہار سنا تے پھر تے ہیں جس کی و جہ سے بد امنی واقع ہو جا تی ہے ۔۔۔

29 مارچ 1935ء کا واقعہ ہے کہ مسمی صلا ح الدین اہل حدیث عصر کی نماز پڑ ھنے مسجد آرہا تھا ۔ لائبریری کے سا منے سڑک پراسے دیکھ کر چند افراد نے لفظ اہل خبیث کا استعمال کیا اور اسے جوتے و گھونسے و تھپڑ رسید کئے ۔ پھر محلہ کے رسمی احناف نے یہ مشورہ کیا کہ جو اہل حدیث نماز کو آ وے اس کو مارو، اور ستار علی خان متو لی وقف مسجد (اہل حد یث )اگر آ وے یا مکان سے با ہر نکلے تو اس کو خوب بنا لو ۔ اب مسجد اہل حدیث کے راستوں میں چند شہدے لفنگے بر سر پیکار ہر وقت گشت میں رہتے ہیں۔ اور ان کے خوف سے جو چند اہل حدیث ہیں، مسجد تک نہیں جانے پا تے ۔ ( اہل حد یث امر تسر 13 دسمبر 1929ء ۔ص 14؛7 جون 1935ء۔ ص 16)

مئو آ ئمہ سے 1935ء میں جناب محمد قمر الدین نے لکھا:

قصبہ مئو آ ئمہ ضلع الہ آ باد میں ایک کثیر تعداد قوم مو من آباد ہے ۔ جماعت اہل حدیث کا بھی ایک محلہ ہے۔ ہمیشہ آ پس میں نہا ئت اتفاق و اتحاد سے زند گی بسر ہو تی تھی ۔ انجمن تنظیم ا لا نصار بھی مشتر کہ قا ئم ہو گئی جس کے متعدد جلسے ہو ئے۔

مو لانا عاصم بہاری جیسے نامی لیڈران قوم تشریف لا ئے اور دھواں دھار تقریریں ہو ئیں ۔ مگر اب کچھ عر صہ سے قصبہ کی برادری کی عجیب حا لت ہو گئی ہے ۔ دو ایک مفسد مولوی اندر ہی اندر نفاق کا بیج بوتے رہے۔

چنا نچہ اس وقت برادری کے دو نوں فر قوں میں کچھ پنچا ئتی جھگڑے کچھ مذ ہبی مغا ئر ت کے باعث حد سے زائد کشید گی پیدا ہو گئی ہے ۔ قوم مو من احناف نے غریب جماعت اہل حدیث قوم مو من کا حقہ پا نی، کھا نا پینا ،لین دین ، روزی روز گار، شادی بیاہ سب بند کر دیا اور طر ح طرح کے ان پر ظلم کر رہے ہیں ۔ ایک مقدمہ فو جداری کا بھی ان پر دا ئر کر دیا ہے ۔

( اہل حدیث امر تسر 30 اگست 1935ء ص 10)

کینڈر پارہ سے محمد داؤد، میر محمد شریف ، محمد عبد الوا حد نے مختلف اوقا ت میں بتایا:

کیندرہ پارہ میں سخت مخا لفت کی و جہ سے احنا ف و اہل حدیث کے ما بین جو حاد ثے گذ ر چکے ہیں وہ ایک ایسی جگر پاش داستان ہے جس کے اظہار سے زبان قلم عا جز ہے جماعت اہل حدیث خا نہ خدا میں زد و کو ب کے بعد نکال دی گئی۔ عدالت میں فوجداری مقدمہ دا ئر ہوا جس میں اہل حد یث کا میا ب ہو ئے ۔ پھر دیوا نی مقد مہ پیش آ یا، اس میں کا میا بی ہو ئی ۔ پھر مخا لفین نے ہا ئی کو رٹ میں اپیل دا ئر کی جو نا منظور ہو ئی۔

( اہل حدیث 25 جنوری 1935ء ص 14 ؛5۔ اپریل 1935ء ص 13؛ 2۔ اگست 1935ء ص 14؛10 جنوری 1936ء ص 14)

کینڈر پارہ ہی کے تعلق میں ابو القاسم العر بی خالد بن محمد سعید صدیقی لکھتے ہیں:

نو مبر 1934ء میں بروز جمعہ جا مع مسجد کیندرہ پارہ (ضع کٹک اڑیسہ ) میں انجمن احناف کا جلسہ ہوا جس میں تین سو سے زا ئد تعداد میں احناف شامل تھے ۔ امام مسجد مذ کور جماعت اہل حدیث پر خو ب برسے اور ریزولیو شن پاس کرا یا کہ آ ہندہ اس مسجد میں کو ئی وہا بی (اہل حدیث ) نماز نہ پڑ ھے ۔ اگر پڑ ھے تو رفع یدین آمین نہ کر ے، اگر ایسا کر ے تو گردن سے پکڑو اور د ھکیل کر با ہر نکال دو ۔ جلسہ بر خواست ہو نے پر اذان ہو ئی اہلحدیث بھی نماز ادا کر نے کے لئے شامل ہو ئے اور نماز ادا کی ، آ مین و غیرہ کی۔ اس وقت کسی نے کچھ نہیں کہا ۔ پھر 2 دسمبر کو اعلان کیا گیا کہ کو ئی و ہا بی (اہل حدیث ) مسجد میں نہ آ ئے اور اشتہار بھی چسپاں کرا دئیے گئے ۔ لیکن مسجد کو خا نہ خدا سمجھ کر عوام مسجد میں جاتے رہے ۔ 3 دسمبر کو بعض آ دمی اہل حدیث خیال کے مسجد میں گئے، مگر احناف نے نکال دیا ۔ آ خر انہوں نے بعد میں علیحدہ جما عت کرا ئی ۔ 4؍دسمبر کو عصر کی نماز ہو ئی۔ اس میں ایک بارہ سا لہ بچہ ظفرالحق بھولے سے جماعت میں شامل ہوا، جس کو بعد ختم جما عت اٹھا کر با ہر پھینک دیا گیا ۔ 4 دسمبر کو حکام وقت کے ہاں جماعت اہل حدیث نے درخواست کی ۔ وہاں سے اجازت حاصل کر کے نماز مغرب کے لئے مسجد کو گئے، مگر ما نعین ( احناف ) نے مسجد کے دروازے کے آ گے خوب لا ٹھیوں سے زدوکو ب کیا ۔ خوش قسمتی سے حکام نے وقت پر پہنچ کر حا لا ت پر قا بو پا لیا ، ورنہ خدا جا نے کیا ہو تا۔

( اہل حد یث امر تسر 5 جنوری 1935ء میں ص 16۔17)

جناب ثناء اللہ عمری لکھتے ہیں:

مو لوی ابو القاسم خا لد العر بی ر حما نی 1930ء میں بھدرک صوبہ اڑیسہ کے مشہور مقام پر تشریف لا ئے اور دعوت تو حید اور کتاب و سنت کی تبلیغ میں لگ گئے۔ آ ئے دن منا ظرہ و مبا حثہ ہو نے لگا ، کا میا بی اہل حدیث کی ہو تی رہی اور ان کی تعداد بھی بڑ ھتی گئی ۔ یہ تبلیغ اور نشر و اشاعت صو بہ اڑیسہ کے گو شہ گو شہ میں ہو نے لگی۔ کبھی تقریر ، کبھی کتب احا دیث کی اشاعت ، کبھی رسائل و اشتہار سے ۔ کبھی ابو القاسم خالد کے قتل کی سازش ہو ئی ، کبھی رہائش گاہ کو آ گ لگا ئی گئی ۔ مگر آ پ نے کسی کی پرواہ نہ کر کے تبلیغ کتاب و سنت کو جاری رکھا ۔ دن بدن مخا لفت بڑ ھتی گئی ۔ کیندرا پا ڑہ میں برادران احناف نے ظلم و ستم کی ایک نئی مثال قا ئم کی ، مو لا نا صاحب پر اتنی مار پڑ ی کہ آ پ کا لباس خون سے تر بتر ہو گیا ۔ معصوم بچے بھی اس ظلم و ستم سے نہ بچ سکے ۔ لیکن ان مصا ئب کا نتیجہ با لکل الٹ نکلا ۔ بجائے اس کے کہ تو حید پرست ہراساں ہوں، ان کا جوش بڑ ھتا گیا ۔۔مسجد جا نے پر پابندی لگا ئی گئی ، اہل حد یث پر مقد مہ چلا یا گیا مگر خدا کے فضل سے جماعت اہل حدیث ہی کو کا میا بی ہو ئی ۔ اڑیسہ میں ایک مقام خورہ ہے یہاں کے احناف بھی اہل حدیث کے خلاف اٹھ کھڑے ہو ئے ۔ ان پر مختلف الزام لگا کر مقد مہ چلا یا گیا ۔ یہاں بھی ڈگری جماعت اہل حدیث کو ملی ۔ بھدرک ،کیندرہ پاڑہ اور خوردہ روڈ کے مقد مات کا فیصلہ اہل حدیث کے حق میں ہوا اور قا نون بن گیا کہ آ ئندہ کسی مسجد میں اہل حدیث کو جا نے سے نہ رو کا جا ئے ۔ ( ابو القاسم عربی کی وفات 28 ۔ اکتو بر 1992 ۔ 10 جمادی ا لا ولی 1413ھ کو ہو ئی)( نذرانہ اشک ۔ص 291 ۔ 301)

امر تسر

1938ء میں یکم، دو اور تین نو مبر 1937ء کو امر تسر میں بریلوی حضرات کا جلسہ ہوا جس میں اہلحدیث کی شد ید مخا لفت کی گئی۔ مولا نا ثناء اللہ کے متعلق خا ص طور پر سخت الفا ظ استعمال کئے گئے۔ اس جلسے کے دوسرے دن 4 نو مبر کو امر تسر کی جماعت اہلحد یث نے وہاں کی مسجد مبار ک میں جلسہ کر نے کا اعلا ن کیا۔ جلسے کا مقصد محض ان اعترا ضا ت کا جواب دینا تھا جو جماعت اور اہل حد یث مسلک پر گئے گئے تھے، مقرر مو لا نا ثناء اللہ تھے اور جلسے کا وقت بعد نماز عصر تھا ۔ مولا نا اپنے پو تے ر ضاء اللہ کے ساتھ وہاں پہنچے۔ تانگے سے اتر کر وہ ڈا کٹر محمد اسحاق کے ساتھ مصا فحہ کر نا چا ہتے تھے کہ ایک شخص قمر بیگ نے ان پر ٹو کے سے دو وار کئے ۔ مولا نا زمین پر گر گئے اور لہو لہان ہو گئے ۔ حملہ آ ور بھاگ گیا ۔ مولانا کو کچھ ہوش آ یا تو فر مایا کہ میری طرف سے حملہ آ ور پر مقد مہ نہ دا ئر کیا جائے۔ لیکن پو لیس نے اور جماعت اہل حد یث کے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے مقدمہ دا ئر کر دیا ۔ قمر بیگ کو 27 جنوری 1938ء کو گر فتار کر کے کلکتے سے امر تسر لایا گیا اور اس پر مقد مہ چلا۔ استغا ثہ کے وکیل میا ں عبد العزیز مالوادہ تھے ۔ 6 ۔ اپر یل 1938ء کو اسے چار سا ل کی قید ہو ئی ۔ بتایا جا تا ہے کہ اس کے دورا ن قید مولانا اس کے خا ندا ن کی ما ہا نہ مالی مدد کرتے رہے ۔ رہا ئی پر اسے معلوم ہوا تو وہ بہت نادم ہوا اور مولانا کی خد مت میں حا ضر ہو کر معا فی کا طلب گار ہوا۔ ( میاں عبد العزیز ما لوا ڈہ ۔ ص 255۔256)

را ئے درگ

جناب ثناء اللہ عمری ،سید اسماعیل رائے در گی کے حالات میں بیا ن کرتے ہیں کہ

1926ء میں آ پ را ئے در گ آ گئے۔ جہاں احناف نے اہل حدیث کے خلاف مقد مہ دائر کر دیا تھا ۔ اس مقدمہ کی تفصیل یہ ہے کہ دانباڑی ضلع شما لی آ ر کا ٹ کے ایک رئیس تاجر چرم چا ند صاحب نے را ئے درگ میں ایک مسجد بنوا ئی جو مسجد چو ک کے نام سے مشہور ہو ئی ۔ با نی مسجد نے وسعت ظر فی سے کام لیتے ہو ئے اجازت دی کہ ہر مسلک کے لو گ اس میں نماز ادا کر سکتے ہیں ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا ، مگر جب مو لوی عبد الو ہاب شیرازی کے وعظ و تبلیغ سے را ئیدر گ اور گنتگل و غیرہ مقا مات کے لو گ اہل حدیث ہونے لگے ،تو را ئے درگ کے احناف نے اہل حدیث کو اس مسجد میں آ نے سے روکا اور مار پیٹ کی ۔ مقد مہ عدالت میں پیش ہوا ۔ مولوی سید اسماعیل سر سی سے انہی د نوں رائیدر گ لو ٹے تھے ۔ انہوں نے اس مقدمہ میں بڑی دل چسپی لی اور مقامی رئیس ایم فتح محمد اور جناب عبد السلام بلہاری نے اس مقد مہ میں مولا نا کی بھر پور تا ئید کی دامے درمے دل کھول کر امداد کی۔ عدا لت نے فیصلہ اہل حدیث کے حق میں دیا اور لکھا کہ جماعت اہل حدیث اور اس کے افرادکو بھی اس مسجد میں اتنا ہی حق ہے جتنا کہ کسی دوسری جماعت کا ہے یا ہو سکتا ہے ۔ ( نذرانہ اشک)

فتوی مو سو مہ انتظام المسا جد

انتظام المساجد والا فتوی، فتاوی قادریہ میں مو جود ہے۔ لکھا ہے :

کتاب اشباہ نظائر میں ہے کہ جو شخص لو گوں کو زبان سے ایذا پہنچاوے اس کو مسجد سے نکال دینا چا ہیے ۔ پس جب کہ رو کنا مسجد سے بسبب بو ئے پیاز اور طواف سے بہ سبب علت جزام اور نکا لنا وا عظ کا بہ سبب عدم امتیاز نا سخ و منسوخ اور زبانی ایذا دینے والے کا نکالنا شر عاً درست ہوا تو غیر مقلدوں کو جو جا مع امور مذکورہ کے ہیں نکا لنا بطریق اولی درست ہوا۔ اور نیز بہ سبب لحوق اس مر ض با طنی کے جو جزام سے بڑ ھ کر ہے اور مسا جد میں ان کے آ نے سے فتنہ اور فساد برپا ہوتا ہے خدا مفسدوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ قال اللہ تعا لی واللہ لا یحبّ المفسدین (یعنی خدا تعا لی اپنی کلام پاک میں فر ما تا ہے کہ اللہ نہیں دوست رکھتا فساد کر نے والوں کو) ۔ پس اس فر قہ فسادی کا مسا جد سے نکالنا بمو جب آیات اور احا دیث اور روایات فقہیہ کے درست ہوا۔، راقم محمد لود یانوی ( فتاوی قادریہ ص 53 ۔ 56 )

لدھیانہ بمقا بلہ گنگوہ

لدھیا نوی حضرات اپنے دور کے رئیس الا حناف دیوبند یہ جناب رشید احمد گنگو ہی کے بھی سخت ناقد تھے ۔ ان کے کئی فتوے جناب گنگوہی کے خلاف موجود ہیں۔ مثلاًفتوی دا فع الوسواس الخناس عن من انکر ا لا حتیا طی من الناس یوں ہے:۔

سوال۔ کیا فر تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چار رکعت نماز بنیت فر ض ظہر بعد جمعہ کے اس ملک ہند میں پر ھنی جا ئز ہے یا نہیں اور جو مولوی رشید احمد گنگوہی نے اس کے عدم جواز کافتوی دے کر لکھا ہے کہ اس کا پڑ ھنے وا لہ دین سے بے پروا ہ ہے ، مقبول ہے یا مردود۔

جواب : اس ملک ہند میں عمو ماً سلطان کا ہو نا جو مذ ہب حنفیہ میں وا سطے جمعہ کے شر ط ہے بالکل مفقود ہے اور مصر کی تعریف میں بھی بہت بڑا اختلاف ہے لہذا علماء احناف کے نز دیک فتوی اسی پر ہے کہ چار رکعت نماز بعد نماز جمعہ بنیت فر ض ظہر پڑ ھی جا ویں ۔۔۔۔ثا بت ہوا کہ ظہر کا پڑ ھنا بعد جمعہ کے امر ضروری ہے پس فتوی مولوی رشید احمد گنگو ہی کا جو اس کے عدم جواز پر ہے بالکل مردود ہے ۔

غیر مقلدین کی طر ح ظا ہر احادیث پر نظر کر کے اپنی را ئے کو فقہاء پر مقدم کر نے کا نام تحقیق نہیں بلکہ محقق وہ لو گ ہیں کہ فقہاء کے قو ل کا ما خذ ادلہ شر عیہ سے ثا بت کر دیتے ہیں۔ دیکھو صا حب عینی اور محقق ابن ہمام جو علم حد یث میں اپنا نظیر نہیں رکھتے کیا فرماتے ہیں :

فإذا اشتبه علی ا لإنسا ن ذلك ینبغی أن یصلی أربعاً بعد الجمعة… الخ..

خلا صہ ان دو نوں محد ثین کے کلام کا یہی ہے کہ چار رکعت بعد جمعہ کے بنیت فر ض ادا کی جا ویں ۔ اگر بالفرض مولوی رشید احمد کا فتوی مقبول قرار دیا جا ئے تو جمیع علماء حنفیہ عمو ماً اور محقق ابن ہما م اور صا حب عینی خصو صاً معا ذ اللہ دین کے پیشوا دین سے بے پروا ہ ٹھہرے : کبر ت کلمة تخر ج من أفوا ههم۔ محمد لد ھیا نوی ۔ ( فتاوی قا در یہ ص 137۔140)

اور اس پر جناب عبد اللہ لد ھیا نوی نے لکھا ہے :

بلا شبہ پڑ ھنا ظہر کا بعد جمعہ کے ضرور ہے مولوی رشید احمد نے جب 1301ھ میں مرزا غلام احمد قا دیا نی کو مسلمان صا لح تحریر کیا اس عا جز کو نہا یت فکر ہوا کہ ایسے شخص کو جو اپنے کلمات کے ضمن میں پیغمبری کا دعوی کر رہا ہے، مولوی صا حب نے کیسے مسلمان صالح قرار دیا۔

جناب الہی میں دعا کر کے سو گیا۔ خوا ب میں یہ معلوم ہوا کہ تیسری شب کا چا ند بد شکل ہو کر لٹک پڑا ۔غیب سے آ واز آ ئی رشید احمد یہی ہے۔

اسی زما نہ سے فتوی انکے اکثر غلط منا قص بادیگر ے حیز و جود میں آ ئے۔ الراقم عبد اللہ لو دیا نوی(فتاوی قادریہ : ص 140)

ایک فتوی یوں ہے :

کیا فر ماتے ہیں فقہاء حنفی اس فتوی کی بابت جو فا ضل گنگو ہی نے دیا ہے کہ ہندوستان کی زمینیں جو قدیم سے مسلما نوں کے قبضہ میں ہیں اگر یہ نہ معلوم ہو کہ وہ ابتداء سے خرا جی ہیں تو وہ عشری ہوں گی ۔

جوا ب : یہ فتوی فا ضل گنگوہی کا عقلاً و نقلاً صحیح نہیں۔فتوی مو لوی گنگو ہی کا ان کے عشری ہو نے پر ضرور با طل ہے اور یہ ان مو لوی صا حب کی پہلی ہی خطا نہیں بلکہ ان کی عادت ہی ہے اس قسم کے مسا ئل میں جن کی حقیقت نہیں معلوم ہو تی مگر گہری نظر سے در حقیقت وہ مو لوی صا حب اہل نظر نہیں ہیں کیو نکہ پہلا فتوی یہ دے دیا تھا کہ مرزا قا دیا نی مرد صالح ہے، وہ مرزا جس نے یہ دعوی کیا ہے کہ

اس پر یہ حکم خدا کی طرف سے ناز ل ہوا ہے (ہم نے اتارا اس کو قا دیا ن کے قریب) اور پھر یہ فتوی دیا کہ مرزا اہل ہوا اور بدعت سے ہے باو جو دیکہ مرزا حضرت عیسی کو یوسف نجاز کا بیٹا کہتا ہے۔

پھر مولوی صا حب نے یہ فتوی دیا کہ

خدا جھو ٹ بول سکتا ہے اور یہ مخالف ہے قول اللہ تعالی ( کہ اللہ سے زیادہ کوئی سچا نہیں) اور اس مفتی نے ہندوستان میں ظہر بعد جمعہ کو منع کر دیا باو جو دیکہ ہندوستان میں شر ط سلطا ن جو حنفیوں کے نز دیک ضروری ہے پا ئی نہیں جا تی اور نیز جواز شیخ عبد القادر جیلا نی شیئاً للہ کا فتوی دید یا باوجودیکہ پہلا فتوی اس پر تھا کہ

یہ کلمہ شر ک ہے اور کفار کے واسطے جواز تعمیر مسا جد کا فتوی دے دیا اور یہ بھی فتوی دے دیا کہ جو مکا نا ت کعبہ شر یف کے گر د بنا ئے گئے ہیں جن کو مصلی کہتے ہیں، وہ بدعت ہیں ، اور بھی مسا ئل ہیں جن میں محققین کا را ستہ چھو ڑ دیا ہے ۔ محمد لد ھیا نوی ۔ ( فتاوی قا دریہ ص 91۔95)

مسجد پتو دی کی سمت قبلہ کا مسئلہ تھا ۔ اس میں نماز پڑھنے وا لوں کی نماز کے بارے میں جناب رشید گنگوہی نے ایک فتوی دیا ۔

اس پر محمد لودھیا نوی نے لکھا کہ فا ضل گنگوہی کا فتوی غلط ہے۔ فر ماتے ہیں :

…چو نکہ فا ضل گنگو ہی ریا ضی سے بے خبر ہے اند ھا دھند فتوی دے کر وعید حد یث ضلوا فا ضلوا میں مع متبعین دا خل ہو ئے :

و الفا ضل جنجو ھی لما کا ن عاریاً من ھذ العلم کما یتر شح من فتواہ فافتی بغیر علم حتی دخل فی وعید حدیث افتو بغیر علم ضلوا فأضلوا ۔

( فتاوی قادریہ ص 95۔98)

اس پر گنگو ہی صا حب نے پھر جواز کا فتوی دیا توجناب محمد لد ھیا نوی نے لکھا :

مولوی گنگوہی نے ایک فتوی اس قسم کا دیا کہ اگر چودہ ہاتھ یا زیادہ مائل مشرق کی جا نب ہو جس سے سینہ مصلی کا قطب شما لی یا جنو بی کی طرف ہو جا ئے تب بھی نماز درست ہے ، یہی مطلب عباردت درر و غیرہ کا ہے جس کو مفتی لد ھیا نہ نے نہیں سمجھا ۔

پھر اس کی تردید میں راقم نے یہ تحریر کیا کہ

کل فقہاء کے نز دیک سینہ کا پھر نا قبلہ سے نماز کا مفسد ہے جیسا کہ در مختار و غیرہ میں موجود ہے مولوی گنگو ہی نے غلطی کھا کر معا نی صحیحہ کو غلط اور غلط کو صحیح قرار دیا ہے ۔پس قو ل مولوی رشید احمد صا حب گنگو ہی کا سرا سر غلط ہے۔(محمد لدھیا نوی)

( فتاوی قادریہ۔ ص 111۔112)

٭٭٭

تبصرہ کریں