تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

 

مسا جد سے نکا لنے اور سنت کے مطا بق نماز کی ادا ئیگی کی اجاز ت نہ دینے اور مسا جد سے نکا لنے کے بعد اہلحدیث نے عدا لتو ں سے ر جوع کیا اور یکے بعد دیگرے ان کے حق میں فیصلہ آ نا شروع ہو ئے تو بعض مخا لفین نے پینترہ بد ل کر اہل حد یث کو یوں مطعو ن کر نا شروع کر دیا کہ مسا جد کے جھگڑے انگریزی عدا لتو ں میں کیو ں لے جا ئے جاتے ہیں ؟

اس طر ح تواسلا م اور اہل اسلا م کی بے عز تی ہو تی ہے۔ اہل حد یث کو چا ہیے کہ اپنے گھرو ں میں نماز یں ادا کر لیا کریں، یا عدا لتی مقد مات پر ا ٹھنے وا لے اخراجات سے اپنے لئے الگ مسا جد تعمیر کروا لیں ۔ یہ وہی با ت تھی جسے کسی شا عر نے یو ں ادا کیا ہے :

سبھی مجھ سے ہی کہتے کہ نیچی رکھ نظر اپنی

کو ئی ان سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہو کر

ایسے نا صحو ں کے جوا ب میں ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر میں 1905ء میں کسی بزر گ نے ایک مضمون شا ئع کرایا تھا جسے بچندترا میم یہاں نقل کیا جا تا ہے۔ لکھا ہے :

ہندوستا ن میں جہاں دوسری دوسری زبا نیں نما یاں ترقیا ں حا صل کر رہی ہیں وہاں اردو لٹر یچر نے بھی کچھ اس طر ح دل فریب شکلو ں میں اپنے کل پرزے سنبھا لے کہ اس کی پیاری ادا ؤں کو د یکھ د یکھ کر مخالفانہ تقریرو ں تحریروں پر بھی یگا نے تو یگا نے بیگانے تک فر یفتہ ہو ئے اور بمصداق حبك الشئی یعمی و یصم حر یفان جو فروش گند م نما کی سخن ساز یو ں کو عین صلا ح سمجھنے لگے اور یہ در حقیقت ایسا ہی جا گتا جا دو اور چلتاافسوں ہے کہ جس کی برقی تاثیرات سے بچنا بچا نا ہر ایک کا کا م نہیں ۔

دور کیوں جا ئیے یہی ا حناف کرا م اور اہل حد یث کی نزاعی دنیا کی سیر سے معلو م ہو جا ئے گا کہ گذ شتہ زمانوں میں عمو ماً اور فی زما ننا بھی پو لیٹیکل خیا لا ت سے نا بہرہ یا ب دما غ وا لو ں میں خصو صاً جب کہ بے چارے اہل حد یث روز روز کے مظا لم تو ڑے اور مسجدو ں سے یاد الٰہی سے رو کے جا نے کے باعث، تنگ آ کر عدا لتو ں میں استغا ثے کر کے ڈگریاں حاصل کر نے لگے، تو حضرات مقلدین کی تقریرو ں اور تحریرو ں نے وہ جگر خراش پیرا ئے ا ختیا ر کئے جن کے معا ندا نہ اندا زو ں کو سمجھنے میں معمو لی سے معمو لی فہم وا لو ں کو بھی ذرا دقت نہیں پڑ تی مگر جب ان کی مہذ ب سو سا ئیٹیو ں سے جلے بھنے فقروں پر بھی اہل حد یث کو آ گے ہی بڑ ھتے اور روز افزوں مقا صد حسنہ میں پوری پوری کا میا بی پا تے د یکھا نہ گیا تو بقو ل شخصے

خوش تر آ ں باشد کہ سر دلبرا ں

گفتہ آ ید در حد یث د یگرا ں

اپنے ہی فرقہ وا لو ں کے ا ظہار تعصب کی او ٹ میں غریب اہل حد یث پر مقد مہ با زیو ں سے ا ختلاف بڑھانے کے الزا م لگا لگا کر دلو ں کے پھپھو لے توڑنے کے ہتھکنڈے نکا لے گئے اور دوستی کے پردہ میں ان کو استغا ثہ عدا لت اور مسجدو ں میں جا نے کی کوششو ں سے باز ر کھنے کیلئے بغرض مطلب براری یوں زبا ن آ را ئیا ں کی جا نے لگیں کہ

کسی کا عمل کچھ ہو،حنفیو ں کا اہل حد یث کو مسجدوں سے رو کنا نا زیبا حر کت ہے ۔ مگر اہل حد یث کی بھی (باو جود اد عا ئے اتباع سنت ) یہ کیا زبردستی ہے کہ احناف کی مسجدوں میں نماز پڑ ھیں گے اور اس ضد سے مقد ما ت مسا جد کے فیصلے غیر اقوا م سے کرا کر تمام مسلما نو ں اور اسلا م کو ذلیل کر نے پر تل بیٹھے ۔ یہ نفسانیت نہیں تو کیا ہے ؟ باو جود مسلما نو ں میں ایسے ایسے مقد ما ت لڑ نا جھگڑ نا قر آ ن و حد یث میں کہا ں آ یا ہے؟ گھرو ں میں ہی نما زیں کیو ں نہیں پڑ ھ لیا کر تے اور کاش بغیر مسجدوں میں پڑ ھی نما زیں نہ ہو تی ہو ں تو اپنی فرقہ وا لو ں کی مسجد میں پڑھتے یا اگر ان کے فرقے وا لو ں کی مسجد نہ ہو ں، تو جو روپئے مقد مہ بازیوں میں صرف ہو تے ہیں ان سے کو ئی مسجد ہی علیحدہ بنوالی جا تی، جس کاا ثر از رو ئے سخن کے بھا نپنے وا لو ں پر تو کب پڑ نے لگا : یہ وہ نشہ نہیں جسے تر شی اتار دے ۔

لیکن ہا ں اکثر احناف با انصا ف ( جنہیں مسا جد میں روک ٹو ک کر نے اور اہل حدیث سے بغض و عناد رکھنے میں سخت مخا لفت ہے ) اور ا حیا ناً بعضے افراد اہل حد یث بھی محض چکنی چکنی مصنوعی تقریرو ں کے دام تز ویر میں پھنس کر الٹے دشمنو ں ہی کے ہم زبا ن بن جا تے ہیں ۔ حا لا نکہ ایسے مقد ما ت وہ اپنی ذا ت خاص کے لئے ہر گز نہیں لڑ تے۔ ان کا مقصود تو یہ ہے کہ انصا ف پرور گور نمنٹ کی مدد سے بزور قوانین شر عیہ و نظا ئر عدا لت ہا ئے عالیہ عوا م الناس تک پر اہل حد یث کا پکا مسلما ن اور ہر مسجد میں جا کر نماز خوا نی کا مستحق ہو نا ثا بت کر کے ، مقد ما ت مسا جد ہی کے ذریعہ سے مسجدو ں کے جھگڑے چکا ئے اور دشمنو ں کو فتنہ انگیزیوں سے رکوا کر اپنے سا تھ سا تھ عا مہ خلا ئق پر مسجدوں کے دروازے کھلوائے جا ئیں تا کہ کل فرقہ ہا ئے اہل سنت و الجماعت کو عمو ماً اور عاملا ن با لحد یث کو خصو صاً نا دا نستہ بھی کسی مسجد میں جا کر معر ض خطر میں پڑ نے کا خو ف نہ رہے اور سب بندگان وا بستہ کلمہ تو حید حنفی ہو ں یا شا فعی ما لکی ہو ں خوا ہ حنبلی اہل فقہ ہو ں یا اہل حد یث صا حب شر یعت ہو ں یا صا حب طریقت (چا ہے دل سے کو ئی کسی کو کیسا ہی جا نے) اپنے شہنشا ہ گیتی پناہ کے حضور میں مؤدبا نہ سر بسجود ہو کر حق غلا می ادا کر یں اور انشاء اللہ تعا لی الحق یعلو ولا یعلی عنقریب وہ دن آ نے والا ہے اور آکر رہے گا ۔

رہا اقوام غیر سے مقد مات کے فیصلے کرا نا اگر اس کا مورد الزام ہو نا چا ہیے تو میرے برا دران ا حناف ہی کو، کیو نکہ یہی حضرات اس کے با عث ہیں ۔ پھر اس میں سب کی رسوا ئی ہر گز نہیں۔ اگر ہے تو فقط انہی کی جو مسجدو ں سے رو کتے ہیں، جس کا بہت بڑا صد مہ مجھے خود بھی ہے کہ ایسا بسااوقات نہایت حسرت سے یہ کہنا پڑ تا ہے کہ افسوس قر آ ن و حدیث و فقہ کے ایسے صا ف متفق علیھا مسا ئل سمجھیں تو ا غیار اور نہ سمجھ میں آ ئیں ان کی : ﴿إِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّی وَحُزْنِیْ إِلَی اللہِ﴾

ہا ئے مخالفین اسلا م انہیں کیا کہتے ہو نگے؟ شرم شرم۔ مگر

اے باد صبا ا یں ہمہ آ وردہ تست

اس میں کسی کا قصور ہی کیا ہے: ﴿لَیْسَ لِلْإِ نْسَانِ إِلَّا مَا سَعَی﴾ جو جیسا کر ے گا ویسا بھگتے گا۔

اس کی فکر تو حضور والا ہی کو ہو نا تھی اور اگر کو ئی شخص کسی کی ذلت و رسوائی ہی کا لحا ظ کیا کر ے تو شر ک وبدعت کے قلع قمع کی فکرو ں اور د یگر ممنو عا ت شرعیہ کے مٹا نے کی کوششوں میں بھی تو تحریرو ں تقریرو ں مبا حثو ں منا ظرو ں سے کا م لینے کے با عث و غیر اقوا م کی نگا ہو ں میں مسلما نوں کی سبکی کا احتمال پیدا ہو سکتا ہے تو کیا کسی طر یق سے ا حقا ق حق کا ارادہ ہی نہ کیا جا ئے ۔

علاوہ ازیں اہل حدیث نے یہ جھگڑا مٹا نے کے لئے پہلے کیا کچھ کو ششیں نہیں کیں۔کتا بیں لکھیں، مستند آئمہ ا حناف دور از اعتساف کے فتوے شا ئع کئے ۔ اس پر بھی جب لو گ باز نہ آئے، شب و روز ظلم و ستم پر کمر بستہ ہی رہے اور علمائے حق پسند احناف اور بڑے بڑے ر یفارمر بھی ( جو اس وقت لمبے لمبے لیکچرو ں میں اہل حدیث کی چارہ جو ئی عدا لت پر طعنہ زنیا ں کر رہے ہیں ) اپنی اپنی بد نامیوں کے ڈر یا ،و اللہ اعلم کسی اور مصلحت سے مہر بلب بیٹھے نا روا ظلمو ں کو دیکھا کئے اور کسی طر ح ان ستم ز دو ں کی فر یادو ں پر توجہ نہ دی، تو عدا لتو ں میں سلسلہ جنبا نیا ں کر نا پڑیں۔ ایسی حا لت میں بھی انہیں کے سر الزا م ر کھنا اگر چہ نمک بر جرا حت پا شیدن ، کا مضمو ن ہے۔

اور باہم مسلما نو ں میں ایسے ایسے مقدمے دا ئر کر نے کا ثبو ت قر آ ن و حد یث میں ہے یا نہیں؟ اس کی نسبت میرا یہ سوا ل ہے کہ د لیل من حیث الوقوع مانگی جا تی ہے یا من حیث امکا ن الوقوع ۔ بصورت اول معترضین کی طلب دلیل سے ان کی نا واقفیت کا تعجب خیز ا ثر پڑ تا ہے کیو نکہ شا رع ﷺ کے عہد مبارک میں ایسے جھگڑو ں کا کو ئی سبب ہی نہ تھا، پھر وقوع نزاع سے کیا سر و کار؟ بلکہ آپ ﷺ کے بعد صحا بہ کرا م ، پھر تا بعین و تبع تا بعین و آ ئمہ مجتہدین و د یگر اکا بر دین کے زما نہ میں بھی باو جود اختلاف مسا ئل مزا حمت مسا جد کی نا پا ک تکرا ریں سنی تک نہ گئیں ،چہ جا ئے کہ خلفاء عظا م یا سلا طین عالی مقا م کے پاس استغا ثہ کی نو بت پہنچنا ۔ تو بھی معترضین کا تھو ڑی دیر کے لئے دل خوش کر نے کو کہہ د یتا ہو ں کہ اس کا ثبو ت من حیث الوقوع قر آ ن و حد یث کیا معنی فقہ و تفسیر و اقوا ل بزر گا ن تک سے نہیں ملتا ہے لیکن اس کا نہ ملنا آپ کے مفید مطلب نہیں ، یہ اہل حدیث کا مثبت مدعی ہے اور شق ثانی کی کا فی دلیل بایں طور کہ زما نہ نبوی ﷺ کے بعد بھی کچھ زیادہ بارہ سو برس تک کسی مسلما ن کا کسی مسلما ن کو بفحوا ئے آ یہ کر یمہ: ﴿وَ مَنْ أَظْلَمُ مِـمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللہِ أَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُهُ وَسَعَی فِیْ خَرَابِهَا﴾ مسجد وں سے نہ رو کنا صا ف بتا رہا ہے کہ یہ مزاحمت ایک فعل منکر ہے اور جو فعل منکر ہے وہ اپنے خلاف کے معروف ہو نے کو مستلز م ہے تو مسجدوں میں جا نے دینا بھی ایک خا ص فرد، افراد معرو فا ت سے ہو گا کیو نکہ اس سے رو کنا ایک خا ص فرد، افراد منکرات سے ہے اور بحکم قر آ نی :

﴿وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ﴾

ارشاد محمدی ﷺ:

«وَالَّذْی نَفْسْیِ بِیَدِہِ لَتَأْمُرَنَّ بِالْـمَعْرُوْفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْـمْنُکَرِ أَوْ لَیُوْشَکَنَّ اللہُ أَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَاباً مِنْ عِنْدِهِ… الخ

ہر معروف کے لئے عموماً امر اور ہر منکر کے واسطے عموماً نہی وا جب ہے اور چو نکہ خا ص عا م کے افراد سے اور ا حکا م میں اس کا تا بع ہوا کر تا ہے اس لئے مسجدوں میں جا نے دینے کے لئے بھی امر اور اس سے رو کنے کے لئے نہی وا جبات سے ہو ئی۔ پھر ہر ایک ان میں سے ( امر ہو، چا ہے نہی ) کبھی تو بلا واسطہ ہوتا ہے کبھی بوا سطہ ۔ او ل محتا ج دلیل نہیں اور ثا نی یا تو کنایۃً ہو گا یا نیابۃً ۔

پہلی صورت پر سر ور کا ئنا ت سید المو جو دا ت ﷺ کا ہر قل کے پاس بایں مضمو ن :

فإنی أدعوك بداعیة ا لإسلا م اسلم تسلم … الخ

نا مہ بھیجنا ، اور دوسری صورت پر آ پ کا حضرت معاویہ کو یہ تعلیم دے کر

إنك تأتي قوما من أهل الكتاب فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة تؤخذ من أغنيائهم فترد في فقرائهم فإن هم أطاعوا لذلك فإياك وكرائم أموالهم واتق دعوة المظلوم فإنه ليس بينها وبين الله حجاب

یمن کی طرف روا نہ کر نا شا ہد عدل ہے اور اس میں شک نہیں کہ مقد ما ت دا ئر کر کے حکا م سے بصدور ڈگری مسجدو ں میں جا نے کی اجاز ت دلوا نا اور مزاحمت سے باز ر کھوا نا بھی امر با لمعرو ف اور نہی عن المنکر بالوا سطہ کا ایک نہایت ہی مضبو ط اور مستحکم ذریعہ ہے ، تو قر آ ن شر یف و حد یث سے ایسے مقدمات دا ئر کر نے کا من حیث امکا ن الوقوع جواز ہی نہیں بلکہ و جو ب ثا بت ہو گیا ۔

میں سمجھتا ہو ں کہ اگر واقعی مہذب سو سا ئٹی وا لوں کو ( بلا طرف داری کسی خا ص فر یق کے ) اہل اسلا م کی ان با ہمی لڑا ئیو ں سے رو حا نی صد مہ پہنچتا اور مسجدوں سے رو کے جا نے کو ایک ظا لما نہ کا روا ئی تصور فر ما تے تو انہیں حضرات ما نعین ہی سے اس نا جا ئز حرکت کی دلیل طلب کر کے بصورت عد م ثبو ت مظالم کے رو کنے اور مقد مہ باز یو ں کی نو بت نہ آ نے دینے میں جا نیں لڑا نا تھیں، لیکن عجب حیر ت کا مقا م ہے کہ باو جود ہنگا مہ عظیم بر پا ر ہنے کے بھی جب تک من جا نب اہل حدیث عدا لتی کاروا ئیاں نہیں کی گئی تھیں کسی کے دل میں بھی ( بقول با طل ان کی ) تمام اہل اسلا م یا اسلا م کی بد نا می کا خیا ل تو پیدا نہیں ہوا ۔ اور اب اہل حدیث کو عدا لتو ں سے کا میا ب اور مزاحمو ں کو ذلیل و خوار ہو تے د یکھ کر دلوں میں اس قدر درد پیدا ہو گیا کہ گو شے گو شے سے یہی صدا ئیں سنی جا تی ہیں کہ مقد ما ت مسا جد کے با عث اسلا م اور اہل اسلا م کی سخت رسوا ئی ہو رہی ہے ، تو کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی دلی خوا ہش یہی ہے کہ اہل حدیث ہمیشہ ہمیشہ کو مسجدو ں سے رکے رہی؟ میری دا نست میں تو تھو ڑی فہم کا بھی آ د می بول ا ٹھے گا کہ ضرور یہی با ت ہے اور کل ذی شعور اس ابلہ فریب پا لیسی کو سمجھ جا ئینگے:

کر شمے غمزے سب او فتنہ عالم سمجھتے ہیں

تری اس چشم دز دیدہ کے تیور ہم سمجھتے ہیں

اور اب بھی گیا کیا ہے ؟ اگر دل میں اسلا م اور مسلمانوں کا سچا درد ہے تو حسبۃ للہ اپنا اپنا عز یز و قیمتی وقت تھو ڑا تھو ڑا صرف کر کے ہر ہر شہر کے با رسوخ لو گ اپنے اپنے علاقہ کے علمائے ا حناف کو ا کٹھا کر کے اس با ت کی فہما ئش کر دیں اور جہاں تک بنے مقدمات کے نتا ئج بدسمجھا کر یہ کہہ د یں کہ ا ختلافی مسئلو ں میں بحث مبا حثہ کر یں نہ کر یں، کتا بیں لکھیں نہ لکھیں، مگر کسی مسجدوں کی آمد و شد میں مزا حم نہ ہوں اور در صورت مخا لفت سب لو گ ان کی ہمدردیوں سے دست بر دار ہو جا ئیں پھر د یکھیں کہ کس طر ح رات دن کی کشا کش سے نجا ت ہو جا تی ہے اور خدا نخواستہ اس پر بھی وہ نہ ما نیں تو آئندہ ان کی تقدیر ۔ ( ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر 25 ۔ اگست 1905ء ص 4۔8 )

حواشی

(حا شیہ نمبر1) فقہی مذا ہب ار بعہ

امام ابو حنیفہ پہلی صدی ہجری کے اوا خر میں پیدا ہوئے تھے اور امام احمد بن حنبل 241ھ۔ 855ء) میں فو ت ہو ئے ۔جو صحابی اور تا بعی کسی بھی سلسلے (سیاحت، قتال، اخبار، تبلیغ ) میں ہندوستان تشریف لائے وہ نہ حنفی ہو سکتے تھے ، نہ مالکی یا شا فعی یا حنبلی کیونکہ یہ امام تا بعین کے دور میں یا تو مو جود ہی نہ تھے یا ان میں کچھ ابھی طا لب علمی کے دور سے گذر رہے تھے۔ اسی طر ح کو ئی بھی تبع تابعی ، حنفی شا فعی مالکی حنبلی مقلد کیوں کر ہو سکتا ہے کہ تبع تا بعین کا دور ختم ہو گیا لیکن ان میں سے کچھ امام تو ابھی پیدا ہی نہ ہوئے تھے اور جو پیدا ہوچکے تھے وہ یا تو طالب علمی کے دور سے گذر رہے تھے یا ابھی نو آموز تھے اور اساتذہ کی نگرا نی میں تدریس و افتاء کا آ غاز کر رہے تھے۔یوں کو ئی صحا بی، کو ئی تابعی ،کو ئی تبع تا بعی، حنفی شافعی مالکی حنبلی نہیں تھا اور تمام مسلمان (جو خار جی، رافضی ،معتز لی نہیں تھے) جو اسلام کے اس ابتدا ئی دور میں سندھ اور ہند میں واردہو ئے وہ اہل حدیث تھے۔ ایسے لوگ سینکڑو ں نہیں، ہزاروں بلکہ شا ئد لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ ان بز ر گوں کی تبلیغ و جہاد کے نتیجے میں جن ہزاروں لاکھوں سندھیوں اور ہندیوں نے اسلام قبول کیا وہ بھی اہل حد یث تھے۔ ثانی الذکر لو گوں میں بہت سے افراد نے حصول علم کیلئے عر ب ملکوں کا ر خ بھی کیا اور بہت سے افراد نے بعد میں خارج از ہند و سند ھ بلاد اسلا می کو اپنا مستقر بنایا۔ ان میں بعض صا حب سیف تھے ، بعض صا حب قلم ، بعض صا حب مسند تد ریس۔ بعض تا جر ، بعض دیگر پیشوں سے وابستہ تھے ۔ (جاری ہے)

٭٭٭٭

تبصرہ کریں