طاقت وقوت نصرت الٰہی کا عظیم سرچشمہ ۔ ابو ارقم عبد الرحیم خرم عمری جامعی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے مؤمن کو دعا کے ہتھیار سے سرفراز فرمایا ہے، جس پر نہ کسی کا اختیار ہے، نہ روک و پابندی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«اَلدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ»

’’دعا مؤمن کا ہتھیار ہے۔‘‘ (ضعيف الجامع للالبانی) اسی طرح کی ایک اورضعیف روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی جاتی ہے:

«نِعْمَ سِلَاحُ الْمُؤمِنِ الصَّبْرُ وَالدُّعَاءُ»

’’مؤمن کا سب سے بہترین ہتھیارصبر اور دعا ہے۔‘‘ ( ضعيف الجامع للالبانی)

ہاں معنوی اعتبار سے دعا ہتھیار ہے ، دعا طاقت ہے ، دعا زندگی ہے ، دعا رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے ،دعا اصل عبادت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«اَلدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ»

’’دعا ہی عبادت ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد : 1479 )

یہی نہیں بلکہ دعا کو افضل عبادت قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے:

«أَفْضَلُ الْعِبَادَة الدُّعَاء»

’’ سب سے بہترین عبادت دعا ہے۔‘‘ (حاكم ،صحيح الجامع : 1122)

یہی نہیں بلکہ دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے :

«اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَة»

’’ دعا عبادت کا مغز ہے۔‘‘ (جامع ترمذی:3371 ، ضعيف)

پھر بھی اگر کوئی مسلمان اس کا استعمال نہیں کرتا تو اس سے بڑا بخیل ، غافل ، کم ظرف، کوئی نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ کی قوت و طاقت کو نظر انداز کرکے انسانی وسائل و ذرائع پر بھروسہ و اعتماد کرنا منافقت ہی نہیں بلکہ کفر ہے کسی بھی زمانے میں مسلمان کو طاقت و قوت ہی کے سبب غلبہ حاصل نہیں ہوا بلکہ ان کی کامیابیوں و فتوحات میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کا سب سے بڑا دخل رہا ہے جو دعا کے ذریعہ سےحاصل کیا گیا ہے ، ایک گروہ میدان کارزار میں نبردآزما تها تو ایک گروه اللہ کے حضور دست بہ دعا و سربسجود ہوکر نصرت و فتح کی دعائیں مانگتا رہا ہے ۔ اسی لئے ہر مؤمن کو تسلسل کے ساتھ دعا کرتے رہنا چاہئے رسول اللہﷺ نے زندگی کے ہر موقع کے لئے دعائیں سکھائی ہیں ۔ دعا کی اہمیت کا انداز اس حديث شریفہ سے کیا جاسکتا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«اَلدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللهِ بِالدُّعَاءِ

’’جو کچھ نازل کردہ اور غیر نازل کردہ چیزیں ہیں اس میں دعا ہی فائدہ دینے والی ہے ، اے اللہ کے بندو تم دعا کو لازم پکڑو۔‘‘ (جامع ترمذی :3373 ، صحيح )

دعا 2 طرح کی ہوتی ہے، انسان اپنے حق میں رب سے جو مانگنا ہے اور جو کسی انسان کے خلاف مانگتا ہے اسے بد دعا کہا جاتا ہے دونوں چیزیں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں لیکن بد دعا کے متعلق کچھ باتیں جاننا ہمارے لئے ضروری ہے ، اس لئے کہ آج ہم مسلمان انتہائی سخت حالات سے گزر رہے ہیں ، ہمیں ہماری شہریت سے محروم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، جس کے سبب ہماری جان و مال ، عزت و آبرو ، زر زمین ہر چیز خطرہ میں محسوس کی جارہی ہے، جس سے ہمیں محروم کردیا جائیگا ،ہر روز ایوانوں میں نت نئی سازشیں رچی جارہی ہیں، ہر طرح سے مسلمانوں کاعرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ، مسلمان اپنے آپ کو دل شکستہ محسوس کر رہے ہیں، ایسے میں ہماری مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کی مدد کے۔ یہاں ہم یہ جاننے کی کشش کریں کہ بد دعا کس طرح کرنا چاہئے ؟

مظلوم کی بد دعا سے بچو

شریعت اسلامیہ نے سب سے پہلے یہ اصول بتایا ہے:

«اِتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ»

’’مظلوم کی بد دعا سے بچو ۔‘‘ (صحیح مسلم :121)

اب یہ جاننا ضروری ہے کہ مظلوم کس کو کہتے ہیں ؟ یہ تعریف ہم اچھی طرح جانتے ہیں ۔ اپنے حقوق، جائیداد، دولت، تشخص ، گھر ، وطن ، سے محروم کیا جانے والا مظلوم ہے، اسی طرح ناحق ستایا جانے والا ، بربریت کا شکار، چاہے وہ حکمرانوں ، رشتے داروں ، دوستوں اور برادران وطن کے ہاتھوں مجروح کیا گیا ہو یا عدالتوں و منصفوں کے ہاتھوں عدل و انصاف سے محروم کیا گیا ہو وہ مظلوم ہے، جس کی کوئی فریاد سننے والا نہ ہو ان سب مظلوموں کی آہ و بکا، چیخ و پکار سننے والی ایک ہی ذات ہے، جو اللہ رب العالمین کی ہے وہ ہر اس انسان کی سنتا ہے جو مظلومیت کا شکار ہو، اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ

’’مظلوم کی بد دعا سے بچو۔ ‘‘

ایک حدیث شریفہ میں واقعہ یوں ہے کہ جب سیدنا معاذ بن جبل کو یمن کی جانب محصل زکوة کی حیثیت سے بھیجا جارہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں کچھ نصیحتیں فرمائیں کہ

’’ اے معاذ! تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو ، ان کو اس بات کی طرف بلانا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ یہ مان لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوة فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر غریبوں کو دی جائیں گی ، پھر اگر وہ یہ بھی مان لیں تو تم ان کے عمده مالوں کو نہ لینا اور فرمایا کہ

«اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ»

’’مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہنا کہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔‘‘ (سنن ابواؤد : 1584)

اس حدیث شریفہ میں مظلومیت کی بہت ہی آسان تشریح کی گئی ہے۔ اس حدیث کے پیش نظر ایک واقعہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ

’’اللہ تعالیٰ مظلوم کی فریاد کس طرح سنتا ہے؟ ‘‘

یہ واقعہ کسی عام انسان کا نہیں بلکہ 2 مؤمنین کے درمیان کا ہے ۔ واقعہ یوں کہ سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفيل بیان کرتے ہیں کہ ارویٰ بنت اویس سے ان کے ساتھ گھر کے ایک حصے کے بارے میں جھگڑا ہوا، انہوں نے کہا : اسے اور گھر کو چھوڑ دو(جوچاہے کرتی رہے) میں نے رسول اللہﷺ سے سناتھاآپﷺ فرما رہے تھے:

’’جس نے حق کے بغیر ایک بالشت زمین بھی حاصل کی قیامت کے دن وہ 7 زمینوں (تک) اس کی گردن کا طوق بنا دیا جائیگا(اس کی ایذا رسانی سے تنگ آکر) سیدنا سعید بن زید نے ان الفاظ میں بد دعا کی کہ

«اللَّهُم إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا، وَاجْعَلْ قَبْرَهَا فِي دَارِهَا»

’’ اے اللہ یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کردے اور اس کے گھر ہی میں اس کی قبر بنا دے۔‘‘

محمد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے اس عورت (ارویٰ بنت اویس) کو دیکھا وہ اندھی ہو گئی تھیں، دیواریں ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی، مجھے سعید بن زید کی بد دعا لگ گئی ہے، ایک مرتبہ وہ گھر میں چل رہی تھیں، گھر میں کنویں کے پاس سے گزریں اور اس میں گر گئیں، وہی کنواں اس کی قبر بن گیا ۔ (صحیح مسلم: 4133)

خواہ مخواہ کے بد دعا کی ممانعت

عوام الناس کو اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ بد دعا حق کے ساتھ دینی چاہئے ، ہر چھوٹی موٹی بات پر بد دعا اچھی بات نہیں ہے ۔ اس ضمن میں ایک حدیث سیدنا جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

« لاَ تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَلاَ تَدْعُوا عَلَى أَوْلاَدِكُمْ وَلاَ تَدْعُوا عَلَى خَدَمِكُمْ وَلاَ تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ لاَ تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَاعَةَ نَيْلٍ فِيهَا عَطَاءٌ فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ »

’’تم لوگ نہ اپنے لئے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لئے اور نہ اپنے خادموں کے لئے اور نہ ہی اپنے اموال کے لئے، کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کرلے۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 1532)

اسی طرح ایک اور حدیث سیدنا جابر سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وادی بواط کی جنگ میں تھے، آپ قبیلہ جہنیہ کے سردار مجدی بن عمرو جہنی کو ڈھونڈ رہے تھے، پانی ڈهونے والے ایک اونٹ پر ہم 5 ،6اور 7 آدمی باری باری بیٹھتے تھے ۔ انصار میں سے ایک آدمی کی اپنے اونٹ پر بیٹھنے کی باری آئی تو اس نے اونٹ کو بٹھایا اور اس پر سوار ہوگیا ، پھر اس کو اٹھایا تو اس (اونٹ) نے اس کے حکم پر اٹھنے میں کسی حد تک دیر کی تو اس نے کہا: کھڑا ہو، تم پر اللہ لعنت کرے ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا کون ہے ؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول ! میں ۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’ اس سے اتر جاؤ، جس پر لعنت کی گئی ہو وہ ہمارے ساتھ نہ چلے۔‘‘ پھرفرمايا:

«لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ، لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللهِ سَاعَةً يُسْأَلُ فِيهَا عَطَاءٌ، فَيَسْتَجِيبُ لَكُمْ»

’’اپنے آپ کو بد دعا نہ دو، نہ اپنی اولاد کو بد دعا دو ، نہ اپنے مال مویشی کو بد دعا دو، اللہ کی طرف سے مقرر کردہ مقبولیت کی گھڑی کی موافقت نہ کرو ، جس میں (جو) کچھ مانگا جاتا ہے وہ تمہیں عطا کردیا جاتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم : 7515)

حدیث شریفہ میں ایک واقعہ سیدہ عائشہ سے یوں بیان کیا گیا ہے کہ

سُرِقَتْ مِلْحَفَةٌ لَهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى مَنْ سَرَقَهَا فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ

’’سیدہ عائشہ کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمانے لگے: ’’ تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 1497)

سیدنا نوح کی بددعا

اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی سیدنا نوح ہیں، جنہوں نے 950 سال دعوت و تبلیغ کا کام کیا ہے، لیکن ان کی قوم نے انہیں خوب ستایا ، ان کی دعوت کا تمسخر کیا، ان کی کردار کشی کی ، انہیں جھٹلایا اور قوم کو ان کے خلاف ابھارا اور بے بس کردیا، ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے اپنی قوم کے حق میں بد دعا کی جس کا ذکر قرآن میں یوں کیا گیا ہے:

﴿وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا 0‏ إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا﴾

’’اور سیدنا نوح ( ) نے کہا : ’’ اے میرے پالنے والے ! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے والا نہ چھوڑنا اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (يقيناً) یہ تیرے (اور) بندوں کو (بھی) گمراہ کر دیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے۔‘‘

(سورۃ نوح : 36۔37)

یہ بددعا اس وقت کی جب سیدنا نوح اپنی قوم کے ایمان لانے سے بالکل نا امید ہوگئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اطلاع کر دی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا۔

مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ یہ بددعا قيامت تک آنے والے ظالموں کے لئے ہے ۔ اسی لئے جابروں ، ظالموں کے خلاف بد دعا کرنا امت مسلمہ کا حق ہے۔

رسول کریم ﷺاور آل ہاشم کے سماجی بائیکاٹ پر رسول اللہﷺ کی بد دعا

كفار قریش نے رسول اللہ ﷺاور اہل ایمان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ، آزادی سے عبادات و معاملات کا راستہ روک دیا۔ سنہ 7 نبوی کا واقعہ ہے کہ کفار مکہ کے تمام سردار وادی محصّب میں خیف بنی کنانہ میں جمع ہوئے اور آل ہاشم کے خلاف یہ ایجنڈہ تیار کیا کہ

(1) نہ ان سے شادیاں کریں گے۔

(2) نہ خرید و فروخت۔

(3) نہ ساتھ اٹھیں گے نہ بیٹھیں گے ۔

(4) نہ میل جول رکھیں گے۔

(5) نہ انکے گھروں کو آئیں گے نہ جائیں گے ۔

(6) نہ ان سے بات چیت کریں گے۔

جب تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو قتل کے لئے ہمارے حوالے نہ کردیں گے۔ یہ معاہدہ خانہ کعبہ کی دیوار پر لٹکا دیا۔ اور سارے بنو ہاشم کو شعب ابی طالب میں محصور کردیا گیا، جس کے چار اسباب تھے :

(1) سیدنا حمزہ کا قبول اسلام

(2) سیدنا عمر کا قبول اسلام

(3) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی سودے بازی کا رد کیا جانا ۔

(4) بنو هاشم کے سارے مسلمانوں کا رسول اللہ کی حفاظت کے لئے متحد ہوجانا۔

یہ محاصرہ 3 سال یعنی سنہ 10 نبوی تک جاری رہا ، سامان خورد و نوش ختم ہوا تو پتے اور سوکھا چمڑا پانی میں بھگو کر کھانے پر مجبور ہوئے ۔

سنہ10 نبوی میں جب یہ صحیفہ اس معاہده کے ناراض مشرکین نے چاک کردیا ، اصل میں کیڑوں نے اس صحیفے کو کھالیا صرف اللہ کا نام «بِاسْمِكَ اللهم» بچا تھا۔ اسکے بعد رسول اللہ ﷺ شعب ابی طالب سے نکل آئے اورایک شخص بغيض بن عامر بن ہاشم نامی جس نے بنوہاشم کے بائیکاٹ کا صحیفہ لکھا تھا، رسول اللہﷺ نے اس کے حق میں بد دعا کی تو اس کا ہاتھ شل ہوگیا تھا ۔ (الرحيق المختوم : 172؛ زاد المعاد : 2؍49)

رسول اللہﷺ پر اوجھڑی ڈالنے والوں کے حق میں بد دعا

سیدنا عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے ، ابوجہل اور اس کے ساتھی بھی بیٹھے ہوئے تھے ، اور ایک دن پہلے ایک اونٹنی ذبح کی ہوئی تھی ، ابو جہل نے کہا تم میں سے کون اٹھ کر بنی فلاں کے محلے سے اونٹنی کے بچے والی جھلی ( بچہ دانی) لائے گا اور محمد سجدے میں جائیں تو اس کو ان کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دے گا؟ قوم کا سب سے بد بخت شخص (عقبہ بن ابي معيط) اٹھا اور اس کو لے آیا ۔ جب نبی ﷺ سجدے میں گئے تو اس نے وہ جھلی آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دی ، پھر وہ آپس میں خوب ہنسے اور ایک دوسرے پر گرنے لگے ، میں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا ، کاش اگر مجھے کچھ بھی تحفظ حاصل ہوتا تو میں اس جھلی کو رسول اللہ ﷺ کی پشت سے اٹھا کر پھینک دیتا ، نبی ﷺ سجدے کی حالت میں تھے، اپنا سر مبارک نہیں اٹھا رہے تھے ، حتی کہ ایک شخص نے جاکر سیدہ فاطمہ کو خبر دی وہ آئیں حالانکہ اس وقت کم سن بچی تھیں، انہوں نے وہ جھلی اٹھا کر دور پھینک دی ، پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں انہیں سخت سست کہا ، نبی ﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو آپ نے ان کے خلاف بآوا زبلند بد دعا کی ، آپ جب کوئی دعا کرتے تھے تو تین مرتبہ دہراتے اور آپ ﷺ کچھ مانگتے تو تین مرتبہ مانگتے ، پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا :

«اَللهم عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ»

’’اے اللہ !قريش پر گرفت فرما۔‘‘ جب قریش نے آپ کی آواز سنی تو ان کی ہنسی جاتی رہی اور وہ آپ کی بد دعا سے خوف زدہ ہوگئے ، پھر آپ ﷺ نے ان الفاظ میں بد دعا فرمائی:

«اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ»

’’اے اللہ! ابو جہل بن ہشام پر گرفت فرما ، اور عتبہ بن ربیعہ ، اور شیبہ بن ربیعہ، اور ولید بن عقبہ، اور امیہ بن خلف ، اور عقبہ بن ابی معیط پر گرفت فرما۔‘‘ ساتویں شخص کا نام بھی لیا تھا لیکن وہ مجھے یاد نہیں۔ (سات آدمیوں پر بد دعا کی ساتواں آدمی عمارة بن ولید تھا)

سیدنا ابن مسعود کہتے ہیں کہ

’’ اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق و صداقت کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا، جن کا نام آپﷺ نے لیاتھا، میں نے بدر کے دن ان کو مقتول پڑے دیکھا ، پھر ان سب کو گھسیٹ کر بدر کے کنویں کی طرف لے جایا گیا اور انھیں اس میں ڈال دیا گیا ۔

(صحیح بخاری: 240 ؛ صحیح مسلم: 1494 ؛ سنن نسائی: 307)

ان شاء اللہ وہی رب العالمين انہیں انجام تک پہنچائے گا ۔

سراقہ بن مالک پر بد دعا

یہ ہجرت مدینہ کا واقعہ ہے اہل مکہ نے جناب محمد ﷺ اور سیدنا ابو بکر صدیق کی گرفتاری پر انعام رکھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم ان دونوں کا پیچھا کیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کو پا لیا ، ليكن اس کے گھوڑے کے پیر 3 مرتبہ زمین میں دھنس گئے اور اور وہ گر گیا اور سمجھا کہ محمد غالب آکر رہیں گے (یہ ایک طویل واقعہ ہے یہاں تفصیل کی ضرورت نہیں)

سیدنا براء بن عازب بیان فرماتے ہیں کہ جب رسولﷺ مکہ سے مدینہ کو آئے تو سراقہ بن مالک نے مشرکوں کی طرف سے آپ ﷺ کا پیچھا کیا ، آپﷺ نے اس کے لئے بد دعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا، وہ بولا آپ میرے لئے دعا کیجئے میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا، آپ ﷺ نے اللہ سے دعا کی تو اسے نجات ملی ، پھر آپ ﷺ کو پیاس لگی اور آپ ﷺ بکریوں کے چرواہے کے قریب سے گزرے، سیدنا ابو بکر نے کہا کہ میں نے پیالہ لیا اور تھوڑا سا دودھ آپ ﷺ کے لئے دوہا اور لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺنے پیا ، یہاں تک کہ میں خوش ہوا ۔‘‘ (صحیح مسلم: 5239)

قبیلہ مضر کے حق بد دعا

مضر کفار کا ایک ایسا قبیلہ تھا، جس کا ظلم و ستم و خونریزی مشہور عام تھی ، مسافرین پر ہمیشہ اس کا خوف طاری رہتا، جس کی شکایت قبیلہ عبد القيس کے خاندان ربیعہ نے رسول اللہ ﷺ سے کی تھی، سوائے حرمت والے مہینوں کے تمام مہینوں میں قبیلہ مضر کی لوٹ مار عام بات تھی، اسی لئے مدینہ کی راہ میں سفر کرنے والے لوگ قبیلہ مضر کے خوف سے حرمت والے مہینے ہی میں سفر کرتے تھے۔ ان کے ظلم و ستم اور سخت دلی کے سبب رسول اللہ ﷺ نے بد دعا کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ بلند آواز سے ان الفاظ میں فجر کی نماز میں بد دعا کرتے تھے ۔ سیدنا ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ سر مبارک آخری رکعت کے رکوع سے اٹھاتے تو یوں فرماتے:

«اللَّهُمَّ أَنْجِ الوَلِيدَ بْنَ الوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ المُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ وَأَهْلُ المَشْرِقِ يَوْمَئِذٍ مِنْ مُضَرَ مُخَالِفُونَ لَهُ» (صحیح بخاری : 804، 1006، 3386؛ صحیح مسلم)

’’اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے دے ، سلمہ بن ہشام کو نجات دے دے، عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے دے، اے اللہ! مکہ کے بے بس وناتواں مسلمانوں کو نجات دے دے۔ یا اللہ! مضر کے کافروں کو سخت پکڑ ۔ یا اللہ ! ان کے سال سیدنا يوسف کے سال کردے۔‘‘

واقعہ (5) قبيلہ رعل اور ذکوان کے خلاف بد دعا

ابو مجلز نے سیدنا انس سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ تک صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت کیا ، آپ رعل اور ذکوان کے خلاف بد دعا فرماتے تھے اور کہتے تھے : عصبیّہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے ۔‘‘ (صحیح مسلم : 1547، 1548، 1554)

جنگ احزاب (خندق) میں رسول اللہ ﷺکی بد دعا

غزوہ خندق جسے غزوہ احزاب بھی کہا جاتا ہے۔ 5ھ میں پیش آئی، بنو نضير نے سارے قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف متحد کرلیا، قبیلہ غطفان ، بنی اسد اور ان کے حلیفوں کا ایک لشکر جرار جمع کر لیا، جن کی تعداد 10 ہزار تھی اور مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے نکلے ، جب یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو ہوئی تو آپ نے 3 ہزار صحابہ کو لیکر خندق کھودنے کاآغاز کیا، اپنی مدت مقررہ پر خندق کھود لی گئی ، مشرکین چاروں جانب سے مسلمانوں کو گھیرنے کی کوشش کئے جنگ کا آغاز ہوا، دو بدو حملہ خندق کے سبب نہ ہوسکا لیکن تیر اندازی کا سلسلہ جاری رہا، اسی جنگ کی جدو جہد میں رسول اللہ ﷺ کی عصر کی نماز چھوٹ گئی تو آپ ﷺ نے ان قبائل پر بد دعا کی ،سیدنا علی بیان فرماتے ہیں کہ غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ( مشرکین کو یہ بد دعا دی کہ

«مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا، شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ»

’’اے اللہ !ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، کہ انہوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ (عصر کی نماز) نہیں پڑھنے دی یہ آپ نے اس وقت فرمایا : جب سورج غروب ہو چکا تھا اور عصر کی نماز قضا ہو چکی تھی۔‘‘ (صحیح بخاری: 2931 )

اس دعا کا یہ اثر ہوا کہ ایک دن ایسی آندھی چلی کہ دشمنوں کے خیموں کی رسیاں اکھڑ گئیں ، کھانے کی ہانڈیاں چولہوں پر الٹ جاتی تھیں ، سردی میں ہوا کی اس تیز باڑھ نے بھی کفارکے دل کپکپا دئیے، قبائل کفار کے قدم لرزا گئے اور وہ سب منتشر ہوگئے ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی بد دعا کا اثر تھا۔ کیا ابھی بھی ہم اس شک میں رہیں گے کہ ہندوستان کے موجودہ حالات میں قنوت نازلہ پڑھا جائے یا نہیں ؟ مسلمانوں کے پاس اب سوائے رب تعالیٰ کی مدد کے کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ کی نصرت و مدد کے سامنے ان کی تمام تدابیر ہیچ ہیں ۔

پنج وقتہ نمازوں میں بددعا

عوام الناس کو چاہیے کہ ابتلاء و آزمائش اور عدم تحفظ کے موقع پر پانچوں نمازوں میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں، عموماً لوگ فجر اور عشاء ہی میں قنوت کا اہتمام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور بعض لوگ صرف جہری نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھتے ہیں اور بعض اہل علم کو دیکھا گیا ہے کہ وہ تسلسل سے قنوت نازلہ پڑھنے کو ناپسند کرتے ہیں ، انھیں ایسی باتوں سے باز رہنا چاہئے، جس چیز کا جواز ہے اس کو تسلسل ہی سے اپنانا چاہئے چونکہ دعا ہماری ضرورت ہے۔

اس ضمن میں ایک حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس سے بھی مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ

قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ

’’رسول اللہ ﷺ نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر میں ہر نماز کے بعد ایک ماہ تک مسلسل قنوت پڑھی، جب آخری رکعت میں ” سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو آپ ﷺ بنی سلیم کے قبائل ، رعل ، ذكوان اور عصیہ کے حق میں بد دعا کرتے اور جولوگ آپ کے پیچھے ہوتے آمین کہتے۔‘‘ (سنن ابو داؤد : 1443)

ظالموں و جابروں کا نام لیکر بد دعا و لعنت کرنا

سابقہ احادیث میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہﷺ نے بعض قبائل اور بعض افراد کا نام لیکر ان پر بد دعا کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی دعاؤں میں اور اپنی گفتگو میں ظالموں و جابروں کا نام لیکر بددعا و لعنت کی جا سکتی ہے یہاں ہم ایک اور حدیث بیان کردینا مناسب سمجھتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال بخار میں مبتلا ہوگئے ، جب سیدنا ابو بکر بخار میں مبتلا ہوئے، تو یہ شعر پڑھتے تھے :

كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ

’’ہر آدمی اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے، حالانکہ اس کی موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی قریب ہے۔‘‘

اور سیدنا بلال کا جب بخار اتر تا تو آپ بلند آواز سے یہ اشعار پڑھتے :

أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هلْ أبِيتَنَّ لَيْلَةً

بوَادٍ وحَوْلِي إذْخِرٌ وجَلِيلُ وَهلْ أرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ

وهلْ يَبْدُوَنْ لي شَامَةٌ وطَفِيلُ

’’ کاش میں ایک رات مکہ کی وادی میں گزارسکتا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جليل (گھاس) ہوتیں۔ کاش! ایک دن میں مجنہ کے پانی پر پہنچتا اور کاش! میں شامہ اور طفیل (پہاڑوں) کو دیکھ سکتا۔ ‘‘

کہا کہ

اللَّهُمَّ الْعَنْ شَيبةَ بنَ رَبِيعَةَ، وعُتْبَةَ بنَ رَبِيعَةَ، وأُمَيَّةَ بنَ خَلَفٍ كما أخْرَجُونَا مِن أرْضِنَا إلى أرْضِ الوَبَاءِ

’’اے میرے اللہ ! شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف مردودوں پر لعنت کر۔ انہوں نے اپنے وطن سے اس وباء کی زمین میں نکالا ۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا :

«اَللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَفِي مُدِّنَا وَصَحِّحْهَا لَنَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ قَالَتْ وَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ قَالَتْ فَكَانَ بُطْحَانُ يَجْرِي نَجْلًا تَعْنِي مَاءً آجِنًا» ( صحیح بخاری: 1889)

’’اے اللہ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما، اور مدینہ کی آب و ہوا ہمارے لئے صحت خيز کردے یہاں کے بخار کو جحیفہ میں بھیج دے، سیدہ عائشہ نے بیان کیا کہ جب ہم مدینہ آئے تو یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے زياده وباء والی زمین تھی، انہوں نے کہا کہ مدینہ میں بطحان نامی ایک نالے سے ذرا ذرا بد مزه اور بد بو دار پانی بہا کرتا تھا۔‘‘

منافقین پر بد دعا

سیدنا عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر میں جب رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا : «رَبَّنَا وَلَكَ الْـحَمْد» یہ آخری رکعت کی بات تھی ، پھر یہ بد دعا کرنے لگے:

«اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، وَفُلَانًا» دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:

﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾

’’ اے اللہ !تو فلاں پر لعنت کر،۔۔۔‘‘

منافق لوگوں پر آپ ﷺنے بد دعا کی ، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دیا:

’’اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔‘‘ (مسند احمد : 1760؍6349)

٭٭٭

تبصرہ کریں