توحيدکی تعریف،اہمیت ،اقسام اور فوائد- قاری محمد مصطفیٰ راسخ

توحید كی تعریف

اس بات پر یقین ہونا کہ اللہ ایک ہے۔ربوبیت‘ الوہیت‘اسماء وصفات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ معبود برحق صرف اور صرف اللہ ہی ہے۔یعنی آدمی پختہ یقین کے ساتھ اس بات کا اقرار کر ے کہ اللہ ایک ہے۔ہر شئی کا مالک اور رب ہے۔وہ اکیلا ہی پیدا کرنے والا ہے۔ساری کائنات میں اکیلا ہی تدبیر کرنے والا ہے۔ساری عبادتوں کے لائق وہی پاکیزہ ذات ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں۔اس کے علاوہ تمام معبود باطل ہیں۔وہ ہر کمال والی صفت سے متصف ہے اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے۔اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی بلند واعلیٰ صفات ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں:

“لیس للقلوب سرور ولا لذة إلا…. الخ”

’’ اللہ کی محبوب چیزوں کے ذریعہ تقرب الٰہی اور محبت الہی میں ہی دلوں کو سکون اور لذت تامّہ حاصل ہوتی ہے۔اور اللہ کی محبت تب تک ممکن نہیں جب تک غیر اللہ کی محبت سے اعراض نہ کر لیا جائےاور یہی ملت ابراہیمی اورتمام انبیاء ورسل کی دعوت ہے۔‘‘ (مجموع فتاویٰ لابن تیمیہ : 28؍32)

شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ﷫ فرماتے ہیں:

کہ انسان اس وقت تک مو من نہیں ہو سکتا جب تک اللہ پر ایمان کے ساتھ ساتھ طاغوت کا انکار نہ کرے۔دلیل اللہ کا یہ فرمان ہے:

﴿فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ﴾ (سورۃ البقرۃ:256)

’’ جو اللہ کے سوا دوسرے معبودوںکا انکار کر کے اللہ پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا۔‘‘ )الدرالسنیۃ:1؍95(

توحید کی اہمیت:

توحید کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توحید ہی کی خاطر (یعنی خاص اپنی عبادت کی خاطر) جہان کو بنایا‘جنّوں وانس کو پیدا کیا۔اور اس توحید کی طرف بلانے کے لئے انبیاء ورسل مبعوث فرمائے۔جنت ودوزخ بنائی۔ اسی توحید کے سبب مخلوق دو حصوں (مومن اور کافر)میں تقسیم ہوئی۔ اسی توحید کے سبب تلواریں میانوں سے نکلیں ‘ اور توحید کے منکروں سے جہاد فرض ہوا۔اور اللہ رب العزّت نے عالم ارواح میں سب سے پہلے اسی توحید کا اقرار لیاکہ

﴿أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ﴾

’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں‘‘؟ تو بنی آدم نے جواب دیا:

﴿قَالُوْا بِلَی﴾ ’’کیوں ہیں آپ ہمارے رب ہیں ۔ ‘‘

اور تمام انبیاء کرام﷩ اسی دعوت توحید کو لیکر آئے‘اور اپنی قوم سے یوں مخاطب ہوئے کہ

﴿ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ﴾’’اے میری قوم کے لوگو!ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔‘‘

اور نبی اکرم ﷺ نے بھی سب سے پہلے مشرکین مکہ کو یہی دعوت توحید دی‘ اور کہا: «قُوْلُوْا لَا إِلَهَ إِلَّااللہُ تُفْلِحُوْا»

کہہ دو !’’اللہ ایک ہے ‘‘ کامیاب ہو جاؤ گے۔‘‘

اورمئو حد آدمی کا ٹھکانہ جنت ہے جبکہ مشرک کاٹھکانہ جہنم ہے۔

توحید کی اقسام

توحید کی تین اقسام ہیں:

1۔توحید ربوبیت:

ا س بات کا اقرار کرنا کہ اللہ ہی پیدا کرنے والا، پالنے والا، روزی دینے والا، معاملات کی تدبیر کرنے والا، عزّت وذلت سے دوچار کرنے والا اور تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ اس توحید کو کفّار بھی مانتے تھے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ۔

﴿ وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ﴾ (سورۃ الزخرف:87)

’’ اگرآپ ان سے سوال کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے؟تو وہ ضرور جواب دیں گے !’’کہ اللہ نے پیدا کیا ہے‘‘

2۔توحید الوہیت:

یہ عقیدہ رکھنا کہ تمام قسم کی مشروع عبادات کے لائق صرف اور صرف اللہ رب العزّت ہی کی ذات ہے۔جیسے۔دعا کرنا، مدد مانگنا، طواف کرنا، رکوع وسجدہ کرنا، جانور ذبح کرنا، نذرماننا، ڈرنا، امید رکھنا، نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا، توکل کرنا، جھکنا وغیرہ وغیرہ۔جو شخص ان مشروع عبادات کو اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف پھیر دے، وہ آدمی مشرک اور کافر ہے اورنجات سے محروم ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ

﴿ وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ﴾ (سورۃ المؤمنون:117)

’’جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں، پس اس کا حساب تو اللہ کے اوپر ہے۔بیشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں۔‘‘

کفّار نے اسی توحید الوہیّت کا انکار کیا تھا۔جس کی وجہ سے سیدنا نوح کے زمانے سے لیکر محمد ﷺ تک کفّار اور انبیاء کرام کے درمیان جنگیں بھی ہوئیں۔ اسی توحیدکا ہم ہر نماز میں اقرار کرتے ہیں :

﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾

اور اللہ ربّ العزّت نے اسی توحید کو اپنانے کا حکم دیا ہے کہ

﴿ إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي﴾ (سورۃ طہ:14)

’’بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا عبادت کے لائق اور کوئی نہیں۔پس تو میری عبادت کر۔‘‘

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دلاتا ہے تجھ کو نجات۔

3۔توحید اسماء وصفات:

اللہ تعالیٰ کے تمام ناموں اور تمام صفات پر حقیقی معنیٰ میں بغیرتمثیل ‘بغیر تشبیہ ‘بغیر تکییف ‘بغیر تعطیل اور بغیر تحریف کئے ایمان لانا ‘ جونام اللہ نے خود ہمیں بتائے ہیں یا نبی ﷺ نے بتائے ہیں۔جیسے استواء ‘ نزول ‘ ید وغیرہ۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

﴿ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ (سورۃ الشوریٰ:11)

’’اس جیسی کوئی چیز نہیں ‘وہ سننے اور دیکھنے والا ہے‘‘یعنی کائنات میں اللہ جیسی کوئی چیز نہیں‘نہ ذات میں نہ صفات میں۔پس وہ اپنی نظیر آپ ہی ہے۔واحد اور بے نیازہے۔

توحيد كے فوائد:

توحید کی برکت سے موحد کے اندر یہ صفات پیدا ہو جاتی ہیں‘ جبکہ مشرک نامراد رہتا ہے۔

1. اس توحید پر ایمان رکھنے والا تنگ ظرف نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ ایسے خدا کا قائل ہوتا ہے جو زمین وآسمان ، مشرق ومغرب اور تمام جہانوں کا مالک ہے

2. یہ توحید انسان میں انتہاء درجہ کی غیرت اور عزّت نفس پیدا کر دیتی ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ صرف ایک خداتمام طاقتوں کا مالک ہے

3. خود داری کے ساتھ یہ عاجزی وانکساری بھی پیدا کرتی ہے ، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کا دیا ہوا ہے ‘جو چھیننے پر بھی قادر ہے

4. اس توحید پر اعتقاد رکھنے والا نیک اعمال کی طرف توجہ دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نیک اعمال ہی ذریعہ نجات ہیں اور اللہ تعالیٰ زبر دست عدل وانصاف کر نے والے ہیں۔

5. اس توحید کا قائل کبھی شکستہ دل اور مایوس نہیں ہوتا کیونکہ وہ ایسے خدا پر یقین رکھتا ہے‘جو زمین وآسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے۔

6. اس توحید کا قائل عزم وحوصلہ اور صبر و استقامت کا زبر دست پیکر ہوتا ہے‘اور وہ اللہ کی رضا کے لئے بڑے سے بڑے کام بھی سر انجام دینے کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا۔

7. یہ توحید انسان کو بہادر بنا دیتی ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس خدا پر اس کا ایمان ہے وہ زبر دست قوت والا ہے۔

8. یہ توحید دل میں قناعت اور شان بے نیازی پیدا کر دیتی ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عزت، حکومت اور رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

9. توحید پرست اللہ کے قانون کا پابند ہوتا ہے، کیونکہ وہ جانتا کہ اللہ ہر ظاہری اور خفیہ چیز کو جاننے والا ہے۔

10. توحیداخوت ومساوات اور شخصی برابری کا حکم دیتی ہےاور اپنے ہی ساتھیوں کو رب بنا لینے کی اجازت نہیں دیتی۔

11. توحید ہی امن و استحکام کا مرکز و محور ہے‘کیونکہ امن دل میں خوف خدا سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ پولیس کی نگرانی سے۔

12. موحد کا دل جلوت وخلوت ‘تنگدستی و خوش حالی تمام حالات میں اللہ سے جڑا رہتا ہے، بخلاف مشرک آدمی کے کہ اس کا دل تقسیم ہو جاتا ہے۔ کبھی زندہ کے پاس جاتا ہے اور کبھی مردہ کے پاس۔یہیں پریوسف نے کہا تھا کہ

﴿ يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾ (سورۃ یوسف:39)

’’اے میرے قید خانے کے ساتھیو!کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں یا ایک اللہ زبر دست طاقتور؟‘‘

٭٭٭

شیخ محمد عبد السلام شقیری ﷫ فرماتے ہیں:

بعض جہلا ماہ صفر کی آخری بدھ کو آیات سلام یعنی(سلام علی نوح فی العالمین) لکھ کر پانی کے برتنوں میں ڈال دیتے ہیں پھر اس کو پیتے ہیں اور برکت حاصل کرتے ہیں ایک دوسرے کو ہدیہ بھیجتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس کے پینے سے تمام برائیاں اور آفتیں دور ہوجائیں گی یہ باطل عقیدہ ،خطرناک بدفالی لینا اور قبیح بدعت ہے اس برائی کے دیکھنے والے پر اس کی نکیر کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔‘‘ (السنن والمبتدعات للشقیری: 111۔112)

٭٭٭

تبصرہ کریں