توحید کی سلامتی اور حلال کمائی کی تلقین-فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن بن عبد العزیز السدیس

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ توحید وتعظیم کے لائق واحد الٰہ وہی ہے، اس نے اپنی شاندار تخلیق کا مظاہرہ کیا ہے، جو کہ وہم نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔ وہی حقیقی الٰہ ہے، اس کے چہرۂ اقدس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی عظیم الشان ہے، اس کے علاوہ الوہیت کا ہر دعوے دار جھوٹا ہے، اس کے عرش سے لے کر کائنات کی سب سے نچلی سطح تک۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ ہم اپنے دین پر عمل کرتے ہیں اور اس پر قائم رہتے ہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے بہت سی روحوں کو پاکیزہ فرمایا اور بہت سی عقلوں کو منور کیا۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے پاکیزہ اہل بیت پر، چمکدار پیشانیوں والے نیک صحابہ کرام پر، جنہوں حقیقی معنوں میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی اور اسی عقیدے سے جڑے رہے، تابعین پر اور دخولِ جنت کے دن تک ان کی پیروی کرنے والوں پر بہت سلامتی نازل ہوتی رہے، کہ جس کی نہ کوئی اخیر ہو اور نہ کوئی خاتمہ۔

بعدازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! یاد رکھو کہ پرہیزگاری ہی تاریک راستوں میں کام آنےوالی روشنی ہے، دانشمندوں کے لیے بہترین حفاظتی قلعہ ہے، گریہ زاری اور التجا کے وقت شاندار سواری ہے۔ اللہ کی قسم! اسی کے ذریعے خواہشات اور امیدیں پوری ہوتی ہیں، تقدیر لکھی ہوئی ہے، رزق تقسیم شدہ ہے، تقویٰ کو تھامے رکھنے والا ہی رحمت سے فیضیاب ہونے والا ہے، جو تقویٰ کو نہ اپنا سکا، وہی گھاٹا پانے والا اور محروم ہے۔

﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ﴾ (سورۃ البقرہ: 194)

’’اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ سمجھ لو کہ خدا پرہیزگاروں ہی کے ساتھ ہے۔‘‘

سرَى أهلُ التُّقَى ليلًا وجَدُّوا

وفازوا بالوصول ولاحَ وعدُ

ولم تَلحَقْ به أو تستعدَّ ومَنْ

لكَ بالأمانيِّ وأنتَ عبدُ

’’اہلِ تقویٰ رات کو سنجیدگی سے سفر طے کر گئے،، منزل تک پہنچ کر جیت گئے، انہیں وعدہ نظر آ گیا، جبکہ تم پیچھے رہ گئے اور تیار نہ ہوئے،، بھلا بے سہارا غلام کی امیدیں کیسے پوری ہو سکتی ہیں۔‘‘

اے مسلمانو! اس عالم میں کہ جو چلینجز اور آزمائشوں سے بھرا ہے، ایسےدور میں کہ جس میں توہم پرستی بڑھتی چلی جا رہی ہے، یہ بات انتہائی اہم ہو جاتی ہے کہ حقیقت کو واضح کیا جائے اور اس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں سے بھی پردہ ہٹایا جائے۔ ویسے سب سے بڑی حقیقت کہ جس پر کسی قسم کا وہم وگمان اثر انداز نہیں ہو سکتا، وہ علم رکھنے والے بادشاہ کی توحید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو خالص توحید کے صاف عقیدے کے ساتھ مبعوث کیا۔

﴿أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ﴾ (سورۃ الزمر: 3)

’’دینِ خالص اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘

تاکہ عقلوں اور دلوں کو غیر اللہ کی بندگی سے نکالیں، اور ان میں یہ بات راسخ کر دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، یہی اخلاص کا کلمہ ہے، یہی اللہ تعالیٰ کی خصوصیت ہے، اور یہی کامیابی اور نجات کا عنوان ہے۔ اور تاکہ نفسوں کو عزت، بڑائی اور کامیابی بلندیوں کی طرف لیجائے، الحاد، شرک، بت پرستی، بد بختی، توہم پرستی، جادو اور شعبدہ بازی سے دور کردے۔ اسلام کا اولین رکن، ایمان کی مضبوط رسی، سلف صالحین کے عقیدہ کا راسخ اصول یہی گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور یہ کہ صرف وہی ہے کہ جس کے ہاتھ میں نفع اور نقصان ہے۔

﴿وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ (سورۃ الانعام: 17)

’’اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کے سوا اس کا کوئی حقدار نہیں ہے، اس کے علاوہ جتنے خدا بنے ہیں،

﴿لَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا﴾

’’وہ خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، نہ مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں، نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الفرقان:3)

اسی طرح علم الغیب بھی اسی کے پاس ہے، بے شک، پوشیدہ چیزوں کو بھی وہی جانتا ہے۔

﴿قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ في السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴾ (سورۃ النمل: 65)

’’اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا، اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔‘‘

وہ ہر طرح کی مشابہت، مماثلت اور مد مقابل سے بلند تر ہے۔ ’’کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الشوریٰ: 11)

اسی طرح ساری مخلوق اسی کی فقیر اور محتاج ہے، کوئی لمحہ بھر کے لیے بھی اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ﴾ (سورۃ فاطر: 15)

’’لوگو، تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے۔‘‘

شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:

“‌ومن ‌تدبر ‌أحوال ‌العالَم، ‌وجد ‌كل ‌صلاح ‌في ‌الأرض فسببه توحيد الله وعبادته، وطاعة رسوله، وكلُّ شرٍّ في العالَم، وفتنة وبلاء، وقحط وتسليطِ عدُوِّ وغير ذلك، فسببُه مخالفةُ رسوله -ﷺ-، والدعوة إلى غير الله ورسوله”.

’’جو دنیا کے احوال پر غور رکرتا ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جو بھی بھلائی ہے، اس کی واحد وجہ توحید، اللہ کی عبادت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہے۔ اسی طرح دنیا کے ہر شر فتنہ، آزمائش، قحط سالی، یا دشمنوں کے غلبے کی وجہ نبی کریم ﷺ کی مخالفت اللہ اور روسول کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستوں کی دعوت ہے۔‘‘

ایمانی بھائیو! یہی مسلمان کا صحیح عقیدہ ہے، یہ اس کی سب سے عزیز چیز ہے، اس کے لیے سب سے بیش قیمت۔ اس پر وہ کسی قسم کی سودے بازی برداشت نہیں کرتا، چاہے حالات جیسے بھی ہوں، اس سے وہ پیچھے نہیں ہٹتا، چاہے چیلنجز جتنے بھی سخت ہوں، تو حقیقی مؤمن کا راستہ اللہ پر توکل کا راستہ ہے، وہ خالق کے سوا نہ کسی اور سے مانگتا ہے، نہ کسی اور کی طرف متوجہ ہوتا ہے، نہ کسی اور سے امیدیں لگاتا ہے، غیر اللہ سے نہ ڈرتا ہے اور اس کے دل میں ان کی خشیت ہوتی ہے۔

﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ 0 لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾

’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے * جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے اطاعت کے لیے سر جھکانے والا میں ہوں۔‘‘ (سورۃ الانعام: 162-163)

اے مومنو! اسی لیے کتاب وسنت میں واضح طور پر ان تمام چیزوں سے منع کیا گیا ہے جو اس حقیقت سے متصادم ہیں، جیسے توہم پرستی یا عقیدے کی خرابی وغیرہ، اسی طرح غیر اللہ سے امیدیں وابستہ کرنا، یہ سمجھنا کہ نفع ونقصان غیر اللہ کے ہاتھ میں بھی ہے۔ ان برائیوں میں سر فہرست جادو گروں، شعبدہ بازوں، کاہنوں اور مستقبل کی خبریں بتانے والے پیشہ ور دجال اور گمراہ کرنے والوں کی پیروی ہے، کہ جو بہت سے مسلمانوں کو شرک کے اندھیروں میں دھکیل چکے ہیں اور مکمل جہالت کی طرف لے جا چکے ہیں۔ اسی کی ایک شکل مزاروں اور قبروں سے امیدیں وابستہ کرنا، برج، شگون، مطالع اور ستاروں پر یقین رکھنا یا یہ سمجھنا ہے کہ انسانی زندگی میں ان کی کوئی تاثیر ہے، خوشی اور یا غمی میں کوئی عمل دخل ہے، سستی اور چستی میں ان کا کوئی کردار ہے، تنگی یا خوش حالی میں ان کا کوئی ہاتھ ہے۔ جیسے لوگ کہتے ہیں کہ جو اس برج میں پیدا ہوا وہ خوش بخت اور محفوظ ہے، جو اس برج میں پیدا ہوا، وہ بد بخت اور منحوس ہے۔ یوں برائیوں کو بیان کرتے چلے جاتے ہیں، خرابی کو اپنی زبانوں پر جاری کرتے چلے جاتے ہیں۔ نہ شریعت انہیں مانتی ہے، نہ عقل اور نہ منطق۔ اللہ کے بندو! تعجب کی بات ہے، کیسے خرافات اور اوہام سمجھ دار اور دانشمند لوگوں کے عقیدوں کو خراب کر جاتے ہیں! اللہ کی قسم! یہ عقیدہ پر ایک سنگین حملہ ہے، بلکہ توحید کی شاندار عمارت میں یہ بڑا خطرناک شگاف ہے، یہ وہ انحطاط ہے، جو قوت کو ختم کر دیتا ہے، عزت کو مٹا دیتا ہے، اقوام کی تباہی کا ذریعہ بنتا ہے۔ نسلوں اور قوموں کو غارت کرتا ہے، ثابت شدہ عقیدوں اور یقینی حقائق میں شکوک پیدا کرتا ہے، اللہ معاف فرمائے، یہ توہم پرستی اور جھوٹی پیش گوئیوں کا بازار گرم کرتا ہے۔

اے مسلمانو! خوبصورت عقیدے کو تباہ کرنے والی بد ترین چیز جادو گری اور شعبدہ بازی ہے، جادو گروں اور جادو گرنیوں کے پاس آنا جانا ہے، حق کی قسم! یہ عمل تو ایمان اور کفر کو جمع کرنے کے مترادف ہے، اس سے لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے اور گندی اور ناپاک باتوں سے زمین میں فساد برپا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جادو گروں اور کاہنوں کے پاس جانے، ان کے اوہام اور بہتانوں کو قبول کرنے سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:

“مَنْ أتى عرافًا أو كاهنًا فصدَّقه بما يقول فقد كفَر بما أُنزِلَ على محمد -ﷺ-“

’’جو کسی مستقبل کی خبریں بتانے والے یا کاہن کے پاس جائے، پھر اس کی بتائی ہوئی معلومات کو صحیح تسلیم کر لے، تو اس نے نبی اکرم ﷺ پر نازل شدہ کتاب کا انکار کر دیا۔‘‘ (مستدرک حاكم وأهل السنن)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نےجادو گری کو سات مہلک گناہوں میں شمار کیا ہے جیسا صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے جسے سیدنا ابو ہریرہ نے بیان فرمایا ہے۔

اے امت اسلام! اس حوالے سے قابل توجہ اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ جھوٹے دجال اور فریبی لوگ جدید سوشل میڈیا پر موجود ہیں، چینلز پر بھی، ویب سائیٹس پر بھی، نیٹ ورکس پر بھی، ان کے اپنےپیج بھی ہیں اور یہ اپنی تشہیر بھی کرتے ہیں، خرافات کو پھیلاتے ہیں، بد قسمتی سے عوام کو اور بالخصوص نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں، شرم کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے سامان کی ترویج کے لیے موہوم نام نہاد علماء کا سہارا بھی لیتے ہیں، دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس قسمت کا حال بتانے والے لوگ اور پروگرام ہیں، جسے سن کر جاہل اور بے وقوف ان کی چال میں آ جاتے ہیں، بلکہ بعض تو نام نہاد علماء اور مفتیوں کو فتویٰ کے پروگراموں میں بیٹھا دیتے ہیں، ایسے لوگوں کو طبیب کے طور پر پیش کر دیتے ہیں کہ جنہیں طب کے میدان میں کچھ پتہ نہیں ہوتا، آج کے دور میں بے علم اور بے حیثیت لوگ ہر فن میں بات کرنے لگے ہیں۔ ان خرافات پر کان دھرنے والے ہر شبہے کو قبول کر لیتے ہیں اور ان میں اچھے اور برے کی بھی کوئی تمیز نہیں کرتے۔

اس لیے ہم یہاں سے آواز بلند کرتے ہیں اور بار بار کرتے ہیں کہ متعلقہ لوگ، والدین، تربیت کرنے والے خواتین وحضرات، علما، داعی، رضا کار لوگ، اللہ سب کو توفیق عطا فرمائے اور سب کی تائید فرمائے، کہ وہ اپنے معاشرے کو ایمانی قلعوں میں محفوظ کرنے کی کوشش کریں۔ ان وہمی ہلاکت خیز باتوں سے بچائیں، ان شیطانی اعمال سے دور رکھیں، ان اوہام کے خاتمے کے لیے سب ایک ہو جائیں اور سب ایک دوسرے کی مدد کریں، کیونکہ یہ امت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں، معاشرے کے امن کے لیے ہلاکت خیز ہیں، اسلامی عقیدے کے لیے تباہ کن ہیں، یہ لوگوں کی عقلوں سے کھیلتے ہیں، ان کے اموال کو نا جائز طریقوں سے لیتے ہیں، ان کی ہمتوں کو کم کرتے ہیں، گھاٹے کی تجارت کرتے ہیں، ہلاک کرنے والے سودے کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو بھی نصیحت کرتے ہیں جو ایسے شیطانی اور رسوا کن کاموں میں پڑ گئے ہیں کہ وہ توبہ کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں، شرکیات اور جہالتوں سے اللہ کی معافی طلب کریں، توہم پرستی اور گھناؤنے جرائم سے پلٹ آئیں، اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں، اپنے دین اور اپنے عقیدے کی حفاظت کریں۔

اے امت اسلام! عقیدے سے متعلقہ خرافات میں وہ فکری اوہام بھی ہیں جو کہ مبالغہ آرائی اور کوتاہی کی شکل میں سامنے آتے ہیں، انتہا پسندی کی صوت میں دکھائی دیتے ہیں، جو کہ وسطیت اور اعتدال کے راستے سے کوسوں دور ہیں عبادت میں بھی مخل ہیں، جیسے ریا کاری اور ضرورت سے زیادہ سختی، تقلید میں تعصب، یا وسوسوےوغیرہ، یا بعض ایجاد کردہ اذکار سے جڑ جانا، جو کہ خوبصورت جملوں اور شاندار اقوال کی صورت میں ہوتے ہیں مگر نبی کریم ﷺ کی ہدایات سے ثابت نہیں ہوتے۔

آج کے دور میں تو ایک اور بیماری بہت پھیل کئی ہے، توہم پرستی کا راستہ کھولتی ہے، جو نفسیانی اور جسمانی بیماریوں کی طرف لیجاتی ہے، یہ بیماری عبادت میں وسوسے کی بیماری ہے، اس بیماری کا علاج شرعی رقیہ سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ کتنے ایسے بیمار ہیں جو ہلاکت اور موت کے بالکل پاس پہنچ چکے ہوتے ہیں، مگر جب شرعی رقیہ اور دم کے ذریعے علاج کراتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں شفا عطا فرما دیتا ہے۔

اس حوالے سے جو بات قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ صحیح اور مفید رقیہ کی تین شرطیں ہیں، جنھیں اہل علم نے ذکر کیا ہے، پہلی یہ کہ وہ اللہ کے اسماء اور صفات کے ذریعے ہی ہو۔ یا اس کی قابلِ ترتیل آیات کے ذریعے ہو، پھر یہ کہ وہ عربی زبان میں ہو، جس کے الفاظ واضح اور معنی صاف ہو۔ پھر یہ کرنے اور کرنے والے کے ذہن میں یہ بات موجود ہو کہ یہ دم بذات خود مفید نہیں ہے بلکہ اللہ کی تقدیر اور مشیئت سے فائدہ دیتا ہے۔ تو یہ شرائط کہاں، اور اللہ کے بندو! وہ دم کہاں، جو آج ہمارے معاشرے میں ہو رہے ہیں، اور جن کی ترویج ان لوگوں کی جانب سے کی جاتی ہے جو لوگوں کی بیماریوں اور دردوں سے تجارت کرتے ہیں، یہ دیکھ کر آنکھ اشک بار ہو جاتی ہے، توحید کی کمی اور سنت کے فقدان پر افسوس ہوتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو خوابوں کی تعبیر کے حوالے میں میدان میں اتر چکے ہیں، جو ایسی خوابوں کی تعبیریں بتا دیتے ہیں جو حقیقت میں اضغاث احلام ہی ہوتی ہیں۔ پھر وہ لوگ جو کہ کلپس کو پھیلاتے ہیں، گمراہ کن میڈیائی مواد کو پھیلاتے ہیں، جھوٹ اور افواہوں کو فروغ دیتے ہیں، خرافات اور افترا پردازیوں کو نشر کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو ان چیزوں میں غیر مسلموں کی تقلید کرتے ہیں جو ان کے ادیان کا حصہ ہے۔

سنو! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈر، حقیقت کو جانے اور کتاب وسنت کے مطابق اس پر عمل کرو، اسلافِ امت کے منہج کو بھی ملحوظ خاطر رکھو، توہم پرستی کے ذریعے اپنے کاروبار چمکانے والوں سے بچو،

اے سوشل میڈیا کے ذریعے توہم پرستی پھیلانے والو! امت کے حوالے سے اللہ سے ڈرو، حقیقت کے علاوہ کسی چیز کو نشر نہ کرو، اس دور کی ایجادات اور ٹیکنالوجی کو کتاب وسنت پر ثابت قدمی اور فتنے سے بچاؤ میں استعمال کرو، بد نظمی پھیلانے والی چیزوں سے بچو، تفرقہ بازی عام کرنے والے مواد سے دور رہو۔ اختلافات پیدا کرنے اور معاشرے کا امن وسلامتی کو متاثر کرنے والی اشیاء کو روکو۔ ایسے نہ بنو، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے:

﴿أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا﴾ (سورۃ النور: 39)

’’ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اُس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا۔‘‘

یہاں تک کہ فرمایا:

﴿وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ﴾ (سورۃ النور:40)

’’جسے اللہ نور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نور نہیں۔‘‘

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وسنت سے برکت عطا فرمائے! ان میں آنے والی آیات اور دانش کی باتوں سے فیض یاب فرمائے! میں اپنی بات کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ اپنے لیے اور آپ کے لیے اللہ عظیم وجلیل سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ یقینًا! وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اسی نے ہمیں اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ دلوں کے رازوں کو جانتا ہے، چاہے کوئی انہیں چھپائے یا ظاہر کرے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، میدانِ حشر میں قابلِ قبول سفارشیں کرنے والے ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے پاکیزہ اہل بیت پر، سخاوت وخیر والے صحابہ کرام پر، تابعین پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس نے حکم دیا ہے، اپنے عقیدے کو تمام طرح کی خرابیوں اور برائیوں سے دور رکھو، یاد رکھو کہ سب سے بہتر کلام اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریقہ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں بد ترین کام ہیں۔ اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ مسلمان جماعت کے ساتھ جڑے رہو۔ کیونکہ اللہ کے ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے جو جماعت سے لگ ہوتا ہے، وہ جہنم میں گر جاتا ہے۔

اسلامی بھائیو! گمراہ کن اوہام اور عقل کو کھا جانے والی بیماری، کہ جس کا شکار بہت لوگ ہو چکے ہیں، وہ حرص اور تڑپ ہے جو لوگوں کو تیز اور جلد حاصل ہونے والی منافع کی طرف دھکیلتی ہے، وہ بھی ان کے مصدر اور طریقہ کمائی کی تحقیق کے بغیر، کہ آیا وہ حلال میں سے ہیں یا حرام میں سے، بعض لوگ تو انجام اور عاقبت پر غور بھی نہیں کرتے، اس کی وجہ سے ایسے راستوں پر چلنے والوں اور ان گھٹیا طریقوں کو اختیار کرنے والے اپنے فطری انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ جو کہ دیوالیہ پن اور سخت تنگی کی زندگی ہے، یا بد عنوان، منی لانڈرنگ اور گھاٹا ہے۔ ایسا ہی حال ان بے وقوفوں کا ہے جو مہلک راستوں پر چل پڑے ہیں، کمال کو تلاش کر رہے ہیں، لمبے قد کے ذریعے، پٹھوں کی طاقت کے ذریعے، اور جسم کے عضلات کے اظہار کے ذریعے۔ یہ لوگ اپنے جسم کو مضبوط کرنے کے لیے نشہ آور مواد کا استعمال کرتے ہیں، انہیں توانا کرنے والی دوا یا طاقت کی ادویات کا نام دیتے ہیں، ان کا مصدر نا معلوم ہے، انہیں بنانے والے کا کسی کو علم نہیں، نا معلوم افراد ان کی ترویج کرتے اور انہیں فروخت کرتے ہیں، بلکہ انہیں عام کرنے والے لوگ ایسے برے ہیں جو بلیک میلنگ کا کام بھی کرتے ہیں، نشہ آور مواد کی ترویج کرتے ہیں، تاکہ قوت اور طاقت کے نام پر لوگوں کے اموال کھائیں، توانائی اور خوشی کے نام پر ان کے ساتھ تجارت کریں۔ آخر کار ان مسکینوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں، تاکہ نشہ کی بیماری سے چھٹکارا پائیں، جو ان کی عقلوں اور صحت کو تباہ کرتی چلی جا رہی ہوتی ہے، ان کےمال اور اقدار کو ختم کرتی چلی جا رہی ہوتی ہے، ان کی نفسیات کو تباہ کرتی چلی جا رہی ہوتی ہے، ان کے خاندانوں اور معاشروں کو بد بختی کی طرف دھکیلتی چلی جا رہی ہوتی ہے۔

یہاں ہم مسلم خواتین کو بھی مخاطب کرتے ہیں کہ ایسے بے ہودہ دعووں پر کان نہ دھریں جو اسے اقدار اور روایات سے آزاد کرانا چاہتے ہوں، یقین رکھیں کہ اس کی عزت اور فخر اس کی عفت اور حیا میں ہے۔ اس کے حجاب اور اس کی حشمت میں ہے۔ ان نعروں سے خبردار رہیں جو ان کی مدد کے دعوے سے بلند کیے جاتے ہیں، یا ان کے حقوق کے نام پر بلند کیے جاتے ہیں، جنہیں بلند کرنے والے انہیں ہی شرمندہ اور مایوس کرتے ہیں، ایسی ہی کچھ گمراہ کن آوازیں ہماری بابرکت سرزمین کے خلاف بھی اٹھ رہی ہیں، سعودی عرب کے خلاف اٹھ رہی ہیں، جو کہ توحید وسنت کا ملک ہے، حرمین شریفین کا خادم ملک ہے، یہ آوازیں اس ملک کے قائدین اس کے علماء کو نشانہ بنا رہی ہیں، اللہ اس کی حفاظت فرمائے اور اس کے امن کو دائم وسکون کو دائم رکھے۔ اسی طرح تمام مسلمان ممالک کی بھی حفاظت فرمائے۔

اے مسلمانو! ان ٹھنڈے دنوں میں اور موسم سرما کی سخت ٹھنڈی راتوں میں ہم یہ یاد دہانی کرانا نہ بھول جائیں کہ ہمارے مہاجر، مصیبت زدہ، پناہ گزین بھائی بہت ضرورت مند ہیں، بالخصوص فلسطین میں، وہ زمین کو بستر بناتے اور آسمان کو چادر بنائے ہوئے خیموں میں سو جاتے ہیں کہ جہاں زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی سہولت بھی میسر نہیں، سرد راتوں میں انہیں سردی سے بچانے والی کوئی چیز نہیں، نہ لباس، نہ دوا، نہ غذا اور نہ اوڑھنا۔ سوائے ان چیزوں کے کہ جو اہل خیر اور مسلمان بھائی انہیں پیش کر دیتے ہیں۔ تو اللہ کے بندو! اس بات کا خاص خیال رکھو۔ ان دنوں میں جبکہ تم امن وسلامتی کے حال میں جی رہے ہو، اس سخت سردی میں اپنے بھائیوں کو مت بھولو، ان کی مدد کرو، قابل اعتبار اداروں کے ذریعے اور قابل بھروسہ لوگوں کے ذریعے ان کی امداد کرو۔ تاکہ تمہیں مولیٰ کریم کی طرف سے خوب اجر مل سکے۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ اپنی مہربانی سے کمزور اور مصیبت زدہ مسلمانوں کو اس سردی میں گرمائش فراہم کرے۔ ہر جگہ ان کی نگہبانی فرمائے۔ یقینًا! وہ بہت دینے والا اور مہربان ہے۔

اللہ کے بندو! یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے نبی ﷺ افضل ترین رسول پر درود وسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ محکم کتاب اور سچی الہامی کتاب میں فرمان ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾(سورۃ الاحزالب: 56)

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘

فصلَّى اللهُ والأملاكُ جمعًا

على داعي البرية للرشادِ

وآلٍ صالحينَ لهم ثناءٌ

بنورِ القلبِ سطَّرَهم مدادي

اللہ اور اس کے سارے فرشتے درود بھیجتے ہیں، اس ہستی پر جو سارے جہان کی رہنمائی کے لیے بھیجے گئے تھے۔ آپ ﷺ کے قابلِ تعریف اہل بیت پر بھی کہ جن کی تعریف دل سے نکلتی ہے۔

اے اللہ! رحمتیں نازل فرما! محمد ﷺ پراور آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اے اللہ! برکتیں نازل فرما! محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ ان سب پر سلامتی بھی نازل فرما! اے اللہ! خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! اصحاب ہدایت اماموں سے، تمام صحابہ کرام سے اور تابعین عظام سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی رحمت سے ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اپنے فضل وکرم سے حق ودین کی کلمہ بلند فرما! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! حق کے ساتھ ہمارے حکمران خادم حرمین کی تائید فرما۔ اے اللہ! اسے ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اسے نیکی اور پرہیزگاری کی طرف لا۔ اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود اور اسلام اور مسلمانوں کا بھلا ہو۔ اے اللہ! انہیں نیک اور مخلص کابینہ عطا فرما! اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! ان کی جانوں کی حفاظت فرما! اے زندہ وجاوید! اے رب ذو الجلال!

اے اللہ! اس ملک کے عقیدے کی حفاظت فرما! اس کی قیادت کی، اس کے امن وامان کی، اس کے سکون اور چین کی حفاظت فرما۔ اسی طرح سارے اسلامی ممالک کو بھی محفوظ فرما! اسے ہمیشہ خیر وبرکات میں رکھنا، ہمیشہ ہر طرح کے شر، فتنے اور مصیبت سے محفوظ رکھنا! اے اللہ! ہمیں برے لوگوں کی چالوں سے اور فاجروں کے شر سے محفوظ فرما! اے اللہ! ہمیں چال بازوں کی چالوں سے، حملہ آوروں کے حملوں سے، مکاروں کی مکاریوں سے، کینہ پروروں کے کینہ سے، اور حاسدوں کے حسد سے محفوظ فرما۔ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین مدد گار ہے۔

اللہ میرے لیے کافی ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، ہمیں لمحہ بھر کے لیے بھی ہمارے نفس کے حوالے نہ فرما! ہمارے سارے معاملات درست کر دے اے رب ذو الجلال!

اے اللہ! مسلمان مردوں اور عورتوں کو معاف فرما۔ مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو بھی معاف فرما۔ ان کے اختلافات دور فرما! ان کے دلوں اور کاموں کی اصلاح فرما۔ اے زندہ وجاوید! انہیں نفع عام اور سنت پر اکٹھا فرما۔ اے فضل وکرم اور احسان فرمانے والے!

﴿رَبَّنَا آتِنَا في الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (سورۃ البقرہ: 201)

’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!‘‘

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ (سورۃ البقرہ: 127)

’’اے اللہ! ہم سے قبول فرما! یقینًا! تو سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘

﴿وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾

’’ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ: 128)

ہمیں اور ہمارے والدین کو بخش دے، مسلمان مردوں اور مسلمہ عورتوں کو معاف فرما۔ یقینًا! تو سننے والا، قریب اور دعائیں قبول کرنے والا ہے۔

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ 0 وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ 0 وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (سورۃ الصافات: 180-182)

’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور سلام ہے مرسلین پر اور ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہے۔‘‘

تبصرہ کریں