طلاق کا مسئلہ۔مولانا وحید الدین خان رحمہ اللہ

طلاق (divorce) کیا ہے۔ طلاق کا مطلب یہ ہے کہ ایک بااختیار ادارہ کی طرف نکاح کے رشتے کوختم کرنا:

The legal dissolution of a marriage by a court or other competent body.

نکاح صرف ایک مرد اور ایک عورت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ نکاح قانون فطرت کا معاملہ ہے۔ ایک مرد اور ایک عورت جب نکاح کے ذریعہ آپس میں رشتہ قائم کرتے ہیں تو وہ فطرت کے ایک قانون کو اپنے اوپر منطبق (apply) کرتے ہیں ۔ فطرت کے جو قوانین ہیں، وہ سب کے سب بلا استثنا زندگی کے محکم اصول پر قائم ہیں ۔ نکاح کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت اور ایک مرد باہمی طور پر ایک دوسرے کے پارٹنر بنیں، اور کا گ دھیل (cogwheel) کی مانند ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے خالق کے نقشۂ تخلیق ( creation plan) کی تکمیل کریں۔

اس اعتبار سے طلاق خالق کے نقشۂ تخلیق کا حصہ نہیں۔ وہ انسان کے غلط استعمال آزادی (misuse of freedom) کا حصہ ہے۔

طلاق کسی انسان کے لیے ایک جذباتی ظاہرہ (emotional phenomenon) ہے۔ وہ انسان کی حقیقی ضرورت (real need) کا حصہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طلاق کا ایک ٹائم باؤنڈ منضبط طریقے (prescribed method) مقرر کیا گیا ہے، جو تین مہینہ کے پر ا سس میں مکمل ہوتا ہے۔ جذباتی ارادہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ اس لیے طلاق کا ایک طویل کورس بنادیا گیا ہے۔ تا کہ آدمی اپنے ارادے پر ازسر ِنو غور (rethinking) کرے، اور جذباتی فیصلہ کے بجائے سوچے سمجھے فیصلہ کو اختیار کرے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ طلاق کا ارادہ ایک جذباتی ارادہ ہے۔ آدمی کو اگر سوچنے کا وقفہ دیا جائے تو زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ اپنی رائے پر نظر ثانی کرے گا، اور نکاح کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کرے گا۔

میں ذاتی طور پر ایسے واقعات کو جانتا ہوں جب کہ ایک انسان نے نکاح کے بعد جذباتی طور پر طلاق کا ارادہ کیا۔ لیکن ایسے اسباب پیش آئے کہ وہ فوری طور پر طلاق نہ دے سکا، بلکہ اپنے ارادے پر بالقصد یا حالات کے دباؤ کے تحت نظر ثانی کی۔ اس کے بعد اس کا ارادہ بدلا ، اور اس نے منکوحہ عورت کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا نتیجہ حیرت انگیز تھا۔ وہ یہ کہ مرد نے عورت کی خصوصیات کو دوباره دریافت ( rediscover) کیا، اور پھر ان خصوصیات کو استعمال (utilize) کیا۔ اس کے بعد دونوں کا گ دھیل (cogwheel) کی طرح مل کر کام کرنے لگے، اور انہوں نے غیر متوقع طور پر بڑی کامیابی حاصل کی۔

اصل یہ ہے کہ لوگ عام طور پر شادی شدہ عورت کو اپنے لیے صرف ہوم پارٹنر( home partner) سمجھتے ہیں۔ حالانکہ فطرت کے قانون کے مطابق ، عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لئے لائف پارٹنرز ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے فطرت کی طرف سے دیے ہوئے انٹلکچول پارٹنر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں، اور دونوں مل کر ایک دوسرے کے لیے تکملہ(counterpart) بن جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ایک طرف قرآن میں طلاق کا ایک مقررہ طریقہ (prescribed course) ان الفاظ میں بتایا گیا ہے:

﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ (سورة البقرة: 229)

’’ یعنی طلاق دو بار ہے، پھر یا تو قاعدہ کے مطابق رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا۔‘‘

دوسری طرف حدیث میں طلاق کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں:

«أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُ»

’’یعنی خالق کے نزدیک طلاق انتہائی حد تک ایک غیر مطلوب چیز ہے ۔‘‘ ( سنن ابن ماجہ: 2018)

لیکن اگر کوئی شخص طلاق پر اصرار کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ مقر کورس کے مطابق ان تین مہینوں تک جذبات سے کام لینے کے بجائے خوب سوچے، اور پھر تیسرے مہینے میں عدت کے اختتام پر طلاق کی تکمیل کرے۔ ایسا انسان کو یہ موقع دینے کے لیے کیا گیا کہ وہ آخری حد تک سوچے، اور طلاق صرف اس وقت دے، جب کہ طلاق اس کے لیے سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت ایک ناگزیر ضرورت بن جائے۔ فطرت کے مطابق ، نہ کہ خواہش کے مطابق، اس کے لیے کوئی دوسرا آپشن سرے سے موجود ہی نہ ہو۔

موجودہ زمانے میں طلاق کو لے کر ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ وہ ہے تین طلاق کا مسئلہ۔

تین طلاق کاطریقہ بدعت کا طریقہ ہے جو بعد کے زمانے میں پیدا ہوا۔ ابتدائی دور کا مسلم معاشرہ اس مبتدعانہ طریقہ سے پاک تھا۔ تین طلاق کا مسئلہ کیسے پیدا ہوا۔

اس معاملے میں سیدنا عبداللہ بن عباس کی ایک روایت ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں :

أنَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ (صحیح مسلم: 1472)

اس معاملے میں دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں :

وَكانَ عُمرُ بنُ الخطّابِ رضيَ اللَّهُ عنهُ إذا أتى برجلٍ طلَّقَ امرأتَهُ ثلاثًا أوجعَ ظَهْرَهُ (سنن سعید بن منصور: 1073)

یعنی سیدنا عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ طلاق کا معائلہ رسول اللہﷺ کے عہد میں اور سیدنا ابو بکر کے عہد میں اور سیدنا عمر کے ابتدائی 2 سالوں میں یہ تھا کہ تین طلاق ایک تھی ۔ تو سیدنا عمربن الخطاب نے کہا کہ لوگ اس معاملہ میں جلد بازی سے کام لے رہے ہیں، جس میں ان کے لیے جلد بازی نہیں تھی، تو میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کے لیے ایک حکم جاری کر دوں ۔ چنانچہ انہوں نے حکم جاری کیا۔

دوسری روایت کے مطابق، اس حکم کا ایک جز یہ بھی تھا کہ سیدنا عمر کے پاس جب ایسا آدمی لایا جاتا جس نے اپنی عورت کو ( بیک وقت) تین طلاق دی ہوتو سیدنا عمر اس کی پیٹھ پر کوڑے مارتے تھے۔

خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین واقع کرنے کا جو عمل کیا، اس کی حیثیت حکم حاکم ( executive order) کی تھی۔ اس کی حیثیت شریعت میں کسی تبدیلی کی نہ تھی۔ یہ ایک اَمر واقعہ ہے کہ حکمِ حا کم ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ وہ محدود زمانے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ اللہ کے حکم کی طرح قیامت تک کے لیے ایک ابدی حکم، لیکن بعد کے علما نے حاکم کے اجتہادی حکم کو عملاً اَمرشرعی کا درجہ دے دیا۔ وہ خلیفہ سیدنا عمر کے اسی عمل پر فتوی دینے لگے، جب کہ خلیفہ سیدنا عمر کا ہرگز یہ منشا نہ تھا۔ بعد کے علما کو یہ حق نہ تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم کو شرعی حکم کی طرح عام حکم کر دیں۔ اسی لئے سیدنا عمر فاروق کے حکم کو عام کرنے کے باوجود ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ وہ خطا کار کے پیٹھ پر کوڑے ماریں ، اور اس کے بعد تین طلاق کو شرعی طور پر واقع کرنے کا فتوی دیں ۔ کیوں کہ کوڑے مارنے کا حق مسلمہ طور پر صرف حاکم کو ہے، کسی اور کو ہر گز نہیں۔ جب علما کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ خطا کار کو کوڑے

ماریں تو ان کو یہ بھی حق نہیں تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم کوعام کر دیں، اور عام کر کے تین طلاق کو واقع کرنے کا طریقہ اختیارکریں۔ بعد کے علما کا یہی وہ اجتہادی طریقہ ہے جس سے تین طلاق (triple talaq) کا موجودہ مسئلہ پیدا ہوا۔

امام ابن تیمیہ﷫ (728-661ھ) نے علما کی اس غلطی کو جانا اور انہوں نے اس کے خلاف فتوی دیا۔ انہوں نے کہا :

” إن طلقها ثلاثا فى طهر واحد بكلمة واحدة أو كلمات…أنه محرم ولا يلزم منه إلا طلقة واحدة.. فإن كل طلاق شرعه الله فى القرآن فى المدخول بها إنما هو الطلاق الرجعي، لم يشرع الله لأحد أن يطلق الثلاث جميعا.” ( مجموع الفتاوی:33؍ 8۔9)

’’ یعنی اگر کسی نے ایک طہر میں تین طلاق دی ، ایک ہی کلمہ میں یا ایک سے زیاد کلمات میں ….. تویہ حرام ہے، اور اس سے صرف ایک طلاق لازم آتی ہے۔۔۔ کیونکہ ہر وہ طلاق جس کو اللہ نے قرآن میں مدخول بہا کے لیے مشروع کیا ہے، وہ طلاق رجعی ہے، اللہ نے کسی کے لیے ایک ساتھ تین طلاق کو مشروع نہیں کیا۔‘‘

مگر امام ابن تیمیہ﷫ کے بعد سلفی علما کے سوا دوسرے علما نے امام ابن تیمیہ﷫ کے اس فتوی کوعملاً تسلیم نہیں کیا۔ وہ بدستور اپنی سابق روش پر قائم رہے۔ اس معاملے میں بعد کے علم کی روش ایک غلط فہمی پر قائم تھی۔ انہوں نے غلط طور پر قدیم علما کی روش کو اجماعِ امت کا مسئلہ بنا لیا۔ حالانکہ ہرگز وہ اجماع امت کا مسئلہ نہ تھا۔ یہ بلاشبہ ایک غلطی کا معاملہ تھا۔ خلیفہ سیدنا عمر فاروق کے بعد آنے والے علما نے یہ غلطی کی کہ انہوں نے حکمِ حاکم (executive order) کو امر شرعی کا درجہ دے دیا۔ مزید غلطی یہ ہوئی کہ غلط فہمی پر مبنی علما کے اس عمل کو اجماع امت کا درجہ دے دیا گیا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ تھا۔ یعنی پہلے مرحلہ میں حکم حاکم کو امرشرعی کا درجہ دینا اور پھر غلط فہمی پر مبنی علما کے اس عمل کو اجماعِ امت سمجھ لینا۔

اب سوال یہ ہے کہ اس معاملہ میں صحیح موقف کیا ہے۔ صحیح موقف یہ ہے کہ اس معاملے میں ماضی کی غلطی کی تصحیح کی جائے ، اور وہ یہ ہے کہ خلیفہ کے عمل کو حکم حاکم (executive order) کا درجہ دیا جائے، نہ کہ حکم شریعت کا درجہ ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بعد کے علما نے جب خلیفہ سیدنا عمر کے عمل کی بنیاد پر فتوی دینا شروع کردیا تو فتوی ناقص فتویٰ کی حیثیت رکھتا تھا۔ کیونکہ ان علما نے طلاقِ ثلاثہ کو واقع کرنے کا فتویٰ تو دیا، جب کہ اس کے لازمی جزء، یعنی کوڑا مارنے کو چھوڑ دیا۔ اس طرح اس مسلک کی کوئی بنیاد نہ تھی۔ یہ مسلک نہ تو ابتدائی دور پر قائم تھا اور خلیفہ سیدنا عمر کے مسلک پر۔ اس کا جواز تو دور اول کے عمل پر قائم تھا، اور خلیفہ سیدنا عمر کے حکم حاکم کے عمل پر۔

اب ضرورت ہے کہ امام ابن تیمیہ﷫ کے فتویٰ کو اس معاملے میں دوسرے علما بھی درست مسلک کے طور پر اختیار کرلیں، جس طرح سلفی علما نے اس کو اختیار کر لیا ہے۔ یعنی طلاقِ ثلاثہ کوغضب پر محمول کرنا، اور اس کو ایک طلاق کا درجہ دینا۔

تبصرہ کریں