تحقیق روایات بجواب تبادلۂ خیالات۔ ڈاکٹر صہیب حسن لندن (قسط نمبر 1)

حال ہی میں میرے علم میں ایک رسالہ بعنوان ’تبادلہ خیالات‘ تالیف سید رضا حسین شاہ لایا گیا۔ موصوف  کو ایڈمنٹن (شمالی  لندن) کے ایک اجتماع احباب میں  ماہِ محرم کی مناسبت  سے تقریر کے لیے بلایا گیا تھا، جس میں مجھے بھی دعوت  خطاب دی گئی تھی۔ مجھے موصوف  کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا، میں تو یہی گمان کر رہا تھا کہ موصوف ماہِ محرم کے فضائل کے علاوہ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر اپنا نقطۂ نظر مفصل طور پر بیان کریں گے لیکن انہوں نے پہلے تو وحی الٰہی  کے اسرار و رموز بیان کیے اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کرنا شروع کیے اور اس ضمن میں «أنا مدينة العلم وعلی بابها»والی روایت کا شدّ ومدّ سے ذکر کیا۔ اگر موضوع کی مناسبت سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کیے جاتے تو بالکل مناسب تھا لیکن خلفاءِ اربعہ میں سے خصوصی طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان اور جان بوجھ کر اصحاب ثلاثہ (حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم) کے ذکر سے اغراض ہمارے شیعہ ذاکرین کی اس ذہنیت کا غماز ہے جو ہمیشہ سے ان کا وطیرہ رہی ہے۔

ہم اہل سنت کے نزدیک چاروں اصحاب انتہائی تکریم اور احترام کے مستحق ہیں، ہم نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں صحیح روایات سے صرفِ نظر کر سکتے ہیں اور مذہبی اصحابِ ثلاثہ کے مقام علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کسی شبہ کا شکار ہیں۔ لیکن جہاں تک تحقیق روایات کا تعلق ہے، ہم رسول اللہﷺ سے کسی ایسے قول کو منسوب نہیں کر سکتے  جو تحقیق واستناد کے لحاظ سے پایۂ ثبوت تک نہ پہنچا ہو اور وہ اس لیے کہ خود اللہ کے رسول ﷺ فرما چکے ہیں:

«مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»   (صحيح بخارى: 1291، صحیح مسلم:3)

’’جو بھی جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے تو وہ آگ میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔‘‘

نہ ہم کسی صحابئ رسول بلکہ خود رسول اللہ کی ذات کے بارے میں غلو کو پسند کرتے ہیں اور نہ ہی اس بارے میں ہم کسی رواداری کے قائل ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ کا  فرمان ہے:

«إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ»

(سنن ابن ماجہ: 3029)

’’دین میں غلو (حد سے بڑھ جانے) سے بچو، تم سے پہلے لوگ دین میں اسی غلو کی بنا پر ہلاک ہوئے تھے۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود اپنی زندگی میں اس غلو کا مشاہدہ کر لیا تھا۔ تبھی ان کی زبان سے یہ الفاظ صادر ہوئے:

“هَلَكَ فِيَّ رَجُلاَنِ: مُحِبٌّ غَالٍ  وَ مُبْغِضٌ قَالٍ”  (نہج البلاغہ)

’’میری نسبت سے دو قسم کے لوگ ہوئے، محبت میں غلو کرنے والا اور نفرت کرنے والا کینہ پرور۔‘‘

افسوس ہے کہ صاحبِ رسالہ نے اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے تار عنکبوت کا سہارا لیا ہے۔ موضوع سے ہٹ کر غیر  ضروری مباحث میں الجھانا چاہا ہے، بہتر ہوتا کہ وہ اپنے عقائد کو اپنے منتسبین تک محدود رہنے دیتے اور اگر اہل سنت سے خطاب کرنے کا  بہت ہی شوق ہے تو پھر ان مسائل کو موضوع خطابت  بنائیں جو  کہ امت کی عمومی اصلاح، تقویٰ کی تخم ریزی اور دین کی طرف ورغبت دلانے والے ہوں۔

بہرصورت میں اپنی بات ان نکات تک محدود رکھوں گا جو  شاہ صاحب نے اپنے مقالہ میں اٹھائے ہیں جو کہ ان چار نکات کے گرد گھومتے ہیں۔

1۔ احادیث کے ذخیروں پر مشتمل کتب میں ایسی کوئی ایک کتاب نہیں پائی جاتی جو موضوع اور جھوٹی حدیثوں سے پاک ہو۔

2۔ روایت  «أنا مدينة العلم وعلي بابها» بالکل صحیح اور مستند ہے۔

موصوف نے متقدمین میں سے تیرہ نام ایسے محدثین  یا مؤلفین کے گنوائے ہیں جنہوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور سات نام ایسے حضرات کے ہیں جنہوں نے اپنی کتب میں اس حدیث کو نقل کیا ہے، پھر صوفیا اور شعراء میں سے، چھ حوالے ذکر کیے ہیں، جہاں اس حدیث کا مقام مدح ذکر کیا گیا ہے۔

3۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ علم کے لحاظ سے تمام صحابہ سے افضل نہیں ہیں۔

اپنے اس ادّعا پر موصوف نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں تو کوئی دلیل نہیں دی، البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ہدف بناتے ہوئے کئی ایسے واقعات کتب تفسیر وحدیث سے نقل کیے ہیں جن سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ کئی دوسرے صحابہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو بعض مسائل میں ٹوکا ہے یا ان کی تصحیح کی ہے اور یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خاص طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا اقرار کیا اور کہا کہ اگر  سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمررضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے۔

4۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو علم لدنّی وہبی حاصل تھا جبکہ باقی تمام صحابہ کا علم اکتسابی تھا جس میں غلطی کا امکان موجود تھا اور یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کبھی کوئی  مسئلہ کسی اور صحابی سے نہیں پوچھا۔ پھر  اس ادعاء پر چند ایسی روایات پیش کی ہیں جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بزعم خود اپنی فضیلت ثابت کرتے دکھائی دیتے ہیں یا بعض دوسرے صحابہ ان کی علمیت  کی گواہی دے رہے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علم لدنّی حاصل ہونے پر یہ دلیل پیش کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا والی و وارث ٹھہرایا ہے۔

اب آئیے ان نکات پر تحقیقی گفتگو ہو جائے۔

1۔ مجموعہ احادیث کے بارے میں موصوف کا یہ کہنا کہ انہیں ایسی کوئی کتاب  نہیں جو موضوع اور جھوٹی حدیثوں سے  پاک ہو تو شیعہ مصادر کی حد تک تو بالکل صحیح ہے کہ اہل تشیع کے نزدیک حدیث کے قدیم  ترین ذخیرے پر مشتمل کتاب ’الکافی‘ (جس کے مؤلف کلینی ہیں)  میں ایسی روایات موجود ہیں کہ جن سے قرآن میں تحریف کا ہونا، قرآن سے علیحدہ مصحف فاطمہ کا ہونا اور دیگر خود ساختہ مزاعم کا ذکر ملتا ہے لیکن اہل سنت کے نزدیک یہ مسلّمہ امر ہے کہ امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (ف 256ھ) کی جمع کردہ ’الجامع الصحیح‘ کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین کتاب ہے، جس کے بعد امام مسلم بن الحجاج القشیریرحمہ اللہ  (ف 261ھ) کی الصحیح ہے۔

شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ (ف1176م) کہ جن کا حوالہ موصوف نے اپنے مقالہ میں استناداً دیا ہے وہ کتب احادیث کے چار طبقات کا ذکر کرتے ہیں اور پہلے طبقہ حدیث میں  صحیح بخاری، صحیح مسلم کے ساتھ مؤطا امام مالک کا بھی ذکر کرتے ہیں اور دوسرے طبقہ میں سنن ابو داؤد، ترمذی اور نسائی کا ذکر کرتے ہیں کہ جن میں صحیح احادیث کا غلبہ ہے لیکن چند ضعیف اور منکر احادیث  بھی ہیں کہ جن کی محققین نے نشاندہی کر دی ہے۔

امام ترمذی رحمہ اللہ (ف 279ھ) حدیث ذکر کرنے کے بعد اس کے صحیح، ضعیف، حسن، غریب،  شاذ ومنکر ہونے کا بھی ذکر کر دیتے ہیں تاکہ قارئ کسی غلط فہمی میں نہ رہے، تیسرے طبقہ میں وہ کتب ہیں جن  میں صحیح، ضعیف اور موضوع احادیث سب ملی جلی ہیں اور چوتھے طبقہ میں ضعیف  اور موضوع احادیث کا غلبہ ہے اور موصوف  کے حوالہ جات اکثر اسی قسم سے متعلق ہیں۔ (اس موضوع پر مزید بحث اگلے نکتہ کے ضمن میں آ جائے گی۔)

2۔ موصوف کے مقالہ میں مر کزی بحث روایت (أنا مدينة العلم وعلي بابها)

کہ میں علم کاشہر ہوں اور  علی رضی اللہ عنہ اس کا  دروازہ ہیں، سے متعلق ہے۔

موصوف 13 سے 20 کتب کے حوالہ جات دے کر اس روایت کور سول اللہ ﷺ سے منسوب کرنے کے لیے بے چین ہیں اور اس ضمن میں بدظنی پر مشتمل یہ فقرے بھی جڑ گئے  کہ  جو حضرات اس حدیث کا انکار کرتے ہیں، اصل میں ان کو حدیث کا دوسرا جز پسند نہیں ہے، اگر یہاں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جگہ کسی اور صحابی کا نام ہوتا تو پھر اس حدیث کا کوئی انکار نہ کرتا۔ (ص 17)

جناب عالی! ہمارے نزدیک کسی روایت کے جانچنے کا معیار  ہوائے نفس نہیں ہے بلکہ محدثین کے قاعدہ کے مطابق روایت و درایت کے مسلّمہ اصول ہیں، یہاں مسئلہ خلفاء اربعہ کی فضیلت کا نہیں ہے، بلکہ رسول  اللہﷺ سے ایک ایسے قول کو منسوب کرنا ہے جو روایت اور درایت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

موصوف کی طرف سے بجائے  بیس کتابوں کے حوالے، اگر صرف یہ ذکر کر دیا جاتا کہ ان حوالہ جات میں قدیم ترین حوالہ جامع ترمذی یا اس سے لگ بھگ مستدرک حاکم (ف 405ھ) کا ہے تو بھی کوئی فرق نہ پڑتا۔ کیونکہ بعد  کے جتنے بھی مؤلفین ہیں انہوں نے اپنے دو حوالوں پر اعتماد کیا ہے اور اس لیے اصل کلام حدیث کی ان اسانید کے حوالے سے ہو گا جو ان دونوں محدثین نے ذکر کی ہیں۔

خود موصوف نے سیوطی رحمہ اللہ (ف 911ھ) کی جمع الجوامع سے جو سند نقل کی ہے، وہ وہی سند ہے جو امام حاکم رحمہ اللہ اپنی کتاب المستدرک میں نقل کر چکے ہیں۔

اب آئیے پہلے ان محدثین اور ائمہ کے حوالہ جات، جنہوں نے اس حدیث کو موضوع یعنی مَن گھڑت کہا ہے۔

1۔ موصوف کے دیے ہوئے حوالہ جات  میں قدیم ترین حوالہ جامع ترمذی کا ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’ ہذا حدیث غریب منکر  یعنی یہ حدیث غریب (بمعنیٰ روایت شخص واحد) اور منکر  ہے یعنی انتہائی ضعیف حدیث ہے۔ اصطلاحاً  جس کا راوی بھی ثقہ نہ ہو اور وہ صحیح حدیث کے بھی خلاف ہو۔

2۔ مستدرک حاکم نے اس روایت کو دو سندوں سے بیان کیا ہے اور یہ سند رواۃ کی ترتیب کے لحاظ سے اس طرح ہے۔

الحاکم: ابو العباس محمد بن یعقوب، محمد بن ابراہیم الہَرَوی (رَملَہ سے تعلق ہے)، ابو الصلت عبد السلام بن صالح، ابو معاویہ، الاعمش، مجاہد، ابن عباس، رسول اللہ ﷺ۔

سند پر کلام

اہل علم میں  یہ بات معروف ہے کہ المستدرک للحاکم تیسرے طبقہ کی کتب میں سے ہے کہ جس میں صحیح، ضعیف اور موضوع احادیث شامل ہیں۔ اس لیے امام ذہبی رحمہ اللہ نے (ف 748ھ) نے تلخیص کے نام سے الحاکم کی درج شدہ احادیث پر اپنے ریمارکس دینے میں اور ضعیف اور موضوع احادیث کی نشاندہی کی ہے، الحاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے لیکن الذہبی نے صاف صاف لکھا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے۔

اس حدیث کی سند میں تین علتیں ایسی ہیں کہ جن کی بنا پر یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔

1۔ الاعمش (سلیمان بن مہران) کے بارے میں معروف ہے کہ وہ تدلیس کے قائل ہیں (یعنی اپنے غیرمعروف شیخ کا نام ذکر نہیں کرتے بلکہ ان کے معروف شیخ کا ذکر کر دیتے ہیں تاکہ حدیث کی سند بھلی دکھائے دے)

اس حدیث میں وہ مجاہد سے روایت  کر رہے ہیں وہ بھی ’عن‘  کے صیغے کے ساتھ، اسی لیے مدلس کی روایت کو اسی وقت قبول کیا جاتا ہے جب وہ بجائے ’عن‘ کے ’حدثنا‘ یا ’حدثنی‘ کے صیغے کے ساتھ روایت کرے۔

شیخ النجاری لی بن المدینی سے پوچھا گیا کہ الاعمش نے مجاہد سے کتنی حدیثیں سنی ہوں گی تو انہوں نے کہا کہ دس کے قریب، اور کہا کہ مجاہد سے زیادہ تر روایات ابو یحییٰ القتات نے نقل کی ہیں۔

(تہذیب التہذیب)

2۔ دوسری علت یہ ہے کہ اس روایت کو الاعمش سے روایت کرنے والے صرف ایک راوی ہیں اور وہ ہیں ابو معاویہ محمدبن خازم الضریر۔

یہاں شک یوں پیدا ہوتا ہے کہ الاعمش کے معروف اصحاب میں سے یحییٰ القطان،  سفیان الثوری اور  شعبہ  ہیں تویہ روایت  صرف انہی کے واسطہ سے  کیوں آئی؟

کہا جاتا ہے کہ یحییٰ بن معین تو ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ثقہ ہیں، تو خود یحییٰ بن معین نے اعتراف کیا ہے کہ ابن نمیر نے مجھے بتایا کہ ابو معاویہ بہت پہلے کبھی اس حدیث کو  بیان کرتے تھے پھر انہوں نے اسے بیان کرنا چھوڑ دیا۔

(روایت ابن محرز: معرفۃ الرجال)

3۔ تیسری علت یہ ہے کہ ابو معاویہ سے روایت کرنے والے عبد السلام بن صالح الہروی ابو الصلت  ہیں، حسن کے ضعیف، متروک الحدیث، راوی منکرات، ہونے کے بارے میں تمام کبار محدثین جیسے امام احمد، ابو زرعہ الرازی، النسائی، العقیلی، ابن حبان، ابن عدی، الدار قطنی، ابو نعیم الاصبہانی، محمد بن طاہر، ابن الجوزی رحمہم اللہ وغیرہم متفق ہیں۔ الذہبی نے الحاکم کے اس قول پر کہ وہ ثقہ اور مأمون ہیں، کہا: نہیں! اللہ کی قسم!  نہ وہ ثقہ ہیں، نہ ہی مأمون ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء)

محدثین میں یحییٰ بن معین واحد شخص ہیں جو ان کی توثیق کرتے نظر آتے ہیں۔  ان کے نزدیک اس حدیث کی متابعت محمد بن جعفر الفیدی سے ہو جاتی ہے۔  یعنی ابو معاویہ سے روایت کرنے والے صرف عبد السلام نہیں بلکہ یہ دوسرے راوی بھی ہیں۔

ابو الصلت کے بارے میں مروی ہے کہ وہ غنی آدمی تھے، مشائخ کا اکرام واعزاز  کیا کرتے تھے  اور یوں وہ ان سے احادیث کی روایت کر ڈالتے تھے۔ اس لیے ابن معین کے قول  کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اس حدیث کی ابی معاویہ تک سند درست ہے، یہ نہیں کہ یہ حدیث بذاتِ خود صحیح ہے۔

الذہبی لکھتے ہیں کہ ’’یہ بات معروف ہے کہ دلوں میں اس شخص کی محبت رچ بس جاتی ہے جو کسی پر احسان کرے، یہ (یعنی عبد السلام) یحییٰ سے بہت حسن سلوک کرتے تھے، ہم یحییٰ بن معین کی امامت کے قائل ہیں، رجال کے بارے میں ان کے اقوال کو مانتے ہیں الّا یہ کہ ثابت ہو جائے کہ وہ کسی ضعیف راوی کی توثیق میں منفرد نظر آئیں۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء)

د وسری سند جس میں ابو الصلت نہیں ہے اور جسے الحاکم نے پہلی سند کا شاہد ٹھہرایا ہے وہ ایسے ہے:

ابو بکر محمد بن علی الفقیہ الامام، النعمان بن ہارون، احمد بن عبد اللہ بن یزید الہُثیمی المؤدب، عبد الرزاق، سفیان الثوری،  عبد اللہ بن عثمان بن خُثیم، عبد الرحمٰن بن بہمان التیمی، جابر بن عبد اللہ، رسول اللہ ﷺ۔

اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:

(أنا مدينة العلم وعلي بابها فمن أراد العلم فليأت الباب)

امام ذہبی رحمہ اللہ اس پر لکھتے ہیں:

“قلت: العجب من الحاكم وجرأته في تصحيحه هذا وأمثاله من البواطيل وأحمد هذا  دجال كذاب.”

’’تعجب ہے حاکم کی اس جرأت پر کہ وہ اس قسم کی باطل روایات کو صحیح قرار دے رہا ہے جب کہ اس حدیث کا ایک راوی احمد بن عبد اللہ بن یزید بہت ہی بڑا جھوٹا شخص تھا۔‘‘ (المستدرک: 3؍127)

بطورِ خلاصہ عرض ہے کہ یہ حدیث چار صحابہ یعنی ابن عباس، علی بن ابی طالب، جابر بن عبد اللہ اور ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے منسوب کی گئی ہے۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور جابر رضی اللہ عنہ سے منسوب احادیث کی سند کا بیان ہو گیا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہی روایت مختلف کتب حدیث میں دوسری اسانید  سے تھی، روایت کی گئی ہے لیکن ان میں سے کوئی روایت صحت کے درجہ تک نہیں پہنچتی۔

1۔ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت لے لیتے ہیں، جو جامع ترمذی میں نقل کی گئی ہے، اس کی سند  یوں ہے:

اسماعیل بن موسیٰ الفزاری، محمد بن عمر الرومی، شریک بن عبد اللہ النخعی، سلمہ  بن کہیل، سوید بن غفلہ، الصنابحی، علی رضی اللہ عنہم۔

اس روایت میں بھی محمد بن عمر الرومی ضعیف راوی ہیں اور ایسے ہی ان کےشیخ شریک بن عبد اللہ کا حال ہے۔ الحافظ ابن حجررحمہ اللہ نے ان کے بارے میں کہا:’’سچے ہیں لیکن بہت غلطیاں کرتے ہیں، جب سے کوفہ کے قاضی بنے، ان کے حفظ میں خلل آ گیا، ویسے وہ انصاف کرنے والے، علم وفضل کے حامل، عبادت گزار اور اہل بدعت کے بارے میں بڑے سخت تھے۔‘‘                 (التقریب)

خود امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں یہ الفاظ کہے:

’’شریک کے اپنے ساتھیوں سے کسی ثقہ راوی نے اس حدیث کو بیان نہیں کیا، ان کے شیخ سلمہ بن کہیل سے سوائے ان کے کسی اور نے اسے روایت نہیں کیا۔‘‘

امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے منکر قرار دیا۔          (العلل الکبیر)

محدثین کا قاعدہ ہے کہ اگر راوی ضعیف ہو (جیسے شریک کا ذکر ہوا) اور پھر ایک روایت میں منفرد ہو تو وہ اس حدیث کو قبول نہیں کرتے۔

الصنابحی کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  سے اس حدیث کے چند راوی اور بھی ہیں، الأصبغ بن نباته اور الحارث الأعور، اور یہ دونوں راوی سخت ضعیف ہیں۔

اہل بیت میں سے حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور علی بن موسیٰ الرضی کی روایات بھی نقل کی گئی ہیں لیکن دونوں کی اسانید میں سخت کلام کیا گیا ہے۔

اور یہی حال عامر الشعبی، عبد اللہ بن ابی رافع، جریر الضبی کی روایات کا ہے، جن میں سے کوئی بھی پایۂ ثبوت تک نہیں پہنچتی۔

اب آئیے چوتھی روایت کی طرف جو حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے منسوب کی گئی ہے۔

یہ ایک غیر معروف مصنف ابن شاذان نے اپنی کتاب (مائۃ منقبہ) میں نقل کی ہے۔

اس کے راوی میں ابن شاذان (دجال کذاب)، اس کا شیخ محمد بن عبد اللہ بن عبید اللہ بن الہلول (دجال، کذاب، حدیث گھڑنے والا)، پھر اس کے شیخ کا شیخ عیسیٰ بن مہران (کذاب، منکر احادیث کا راوی، رافضی) اور پھر اس کے شیخ کا شیخ  خالد بن طہمان الکوفی  (ضعیف، موت سے دس سال پہلے اختلاط ذہنی کاشکار)  قرار دیا گیا ہے، ہم نے اختصار کا لحالظ رکھتے ہوئے نقاد حدیث کی پوری عبارتیں درج نہیں کی ہیں لیکن راویوں کے بارے میں یہ ساری آراء تہذیب الکمال للمزی، الکامل لابن عدی اور تقریب التہذیب لابن حجر، میزان الاعتدال للذہبی میں دیکھی جا سکتی ہیں اور پھر نتیجہ کلام کے طور پر ہم ان محدثین کے نام اور ان کی مختصر آراء درج کیے دیتے ہیں، جنہوں نے اس حدیث کو موضوع یعنی  من گھڑت قرار دیا ہے۔

متقدمین میں سے چند محدثین اور ائمہ کے اقوال ملاحظہ ہوں:

یحییٰ بن معین: جھوٹی روایت ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ (معرفۃ الرجال، روایت ابن محرز)

امام احمد، ابو حاتم اور  یحییٰ بن سعید رضی اللہ عنہ نے بھی ایسی ہی بات کہی ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ: یہ منکر روایت ہے۔ بالکل صحیح نہیں ہے۔

امام ترمذی رحمہ اللہ: غریب اور منکر ہے۔

امام ابو زرعہ رحمہ اللہ: کتنے ہی لوگ اس روایت میں رسوا ہوئے ہیں۔

امام  دار قطنی رحمہ اللہ (م385ھ):  ثابت نہیں ہے، اس کا راوی  رافضی ہے، خبیث ہے۔

ابن دقیق العید رحمہ اللہ: محدثین نے اسے ثابت  قرار نہیں دیا۔

امام نسائی رحمہ اللہ: اس کا راوی ثقہ نہیں ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ: باطل ہے۔

امام ابن حبان رحمہ اللہ(ف 354ھ): اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔

یہاں تک پہلی چار صدیوں کے محدثین اور ائمہ کے اقوال کا خلاصہ پیش خدمت تھا۔

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ (ف 597ھ) نے اپنی کتاب  (الموضوعات) میں اس کی اسانید پر مفصل کلام کیا ہے اور اس روایت کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ چند اور  ائمہ   کے اقوال بھی ملاحظہ ہوں:

ابن طاہر المقدسی رحمہ اللہ (م 507ھ) : من گھڑت ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام کچھ شرح وبسط کے ساتھ ملاحظہ ہو:

’’یہ حدیث انتہائی ضعیف اور کمزور ترین ہے، گو امام ترمذی رحمہ اللہ نے  اسے روایت کیا ہے لیکن اس روایت کا شمار موضوع احادیث میں سے ہوتا ہے۔

امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اس کے سارے طرق پر کلام کیا ہے۔

اس کی عبارت سے جھوٹ  خود چھلکتا نظر آ رہا ہے اور وہ یوں کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ نبیﷺ علم کے شہر  ہیں اور پھر اس کا ایک ہی دروازہ ہے، اور صرف  ایک شخص ہی اس کا علم کا راوی ہے، تو پھر دین اسلام  تو فساد  کا شکار ہو گیا، اور اس لیے تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسا جائز نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ سے علم کی تبلیغ کرنے والا صرف ایک فرد واحد ہو، بلکہ ان کی  تعداد تو تواتر کی حد تک ہونی چاہیے تاکہ ان کی دی گئی اخبار مرتبہ علم (یقین) تک پہنچ جائیں۔‘‘

پھر کہا کہ تمام بلادِ اسلامیہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے بھی علم پہنچا ہے۔ اہل مکہ اور مدینہ کی بات تو ظاہر ہے (کہ وہاں اکثر صحابہ رہے)

یہی حال شام اور بصرہ کا بھی ہے، وہاں بھی اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے تو بہت تھوڑی سی، ان کا غالب علم سرزمین کوفہ میں رہا،  اور یہ بھی حقیقت ہے کہ خود کوفہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی وفات سے قبل قرآن وسنت کا علم پھیل چکا تھا۔ (منہاج السنہ بتحقیق د؍ محمد رشاد سالم)

اہل مدینہ  کے فقہاء خلافت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دوران دین کو خوب سمجھتے تھے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اہل یمن میں علم کو پھیلایا اور وہ وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ مقیم رہے اور اسی لیے اہل یمن حضرت علی رضی اللہ عنہ اور قاضی شریح اور اکابر تابعین میں سے زیادہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ دین کی سمجھ حاصل کرتے نظر آتے ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ جب کوفہ آئے تو ان سے پہلے وہاں قاضی شریح موجود تھے، انہوں نے اور عبیرہ السلمانی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسروں سے علم حاصل کیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کوفہ وارد ہونے سے قبل مدائن اسلام میں علم پھیل چکا تھا۔

(مہاج السنہ بتحقیق، د؍ محمد رشاد سالم: 515۔516)

متاخرین میں سے چند نام اورملاحظہ ہوں، جنہوں نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔

امام ابن حجر رحمہ اللہ، جنہوں نے تقریب التہذیب میں اس روایت کے راویوں کے اقوال نقل کیے ہیں۔ الذہبی (748ھ) ، سیر اعلام النبلاء، میزان الاعتدال سیوطی (911ھ)، مؤلف کتاب اللآلی المصنوعہ۔

السخاوی (902ھ): المقاصد الحسنہ

نور الدین ابی الحسن السمہووی (911ھ) : الغماز على اللماز

محمد بن طاہر علی ہندی (984ھ): تذکرۃ الموضوعات

الشوکانی (1250ھ): الفوائد المجموعہ

العجلونی (1162ھ): کشف الخفاء

ابن عراق الکنانی (963ھ): تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة

محمد ناصر الدين الالباني (1420ھ؍ 1999ء): ضعیف الجامع الصغیر

مجھے اس سے انکار نہیں کہ بعض محدثین اور علماء جیسے الحاکم، ابن حجر، ابو سعید العلائی رحمہ اللہ نے اس روایت کو قابل استناد سمجھا ہے لیکن اس  کی تمام اسانید میں کذّاب اور متہم راویوں کی موجودگی کے بعد ان علماء کی تحسین پر قطعاً اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

موصوف نے چھ صوفیا اور شعراء کے اقوال اور منظوم کلام کو بھی پیش کیا ہے۔

علم حدیث میں محدثین کے کلام کو قابل استناد سمجھا جاتا ہے، شعراء اور صوفیہ کا نہیں، یہ تو ایسے ہی ہے جیسے علم طب میں  اطباء کے بجائے فلاسفر  کے قول کو حجت سمجھا جائے یاعلم عروض وقوافی  میں مناطقہ کا قول پیش کیا جائے۔

3۔ حضرات شیخین  کے بارے میں موصوف کا یہ فرمانا کہ وہ صحابہ میں علم کے لحاظ سے سب سے افضل نہیں ہیں اور یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا علم بہت زیادہ  تھا، ایسا دعویٰ ہے کہ شواہد اسی کے مخالف ہیں۔

ابن حزم رحمہ اللہ نے اس ادّعا کا مسکت جواب دیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

’’ ایک صحابی کا علم دو طریقوں سے حاصل ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ تیسرا کوئی طریقہ نہیں:

اول: کثرت روایات  اور کثرت فتاویٰ

دوم: اللہ کےر سول ﷺ کا کثرت سے انہیں عامل (گورنر) بنانا۔ کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے رسولﷺ  ایسے شخص کو عامل بنائیں جسے کوئی علم نہ ہو، اس کا عامل بنایا جانا اس کے علم اور توسع پر دلیل ہے۔ ہم نے اسی پہلو پر غور کیا تو دیکھا کہ اللہ کے رسولﷺ نے اپنی بیماری کے دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے مقرر کیا، حالانکہ تمام اکابر صحابہ بشمول حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہوغیرہم موجود تھے۔  ایک غزوہ کے وقت آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنایا لیکن یہ عورتوں اور معذور افراد کی دیکھ بھال کے لیے تھا، تو یہ بات ضرورۃً ثابت ہوئی کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے مقرر کیا تو حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نماز اور نماز کے تمام احکامات کے سب سے زیادہ عالم ہوئے اور ان تمام حضرات سے بھی جن کا ذکر ہوا او روہ اس لیے کہ نماز دین کا ستون ہے۔

ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے زکاۃ کی تحصیل پر بھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، تو معلوم ہوا کہ  انہیں صدقات وزکاۃ کے بارے میں بھی وہی علم حاصل ہے جو علماء صحابہ  میں سے دوسروں کو حاصل تھا نہ کہ ان سے کم۔ بلکہ کچھ زیادہ ہی ہو گا۔  زکاۃ نماز کے بعد دوسرا اہم رکن اسلام ہے اور ہماری بات کی دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ سے وارد زکاۃ کے بارے میں احادیث  سب سے صحیح ترین روایات ہیں کہ جن پر  عمل کرنا واجب ہے اور جن کی مخالفت نہیں کی جا سکتی، ان کے بعد  وہ احادیث ہیں جو کہ سیدنا  عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہیں لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ  سے مروی روایات میں اضطراب پایا جاتا ہے اور اس لیے ان سے مروی روایت میں یہ کہا گیا کہ  پچیس (25) اونٹوں میں زکاۃ کی پانچ بکریاں  واجب ہوتی ہیں۔

اور پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کو حج پر بھی امیر بنا کر بھیجا تھا تو معلوم ہوا کہ وہ تمام صحابہ سے زیادہ حج کے احکام کا علم رکھتے تھے، حج بھی دین اسلام کا عظیم رکن ہے۔

اور پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کو مختلف غزوات میں بھی ویسے  ہی انہیں  امیر بنا کر بھیجا جیسے کئی دوسرے صحابہ بشمول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا تو معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ کے پاس جہاد کے احکام کا اتنا علم تو ضرور تھا جتنا سیدنا علی رضی اللہ عنہ  یا دوسرے امراء غزوات کے پاس تھا، تو معلوم ہوا کہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نماز، زکاۃ، حج میں حضرت علی رضی اللہ عنہ  پرفائق ہیں اور احکام جہاد میں ان کے برابر ہیں۔

 ( الفصل فی  المحلل والاہواء والنحل: 4/ 212۔214)

اب کچھ تذکرہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہو جائے۔

موصوف نے  چند واقعات ذکر کیے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ نے چند مسائل  میں انہیں ٹوکا تھا یا ان کی تصحیح کی تھی۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ موصوف  اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے تبادلہ خیال نہیں کرتے تھے؟ کیا ان میں سے ہر شخص تعلّی کا شکار تھا کہ وہ دوسرے  کے علم سے استفادہ نہ کرے؟  ام المؤمنین سیدہ عائشہرضی اللہ عنہا  نے کتنے ہی صحابہ کے علم پر استدراک کیا ہے۔ الزرکشی رحمہ اللہ نے بعنوان (الإجابة لإيراد ما استدركته عائشة على الصحابة)  ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے جس میں ان مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ  نے کئی دوسرے صحابہ سے اختلاف رائے کیا تھا۔

یہی کچھ حال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ  کا بھی ہے لیکن انہیں یہ فخر حاصل ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسولﷺ سے کئی مسائل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا  اور پھر ان کی خواہش کے مطابق  وحی نازل ہوئی۔ ایسے واقعات کو موافقاتِ عمر رضی اللہ عنہ  کہا جاتا ہے۔  جیسے مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنانے کی  خواہش کا اظہار اور پھر اس امر پر مشتمل وحی اترنا، حضرت عمررضی اللہ عنہ کا بار بار  خمر (شراب) کے بارے میں اللہ کے رسول سے  بیان شافی کی درخواست کرنا اور پھر شراب سے اجتناب کرنے کا حکم کا نازل ہونا اور ایسے ہی ان کا ازواج مطہرات کے حجاب کے سلسلہ میں درخواست کرنا اور پھر حجاب کے بارے میں آیات کا نازل ہونا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں  صرف چند روایات ذکر کرتا ہوں:

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ» (جامع ترمذی، مسند احمد)

’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔‘‘

« اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي : أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ» (جامع ترمذی،  مستدرک الحاکم)

’’پیروی کرو میرے بعد ان دو حضرات کی: ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہم۔‘‘

«كَانَ عُمَرُ أَعْلَمَنَا بِكِتَابِ اللہِ، وَأَفْقَهَنَا فِي دِينِ اللہِ، وَأَعْرَفَنَا بِاللہِ» (الہیثمی، مجمع الزوائد)

’’ہم سب میں عمر اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے، ہم سب میں وہ دین کی سب سے زیادہ سمجھ رکھتے تھے اور ہم میں سب سے زیادہ اللہ کو پہچانتے تھے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا:

’’اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ جائے اور تمام اہل زمین  کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو ان کا پلڑا بھاری ہو جائے۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موت پر کہا:

’’میں گمان کرتا ہوں کہ یہ شخص علم کے دس حصوں میں سے نو حصے لے کر چلا گیا ہے۔‘‘ (مجمع الزوائد)

زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک شخص کو معقل بن مقرن ابو عمیرہ نے ایک آیت پڑھائی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ آیت ایک دوسرے شخص کو پڑھائی۔ دونوں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں  کہ ہم کس کی قراءت کے مطابق پڑھائیں تو انہوں نے پہلے شخص سے پوچھا: تمہیں کس نے پڑھایا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ابو عمیرہ معقل بن مقرن نے، پھر دوسرے سے پوچھا: تمہیں کس نے پڑھایا تھا؟ اس نے جواب دیا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے۔‘‘

یہ سن کر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آبدیدہ ہو گئے، کافی دیر تک آنسو بہتے رہے، پھر کہا: ’’ایسے ہی پڑھو جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمہیں پڑھایا ہے کیونکہ وہ ہم میں سب سے زیادہ کتاب اللہ کے قاری تھے اور ہم میں سب سے زیادہ اللہ کے دین کو جاننے والے تھے۔ (بروایت ابن  بطہ)

ابن بطہ اپنی سند کے ساتھ یہ واقعہ لکھتے ہیں کہ جس کے راوی عبد خیر ہیں۔

’’میں نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے عصر کی نماز پڑھی۔ اہل نجران دو صفوں میں کھڑے ہو گئے۔ جب وہ  نماز پڑھ چکے تو ایک شخص نے دوسرے شخص کو اشارہ کیا تو اس نے ایک خط نکال کر حضرت علی رضی اللہ عنہ  کو دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ خط پڑھ کر  آبدیدہ ہو گئے اور پھر اپنا سر اٹھا کر کہا: اے اہل نجران! (یا اے میرے اصحاب!) یہ میرے ہاتھ کا تحریر کردہ اپنا  خط ہے جس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے املاء کروایا تھا۔ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! جو اس میں ہے، ہمیں بھی عطا ہو۔‘‘

تو میں نے اپنے ایک قریبی ساتھی سے کہا، اگر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر ردّ کرنے والے ہوئے تو آج کریں گے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایسی کسی چیز کا ردّ نہیں کر سکتا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی ہو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ  معاملات کو خوب سمجھتے تھے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے جو نہیں دیا وہ اس سے بہتر تھا جو تم سےلیا، اور جو تم سے لیا وہ اس سے بہتر تھا جو نہیں دیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے اگر کچھ لیا  تو اپنے نفس کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ جماعت مسلمین کے فائدے کے لیے تھا۔ (بحوالہ تایخ عمر بن الخطاب لابن الجوزی: ص 213)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’اگر مجھے کسی کی یہ بات پہنچی کہ وہ مجھے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتا ہے تو میں اسے مفتری (بہتان باندھنے والے) کی سزا یعنی کوڑے ماروں گا۔‘‘

(فضائل الصحابہ: 1/83؛ تلبیس ابلیس لابن الجوزی: ص 101، میں اس سے مشابہ کلمات ہیں۔)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر کہا: ’’اس امت میں نبیﷺ کے بعد سب سے بہتر ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہم ہیں۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، سنن ابو داؤد، سنن ابن ماجہ)

اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد بن الحنفیہ نے بھی یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:

’’ اللہ کے رسولﷺ کے بعد سب سے بہتر ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ، پھر ایک  اور شخص۔‘‘

تو ان کےبیٹے محمد بن  الحنفیہ نے کہا: اور پھر آپ؟ اے میرے والد! تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا:

“ما أبوك إلا رجل من المسلمين.”

’’ تمہارا باپ تو مسلمانوں میں سے ایک فرد ہے۔‘‘

(بحوالہ کشف الخفاء: 1؍237)

شریف رضی جامع نہج البلاغہ  نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بابت نقل کیا ہے:

“لله بلاء فلان فقد قوّم الأود، وداوى العمد، خلّف الفتنة، وأقام السنّة، ذهب نقي الثوب قليل العيب، أصاب خيرها، وسبق شرّها، أدى إلى الله طاعته، وأتّقاه بحقّه”  (نہج البلاغہ: 2؍ 222)

’’ اللہ فلاں کی محنت  قبول کرے، یہ وہ شخص ہے جس نے جماعت کو کھڑا کر دیا، کمزوری کا علاج کیا، فتنے کو مار بھگایا، سنت کو قائم کیا،  گیا تو صاف ستھرا ہو کرگیا، عیب اس کے قلیل تھے۔ اپنے زمانے کے خیر کو خوب سمیٹا اور شرّ کو پیچھے چھوڑ گیا، اللہ کی اطاعت کو خوب نبھایا اور اس سے ڈرنے کا حق ادا کر دیا،  کوچ کرگیا لیکن جماعت کو ایسی راہداریوں میں  چھوڑ گیا کہ گم کردہ راہ، راستہ نہیں پا رہے اور ہدایت یافتہ بھی یقینی حالت میں نہیں۔‘‘

موصوف نے تین واقعات سے استدلال کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ علم میں کوتاہ تھے اور نہ صرف صحابہ بلکہ ایک صحابیہ نے بھی آپ کو ٹوکا۔

جواباً عرض ہے کہ اہل سنت نے یہ دعویٰ  کب کیا ہے کہ صحابہ، بشمول  خلفاء اربعہ، غلطی سے مبرّا  ہیں، ان سے شریعت کا کوئی مسئلہ اوجھل نہیں۔

لاریب جب کہ ایک عورت نے مہر کی رقم مقرر کرنے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ٹوکا اور پھر قرآن سے دلیل بھی پیش کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کو شرحِ صدر  کے ساتھ تسلیم کیا۔

حق کی طرف رجوع کرنا ایک فضیلت ہے اور حاکم وقت اگر ایسا کرے تویہ اس کے لیے  باعث صد افتخار ہے۔ کاش کہ ہر دور میں حکام اس صفت کو اپنا  سکیں، وہ عورت جسے ناجائز حمل کے سلسلہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سزا دینا چاہتے تھے، اس کے بارے  میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو صائب  مشورہ دیا تھا اور بحیثیت مشیر حضرت علی رضی اللہ عنہ  کا یہ فرض تھا کہ وہ ایسا مشورہ دیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ قبول فرمایا جو کہ ان کی جلالت قدر پر دلالت کرتا ہے۔

قدامہ بن مظعون کے بارے میں موصوف نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ تفاسیر کی کتب میں مختلف انداز سے مروی ہے۔

امام قرطبی رحمہ اللہ نے اتنا ذکر کیا ہے کہ قدامہ پر حجت قائم کرنے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سوال کیا تھا کہ اسے کتنے کوڑے مارے جائیں  توحضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ شراب پینے والا بہک جاتا ہے اور بہکنے والا انسان ہذیان بکتا ہے اور  ہذیان بکنے والا بہتان باندھتا ہے، اس لیے میری رائے ہے کہ ایسے شخص کو بہتان باندھنے کی سزا یعنی اسّی (80)  کوڑے مارے جائیں۔

 (بحوالہ سنن الدار قطنی)

چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس مشورے کو قبول کرتے ہوئے اسے سزا کو نافذ کر دیا اور صرف اسی ایک واقعہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہے تھے:

“لَوْ لَا عَلِيٌّ لَـهَلَكَ عُمَرُ” ’’اگر علی نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا۔‘‘

ان واقعات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں حضرات کے مابین انتہائی مشفقانہ  تعلقات تھے اور یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ان کے مشورہ پر عمل کرنا خود ان کی اپنی قدرومنزلت  کی نفی نہیں کرتا۔

 قرآن نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصے میں ہُد ہُد پرندے کا ذکر کیا ہے جو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو مخاطب کر کے یہ الفاظ کہتا ہے:

﴿أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ﴾  (النمل: 22)

’’ میں نے تو اس چیز کا احاطہ کر لیا ہے جس کا تم نہ کر سکے اور میں سبأ سے ایک یقینی خبر لایا ہوں۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام باوجود نبی ہونے کے خضر سے یہ الفاظ کہتے ہیں:

﴿ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾  (الكهف: 66)

’’ کیا میں تمہارے ساتھ ساتھ رہوں اس شرط پر کہ تم مجھے ہدایت کی وہ باتیں بتاؤ جو تمہیں سکھائی گئی ہیں۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خلفاء ثلاثہ کا مشیر ہونا خود ان کے لیے باعث اعزاز ہے ور یہی وجہ ہے کہ جس ترتیب سے خلفاء اربعہ کا ظہور ہوا  وہ نہ صرف ایک قدرتی ترتیب تھی بلکہ خلفاء کے مراتب افضلیت کو بھی ظاہر کرتی تھی۔  حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ خلیفہ اول تھے تو ان کے مشیر حضرت عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہ جیسے لوگ تھے، اور پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ اور حضرت عثمانرضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ  بمع دوسرے فضلاء صحابہ، ان کے مشیر رہے، اور یوں خلافتِ اسلامیہ کو وہ عروج اور ترقی حاصل ہوئی جو کہ اسلامی تاریخ  کا ایک سنہرا باب ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو انہیں ایسے مشیر نہ حا صل ہو  سکے اور ان کا مختصر عہد خلافت جنگ وجدال کی نذر ہو گیا۔(جاری ہے)

تبصرہ کریں