تحقیق روایات بجواب تبادلۂ خیالات(قسط 2)۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

موصوف  نے دعویٰ کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا باقی تمام صحابہ کا علم جزوی تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا علم سب سے زیادہ تھا اور اس سے بڑھ کر  یہ کہ انہیں علم لدنّی حاصل تھا جبکہ باقی صحابہ کا علم اکتسابی تھا۔

خلفاء ثلاثہ کی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جو مناقب ثابت ہیں، ان سے کس کو انکار ہو سکتا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اسلام میں پہلے داخل ہونا، رسول اللہﷺ کے سایہ عاطفت میں آپ کی تربیت، ان کے ساتھ آپ کی معیت اور مصاحبت اپنی جگہ پر مسلّمہ امر ہے اور یہ خصوصیات حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سبھی بدرجہ اتمّ حاصل ہیں  لیکن موصوف صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے  مخصوص کرنا چاہتے ہیں، دخترِ رسول ﷺ کے لیے کیوں نہیں؟

خلفاء ثلاثہ کے اپنے اپنے مناقب ہیں، یہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چند مناقب کا تذکرہ ہو جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ»

’’بے شک تم سے محبت نہیں کرتا مگر ایمان والا اور تم سے بُغض نہیں رکھتا مگر منافق۔‘‘ (جامع ترمذی: 3736)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک روایت میں یہ بھی ہے ، جسے امام احمد،  امام نسائی،  امام ابن حبان اور امام طبرانی رحہمہم اللہ  نے روایت کیا ہے:

«كان يبعثه البعث فيعطيه الراية فما يرجع حتى يفتح الله عليه، جبريل عن يمنيه وميكائيل عن يساره يعني عليا، رضي الله عنه»

’’ وہ انہیں (غزوہ) پر بھیجا کرتے تھے تو انہیں جھنڈا تھما دیتے اور پھر وہ اسی وقت واپس آتے جب اللہ انہیں فتح سے نوازتا، سیدنا جبرئیل﷤ ان کے دائیں طرف اور سیدنا میکائیل ﷤ ان کے بائیں طرف ہوتے اور انکی مراد تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ۔‘‘سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ  نے فرمایا:

«من أحب عليا فقد أحبني ومن أحبني فقد أحب الله ومن أبغض عليا فقد أبغضني ومن أبغضني فقد أبغض الله»

’’جس نے علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی تو اس نے مجھ سے محبت کی  اور جس نے مجھ سے محبت کی تو اس نے اللہ عزوجل سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا تو اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا تو اس نے اللہ عزوجل سے بغض رکھا۔‘‘ (المعجم الکبیر: 23؍ 381)

حجۃ الوداع سے واپسی پر جب رسول اللہﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں چند ایسی شکایات سنیں جن کا تعلق  دورانِ یمن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت سے تھا تو آپﷺ نے خمّ نامی چشمے پر پڑاؤ  کیا اور پھر اہل قافلہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے:

«من كنت مولاهُ فعليٌّ مولاه اللهمَّ والِ مَن والاه وعادِ مَن عاداه»

’’ میں جس کا دوست ہوں تو علی اس کا دوست ہے، اے اللہ! جو اس سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جواس سے دشمنی رکھے تو تو بھی اس سے دشمنی رکھ۔‘‘

یہ تمام مناقب اپنی جگہ پر ہیں لیکن ان سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا علم سب سے  زیادہ تھا، اور یہ بات پہلے واضح کی جا چکی ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس میدان میں سب سے افضل تھے۔

باقی موصوف کا یہ کہنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کبھی کسی صحابی سے مسئلہ نہیں پوچھا تو اس بات کی تردید کے لیے سنن ابی داؤد کی یہ ایک روایت کافی ہے:

«كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي وَإِذَا حَدَّثَنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ»

’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کبھی میں نبیﷺ سے حدیث سنتا تو اللہ جب تک چاہتا میں اس سے نفع حاصل کرتا رہتا، لیکن اگر کوئی اور شخص ان کی حدیث سناتا تو میں اس سے قسم لیتا، اگر وہ قسم اٹھا لیتا تو میں اسے مان لیتا۔ مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا اور وہ سچے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ  کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جب کبھی کوئی مؤمن شخص گناہ کرتا ہے اور پھر اچھے  طریقے سے وضو کرتا ہے پھر کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور پھر اللہ سے معافی مانگتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتے ہیں۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 1521)

غرضیکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا ثابت ہے لیکن اس کا عکس ثابت نہیں ہے اور یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرنے والے سے حلف لیتے تھے کہ یہ روایت اس نے  اللہ کے رسول  ﷺ سے سنی ہے، گویا وہ خود اس سے لا علم تھے۔

موصوف نے اپنے مدّعا پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک اور قول نقل کیا ہے: «سلوني قبل أن تفقدوني» ’’مجھ سے پوچھ لو (جو پوچھنا ہو) قبل اس کےکہ تم مجھے نہ پاؤ۔‘‘

جواباً عرض ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات مدینہ میں نہیں کی جہاں کبار صحابہ موجود تھے بالکل اس وقت  کہی، جب آپ عراق منتقل ہو چکے تھے جہاں نو مسلموں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی جو دین سے ناواقف تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی ان کے مرجع تھے اور یہ بات اپنی جگہ ہر عالم عامۃ الناس سے کہنے میں حق بجانب ہے۔

لوگوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مسائل دریافت کیے ہیں لیکن یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جن صحابہ نے زیادہ عمر پائی اور پھر جو علم وتعلم کا مشغلہ رکھتے تھے، ان سے لوگوں نے زیادہ  استفادہ کیا، ان کا علم بھی زیادہ پھیلا۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت علی رضی اللہ عنہ  سے  علم میں کم ہیں لیکن ان سے مسائل کثرت سے پوچھے گئے اور انہوں نے بہت سے مشکل  مسائل کا جواب دیا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات تاخیر سے ہوئی تو ان کی بیان کردہ روایتوں کی تعداد 2210 ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایات 537 ہیں جبکہ سیدنا علی  رضی اللہ عنہ کی روایات کی تعداد 586 ہے۔ گویا  زیادہ تفاوت نہیں لیکن اگر یہ دیکھا جائے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہت بعد میں ہوئی ہے تو آپ کی مرویات کچھ زیادہ ہونے میں کوئی تعجب نہیں۔

موصوف کا یہ حوالہ کہ ’’ اگر میرے لیے ایک فرش بچھا دیا جائے اور میں اس پر فیصلہ کرنے کے لیے بیٹھ جاؤں تو اہل تورات کے لیے توراۃ سے ، اہل انجیل کے لیے انجیل سے،  اہل زبور کے لیے  زبور سے اور اہل قرآن کے لیے قرآن مجید سے فیصلے کر سکتا ہوں۔‘‘

تو اس قول کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت کرنا خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی توہین ہے۔ جب اللہ کے رسول ﷺ کو یہ حکم دے دیا گیا کہ قرآن کے نزول کے بعد صرف قرآن ہی سے فیصلہ کیا جائے گا، نہ کہ کسی اور کتاب سے۔  سورۃ المائدۃ میں ارشاد فرمایا:﴿فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ ۖ   وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ﴾ ’’تو پھر ان کے درمیان فیصلہ کر ا س سے جو اللہ نے نازل کیا ہے اور جو کچھ حق تیرے پاس آیا ہے  اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر۔‘‘ (سورة المائدة: 48)

تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبان سے یہ کلمات کیسے نکل سکتے ہیں۔

موصوف کا یہ کہنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا  علم لدنّی وہبی تھا اور باقی صحابہ کا اکتسابی، ایک ادّعاء  بغیر دلیل ہے۔ جب موصوف خود تسلیم کر چکے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  اللہ کے رسول ﷺ  کی صحبت میں رہے، آپﷺ نے ہی ان کی تربیت کی تو پھر یہ فیض نبوی تھا جو انہوں نے حاصل کیا، نہ کہ علم لدنّی جو ان کے قلب پر نازل کیا گیا۔

 اگر آپکو تسلیم ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسائل کا جواب قرآن وسنت کی روشنی میں  دیا کرتے تھے تو پھر وہ باقی صحابہ سے مختلف نہ ہوئے اور اگر باقی صحابہ کا علم اکتسابی تھا تو پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان سے مختلف کیسے ہوئے؟

ہاں ایک حدیث میں ایک فضیلت یعنی محدَّث (مُلہَم) ہونے کا  ذکر آیا ہے اور وہ بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے  نہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ  کےبارے میں۔ رسول کریم  ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: “أنَّهُ كانَ في الأممِ قبلَكم محدِّثونَ فإن يَكن في أمَّتي أحدٌ فعمرُ”

’’تم سے قبل امتوں میں الہام کے جاننے والے ہوتے تھے، اگر میری امت میں ان میں سے  کوئی ہو سکتا ہے تو وہ عمر ہے۔‘‘

شخصیات میں غلو ہی وہ چیز ہے جس کی بنا پر عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ  علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیا  اور ہمارے  انہی کرم فرماؤں نے اپنے لوگوں کو مانند حضرت علی﷜ کا درجہ علم، عصمت، امامت میں رسول اللہ تک پہنچا دیا بلکہ حضرت  علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تو کچھ عقیدت مندوں نے انہیں خدا تک مان لیا تھا۔

 پھر موصوف کا یہ کہنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اللہ کے رسول نے اپنا وصی و وارث ٹھہرایا ہے، حوالے کے طور پر ریاض النضرۃ، فردوس الاخبار وغیرہ کتب کا جو ذکر کیا ہے جو کہ رطب ویابس کا مجموعہ ہیں اور محققین کے نزدیک  ان کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔

یہاں موصوف کم ازکم شاہ ولی اللہ دہلوی کی تقسیم کتب کے مطابق تیسرے درجے کی کسی کتاب  کا حوالہ دے دیتے تو پھر اسکی سند پر بحث کی جا سکتی۔

اس موضوع سے قریب ترین روایت کے الفاظ یہ ہیں:

« فان وصيي و وارثي يقضي ديني و ينجز وعدي علي بن أبي طالب »

’’میرے وصی اور میرے وارث جو میرا قرض اتاریں گے اور میرے وعدے کو پورا کریں گے وہ  علی بن ابی طالب ہوں گے۔‘‘

اس روایت کی  نسبت امام احمد کی طرف کی گئی ہے جو کہ غلط ہے اور جیسے ابن جوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الموضوعات (1؍374) میں ذکر کیا  ہے اور بتایا  ہے کہ یہ اپنی چاروں اسانید کے اعتبار سے موضوع یعنی من گھڑت ہے۔ امام سیوطی رحمہ اللہ نے  اپنی کتاب ’ اللآلی المصنوعہ‘‘  (1؍358) میں بھی ایسا ہی ذکر کیا ہے۔

خلاصہ کلام یہ  ہے کہ موصوف کا کوئی ایک دعویٰ بھی پایہ ثبوت تک نہیں پہنچتا۔ کسی شخصیت سے خوش عقیدگی ایک الگ بات ہے لیکن اس کی خاطر  جھوٹ اور افتراء کا سہارا لینا اہل علم کے شایان شان نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک  خلفاء اربعہ ایک ہی گلدستے کے پھول ہیں۔ باہم شیر وشکر ہیں، عشرہ مبشرہ بالجنہ میں داخل ہیں۔ جیسے اس دنیا میں اکٹھے تھے ویسے ہی عقبیٰ میں بھی  ہوں گے اور  اس باب میں ان میں سے کسی کی بھی تنقیص، چاہے وہ اشارۃً اور کنایۃً کیوں نہ ہو، ہمیں روا نہیں ہے۔

آخر میں دعا گو ہوں:

اَللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ وصلى الله تعالى على نبينا محمد  وعلى آله وصحبه أجمعين

تبصرہ کریں